حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ۔(النور:۳۱)کہ تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔ یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہو گا ۔ فروج سے مراد صرف شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور ان میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔ پھر یاد رکھو کہ ہزار در ہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کار انسان کو ان سے رکنا ہی پڑتا ہے‘‘۔ (ملفوظات۔ جلد ۷۔ صفحہ ۱۳۵۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء)

پھر آپ فرماتے ہیں :’’اسلام نے شرائط پابندی ہر دو عورتوں اور مردوں کے واسطے لازم کئے ہیں ۔ پردہ کرنے کا حکم جیسا کہ عورتوں کو ہے مردوں کو بھی ویسا ہی تاکیدی حکم ہے غض بصر کا ۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج ، حلال و حرام کا امتیاز، خداتعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنی عادات رسم و رواج کو ترک کرنا وغیرہ وغیرہ ایسی پابندیاں ہیں جن سے اسلام کا دروازہ نہایت ہی تنگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر ایک شخص اس دروازے میں داخل نہیں ہو سکتا‘‘۔ (ملفوظات۔ جلد ۵۔صفحہ ۶۱۴۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء)

اس سے مردوں کو وضاحت ہو گئی ہوگی کہ ان کی بھی نظریں ہمیشہ نیچی رہنی چاہئیں۔حیا صرف عورتوں کے لئے ہی نہیں مردوں کے لئے بھی ہے۔

پھر آپ فرماتے ہیں:’’خدائے تعالیٰ نے خُلق احصان یعنی عفت کے حاصل کرنے کیلئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ انسان کو پاک دامن رہنے کیلئے پانچ علاج بھی بتلا دئیے ہیں۔ یعنی یہ کہ اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا۔ کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچانا۔ نامحرموں کے قصے نہ سننا۔ اور ایسی تمام تقریبوں سے جن میں اس بدفعل کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اپنے تئیں بچانا۔ اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ‘‘۔

آپؑ نے فرمایا :’’اس جگہ ہم بڑے دعویٰ کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں صرف اسلام ہی سے خاص ہے اور اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوات کا منبع ہے جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہو سکتا یہی ہے کہ اس کے جذبات شہوت محل اور موقع پاکر جوش مارنے سے رہ نہیں سکتے۔ یا یوں کہو کہ سخت خطرہ میں پڑ جاتے ہیں۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو بلا تکلف دیکھ تو لیا کریں اور ان کی تمام زینتوں پر نظر ڈال لیں اور ان کے تمام انداز ناچنا وغیرہ مشاہدہ کرلیں لیکن پاک نظر سے دیکھیں اور نہ یہ تعلیم ہمیں دی ہے کہ ہم ان بیگانہ جوان عورتوں کا گانا بجانا سن لیں اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے سنیں بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عورتوں کو اور ان کی زینت کی جگہ کو ہرگز نہ دیکھیں۔ نہ پاک نظر سے اور نہ ناپاک نظر سے۔ اور ان کی خوش الحانی کی آوازیں اور ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔ نہ پاک خیال سے اور نہ ناپاک خیال سے۔ بلکہ ہمیں چاہئے کہ ان کے سننے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے تا ٹھوکر نہ کھاویں۔ کیونکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھوکریں پیش آویں۔ سو چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی۔ اس میں کیا شک ہے کہ بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے‘‘۔(اگر روک ٹوک نہ ہو تو ٹھوکرکا موجب ہو جاتی ہے)۔’’ اگر ہم ایک بھوکے کتّے کے آگے نرم نرم روٹیاں رکھ دیں اور پھر ہم امید رکھیں کہ اس کتّے کے دل میں خیال تک ان روٹیوں کا نہ آوے تو ہم اپنے اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قویٰ کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آئے جس سے بدخطرات جنبش کر سکیں۔‘‘ (اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن۔ جلد۱۰۔ صفحہ۳۴۳-۳۴۴)

