حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: ’’اور منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے جو اس کی فطرت کا خاصہ ہے سچائی ہے۔ انسان جب تک کوئی غرض نفسانی اس کی محرک نہ ہو جھوٹ بولنا نہیں چاہتا۔ اور جھوٹ کے اختیار کرنے میں ایک طرح کی نفرت اور قبض اپنے دل میں پاتا ہے۔ اسی وجہ سے جس شخص کا صریح جھوٹ ثابت ہو جائے اس سے ناخوش ہوتا ہے اور اس کو تحقیر کی نظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن صرف یہی طبعی حالت اخلاق میں داخل نہیں ہو سکتی بلکہ بچے اور دیوانے بھی اس کے پابند رہ سکتے ہیں۔ سو اصل حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان ان نفسانی اغراض سے علیحدہ نہ ہو۔ جو راست گوئی سے روک دیتے ہیں تب تک حقیقی طور پر راست گو نہیں ٹھہر سکتا۔ کیونکہ اگر انسان صرف ایسی باتوں میں سچ بولے جن میں اس کا چنداں ہرج نہیں(کچھ حرج نہیں) اور اپنی عزت یا مال یا جان کے نقصان کے وقت جھوٹ بول جائے اور سچ بولنے سے خاموش رہے تو اس کو دیوانوں اور بچوں پر کیا فوقیت ہے۔ کیا پاگل اور نابالغ لڑکے بھی ایسا سچ نہیں بولتے؟ دنیا میں ایسا کوئی بھی نہیں ہوگا کہ جو بغیر کسی تحریک کے خواہ نخواہ جھوٹ بولے۔ پس ایسا سچ جو کسی نقصان کے وقت چھوڑا جائے حقیقی اخلاق میں ہرگز داخل نہیں ہوگا۔ سچ کے بولنے کا بڑا بھاری محل اور موقع وہی ہے جس میں اپنی جان یا مال یا آبرو کا اندیشہ ہو۔ اس میں خدا کی تعلیم یہ ہے۔

فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ۔(الحج:۳۱) وَلَایَاْبَ الشُّھَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا۔ (البقرۃ:۲۸۳) وَلَا تَکْتُمُوْا الشَّھَادَۃَ وَ مَنْ یَّکْتُمْھَا فَاِنَّہٗ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ۔(البقرۃ:۲۸۴) وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی۔(الانعام:۱۵۳) کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ۔(النساء:۱۳۶) وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا۔(المائدۃ:۹) وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ۔ (الاحزاب:۳۶)وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔(العصر:۴)لَایَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ۔(الفرقان:۷۳)

اس کے ترجمہ میں آپ فرماتے ہیں: ’’بتوں کی پرستش اور جھوٹ بولنے سے پرہیز کرو۔یعنی جھوٹ بھی ایک بت ہے جس پر بھروسہ کرنے والا خدا کا بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔ سو جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ جب تم سچی گواہی کے لئے بلائے جائو تو جانے سے انکار مت کرو۔ اور سچی گواہی کو مت چھپائو اور جو چھپائے گا اس کا دل گنہگار ہے۔ اور جب تم بولو تو وہی بات منہ پر لائو جو سراسر سچ اور عدالت کی بات ہے اگرچہ تم اپنے کسی قریبی پر گواہی دو۔ حق اور انصاف پر قائم ہو جائو۔ اور چاہیئے کہ ہر ایک گواہی تمہاری خدا کے لئے ہو۔ جھوٹ مت بولو اگرچہ سچ بولنے سے تمہاری جانوں کو نقصان پہنچے۔ یا اس سے تمہارے ماں باپ کو ضرر پہنچے یا اور قریبیوں کو جیسے بیٹے وغیرہ کو۔ اور چاہئے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں سچی گواہی سے نہ روکے۔ سچے مرد اور سچی عورتیں بڑے بڑے اجر پائیں گے۔ ان کی عادت ہے کہ اوروں کو بھی سچ کی نصیحت دیتے ہیں۔ اور جھوٹوں کی مجلسوں میں نہیں بیٹھتے‘‘۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی ۔روحانی خزائن۔ جلد۱۰۔ صفحہ۳۶۰-۳۶۱)

