سیرت خلفائے کرام

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کابچپن

چیونٹے نے میرے ہونٹ پر کاٹ لیا ۔ قسط۔چہارم

(ظہیر احمد طاہر ابن مکرم نذیر احمد خادم مرحوم ومغفور۔جرمنی)

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں بعض آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اپنے بچپن کے دلچسپ واقعات بیان فرمائے ہیں۔ حضور رضی اللہ عنہ کے بچپن کے واقعات اور متعلقہ آیات کی تفسیر کے کچھ حصے افادۂ عام کی غرض سے پیش کیے جارہے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ آیت کریمہ: اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَاَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَہۡجَۃٍ ۚ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُنۡۢبِتُوۡا شَجَرَہَا ؕ ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ یَّعۡدِلُوۡنَ۔(النمل:۶۱) (بتاؤ تو) آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اور (کس نے) تمہارے لیے بادل سے پانی اتارا ہے۔ پھر اس (یعنی پانی) کے ذریعہ سے ہم نے خوبصورت باغ نکالے ہیں۔ تم ان(باغوں) کے درخت نہیں اگا سکتے تھے۔ کیا اللہ کے ساتھ اَور بھی معبود ہے (جو سب کائنات عالم کا انتظام کررہا ہے) لیکن یہ (کافر) ایسی قوم ہیں جو اس کے شریک بنا رہے ہیں۔ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”فرماتا ہے۔ تم آسمانی اور زمینی نظام پر غورکرکےدیکھوکہ یہ زمین اور آسمان کس نے پیدا کیے ہیں اور پھرکون ہے جو بادلوں سے پانی اتار کر قسم قسم کے باغ اگاتا ہے حالانکہ تم ایک درخت بھی پیدا نہیں کرسکتے تھے۔ پھر سوچو کہ وہ خدا جس نے یہ نظام کائنات بنایا وہ بہتر ہے یا وہ معبودانِ باطلہ بہتر ہیں جو ان باغوں اور پانیوں اور آسمان اور زمین سب کے محتاج ہیں۔ تم اس خدا جیسا کوئی اَور دکھاؤتو سہی۔ یقینا ًتم نہیں دکھا سکتے۔ مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ لوگ پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے اور وہ خواہ مخواہ خدا تعالیٰ کے ہمسر بناتے چلے جاتے ہیں۔
اس آیت کے پہلے حصہ میں غائب کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ لیکن دوسرے حصہ میں اَنْبَتْنَا کہہ کر جمع متکلم کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔ یہ قرآنی کمالات میں سے ایک بہت بڑا کمال ہے کہ وہ بعض دفعہ چھوٹے سے لفظ کے ذریعے ایک بہت بڑا اشارہ کردیتا ہے۔ اس جگہ بھی غائب سے متکلم کی طرف ضمیر بلاوجہ نہیں پھیری گئی۔ بلکہ اس لیے پھیری گئی ہے کہ زمین وآسمان کی پیدائش اور آسمان سے بارش نازل ہونے اور اس کے ذریعہ زمین سے ہر قسم کی سبزیاں اور باغات پیدا ہونے پر جب انسان غور کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے جلال اور جبروت کا نقشہ اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور وہ اسے غائب نہیں بلکہ حاضر سمجھنے لگتا ہے۔ چنانچہ اسی مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اس آیت میں اَنْبَتْنَا کالفظ استعمال کیا گیا ہے۔ گویا خدا بندوں کے سامنے کھڑا ہے اور وہ انہیں اپنے احسانات گنوارہاہے۔ پس یہ غلطی نہیں بلکہ قرآن کریم کے اعلیٰ درجہ کے کمالات میں سے ایک بڑا کمال ہے۔
