حاصل مطالعہ

حاصل مطالعہ

(عطاء المجیب راشد۔ امام مسجد فضل لندن)

نماز میں ذوق پیدا کرنے کا طریق

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’یاد رکھو انسان کے اندر ایک بڑا چشمہ لذت کا ہے جب کوئی گناہ اس سے سر زد ہو تا ہے تو وہ چشمہ لذت مکدّر ہو جاتا ہے اور پھر لذت نہیں رہتی ۔مثلاًجب ناحق گالی دے دیتا ہے یا ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر بد مزاج ہو کر بد زبانی کر تا ہے تو پھر ذوقِ نماز جاتا رہتا ہے ۔اخلاقی قویٰ کو لذت میں بہت بڑا دخل ہے ۔جب انسانی قویٰ میں فرق آئے گا تو اس کے ساتھ ہی لذت میں بھی فرق آجاوے گا ۔پس جب کبھی ایسی حالت ہو کہ اُنس اور ذوق جو نماز میں آتا تھا وہ جاتا رہا ہے تو چاہیے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہو کر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گمشدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے اور اس کا علاج ہے توبہ، استغفار، تضرع، بےذوقی سے ترک نمازنہ کرے بلکہ نماز کی اور کثرت کرے۔جیسے ایک نشہ باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ کو چھوڑنہیں دیتا بلکہ جام پر جام پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اس کو لذت اور سرور آجاتا ہے ۔پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہو اس کو کثرت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے اور تھکنا مناسب نہیں آخر اسی بےذوقی میں ایک ذوق پیدا ہو جاوے گا۔دیکھو پانی کیلئے کس قدر زمین کو کھودنا پڑتا ہے جو لوگ تھک جاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں جو تھکتے نہیں وہ آخر نکال ہی لیتے ہیں۔ اس لیے اس ذوق کو حاصل کر نے کے لیے استغفار ،کثرت نماز ودُعا،مستعدی اور صبر کی ضرورت ہے۔‘‘(ملفوظات، جلد ۵ صفحہ ۱۳۲، ۱۳۳۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)

نماز میں ذوق پیدا کرنے کی دعا

بے ذوقی کی نماز میں ذوق پیدا کرنے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دعا سکھلائی : ’’اے اﷲ تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آجاؤں گا اس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور ناشنا سا ہے تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا انس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے تو ایسا فضل کر کہ میں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جا ملوں۔

جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام اختیار کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر ایسا آئے گا کہ اس بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقت پیدا کردے گی۔‘‘ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۶۱۶۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء)

اچھے سے اچھا کام کرنے میں بھی خدا تعالیٰ کی رضا کو مدّنظر رکھو

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’انسان کو اپنے تمام کاموں میں ہمیشہ یہ امر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اچھے سے اچھا کام کرنے میں بھی خدا تعالیٰ کی رضا کو مدّنظر رکھے۔ورنہ وہی نیکی اس کے لئے ہلاکت اور عذاب کا باعث بن جائےگی۔بے شک حج ایک بڑی نیکی ہے لیکن اگر کوئی شخص محض اس لئے حج پر جاتا ہے کہ اس کا لوگوں میں اعزاز بڑھ جائے یا رسم و رواج کے ماتحت جاتا ہے یا اس لئے جاتا ہے کہ لوگ اُسے حاجی کہیں تو وہ اپنا پہلا ایمان بھی مٹا کر آئےگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سردی کا موسم تھا۔کسی ریل کے اسٹیشن پر کوئی اندھی بڑھیا گاڑی کے انتظار میں بیٹھی تھی۔اس کے پاس کوئی کپڑا بھی نہ تھا سوائے ایک چادر کے جو اُس نے پاس رکھی ہوئی تھی۔تاکہ جب گاڑی میں بیٹھنے کے بعد تیز ہوا کی وجہ سے سردی محسوس ہو تو اوڑھ لے۔اُس نے وہ چادر پاس رکھی ہوئی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ اُسے ٹٹول لیتی تھی۔ایک شخص اس کے پاس سے گذرا اور اُس نے سوچا کہ یہ تو اندھی ہے او ر پھر اندھیرا بھی ہو چکا ہے۔اس لئے اگر میں یہ چادر اٹھا لوں تو نہ اس کو پتہ لگے گا اور نہ پا س کے لوگوں کو پتہ لگے گا۔اس پر اُس نے چپکے سے وہ چادر کھسکا لی۔بڑھیا چونکہ بار بار اُسے ٹٹولتی تھی اُسے پتہ لگ گیا کہ کسی نے چادر اٹھالی ہے۔اُس نے جھٹ آوازیں دینی شروع کر دیں کہ اے بھائی حاجی میری چدر دے دو۔میں اندھی غریب ہوں اور میرے پاس اور کوئی کپڑا نہیں۔وہ شخص فوراً واپس مڑا اور اُس نے چادر تو آہستہ سے اُس کے ہاتھ میں پکڑا دی مگر کہنے لگا۔مائی یہ تو بتاؤ تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ میں حاجی ہوں۔وہ بڑھیا کہنے لگی بیٹا ! ایسے کام سوائے حاجیوں کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔میں اندھی کمزور اور غریب ہوں ، سردی کا موسم ہے اور میں بالکل اکیلی ہوں۔ایسی حالت میں میرا ایک ہی کپڑا چُرانے کی کوئی عادی چوربھی جرأ ت نہیں کر سکتا۔یہ ایسا کا م ہے جسے حاجی ہی کر سکتا ہے۔