زنا سے بچو

پھر اسی شرط دوم میں زنا سے بچنے کی شرط ہے ۔ تو اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً۔ وَسَآءَ سَبِیْلًا (بنی اسرائیل: آیت ۳۳) یعنی زنا کے قریب نہ جائو یقیناً یہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔

ایک حدیث ہے ۔ محمد بن سیرین روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے درج ذیل امور کی نصیحت فرمائی ، پھر ایک لمبی روایت بیان کی جس میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ عفت یعنی پاکدامنی اور سچائی ، زنا اور کذب بیانی کے مقابلہ میں بہتر اور باقی رہنے والی ہے ۔ (سنن الدارمی۔ کتاب الوصایا۔ باب مایستحبّ بالوصیۃ من التشھد والکلام)

یہاں زنا اور جھوٹ دونوں کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جھوٹ کتنا بڑا گناہ ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’زنا کے قریب مت جائو یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو۔ اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راہ بہت بری ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کیلئے سخت خطرناک ہے۔ اور جس کو نکاح میسر نہ آوے چاہئے کہ وہ اپنی عفت کو دوسرے طریقوں سے بچاوے۔ مثلاً روزہ رکھے یا کم کھاوے یا اپنی طاقتوں سے تن آزار کام لے۔‘‘(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن۔ جلد۱۰۔ صفحہ۳۴۲ )

آپ نے فرمایا ہے کہ ایسی چیزوں سے دوررہو جن سے خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو۔ نوجوانوں میں بعض اوقات یہ احساس نہیں رہتا ۔فلمیں دیکھنے کی عادت ہوتی ہے اورایسی فلمیں دیکھتے ہیں جو اس قابل نہیں ہوتیں کہ دیکھی جائیں ۔بڑی اخلاق سے گری ہوئی ہوتی ہیں۔ ان سے بھی بچنا چاہئے ۔ یہ بھی زناکی ایک قسم ہی ہے ۔

بدنظری سے بچو

پھر دوسری شرط میں تیسری قسم کی برائی بدنظری سے بچنے کی ہے ۔ا ب یہ کیاہے یہ غضِ بصر ہے۔

ایک حدیث ہے کہ ابوریحانہ روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ۔ایک رات انہوں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’آگ اس آنکھ پر حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بیدار رہی۔ اورآگ اس آنکھ پر حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے آنسوبہاتی ہے‘‘۔

ابوشریح کہتے ہیں کہ مَیں نے ایک ر اوی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آنحضرتﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ آگ اس آنکھ پر حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیا ء کو دیکھنے کی بجائے جھک جاتی ہے۔ اور اس آنکھ پر بھی حرام ہے جو اللہ عزوجل کی راہ میں پھوڑ دی گئی ہو۔ (سنن الدارمی۔ کتاب الجہاد۔ باب فی الذی یسھر فی سبیل اللہ حارساً)

پھر ایک حدیث ہے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے بارہ میں چھ باتوں میں مجھے ضمانت دے دو۔

(رسول اللہﷺ فرما رہے ہیں کہ مَیں تمہیں جنت میں جانے کی بشارت دیتاہوں)۔ فرمایا: جب تم گفتگو کرو تو سچ بولو۔ جب تم وعدہ کرو تووفا کرو ۔جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو عند الطلب دے دیا کرو۔( ٹال مٹول نہیں ہونی چاہئے)۔ اپنے فروج کی حفاظت کرو، غض بصر سے کام لو۔اور اپنے ہاتھوں کو ظلم سے روکے رکھو۔ (مسند احمد بن حنبل۔ جلد ۵۔ صفحہ ۳۲۳۔ مطبوعہ بیروت)

حضرت ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺنے فرمایا :رستو ں پر مجلسیں لگانے سے بچو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں رستوں میں مجلس لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا :پھر رستے کا حق ادا کرو ۔ انہوں نے عرض کیا پھراس کا کیا حق ہے ؟ آپؐ نے فرمایا: ہر آنے جانے والے کے سلام کا جوا ب دو،غض بصر کرو، راستہ دریافت کرنے والے کی راہنمائی کرو، معروف باتوں کا حکم دو اور ناپسندیدہ باتوں سے روکو۔ (مسند احمد بن حنبل۔ جلد ۳۔ صفحہ ۶۱۔مطبوعہ بیروت)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۴ تا ۲۸)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button