فسق وفجور سے اجتناب کرو

پھر اسی شرط دوم میں چوتھی برائی فسق وفجور سے اجتناب کے بارہ میںہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے: وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الرَّاشِدُوْنَ (الحجرات:۸)۔ اور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول موجود ہے۔ اگر وہ تمہاری اکثر باتیں مان لے تو تم ضرور تکلیف میں مبتلا ہوجاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں سجا دیا ہے اور تمہارے لئے کفر اور بداعمالی اور نافرمانی سے سخت کراہت پیدا کردی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔

ایک حدیث ہے کہ اَسْوَدْ ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیںکہ انہوں نے بیان کیاکہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی نے روزہ رکھاہو تو فحش کلامی نہ کرے ، فسق کی باتیں نہ کرے اور جہالت کی باتیں نہ کریں اور جو اس کے ساتھ جاہلانہ سلوک کرے تو اسے کہے کہ معاف کرنا مَیں ایک روزہ دار شخص ہوں۔ (مسند احمد بن حنبل۔ جلد ۲۔صفحہ۳۵۶۔مطبوعہ بیروت)

آنحضور ﷺنے فرمایا ہے کہ مومن سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔ (مسند احمد بن حنبل۔ جلد ۱۔صفحہ۴۳۹۔مطبوعہ بیروت)

عبدالرحمٰن بن شبل نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ تاجر لوگ فاجر ہوتے ہیں۔راوی کہتے ہیں عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے تجارت حلال نہیں کی؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکیوں نہیں؟مگر وہ جب سودابازی کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر قیمت بڑھاتے ہیں۔

راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مزید فرمایا کہ فاسق دوزخی ہیں ۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ ! فُسّاق کون ہیں؟ اس پرآنحضور ؐنے فرمایا عورتیں بھی فُسّاق ہوتی ہیں۔ ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللہ !کیاوہ ہماری مائیں ،بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں۔ آنحضور ﷺنے فرمایا کیوں نہیں؟ لیکن جب ان کو کچھ دیا جاتاہے تو وہ شکر نہیں کرتیں اور جب ان پر کوئی آزمائش پڑتی ہے تو صبر نہیں کرتیں ۔(مسند احمد بن حنبل۔ جلد ۳۔ صفحہ ۴۲۸۔مطبوعہ بیروت)

تو یہ تاجروں کی بھی سوچنے والی بات ہے کہ بڑی صاف ستھری تجارت ہونی چاہئے۔ یہ بھی شرائط بیعت میں سے ایک شر ط ہے ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’قرآن سے تو ثابت ہوتاہے کہ کافر سے پہلے فاسق کو سز ا دینی چاہئے… یہ خدا تعالیٰ کا دستور ہے کہ جب ایک قوم فاسق فاجر ہوتی ہے تو اس پرایک اور قوم مسلط کردیتاہے‘‘۔(ملفوظات۔ جلد دوم۔ صفحہ ۶۵۳۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء)

پھر فرمایا : ’’ جب یہ فسق و فجور میں حد سے نکلنے لگے اور خدا کے احکام کی ہتک اور شعائراللہ سے نفرت ان میں آ گئی اور دنیا اور اس کی زیب و زینت میں ہی گم ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اسی طرح ہلاکو، چنگیز خان وغیرہ سے برباد کروایا۔ لکھاہے کہ اُس وقت یہ آسمان سے آواز آتی تھی ’اَیُّھَا الْکُفَّارُ اُقْتُلُوْاالْفُجَّار‘۔ غرض فاسق فاجرانسان خدا کی نظرمیں کافر سے بھی ذلیل اور قابل نفرین ہے‘‘۔(ملفوظات۔ جلد سوم۔ صفحہ ۱۰۸۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء)

پھر فرمایا :’’ ظالم فاسق کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے لاپرواہ ہے اور خدا تعالیٰ بھی اس سے لاپرواہ ہے۔ ایک بیٹا اگربا پ کی پرواہ نہ کرے اور ناخلف ہو تو باپ کو اس کی پروا ہ نہیں ہوتی تو خدا کو کیوں ہو‘‘۔(البدر۔ جلد۲۔ مؤرخہ ۱۳ فروری ۱۹۰۳ء۔ صفحہ۲۸۔ کالم نمبر۲)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۸ تا ۳۳)

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button