غرض حج کااُسی صورت میں فائدہ ہو سکتا ہے جب انسان اپنے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھے اور اخلاص اور محبت کے ساتھ اس فریضہ کو ادا کرے۔اگر وہ اخلاص کے ساتھ حج کے لئے جاتا ہے تو وہ ایمانوں کے ڈھیر لے کر واپس آتا ہے اوراگر وہ اخلاص کے بغیر جاتا ہے تو وہ اپنے پہلے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔‘‘(تفسیر کبیر جلد۸ صفحہ۱۵۹، ایڈیشن۲۰۲۲ء)

بہت برجستہ جواب

حضرت قاضی محمد نذیر صاحب فاضل مرحوم ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں۔ایک دفعہ ضلع سیالکوٹ میں ان کا پیر نادر شاہ صاحب سے ایک مناظرہ ختم نبوت کے موضوع پر ہو رہا تھا۔پیر صاحب جب بحث میں عاجز آگئے تو انہوں نے ایک مولوی کو کھڑا کر دیا اور اسے کہا کہ تم یہ اعلان کر دو کہ میں اسی طرح خدا کا نبی ہوں جس طرح مرزا صاحب نبی ہیں۔اور پیر صاحب حضرت قاضی صاحب سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ اب اسے جھوٹا ثابت کرو۔

اس پر قاضی صاحب اٹھے اور مجمع کو مخاطب کر کے کہا کہ دوستو! خدا کا شکر ہے کہ جو مسئلہ ان کے اور پیر صاحب کے درمیان زیر بحث تھا وہ حل ہو گیا ہے۔بحث یہ تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی امت میں نبی آسکتا ہے یا نہیں۔پیر صاحب نے عملاً تسلیم کر لیا ہے کہ آسکتا ہے۔یہ دیکھئے پیر صاحب کا نبی آپ کے سامنے کھڑا ہے! اب وہ چاہتے ہیں کہ میں اسے جھوٹا ثابت کروں تو مجھے اس کو جھوٹا ثابت کرنے کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اسے خدا تعالیٰ نے نہیں بھیجا بلکہ ابھی ابھی پیر صاحب نے آپ سب کے سامنے اس سے نبوت کا دعویٰ کروایا ہے۔ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔یہ جواب سن کر پیر صاحب مبہوت رہ گئے اور جس غیر از جماعت دوست کو انہوں نے اپنی طرف سے مناظرہ میں ثالث بنایا ہوا تھا اس نے اسی وقت اپنے احمدی ہونے کا اعلان کر دیا!(بحوالہ میدان تبلیغ میں تائید الٰہی کے ایمان افروز واقعات صفحہ ۲۲)

مزید پڑھیں: حضرت مولانا حکیم فضل الرحمٰن صاحب۔ مبلغ افریقہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button