شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
… یہ اتنا اہم اور ضروری مضمون ہے اورموجودہ زمانہ میں اس کی ضرورت اور بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ جبکہ ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ سے دور جارہے ہیں ہمیں یہ تو فخر ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فلاں صحابی کی نسل میں سے ہیں لیکن اپنے آبا ؤ اجداد کی قربانیوں پر کم نظر ہے اگلی نسلوں میں جسمانی خون تو منتقل ہوگیا ہے لیکن روحانیت کے معیار کم ہوئے ہیں بہرحال یہ قدرتی امر ہے کہ جوں جوں نبوت کے زمانہ سے دور ہوتے جائیں کچھ کمیاں کچھ کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن ترقی کرنے والی جماعتیں زمانے اور حالات کا رونا رو کر وہیں بیٹھ نہیں جایا کرتیں بلکہ کوشش کرتی ہیں ہم تو خوش قسمت ہیں کہ ہمارے بارے میں یہ خوشخبریاں اور پیش گوئیاں موجود ہیں کہ مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہوکر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانا ہے اور یہ مقدر ہے بشرطیکہ ہم توحید پر قائم رہیں اور اس تعلیم پر نہ صرف خود قائم ہوں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی قائم رکھیں اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کاایک اقتباس پیش کرتاہوں جس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی بیعت کرنے والوں سے کیا چاہتے ہیں اس کے بعد شرائط بیعت کی چوتھی شرط سے شروع کروں گا۔ حضور فرماتے ہیں۔’’میرے ہاتھ پر توبہ کرنا ایک موت کو چاہتاہے تاکہ تم نئی زندگی میں ایک اور پیدائش حاصل کرو۔
بیعت اگر دل سے نہیں تو کوئی نتیجہ اس کا نہیں۔میری بیعت سے خدا دل کا اقرار چاہتا ہے پس جو سچے دل سے مجھے قبول کرتا اور اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرتا ہے غفور و رحیم خدا اُس کے گناہوں کو ضرور بخش دیتا ہے اور وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے نکلا ہے تب فرشتے اُس کی حفاظت کرتے ہیں ‘‘ (ملفوظات۔ جلد سوم۔ صفحہ262)
چوتھی شرط بیعت
’’یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے‘‘
جیسا کہ اس شرط سے واضح ہے کہ غصہ میں آکر مغلوب الغضب ہوکراپنی اَنا کا مسئلہ بناکر اپنی جھوٹی غیرت کا اظہار کرتے ہوئے نہ ہی اپنے ہاتھ سے نہ ہی زبان سے کسی کو دُکھ نہیں دینا۔ یہ تو ہے ہی ایک ضروری شرط کہ کسی مسلمان کو دُکھ نہیں دوں گا یہ تو ہمارے اُوپر فرض ہے اس کی پابندی تو ہم نے خصوصیت سے کرنی ہی ہے کیونکہ مسلمان تو ہمارے پیارے محبوب پیارے آقا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں ان کی برائی کا تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے سوائے اُن نام نہاد علماء کے جو اسلام کے نام پر ایک دھبہ ہیں جنہوں نے اس زمانہ کے مسیح موعود اور مہدی کے خلاف اپنی دشمنی کی انتہاء کردی ہے ان کے خلاف بھی ہم اپنے خدا سے اُس قادرو توانا خدا سے جو سب قدرتوں کا مالک ہے ایسے شریروں کے خلاف مدد مانگتے ہوئے اُس کے حضور جھکتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اے اللہ تو ہی اُن کو پکڑ اور یہ بھی اس لئے کہ خدا کا رسول ان کو بدترین مخلو ق کہہ چکا ہے ورنہ ہمیں کسی سے زائد عناد اور کسی کے خلاف غصہ نہیں،ہم تو اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے غصہ کو دبانے کی نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔(آل عمران: آیت۱۳۵)
یعنی وہ لوگ جو آسائش میں بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی اور غصہ دبا جانے والے لوگوں سے درگذرکرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
