از افاضاتِ خلفائے احمدیت

ہمارے لئے اب عمل کا زمانہ ہے اورعمل ہمیشہ جذبات سے ہوا کرتا ہے نہ کہ عقل سے(قسط اوّل)

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۴۷ء بمقام لاہور)

۱۹۴۷ء میں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نےاحمدیت سے جذباتی طور پر وابستہ ہونے کی اہمیت کو پُر معارف انداز میں بیان فرمایا ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

جذبات کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ماں کو اپنے بچہ سے محبت ہوتی ہے۔ ماں اپنے بچہ کی جتنی خدمت کرتی ہے محض محبت اور پیار سے کرتی ہے۔ عقل سے نہیں کرتی۔ بعض دفعہ ایک عورت کی بڑی عمر ہو جاتی ہے۔ مگر پھر بھی اولاد کی خواہش اُس کے دل میںموجزن رہتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اُس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اُس کی خدمت کرے۔

تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

ہر شخص اور ہر قوم کا کوئی مطمحِ نظر ہوتا ہے۔ اگر وہ مطمح نظر صرف عقلی نہیں ہوتا بلکہ جذباتی ہوتا ہے تو اُس کی ساری قوتیں اُس مطمح نظر کے لئے وقف ہوجاتی ہیں۔ اور اگر عقلی ہوتا ہے تو جتنا جتنا اُس کے یقین اور اُس کے ارادہ پر اُس عقلی مطمحِ نظر کا اثر پڑتا ہے اُتنی اُتنی توجہ اُس کی طرف پھرتی چلی جاتی ہے۔

دُنیا میں ساری چیزیں جو انسان کے دماغ میں آتی ہیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ یا فکری ہوتی ہیں یا جذباتی ہوتی ہیں۔

یعنی یا تو فکر اور عقل کے ذریعہ سے اُس نے کسی بات کو تسلیم کیا ہوتا ہے اور جتنا جتنا فکر اور عقل کا اثر یا اُس کی تائید اُسے حاصل ہوتی ہے اُتنا اُتنا ہی اُسے اُس چیز کے متعلق شغف ہوتا ہے۔مثلاً ایک انسان یہ سمجھتا ہے کہ مجھے اپنی زندگی کو اچھی طرح گزارنے کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے۔ اِس خیال کے ماتحت وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ اپنے وقت کو اُس قسم کی تعلیم کے حصول کے لئے جس کو وہ اپنی زندگی کے لئے مفید سمجھتا ہے خرچ کرتا ہے۔ مگر یہ خیال کہ تعلیم میری زندگی کو بہتر بنا دے گی مختلف درجے رکھتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص یہ تو سمجھتا ہے کہ تعلیم اُس کی زندگی کو بہتر بنا دے گی۔ مگر اِس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ ایسی ضروری چیز نہیں جیسے کوئی شخص مثلاً تقدیر کا غلط رنگ میں عقیدہ رکھتا ہو اور سمجھتا ہو کہ بیشک تعلیم ضروری ہے لیکن اگر تعلیم میری قسمت میں ہوئی تو مجھے مل جائے گی۔ اب جس شخص کا یہ عقیدہ ہو گا باوجود اِس کے کہ وہ تعلیم حاصل کرنا ضروری سمجھتا ہو گا پوری جدوجہد حصولِ تعلیم کے لئے نہیں کرے گا۔ کیونکہ اُس کی عقل اور فکر نے جتنی تعلیم کی ضرورت بتائی تھی اُسے اُس کے دوسرے عقیدہ نے کمزور کردیا۔ یا مثلاً ایک اَور شخص یہ سمجھتا ہے کہ زندگی کو کامیاب بنانے کے لئے تعلیم ضروری ہے مگر وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ میرے باپ کی جائیداد کافی ہے۔ اگر مَیں نہ پڑھوں تب بھی مَیں بھوکا نہیں مروں گا۔ ایسے شخص کی جدوجہد بھی یقیناً کمزور ہو گی۔ کیونکہ وہ سمجھے گا کہ جو فائدہ تعلیم سے حاصل ہونا ہے وہ بغیر اس کے بھی مجھے حاصل ہو سکتا ہے۔ یا ایک شخص مثلاً ویسے ہی خیالات رکھتا ہے جیسے گزشتہ زمانہ میں کالجوں کے لڑکوں کے خیالات ہوا کرتے تھے۔ اُن کا طریق تھا کہ وہ ملک میں شورش پیدا کرنے کے لئے سٹرائیکیں کیا کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سٹرائکوں سے اُن کی تعلیم نامکمل رہ جائے گی۔ مگر اِس کے ساتھ ہی اُن کا یہ بھی خیال تھا کہ چونکہ کالج انگریزی تعلیم دلواتے ہیں اور ہماری جدوجہد سے یہ تعلیم ختم ہو جائے گی۔ اس لئے اس تعلیم کا نہ ملنا ہمارے مستقبل پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتا۔ یا جس آنے والی گورنمنٹ کے لئے ہم قربانیاں کررہے ہیں جب وہ برسرِ اقتدار آئے گی تو ہماری قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور بغیر ڈگریوں کے ہی ہمارے ساتھ وہ سلوک کرے گی جو ڈگری والوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جیسے پچھلے دنوں ہمارے ملک میں طلباء نے مظاہرے کئے اور کہا کہ ہمیں مفت ڈگریاں دی جائیں کیونکہ ہم قومی خدمت کرتے رہے ہیں۔ اب جہاں تک علم کا سوال ہے یہ ایک بیوقوفی کا مطالبہ تھاکیونکہ اگر ڈگری کے معنی محض بی۔اے یا ایم۔ اے کے دو لفظ ہیں۔ تو یہ ڈگری ایک جاہل کو بھی دی جاسکتی ہے۔ ایسے شخص کو بھی جا سکتی ہے جو ایک لفظ بھی پڑھا ہوا نہ ہو۔ اور اگر ڈگری کے معنی یہ ہیں کہ خاص علم حاصل کرنے کے بعد کسی کو ڈگری دی جائے تو چاہے کسی کو قومی خدمت کی وجہ سے وہ معیارِ علم حاصل نہ ہوا ہو چاہے سُستی یا غفلت کی وجہ سے حاصل نہ ہوا ہو۔ بات ایک ہی ہوگی۔ کیا کوئی شخص اس امر کو جائز سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص قوم کے لئے زخمی ہو جائے اُسے ہسپتال والے کہہ دیں کہ تمہیں علاج کی ضرورت نہیں تم آپ ہی اچھے ہو جاؤ گے؟ یا یہ کہیں کہ تم تندرست ہی ہو زخمی کس طرح ہو سکتے ہو ؟تم تو قوم کی خاطر لڑے تھے؟یا اگر کوئی شخص دین کے رستہ میں زخمی ہوا ہو تو اُسے کہا جائے کہ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ کیایہ ہوسکتا ہے کہ تم زخمی ہو؟ تم تو خدا کے لئے لڑے تھے۔ کیا ہماری ان باتوں سے وہ اچھا ہو جائے گا؟ اِسی طرح اگر کسی نے اتنا علم حاصل نہیں کیا جو بی۔ اے کے دو حروف کے لئے ضروری ہے یا ایم۔ اے کے دو حروف کے لئے ضروری ہے تو محض اِس لئے کہ وہ ریفیوجیز(Refugees) کی خدمت کرتا رہا ہے یا کوئی اَور قومی کام کرتا رہا ہے اُسے وہ معیارِ علم کس طرح حاصل ہو سکتا ہے جو بی۔ اے یا ایم۔ اے کو حاصل ہوتا ہے۔ اور اگر یہ دو حروف بغیر ایک مقررہ معیارِ علم کے حاصل ہو سکتے ہیں تو پھر اس طرح بھی کیا جا سکتا ہے کہ بجائے اِس کے کہ کسی کو وکٹوریہ کراس یا آئرن کراس دیا جائے۔ جب کوئی سپاہی اچھا لڑے تو اُس کو بی۔ اے کی ڈگری دے جائے۔ یا کوئی شخص ملک کے لئے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالے تو اُسے ایم۔ اے کی ڈگری دے دی جائے۔ اور جب یونیورسٹی سے پوچھا جائے کہ اسے بی۔ اے یا ایم۔ اے کا خطاب تم نے کیوں دیا ہے؟ تو وہ جواب دے کہ اس نے اپنی جان ملک کے لئے خطرہ میں ڈالی تھی۔ اگر یہ شخص اس خطاب کا مستحق نہیں تو اور کون ہے۔ کیا یہ جواب درست ہو گا اور کیا کوئی بھی صحیح الدماغ انسان اسے جائز قرار دے گا؟ اگر نہیں تو علوم کی ڈگریاں بھی معیارِ علم کے مطابق حاصل ہوتی ہیں۔ اور اگر اِس کے بغیر ہم اُن ڈگریوں کو حاصل کرتے ہیں تو ہم دُنیا کو بھی دھوکا دیتے ہیں اور اپنے آپ کو بھی دھوکا دیتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ گزشتہ دنوں ہمارے ملک میں یہی چرچا رہا اور طلباء مُفت ڈگریوں کے لئے مظاہرات کرتے رہے اور انہوں نے سمجھا کہ ملک بغیر مقررہ میعارِ علم حاصل کرنے کے انہیں بی۔ اے یا ایم ۔ اے کا خطاب دے دے گا۔ جیسے یونیورسٹیاں بعض لوگوں کو آنریری ڈگریاں دے دیا کرتی ہیں۔ مثلاً ڈی ڈی(DOCT. OF DIVINITY)الوہیت مسیح کے بارہ میں عیسائی مذہبی علم کا ماہر)، ایل ایل ڈی(ڈاکٹر آف لاء(DOCT. OF LAW) کی ڈگری دے دیتی ہیں۔ حالانکہ بعض دفعہ جسے اس قسم کی ڈگری دی جاتی ہے وہ ایک حرف بھی ان علوم کا پڑھا ہوا نہیں ہوتا۔ مگر یہ اعزازی ڈگری صرف اس لئے دے دی جاتی ہے کہ اُس نے کوئی سیاسی کام کیا ہوا ہوتا ہے یا ملک کی خدمات سرانجام دیتے ہوئے اُس نے قربانیاں کی ہوئی ہوتی ہیں۔ انگلستان کے قریباً تمام وزراء کو اسی طرح اعزازی ڈگریاں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ ابھی لارڈ بالڈون فوت ہوئے ہیں۔ انہیں بھی بڑی ڈگریاں ملی ہوئی تھیں۔ مگر ان کی خدمت کیا تھی؟ خدمت یہ تھی کہ گزشتہ جنگ کے موقع پر اُنہوں نے اپنی ساری جائیداد ملک کو دے دی تھی۔ اِس کے بعد ایسا چانس ہوا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ پر جا پہنچے۔ پھر کہیں گلاسگو یونیورسٹی (Glasgow University)نے اُن کو ڈگریاں دے دیں۔ کہیں کیمبرج یونیورسٹی نے ان کو ڈگریاں دے دیں۔ کہیں آکسفورڈ یونیورسٹی نے ان کو ڈگریاں دے دیں۔ مگراِس کے یہ معنی نہیں کہ اِن ڈگریوں کے پاس شُدہ مقام پر اُس شخص کو کھڑا کر دیا جائے جسے بعض اعزازی ڈگریاں ملی ہوئی ہیں۔

غرض بیسیوں وجوہات ہوتی ہیں جو عقلی مطمحِ نظر کو کمزور کرنے کے لئے پیدا ہو جاتی ہیں۔ عقل کہتی ہے کہ فلاں بات اِس طرح ہے۔ مگر دوسری باتیں عقل کے فیصلہ اور اُس کے مقام کو کمزور کرنے کا موجب ہو جاتی ہیں۔ اِس کے مقابلہ میں جذبات جو کچھ فیصلہ کرتے ہیں سوائے اِس کے کہ جہالت سے کسی وقت اصل مقصود ہی انسانی نظر سے اوجھل ہو جائے کوئی چیز اس میں روک نہیں بن سکتی۔ جذبات کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ماں کو اپنے بچہ سے محبت ہوتی ہے۔ ماں اپنے بچہ کی جتنی خدمت کرتی ہے محض محبت اور پیار سے کرتی ہے۔ عقل سے نہیں کرتی۔ بعض دفعہ ایک عورت کی بڑی عمر ہو جاتی ہے۔ مگر پھر بھی اولاد کی خواہش اُس کے دل میںموجزن رہتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اُس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اُس کی خدمت کرے۔ حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ ٹوانہ خاندان میں سے (جن میں سے سر خضر حیات خاں ہیں) ایک رئیس تھے جن کی بڑی عمر ہوگئی مگر اُن کے ہاں اولاد نہ ہوئی۔ ستّر سال کے قریب خاوند کی عمر ہوگئی اور ساٹھ سال کے قریب بیوی کی عمر ہو گئی۔ آخر انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم حج کے لئے جاتے ہیں، وہاں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں بچہ دے دے گا۔ اِسی احساس کے ماتحت وہ حج کے لئے چل پڑے۔ کوئی اُن سے پوچھتا کہ آپ کہاں چلے ہیں؟ تو وہ یہی جواب دیتے کہ بچہ لینے چلے ہیں۔ چونکہ اعتقاد پختہ تھا اور انہوں نے دعائیں بھی اور گریہ وزاری بھی ضرور کی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل نازل ہوا کہ اُن کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا۔ حالانکہ اُس وقت بیوی کی عمر ساٹھ سال تھی۔ غرض واپس آئے تو بچہ لے کر آئے اور ہر ایک سے یہی کہتے کہ لو حج کے ذریعہ ہمیں بچہ مل گیا۔ اب دیکھو یہ ایک فطرت تھی۔اگر اُس عورت سے کوئی کہتا کہ تُو ساٹھ سال کی ہو چکی ہے اور تیرا خاوند ستّر سال کی عمر کو پہنچ چکا ہے ایسی حالت میں تیرے ہاں بچہ کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔ تو وہ اُس سے لڑنے لگ جاتی۔ پھر اگر اس عمر میں کوئی بچہ پیدا بھی ہو تو یہ یقینی بات ہے کہ ماں باپ اُس کے جوانی تک پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہوجائیں گے۔ اگر ۲۱سال جوانی کی عمر فرض کرلی جائے تو ۶۰ سال کی عورت اُس وقت ۸۱ سال کی ہوگی۔ اور ۷۰ سالہ باپ اُس وقت ۹۱ سال کا ہوگا ۔ مگر کتنے مرد ہیں جو اس عمر کو پہنچتے ہیں؟ یا کتنی عورتیں ہیں جو اس عمر کو پہنچتی ہیں؟ لاکھوں لاکھ میں سے کوئی ایک ہی اِس عمر کو پاتا ہے ۔ لیکن باوجود اِس حقیقت کے اگر کوئی اُن سے کہتا کہ تم کیوں اپنا وقت فضول ضائع کرتے ہو؟ تمہیں بچے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ تم تو اُس کے جوانی تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جاؤ گے تو وہ اُس کے پیچھے پڑ جاتے اور کہتے تم تو ہمارے دشمن ہو جو ایسی بات کہہ رہے ہو۔ غرض بچہ کی پیدا ئش کی خواہش عقل کے ماتحت نہیں ہوتی۔ ایک انسان مکان بناتا ہے تو اس لئے بناتا ہے کہ مَیں اس مکان میں رہوں گا اور سردی گرمی سے محفوظ رہوں گا۔ ایک انسان فصل بوتا ہے تو اس لئے بوتا ہے کہ مَیں فصل کو کاٹوں گا، اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھروں گا۔ لیکن ماں باپ بچے کی خواہش کسی خاص نیت کے ماتحت نہیں کرتے۔ صرف اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں بچہ مل جائے۔ یہ اُن کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی نہیں ہوتا کہ بچہ بڑ اہوگا تو ہمیں کما کر کھلائے گا یا ہمارا نام روشن کرنے کا موجب ہوگا۔ کبھی گفتگو میں کوئی ذکر آ جائے تو اَور بات ہے۔ ورنہ ماں باپ بچے کی خواہش محض بچے کے لئے کرتے ہیں اور کسی چیز کے لئے نہیں کرتے۔ اِسی لئے بچہ کی پرورش میں کوئی چیز روک نہیں بنتی۔ کوئی ماں اس لئے اپنے بچہ کی پرورش میں حصہ لینے سے انکار نہیں کر دیتی کہ مَیں بڑھیا ہوں مَیں اس کی کمائی سے حصہ نہیں لے سکوں گی۔ یا کوئی ماں اس لئے اپنے بچہ کی پرورش میں کمی نہیں کرے گی کہ یہ کُند ذہن ہے بڑاہو کر پڑھے گا نہیں اور اس لئے روپیہ کما نہیں سکے گا۔ اسی طرح کوئی ماں اس لئے بھی اپنے بچہ کی پرورش کو نہیں چھوڑ دیتی کہ ممکن ہے پانچ چھ سال کے بعد یہ مر جائے اور میری ساری محنت اکارت چلی جائے۔ ایسے خیالات کسی ماں کے دل میں آئیں بھی تو وہ ان کو غدّاری سمجھے گی اور دیوانہ وار بچہ کی پرورش میںلگ جائے گی۔ تو اِس قسم کی جذباتی چیزیں ہی ہیں جو انسان کی کامیابی کا موجب ہوتی ہیں۔

(جاری ہے)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button