پھر اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہری پیدائش عالم کو پیش کرکے روحانی پیدائش کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ جس طرح مادی دنیا میں زمین وآسمان کی پیدائش اور بادلوں سے بارش نازل ہونے کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح روحانی دنیا میں بھی ایسا ہی قانون جاری ہے۔ اور انبیاء کی آمد بھی ایک بارش سے مشابہت رکھتی ہے جس طرح وہ بادل جو ضرورت کے مطابق اور لمبے انتظار کے بعد خشک زمین پر برستا ہے جب لوگ گرمی کی شدت اور حبس کی تکلیف کی وجہ سے بے کل ہور ہے ہوتے ہیں۔ جب انسان اور جانور تازہ اور اچھے پانی کے لیے تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ جب کھیت اپنی روئیدگی کو نکالنے اور سبزہ کو ابھارنے کے لیے پانی کی چھینٹوں کو ترس رہے ہوتے ہیں اور اسے دیکھ کر دنیا خوش ہوتی ہے کہ اب اس کی امیدیں بر آئیں گی اور اس کی فصلیں تروتازہ ہوجائیں گی۔ اسی طرح روحانی ظلمات کی تکلیف اور ایک لمبے انتظار کے بعد انبیاء علیہم السلام کا دنیا میں ظہور ہوا کرتا ہے جو اپنے انفاس قدسیہ سے پیاسی دنیا کو سیراب کرتے اور علم وعرفان کے دریا بہا دیتے ہیں جن سے بڑے بڑے روحانی باغ تیار ہوتے ہیں جو آنکھوں کی تراوت اور دلوں کی تسکین کا موجب بنتے ہیں۔ مگر جہاں بارش اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے اگر بروقت بارش نہ ہوتو فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں اور کنوؤں کے پانی تک خشک ہوجاتے ہیں۔ وہاں اس کے ساتھ کچھ تکالیف بھی وابستہ ہیں۔ چنانچہ جب لوگوں کو نماز کے لیے مسجد آنا پڑتا ہے۔ یا سودا سلف کے لیے بازار جانا پڑتا ہے تو انہیں کیچڑ کی وجہ سے تکلیف اٹھانا پڑتی ہے …تو جہاں بارش اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل ہے۔ وہاں اس میں کچھ تکلیف کے پہلو بھی ہیں۔ پھر اس میں اندھیرا بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات تو شدید کڑک ہوتی ہے جس سے بچوں اور کمزور لوگوں کے دل ہل جاتے ہیں اور بعض کمزور بچے ڈر سے مر بھی جاتے ہیں۔ پھر بارش میں بعض اوقات بجلی بھی چمکتی ہے اور کبھی گرتی بھی ہے جس سے جان ومال کا نقصان ہوتا ہے اور یہ سب تکلیف کے مختلف پہلو ہیں۔ مگر بارش کے مقابلہ میں لوگ ان تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ سب جانتے ہیں کہ بارش ہوگی تو اس کے ساتھ کیچڑ بھی ہوگا۔کیا کوئی ایسا زمیندار بھی ہے جو سمجھتا ہو کہ بارش ہوگی تو زمین گیلی نہ ہوگی۔ اور کیچڑ نہ ہوگا۔ یا پھرکوئی ایسا زمیندار ہے جو یہ نہ جانتا ہوکہ بارش ہونے سے سردی بڑھ جائے گی۔ پھر کوئی نہیں جویہ نہ جانتا ہوکہ بارش کے ساتھ کڑک بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات بجلی بھی گرتی ہے جس سے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ سب لوگ ان باتوں کو جانتے ہیں مگر پھر بھی وہ یہی دعائیں کرتے ہیں کہ یااللہ بارش ہو۔ وہ کیوں یہ دعائیں کرتے ہیں اس لیے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ بارش کے ساتھ جو فضل وابستہ ہوتا ہے اور اس سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں ان کے مقابلہ میں تکلیف بہت کم ہے۔ یہی حال انبیاء کی بعثت کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْہِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ یعنی جس طرح بادلوں میں سے بارش ہوتی ہے تو جہاں اس کے بے شمار فائدے اور برکتیں ہوتی ہیں وہاں اس میں ظلمات کڑک اور بجلی بھی ہوتی ہے اور اس سے کچھ تکلیف بھی ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات نقصان بھی ہوتاہے۔ اسی طرح انبیاء کی بعث کا حال ہے۔ اس میں برکتیں بھی بہت ہوتی ہیں مگر کچھ تکلیف بھی ہوتی ہے۔ لیکن جس طرح بارش کی تکلیف کے باوجود اس کی ناقدری نہیں کی جاتی۔ اسی طرح انبیاء کی بعثت کی بھی ناقدری نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ ان تکالیف کی قیمت اس وقت معلوم ہوگی جب قیامت کے دن نتیجہ نکلے گا۔ جب فصل پکتی ہے۔ تب زمیندار کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اندھیرے اور کڑک اور برق کتنی قیمتی تھی اگر یہ نہ ہوتی تو زمیندار جب اپنے کھیت میں فصل پکنے پرجاتا۔ تو سوائے تھوڑے سے سوکھے اور جلے ہوئے دانوں کے اس کے ہاتھ پر کچھ نہ آسکتا۔ لیکن بارش ہونے کے بعد جب اس کی فصل پکتی ہے تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اندھیرا اور وہ کڑک اور وہ بجلی کتنی مفید تھی۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں اس کے ہاں غلّہ پیدا ہوا۔ کپڑوں اور دوسرے اخراجات مثلاً شادیوں بیاہوں کے لیے سامان میسر آیا۔ ایک ایک دانہ کے ستر ستر اسّی اسّی اورسَو سَو دانے ہوئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے ساتھ بھی کچھ تکالیف وابستہ ہوتی ہیں مگر جو انسان ان تکالیف کے باوجود اس نعمت کی قدر کرتا ہے اس کی مثال ویسی ہی ہوتی ہے جیسے اس زمیندار کی جس کی فصل پر ابھی بارش برس چکی ہو۔ بیشک اس کے ساتھ اندھیرے بھی ہوتے ہیں۔ کڑک بھی ہوتی ہے۔ بجلیاں بھی ہوتی ہیں مگر پھر بھی لوگ اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور اس کے فوائد کے مقابلہ میں ان تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں کرتے …غرض انبیاء کی بعثت کی بارش کے ساتھ مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ان کی بعثت کے ساتھ جو تکالیف وابستہ ہوتی ہیں۔ مومن کو دلیری سے ان کو برداشت کرنا چاہیے۔ جب وہ ایک دفعہ دین کو سچا سمجھ کر قبول کرتا ہے تو پھر خواہ اسے کتنی تکالیف آئیں خواہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں اسے ہرگز کمزوری نہیں دکھانی چاہیے اور دین کے ساتھ اس طرح چمٹے رہنا چاہیے جس طرح چیونٹا جسے پنجابی میں ”کاڈھا“ کہتے ہیں چمٹ جاتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں۔
مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے۔میاں جان محمد صاحب کشمیری قادیان کی مسجد اقصیٰ کے امام ہؤاکرتے تھے۔ہمارے داداصاحب نے انہیں مقررکیاہواتھا۔وہ ہمارے گھرکاکام کاج بھی کرتے تھے۔ایک دن کوئی دوست مچھلی تحفہ کے طورپرلائے۔ہماری ڈیوڑھی کے سامنے ایک تخت پوش بچھارہتاتھا۔وہ اس پر بیٹھ کرمچھلی صاف کرنے لگے اورہم چار پانچ بچے تماشہ دیکھنے کے لیے پاس بیٹھ گئے۔میرے ہاتھ میں ایک پیڑاتھا جو میں کھارہاتھا۔مچھلی کے خیال میں شاید میراہاتھ تخت پوش سے لگ گیا اورایک چیونٹاپیڑے پر چڑھ گیا۔مَیں جب اسے کھانے لگا تواس چیونٹے نے میرے ہونٹ پر کاٹ لیا۔مَیں نے اسے بہتیراکھینچا اورچھڑانے کی کوشش کی۔ مگراس نے نہ چھوڑا۔آخر میاں جان محمد صاحب نے اسے چھری سے کاٹ دیا۔یہی حال مومن کاہوناچاہیے۔یاتووہ دین کو اختیار ہی نہ کرے اوراگر کرے توپھر اس کے ساتھ اس طرح چمٹ جائے جس طرح چیونٹاچمٹ جاتاہے اورپھر چاہے اسے کاٹ ڈالاجائے وہ دین چھوڑے کے لیے تیار نہ ہو۔‘‘ (تفسیر کبیرجلد۱۰، صفحہ ۱۲۵-۱۲۸، ایڈیشن ۲۰۲۳ء مطبوعہ یوکے)

مزید پڑھیں: سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بے نظیر و بے مثال خدمت قرآن

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button