اس آیت سے ہی حضرت امام حسین علیہ السلام کے غلام نے آزادی حاصل کرلی تھی بیان کیا جاتا ہے کہ غلام نے آپ پر غلطی سے کوئی گرم چیز گرادی پانی یاکوئی پینے کی چیز تھی آپ نے بڑے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔ تو تھا وہ ہوشیار۔ قرآن کا بھی علم رکھتا تھا اور حاضر دماغ بھی تھا فوراً بولا وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظ آپ نے کہا ٹھیک ہے غصہ دبا لیا۔ اب اس کو خیال آیا کہ غصہ تو دبا لیا لیکن دل میں تو رہے گا کسی وقت کسی اور غلطی پر مار نہ پڑ جائے فوراً بولا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاس۔ آپ نے کہاٹھیک ہے جائو معاف بھی کردیا۔ علم اور حاضر دماغی پھرکام آئی فوراً کہنے لگا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ آپ نے کہا چلو جائو تمہیں آزاد بھی کرتا ہوں تو اس زمانہ میں غلام خریدے جاتے تھے اتنی آسانی سے آزادی نہیں ملتی تھی لیکن غلام کی حاضر دماغی اورعلم اور مالک کا تقویٰ کام آیا اور آزادی مل گئی۔ تو یہ ہے اسلام کی تعلیم۔
عفو و درگذر سے کام لو
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایصال خیر کی اقسام کے بیان میں دوسری قسم ان اخلاق کی جو ایصال خیر سے تعلق رکھتے ہیں کے متعلق فرماتے ہیں: ’’ پہلا خلق ان میں سے عفوہے۔ یعنی کسی کے گناہ کو بخش دینا۔اس میں ایصال خیر یہ ہے کہ جو گناہ کرتا ہے وہ ایک ضرر پہنچاتا ہے اور اس لائق ہوتا ہے کہ اس کوبھی ضرر پہنچایا جائے سزا دلائی جائے، قید کرایا جائے،جرمانہ کرایا جائے یا آپ ہی اس پر ہاتھ اُٹھایا جائے۔پس اس کو بخش دینا اگر بخش دینا مناسب ہو تو اُس کے حق میں ایصال خیر ہے۔ اس میں قرآن شریف کی تعلیم یہ ہے وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ۔ (آل عمران:۱۳۵) جَزَآءُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ۔ (شوریٰ:۴۱) یعنی نیک آدمی وہ ہیں جو غصہ کھانے کے محل پر اپنا غصہ کھا جاتے ہیں اور بخشنے کے محل پر گناہ کو بخشتے ہیں بدی کی جزا اُسقدر بدی ہے جوکی گئی ہو لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقع پر گناہ کو بخش دے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو یعنی عین عفو کے محل پر ہو،نہ غیر محل پر تو اس کا وہ بدلہ پائے گا‘‘۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن۔ جلد نمبر۱۰۔صفحہ۳۵۱)
ایک بڑی مشہور حدیث ہے۔ اکثر نے سنی ہوگی جس میں آنحضرت ﷺ اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تقویٰ یہاں ہے یعنی حقیقی اور بے مثال تقویٰ اگر کہیں ہو سکتا ہے تووہ صرف اور صرف آپﷺ کا دل صافی ہے اس دل میں سوائے تقویٰ کے کچھ اور ہے ہی نہیں۔
پس اے لوگو اے مومنوں کی جماعت !تمہارے لئے ہمیشہ یہ حکم ہے کہ تم نے جس اُسوۂ حسنہ پر عمل کرنا ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ٔحسنہ ہے۔ پس اپنے دلوں کو ٹٹولو۔ کیا تم دل میں اُس اُسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو تقویٰ سے بھرنے کی کوشش کر رہے ہو؟ کیا تمہارے اندر بھی اللہ کاخوف اُسکی خشیت اور اُس کے نتیجہ میں اُسکی مخلوق کی ہمدردی اور خیرخواہی ہے۔
اب میں پوری حدیث بیان کرتا ہوں جو یوں ہے: حضرت ابوھریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپس میں حسد نہ کرو۔ آپس میں نہ جھگڑو۔ آپس میں بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے دشمنیاں مت رکھو اور تم میں سے کوئی ایک دوسرے کے سودے پہ سودا نہ کرے اے اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن جائو مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا اُسے ذلیل نہیں کرتا اور اُسے حقیر نہیں جانتا پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا: اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا یعنی تقویٰ یہاں ہے۔ کسی آدمی کے شر کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔ (صحیح مسلم۔ کتاب البر والصِّلۃ۔باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ…الخ)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۷۱ تا ۷۶)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں




