ضرورتِ الہام

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
تا میاں بست وحی حق برشاد
اے بسا عقد ہائے ما کہ کشاد
جب سے خدا کی وحی ہماری ہدایت کے لئے تیار ہوئی ہمارے بہت سے عقدے حل ہو گئے
نہ شود از تو کار ربّانی
آسیائے تہی چہ گردانی
جو خدا کا کام ہے وہ تجھ سے نہیں ہوسکتا۔خالی چکی تو کیا گھما رہا ہے
تو و علم ِتو ما و علمِ خدا
فرق میں از کجاست تا بکجا
تو اور تیرا علم ایک طرف ہے۔ہم اور خدا کا علم ایک طرف اب دیکھ لے کہ دونوں میں کیا فرق ہے
آں یکی را نگار خویش بہ بر
دیگری چشم انتظار بہ در
ایک وہ ہے جس کا معشوق اُس کی بغل میں ہے دوسرا وہ ہے جس کی آنکھ انتظار میں دروازے پر لگی ہوئی ہے
آں یکے ہمنشیں یہ مہ رُوئے
دیگرے ہرزہ گرد در کُوئے
ایک وہ شخص ہے جو اپنے محبوب کے پاس بیٹھا ہے دوسرا وہ ہے جو گلی میں آوارہ پھر رہا ہے
آں یکے کام یافتہ بہ تمام
دیگرے سوختہ بفکرت کام
ایک وہ ہے جس نے اپنا مقصد پالیا۔دوسرا وہ ہے جو اپنا مقصد پانے کی فکر میں جل رہا ہے
عارت آید ز عالم اسرار
خود ز خود دم زنی زہے پندار
تجھے عالم اسرار سے شرم آنی چاہیے تو اپنی عقل پر فخر کرتا ہے۔تیرے تکبر پر افسوس
ہمہ کارِ تو نا تمام افتاد
وہ چہ کارت بعقلِ خام افتاد
تیرا سارا کام نامکمل رہ گیا۔ناقص عقل کے ساتھ تجھے کیسابُرا واسطہ پڑا۔
(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۶۲-۱۶۳ بحوالہ درثمین فارسی جلد اول مترجم ۷۵ و۷۶)
مزید پڑھیں: فضل الٰہی کے غیبی سامان




