بنگلہ دیش میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی کانفرنس- جماعت احمدیہ کو کافر قرار دینے کا ایک خطرناک منصوبہ
مورخہ ۱۵؍نومبر ۲۰۲۵ء بروز ہفتہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں واقع بڑے میدان ’سہرہ وردی‘ میں ’مجلس تحفظ ختم نبوت‘کے زیرِاہتمام ایک بڑے جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس جلسہ میں پاکستان، مصر اور دیگر ممالک سے آنے والے علماء کے علاوہ بنگلہ دیش کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے علماء نے شرکت کی۔ شرکاء میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن مفتی فضل الرحمٰن اور مصر کی الازہر یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے مصعب نبیل ابراہیم بھی شامل تھے۔
جلسہ کا مرکزی مقصد اور نعرہ ایک ہی تھا یعنی بنگلہ دیش میں حکومتی سطح پر جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ یہ اجتماع صبح تقریباً ۹ بجے سے دوپہر اڑھائی بجے تک جاری رہا۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ موجودہ دور کے یہ نام نہاد علماء جہاں کسی کو مسلمان بنانے کی عملی کوشش نہیں کرتے، وہیں کلمہ گو مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دینے پر مصر نظر آتے ہیں۔ ان کی جانب سے یہ دعویٰ بھی زور و شور سے کیا جاتا ہے کہ تمام مسلمان ممالک میں جماعت احمدیہ کو کافر قرار دیا جا چکا ہے، حالانکہ یہ صریحاً غلط اور خلافِ حقیقت بات ہے۔ عملی طور پر صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں قانونی طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔
جہاں تک بنگلہ دیش کے دستور کا تعلق ہے، وہ ملک کے ہر شہری کو اپنے مذہب کے انتخاب اور اس پر عمل کی مکمل آزادی دیتا ہے اور کسی کے مذہبی معاملات میں حکومتی مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ گذشتہ کئی برسوں میں جب بھی اس نوعیت کے مطالبات سامنے آئے، بنگلہ دیش کے ممتاز قانون دانوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے افراد نے ان کی کھل کر مذمت کی اور انہیں آئین بنگلہ دیش کے منافی قرار دیا۔ اس مرتبہ بھی سوشل میڈیا پر اس موضوع پر خاصی بحث دیکھنے میں آئی۔
ماضی میں ۱۹۹۰ء کی دہائی کے دوران جب بنگلہ دیش میں مخالفت اپنے عروج پر تھی حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ ۱۸؍دسمبر ۱۹۹۲ء میں حکومت بنگلہ دیش کو بادشاہ فیصل، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء کے عبرتناک انجام کا حوالہ دیتے ہوئے خدا تعالیٰ کی اس سنت کی طرف توجہ دلائی تھی کہ جو بھی خدا کی قائم کردہ جماعت کے مقابل کھڑا ہوتا ہے، اسے بالآخر ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔(خطباتِ طاہر جلد ۱۱صفحہ ۹۱۶)
اللہ تعالیٰ بنگلہ دیش کی حکومت کو حکمت اور بصیرت عطا فرمائے کہ وہ کبھی بھی جماعت کے خلاف قدم اٹھا کر اپنے اور ملک کے لیے نقصان کا باعث نہ بنے اور عوام الناس کو بھی امام مہدیؑ کی آمد کی حقیقت کو سمجھنے اور آپؑ پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رپورٹ: نوید الرحمٰن۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭




