نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۰؍دسمبر ۲۰۲۵ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم خواجہ منیر احمد ٹھا کر صاحب ابن خواجہ محمد منظور ٹھاکر صاحب مرحوم (واٹفورڈ۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور پانچ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم خواجہ منیر احمد ٹھا کر صاحب ابن خواجہ محمد منظور ٹھاکر صاحب مرحوم (واٹفورڈ۔ یوکے)
۸؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۵۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم حاجی امیر خان صاحب مرحوم (سابق امیر جماعت کوٹلی) کے پوتے تھے۔ مرحوم نے صدر جماعت کو ٹلی، نائب امیر ضلع کوٹلی، قائد مجلس خدام الاحمدیہ ضلع کوٹلی اور ناظم مجلس انصاراللہ ضلع کوٹلی کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر بڑی ہمت اور حوصلہ سے اس کا مقابلہ کرتے رہے۔آپ علاقے کے احمدی اور غیر احمدی حلقہ احباب میں اپنی دانائی، خوش اخلاقی اور مہمان نوازی کی وجہ سے بہت ہر دلعزیز تھے۔ خلافت کے ساتھ گہراعقیدت کا تعلق تھا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم جاوید منصور راتھر صاحب ابن مکرم منصور احمد راتھر صاحب (ہاری پاری گام ضلع پلوامہ صوبہ جموں کشمیر۔ انڈیا)
مرحوم پولیس کرائم برانچ میں کیمرا مین تھے اور ۱۴؍نومبر ۲۰۲۵ء کی شب ۳۳ سال کی عمر میں نوگام پولیس تھانہ سری نگر میں ڈیوٹی کے دوران ایک دھما کہ میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم کا خاندان خلافت ثانیہ کے ابتدائی دور میں احمدیت میں شامل ہوا۔ مرحوم باجماعت نمازوں کے پابند،بڑے ہمدرد، ملنسار، خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والے، ہر دلعزیز، ہونہار، مخلص اور بڑے قابل احمدی خادم تھے۔جماعتی کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ وفات سے قبل ایڈیشنل سیکرٹری اشاعت وایم ٹی اے مقامی کے طور پر خدمت بجالا رہے تھے۔آپ کی نماز جنازہ میں وادی کشمیر کی تمام جماعتوں سے بڑی تعداد میں احمدی احباب کے علاوہ سرکاری اعلیٰ افسران نے بھی شمولیت کی۔آپ کو با قاعدہ سرکاری طور پر شہید کا درجہ دیا گیا۔ گورنر جموں و کشمیر اور دیگر اعلیٰ افسران ان کی میت کو سلامی دے کر سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے گاؤں ہاری پاری گام لائے جہاں تدفین عمل میں آئی۔وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر، فوجی بریگیڈیئر اوردوسری اہم سرکاری شخصیات نے اظہار افسوس کے ساتھ یہ یقین دہانی کروائی کہ شہید کے نام پر ان کے آبائی گاؤں ہاری پاری گام میں ایک ہسپتال کھولا جائے گا اور قبرستان کو سرکاری طور پر Develop کیا جائے گا۔
۲۔مکرم کے محمد کلائی صاحب( آف جماعت مریا کنی ضلع پالگھاٹ صوبہ کیرلہ انڈیا)
۱۸؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کو ۷۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم ۱۹۷۴ء میں خود بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تھے۔ بیعت کرنے کے بعد مرحوم کو اپنے رشتہ داروں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مرحوم کا خلافت اور جماعت کے ساتھ نہایت مخلصانہ اور مضبوط تعلق تھا۔ جماعت کے عہدیداران اور مربیان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔ مرحوم بڑے خوش خلق منکسرالمزاج اور غریب پرورانسان تھے۔ تہجد گزار اور تلاوت قرآن مجید با قاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ جماعتی جلسوں اور اجلاسات میں شامل ہوتے اور باقاعدگی کے ساتھ چندہ جات کی ادائیگی کرتے تھے۔ پسماندگان میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم نجم الدین صاحب بطور مربی سلسلہ خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۳۔مکرمہ نوید اسلام صاحبہ اہلیہ مکرم مختار احمدگھمن صاحب (چک نمبر ۳۶۸ ٹی ڈی اے ضلع لیہ)
یکم ستمبر ۲۰۲۵ء کو۶۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ کے خاندان میں سےتھیں۔آپ نے مقامی صدر لجنہ اور نائب صدر لجنہ ضلع لیہ کے علاوہ لجنہ اماء اللہ پاکستان میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔ پیشہ کے اعتبار سے گورنمنٹ سکول کی ہیڈمسٹریس تھیں اور ضلع کی تمام ٹیچرز کو آپ کے احمدی ہونے کاعلم تھا۔مرحومہ پنجوقتہ نماز وں کی پابند، مالی قربانی کرنے والی، بڑی خوش اخلاق،نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ اپنے بچوں کی دینی تعلیم کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ خلافت سے گہرا فدائیت کاتعلق تھا۔ واقفین زندگی کا بہت احترام کرتی تھیں۔ تبلیغ کا بہت شوق تھا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ چار بیٹے شامل ہیں۔آپ کے چاروں بچے وقف نو کی تحریک میں شامل ہیں۔
۴۔مکرم نسیم احمد ناصر صاحب ابن مکرم اللہ بخش صاحب (پٹنی۔یوکے)
۱۷؍نومبر۲۰۲۵ء کو ۷۶سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کو ربوہ قیام کے دوران دفتر وصیت میں کام کرنے کے علاوہ حلقہ میں سیکرٹری مال کے طورپر خدمت کی توفیق ملی۔ کچھ عرصہ دبئی میں رہے اوروہاں تقریباً دس سال تک نماز جمعہ اور نمازیں پڑھانے کی ڈیوٹی دیتے رہے۔ مرحوم نماز اورروزہ کے پابند، ایک نیک،مخلص اور باوفاانسان تھے۔ خلافت سے گہرا پیار اور عقیدت کا تعلق تھا۔ تبلیغ کا بہت شوق تھا۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ مرحوم کے دو نوں بیٹے اس وقت MTAمیں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ مرحوم کی اہلیہ کو لمبے عرصہ تک دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی ڈاک ٹیم میں خدمت کی توفیق ملی۔
۵۔مکرم مشتاق احمد صاحب (میاں چنّوں ضلع خانیوال)
۱۹؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ۸۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ صوم وصلوٰۃ کے پابند،تہجد گزار، دعا گو، صاحب رؤیا،پرہیز گار،نیک اور بزرگ انسان تھے۔ دن میں دو سے تین مرتبہ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے تھے۔ کچھ سال پہلے ایک آنکھ کی بینائی میں کمی آئی لیکن قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی سے کرتے رہے۔ خلافت کے ساتھ عشق کی حدتک پیار تھا۔ مرحوم ۱۹۸۴ء میں اسیرراہ مولا بھی رہے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین




