خطاب حضور انور

امیر المومنین سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ 2025ء سے معرکہ آرا افتتاحی خطاب

’’اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو۔ کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔‘‘ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

افسوس اس بات کا ہے کہ خدا تعالیٰ کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے بھی دنیا کے دھندوں اور ذاتی خواہشات اور ترجیحات اور اناؤں میں ڈوب کر اپنے عمل سے خدا تعالیٰ کا انکار کر رہے ہیں

افسوس ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت بھی اس بات کو بُھلابیٹھی ہے کہ حقوق اللہ کیا ہیں اور حقوق العباد کیا ہیں

دنیا کے موجودہ حالات میں ہم احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کو مانا ہے تو آپ کی باتوں کو سنیں، ان پر غور کریں اور ان پر عمل کر کے اپنی دنیا و عاقبت سنواریں۔ اپنی نسلوں کی بھی حفاظت کریں اور دنیا کو بھی صراط مستقیم پر لانے کے لیے حتی المقدور کوشش کریں

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ اگر ہم نے بھی اس طرف توجہ نہ دی تو پھر ہم بھی انہی لوگوں کی صف میں کھڑے ہو جائیں گے جو نام کے مسلمان ہیں

آپ آج جلسے پر آئے ہیں تو اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ اپنی روحانی، اخلاقی، علمی اصلاح کر سکیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر چل کر حقیقی احمدی مسلمان بن سکیں اور تب ہی ہم احمدیت کے پیغام کو، حقیقی اسلام کے پیغام کو دنیا میں پھیلا سکیں گے۔ تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنی عبادتوں کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے اندر عاجزی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر قسم کے تکبّر سے بچنے کی ضرورت ہے۔ ہر قسم کی ریا سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سچائی پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ صبر کا نمونہ ہر حالت میں دکھانے کی ضرورت ہے۔ دین کے معاملے میں استقامت اور ثابت قدمی دکھانے کی ضرورت ہے۔ ایمان بالغیب پر یقین رکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرنے کی ضرورت ہے جس میں مالی اور جانی ہر قسم کی قربانی ہے اور اس پر چلتے ہوئے جب ہم تقویٰ کے حصول کی کوشش کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بھی وارث بنیں گے

ہمیں اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اگر اپنی مراد کو پہنچنا ہے، فلاح پانی ہے، کامیابیاں حاصل کرنی ہیں تو ہمیںمومن بننا پڑے گا اور مومن بننے کے لیے تقویٰ ضروری ہے

اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نصائح پر عمل کرنا ہوگا۔ ہمیں قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنا ہوگا۔ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کی کوشش کرنی ہوگی اور آپؐ کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی

ہم بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہے اور ہم نے ان کو مانا ہے لیکن ہمارے دعوے اُس وقت سچے ثابت ہوں گے جب ہم حقیقت میں عملاً اپنی حالتوں کو بھی اس مقام پر لے جانے والے بنیں گے یا اس کی کوشش کرنے والے بنیں گے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم کو لے جانا چاہتے ہیں اور جو حقیقی اسلامی تعلیم کے حاصل کرنے سے مل سکتا ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بابرکت ارشادات کی روشنی میں حصولِ تقویٰ کی اہمیت پر پُرمعارف خطاب

امیر المومنین سیدنا حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ 2025ء سے معرکہ آرا افتتاحی خطاب

(فرمودہ 25؍ جولائی 2025ء بروز جمعۃ المبارک بمقام حدیقۃ المہدی (جلسہ گاہ) آلٹن ہمپشئر۔ یوکے)

(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آجکل دنیا کے جو حالات ہیں اس نے ہر ایک کو فکر میں ڈالا ہوا ہے لیکن فکر کا اظہار تو بیشک سب کرتے ہیں مگر اس کے حل کی طرف کسی کی بھی توجہ نہیں۔ دنیا کی اکثریت بھول گئی ہے کہ دنیا کا ایک مالک ہے۔ ربّ ہے جو ربّ العالمین ہے جس نے تمام عالم کو پیدا کیا ہے اور اس کی ضروریات کو اس میں پیدا کیا ہے۔ ان کو پالنے والا ہے۔ اس نے انسان کو بھی اس دنیا میں پیدا کیا اور اسے اعلیٰ قسم کی صفات اور خصوصیات سے بھی نوازا ہے۔ اسے سوچ عطا فرمائی ہے۔ اسے غلط اور صحیح اور اچھے اور بُرے اور گناہ اور نیکی کی پہچان کی صلاحیت عطا فرمائی ہے لیکن اس کے باوجود انسان ان باتوں سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا۔ نیکی کےبجائے برائی کی طرف زیادہ رجحان ہے۔ اپنے پیدا کرنے والے خدا کی طرف جھکنے کے بجائے شیطانی حربوں کی طرف جھکنے کا زیادہ رجحان ہے۔ ظاہری چمک کی طرف زیادہ جھکاؤ ہے اور دلی پاکیزگی کی طرف کم توجہ ہے۔ بلکہ اکثریت کی نہ ہونے کی حد تک یہ حالت ہے۔ یہ توجہ نہ ہونے کی حالت ہے۔ اس میں مختلف مذاہب کے لوگ بھی ملوث ہیں اور لا مذہب اور خدا کو نہ ماننے والے تو پھر سب سے بڑھ کر ہیں۔ یہ لوگ تو اپنی تمام تر ظاہری اور باطنی صلاحیتوں کے ساتھ شیطان کے مکمل مددگار بنے ہوئے ہیں بلکہ اس کا آلہ کار ہیں اور دوسروں کو بھی بھڑکانے اور راہ راست سے ہٹانے کے لیے بھرپور کوشش کرتے رہتے ہیں اور نہیں جانتے کہ آخر کار ان کا کیا انجام ہونا ہے۔ یہ دنیا تو عارضی ہے۔ مرنے کے بعد کی جو دنیا ہے اس میں جو خدا کو ناراض کرنے والے ہیں وہ اپنے عملوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی پکڑ کا سامنا بھی کریں گے لیکن

افسوس اس بات کا ہے کہ خدا تعالیٰ کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے بھی دنیا کے دھندوں اور ذاتی خواہشات اور ترجیحات اور اناؤں میں ڈوب کر اپنے عمل سے خدا تعالیٰ کا انکار کر رہے ہیں۔

گو منہ سے تو یہی کہتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں لیکن عمل اس کے بالکل مخالف ہے۔

افسوس ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت بھی اس بات کو بھلابیٹھی ہے کہ حقوق اللہ کیا ہیں اور حقوق العباد کیا ہیں۔

اسلامی ممالک کے سربراہ ہیں تو ان کی خواہشات صرف دنیا داری ہے۔ دولت سمیٹنے کی طرف توجہ ہے۔ دنیاوی جاہ و حشمت کے حصول کی طرف توجہ ہے اور اس کا نتیجہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ دنیاوی جاہ و حشمت کے حصول کے لیے انہیں دنیاوی بادشاہوں اور حکومتوں کے سامنے جھکنا پڑ رہا ہے۔ اپنی طاقت قائم رکھنے کے لیے غیروں کی طاقت یا طاقتور ملکوں کی اور قوموں کی طاقت اور لیڈروں کی طاقت کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ ان لوگوں نے مسلمان ہو کر پھر خدا تعالیٰ کو بھول کر اپنی عزت اور وقار اور طاقت سب گنوادی۔ یہ بھول گئے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کی اصلاح کے لیے اپنے خاص تائید یافتہ اور علم سے پُر بندے بھیجتا رہے گا۔ وہ ان کی پیروی کریں گے تو دین و دنیا دونوں سنور جائیں گے اور آخری زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق ایک خاص فرستادے کو بھیجنے کا کہا تھا جو مسیح و مہدی کے نام سے آئے گا تاکہ اسلام کی عزت اور وقار کو دوبارہ قائم کرے۔

یہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا۔ پس مسلمان اسے مان لیں لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کی اکثریت اس کے بالکل الٹ کر رہی ہے۔ بہرحال

ان حالات میں ہم احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو سمجھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کو مانا ہے تو آپ کی باتوں کو سنیں،ان پر غور کریں اور ان پر عمل کر کے اپنی دنیا و عاقبت سنواریں۔ اپنی نسلوں کی بھی حفاظت کریں اور دنیا کو بھی صراط مستقیم پر لانے کے لیے حتی المقدور کوشش کریں

اور یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتوں کو غور سے سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ اگر ہم نے بھی اس طرف توجہ نہ دی تو پھر ہم بھی انہی لوگوں کی صف میں کھڑے ہو جائیں گے جو نام کے مسلمان ہیں۔

ہر احمدی کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ آپ کی کیا خواہشات ہیں۔

پس یاد رکھیں کہ

آپ علیہ السلام تو ہمیں تقویٰ کے معیار قائم کرنے والا بنانا چاہتے ہیں

اور اس بارے میں آپ نے متعدد بار نصیحت بھی فرمائی۔ ہم میں اور غیر میں ایک واضح فرق پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے اپنے ارشادات میں اور اپنی کتب میں متعدّد جگہوں پہ تقویٰ کے حصول کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آپ نے ایک مرتبہ شعر کہنے کے لیے یہ مصرع بنایا کہ

ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے

تو اللہ تعالیٰ نے الہاماً دوسرا مصرع آپ کو عطا فرمایا کہ

اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

(ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحہ 272۔ ایڈیشن 2022ء)

پس حقیقی احمدی بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تقویٰ کی راہوں پر چلنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کے صحیح عبد بننے کی کوشش کریں۔

آپ آج جلسے پر آئے ہیں تو اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ اپنی روحانی، اخلاقی، علمی اصلاح کر سکیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر چل کر حقیقی احمدی مسلمان بن سکیں۔ تب ہی ہم احمدیت کے پیغام کو اور حقیقی اسلام کے پیغام کو

دنیا میں پھیلا سکیں گے۔

پس اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ اس بات کو حاصل کرنے کے لیے بہت کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنی عبادتوں کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے اندر عاجزی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر قسم کے تکبر سے بچنے کی ضرورت ہے۔ ہر قسم کی ریا سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سچائی پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ صبر کا نمونہ ہر حالت میں دکھانے کی ضرورت ہے۔ دین کے معاملے میں استقامت اور ثابت قدمی دکھانے کی ضرورت ہے۔ ایمان بالغیب پر یقین رکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرنے کی ضرورت ہے جس میں مالی اور جانی ہر قسم کی قربانی ہے اور اس پر چلتے ہوئے جب ہم تقویٰ کے حصول کی کوشش کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بھی وارث بنیں گے۔

غرض کہ بہت سی باتیں ہیں جو تقویٰ کی طرف لے جاتی ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے متعدد جگہ ان باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ تقویٰ کے بارے میں آپؑ نے ایک جگہ فرمایا: ’’اپنی جماعت کی خیر خواہی کے لیے زیادہ ضروری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کی بابت نصیحت کی جاوے کیونکہ یہ بات عقلمند کے نزدیک ظاہر ہے کہ

بجز تقویٰ کے اَور کسی بات سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔(النحل:129)‘‘ یعنی یاد رکھوکہ اللہ یقیناً ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہوں نے تقویٰ کا طریق اختیار کیا اور جو نیکو کار ہوں۔ پس ہمیں اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم نے ترقی کرنی ہے۔ اگر ہم نے اپنی ذاتی بقااور اپنی نسلوں کی بقاچاہنی ہے اور اس کی ہمیں خواہش ہے تو پھر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کوسامنے رکھنا پڑے گا کہ تقویٰ کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ ایک جگہ آپؑ نے فرمایا’’ہماری جماعت کے لیے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے۔ خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلہ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے تا وہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بغضوں، کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی روبہ دنیا تھے ان تمام آفات سے نجات پاویں۔‘‘

(ملفوظات جلد1صفحہ 9۔ایڈیشن 2022ء)

پس آپؑ نے فرمایا کہ اگر میرے ساتھ عقدِ بیعت باندھا ہے تو پھر تقویٰ پر چلنا ضروری ہے۔آپ نے ایک جگہ مثال دی کہ دیکھو اگر کوئی بیمار ہو اور جب تک اس بیماری کی دوائی نہ دی جائے اس کی بیماری بعض دفعہ بڑھتی جاتی ہے اور دکھ اٹھانا پڑتا ہے۔ پس اس بات کا خیال رکھو کہ علاج کرنا ضروری ہے اور روحانی علاج یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموںپر چلنے کی کوشش کی جائے اورفرمایا کہ دیکھو ایک شخص ہےجس کے منہ پر کوئی سیاہ داغ بن جائے تو اسے فکر پیدا ہوتی ہے کہ یہ جو داغ ہے یہ کہیں بڑھتا بڑھتا منہ کو کالا نہ کر دے اور اس کا علاج کرتے ہیں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد1صفحہ 9۔ایڈیشن 2022ء)

اسی طرح تمہیں دیکھنا چاہیے کہ تمہاری جو چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہیں ان میں سستی کرتے رہوگے، ان کی اصلاح کرنے کی کوشش نہیں کرو گے تو وہ بڑے گناہوں میں تبدیل ہوتی چلی جائیں گی اور یہ ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان پہلے چھوٹی برائیوں میںمبتلا ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ بڑی برائیوں میں مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر اس کی نمازیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے نیک اخلاق بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کی اچھی باتیں سب ختم ہو جاتی ہیں۔ نہ اس کو خدا تعالیٰ کی پرواہ ہوتی ہے، نہ اس کو اپنے قریبیوں کی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی پرواہ ہوتی ہے اور صرف خود پسندی اور خود غرضی اس کی شامل حال ہو جاتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے دور ہو کر وہ اپنے بد انجام کو ہی پہنچ جاتا ہے۔ پس بڑے خوف کا مقام ہے۔ چاہیے کہ ہم چھوٹی چھوٹی برائیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں اور تقویٰ پر چلنے کی کوشش کریں کیونکہ اس کے بغیر کوئی راستہ نہیں جو ہمیں بچا سکے۔ ہماری دنیا کو بھی سنوار سکے اور ہماری آخرت کو بھی سنوار سکے۔

ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر قویٰ عطا فرمائے ہیں وہ ضائع کرنے کے لیے نہیں دیے گئے۔ ان کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ان کی نشوونما ہے یعنی ان کو صحیح طریق پر استعمال کرو اور صحیح انصاف سے کام لو اور ان کے استعمال کا حق ادا کرو اور جب تم جائز استعمال کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ کا فضل بھی حاصل کرنے والے بن جاؤ گے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ(المؤمنون:2)کہ یقیناً وہ جو مومن ہیں فلاح پا گئے اور ایسے ہی متقی کی زندگی کا نقشہ کھینچ کر اللہ تعالیٰ نے آخر میں بطور نتیجہ یہ بھی فرمایا کہ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (البقرۃ:6) اور تقویٰ پر چلنے والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔

پس ہمیں اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اگر اپنی مراد کو پہنچنا ہے، فلاح پانی ہے، کامیابیاں حاصل کرنی ہیں تو ہمیںمومن بننا پڑے گا اور مومن بننے کے لیے تقویٰ ضروری ہے۔

اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ کے بارے میں مزید فرماتے ہیں اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ لوگ جو تقویٰ پر چلتے ہیں ایسے ہیں جو فلاح پانے والے ہیں اور کامیاب ہونے والے ہیں۔ پس

اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نصائح پر عمل کرنا ہوگا۔ ہمیں قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنا ہوگا۔ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کی کوشش کرنی ہوگی اور آپؐ کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی

اور جب یہ ہوگا تو پھر ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے چلے جائیں گے۔

مومن کی ایک نشانی یہ ہے کہ اپنی نمازوں کو سنوار کرادا کرے اور اس کے لیے کوشش کرے۔

ان کی نماز ڈگمگاتی ہے پھر اسے کھڑا کرتے ہیں۔ خدا کے دیے ہوئے سے دیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ نمازوں کی طرف ان کی توجہ ہوتی ہے۔ عبادت کی طرف ان کی توجہ ہوتی ہے۔ یہی حقیقی مومن کی نشانی ہے۔ اگر کہیں کوئی سستی پیدا ہو جائے تو پھر اس نماز کو کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خداتعالیٰ کے دیے ہوئے سے دیتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے صلاحیتیں دی ہیں ان میں سے دیتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے اس میں سے دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی رزق دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لیے دیتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں باوجود خطراتِ نفس بلا سوچے گذشتہ اور موجودہ کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ مومن کی نشانی ہے۔ تقویٰ پرچلنے والے کی نشانی ہے۔ یہ نہیں دیکھتے کہ میرے نفس کو کیا خطرہ ہے۔نہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو کہا ہے کہ کتابوں پر ایمان لاؤ تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور پھر اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ جب وہ اس حد تک اپنے ایمان کو کامل کر لیتے ہیں تو پھر ایک یقین کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور پھر یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ ہدایت کے سر پر ہیں۔ جنہوں نے ہدایت حاصل کرلی۔ وہ ایک ایسی سڑک پر ہیں جو برابر آگے جا رہی ہے۔ جس سے آدمی فلاح تک پہنچتا ہے یعنی ایسے راستے پر چلے گئے جو ان کو فلاح کی طرف لے کر جا رہا ہے۔ وہ راستہ، وہ سڑک جو کامیابیوں کی طرف لے کر جا رہی ہے۔ پس یہی لوگ فلاح یاب ہیں جو منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے۔ ان کی دنیا بھی سنور جائے گی۔ ان کی آخرت بھی سنور جائے گی اور وہ راہ کے خطرات سے نجات پانے والے ہوں گے۔ شیطان ان پر حملہ نہیں کر سکے گا۔ آج کل تو شیطان ہر طرف سے، دائیں سے، بائیں سے، اوپر سے، نیچے سے، آگے سے، پیچھے سے حملے کر رہا ہے اور اس دنیا میں آج کل تو ایسی ایسی خطرناک ایجادیں ہو چکی ہیں کہ انسان پریشان ہوجاتا ہے کہ کس طرح ان سے چھٹکارا حاصل کرے۔ ہمیں اپنی نسلوں کی فکر ہوتی ہے کہ کس طرح ہم ان کو بچائیں اور کس طرح ہم اپنے آپ کو ان شیطانی حملوں سے بچائیں۔ اس کا طریق یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ۔ اس کی عبادت کا حق ادا کرو اور اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرو۔ تبھی ہمیں کامیابی ہو سکتی ہے اور یہ بجز تقویٰ کے نہیں ہو سکتا۔ آپ نے فرمایا کہ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں شروع میں ہی تقویٰ کی تعلیم دی ہے۔ ایک ایسی کتاب ہمیں عطا کی ہے جس میں تقویٰ کی تمام نصائح ہیں اور تمام احکامات ہیں یعنی قرآن کریم۔ پھر آپؑ نے فرمایا کہ

ہماری جماعت یہ غم کُل دنیاوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے کہ ان میں تقویٰ ہے یا نہیں۔

پس یہ ہے لب لباب اس کا کہ آپ جماعت سے کیا چاہتے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ ہماری جماعت کے افراد کو چاہیے کہ سب غموں سے بڑھ کر یہ غم اپنے اوپر لگا لیں کہ ہمارے اندر تقویٰ ہے یا نہیں۔ یہ اصل چیز ہے۔

پھر آپؑ نے فرمایا کہ

اہلِ تقویٰ کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔

غربت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی کے پاس دولت نہ ہو اور وہ غریب رہے تب وہ تقویٰ کی شرط پر چل سکتا ہے۔ نہیں۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود، ساری سہولیات ہونے کے باوجود، اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہونے کے باوجود ان کے مزاج میں غربت ہو، عاجزی ہو اور غریبوں اور مسکینوں کا خیال رکھنے والے بھی ہوں۔ اپنے اندر عاجزی پیدا کریں۔ آپؑ نے فرمایا کہ یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے اور اس کے ذریعے سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ اس کے ذریعے سے ہمیں وہ طاقت حاصل ہوتی ہے جس سے ہم ناجائز غضب کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔آپؑ نے فرمایا: عُجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے۔ تکبر، نخوت، بڑائی کا احساس۔ یہ سب غضب سے پیدا ہوتے ہیں اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غضب اس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دے گا۔ اپنی بڑائی کی طرف توجہ ہو جاتی ہے۔ اب جائزہ لیں۔ ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو اپنے نفس کو دوسروں پر ترجیح دینے کی بجائے دوسروں کا خیال رکھنے والے ہیں۔ فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔ خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔ یہ ایک قسم کی تحقیر ہے جس کے اندر حقارت ہے۔ اگر یہ سمجھتے ہو کہ بڑے چھوٹے کا سوال پیدا کرو گے تو ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جائے۔ آپؑ نے فرمایا کہ یہ جو ایک دوسرے سے حقارت کرنا ہے یہ ایک بیج کی طرح ہے۔ جب بیج پھوٹتا ہے تو پہلے چھوٹا پودا بنتا ہے۔ نازک سا پودا ہوتا ہے۔ پھر بڑھتا بڑھتا ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ پس اس سے بچنے کی کوشش کرو کیونکہ حقارت کا بیج پھر غرور اور تکبر کے درختوں کو پروان چڑھاتا ہے اور تقویٰ سے دور لے کرجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دور لے کر جاتا ہے۔ اور آپؑ نے اس سے بچنے کے لیے خاص طور پر نصیحت فرمائی کیونکہ یہ پھر انسان کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ دیکھو بعض آدمی بڑوں کو مل کر تو بڑے ادب سے پیش آتے ہیں ۔لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔ عاجزی سے سنے۔ اس کی دلجوئی کرے۔ اس کی بات کی عزت کرے۔ کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے جس سے دکھ پہنچے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ط ۔بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ ج ۔ وَ مَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ (الحجرات:12) تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔ یہ فعل فسّاق کا ہے۔ فجّار کا ہے۔ نافرمانوں کا ہے۔ فاجروں کا فعل ہے۔ جو شخص کسی کو چڑاتاہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی کی طرح مبتلا نہ ہو۔ پس اگر توبہ نہ کی تو ظالم کہلاؤ گے۔فرمایا کہ اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو کیونکہ کوئی پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون قابل قبول ہے۔ جب اپنے آپ کو یہ کہتے ہو کہ ہم مسلمان ہیں۔ ایک چشمے سے پانی پینے کا دم بھرتے ہو تو پھر یہ دم بھرنے کا دعویٰ اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جب ایک دوسرے کا خیال رکھو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کون بڑا ہے اور کون چھوٹا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو بڑا وہی ہے جو تقویٰ میں بڑا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْ۔اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔(الحجرات:14) کہ اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ اللہ یقیناً بہت علم رکھنے والا اور بہت خبر رکھنے والا ہے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد1صفحہ 30-31۔ایڈیشن 2022ء)

ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم تو بڑے متقی ہیں۔ ہم تو سب کا خیال رکھنے والے ہیں۔ ہم حقوق اللہ کی ادائیگی کرنے والے ہیں، ہم حقوق العباد کی ادائیگی کرنے والے ہیں۔ فرمایا نہیں۔ اللہ خبر رکھتا ہے۔ علیم و خبیر تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہ جانتا ہے۔ اس کو علم ہے کہ تمہارے اندر کیا ہے۔ وہ ہمارے دلوں کی پاتال تک سے واقف ہے۔ پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے تقویٰ پر کس طرح قدم مارنا ہے اور اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اور یہ احساس دل میں رکھتے ہوئے کہ وہ ہمیں ہر وقت دیکھ رہا ہے اپنے عملوں کو درست کرنے کی کوشش کرنی ہے۔

ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے اندر عقل پیدا کرنا چاہتے ہو، ذہانت پیدا کرنا چاہتے ہو تو پھر تقویٰ سے کام لو۔ یہاں روحانی عقل اور ذہانت کی بات ہو رہی ہے جو اس دنیا میں فائدہ دیتی ہے اور اگلے جہان میں بھی فائدہ دیتی ہے۔ دنیاوی نام نہاد عقل کی بات نہیں ہو رہی۔ جو یہ کہتے ہیں کہ دنیاوی سائنسدان تو بڑے سائنسدان ہوتے ہیں یا فلسفہ بیان کرنے والے ہیں یا بہت عقل کی باتیں کرنے والے ہیں کیونکہ یہ صرف دنیاوی عقل رکھنے والے ہیں۔ ان کو صرف دنیاوی معاملات میں ترقی مل رہی ہے۔ ان کا دین کا خانہ خالی ہے اور پھر مرنے کے بعد جب وہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو ان سے کیا سلوک ہو یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں خدا کے واسطے عقل سے کام لو اور اس کے لیے عقل میں جَودَت اور ذہانت پیدا ہو۔ راستباز اور متقی بنو تو پھر دنیاوی عقل بھی پیدا ہوگی۔ دینی عقل بھی پیدا ہوگی۔ روحانی عقل بھی پیدا ہوگی۔ پاک عقل آسمان سے آتی ہے اور اپنے ہمراہ ایک نور لاتی ہے۔ وہ جوہر قابل کی تلاش میں رہتی ہے۔ اس پاک سلسلہ کا قانون وہی قانون ہے جو ہم جسمانی قانون میں دیکھتے ہیں۔ بارش آسمان سے پڑتی ہے لیکن کوئی جگہ اس بارش سے گلزار ہوتی ہے اور کہیں کانٹے اور جھاڑیاں ہی اگتے ہیں اور کہیں وہی قطرہ بارش سمندر کی تہ میں جا کر ایک گوہر شاہوار بنتا ہے۔ پس اصل چیز یہ ہے کہ انسان کو عقل حاصل کرنی چاہیے اور اس کے لیے پھر اللہ تعالیٰ کے جو عقل دینے والے فرستادے ہیں اور نیک لوگ ہیں ان کی ماننی پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے اس پر عمل کرنا پڑے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ارشاد فرمائے ہیں ان پر عمل کرنا پڑے گا۔ آپ پر جو کامل شریعت اتری ہے، قرآن کریم کی تعلیم اتری ہے اس کو دیکھنا پڑے گا۔ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں اسلام کی تعلیم کے بارے میں جو وضاحت سے کھول کر بیان فرمایا ہے اس کو دیکھنا پڑے گا۔ تبھی ہم تقویٰ پر چل سکیں گے اور تقویٰ پر چلتے ہوئے ہماری عقل میں بھی اور ذہانت میں بھی ترقی ہوگی۔ نہیں تو یہ ایسی مثال ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بارش تو برس رہی ہے لیکن ہمارا دل بنجر زمین کی طرح ہے۔ اس میں یا تو کچھ نہیں اُگے گا یا کانٹے دار جھاڑیاں اُگیں گی یا پانی ضائع ہو جائے گا۔لیکن اگر ہمارا دل تقویٰ سے پُر ہے تو پھر ہم اسی سے وہ پھل اور مقصد حاصل کر سکیں گے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب لے جانے والا ہو۔ آپؑ نے فرمایا اگر زمین قابل نہیں ہوتی تو بارش کا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ الٹا ضرر اور نقصان ہوتا ہے۔ اسی لیے آسمانی نور اترتاہے اور وہ دلوں کو روشن کرنا چاہتا ہے۔ اس کے قبول کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو تیار ہو جاؤ۔ ایسانہ ہو کہ بارش کی طرح جو زمین جوہر قابل نہیں رکھتی وہ اس کو ضائع کر دیتی ہے۔ یعنی زمین میں اگر وہ طاقت نہیں۔ بنجر زمین ہے۔ خراب زمین ہے تو پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ نہ ہو کہ نور تو ہو لیکن نور کی موجودگی کے باوجود تم تاریکی میں چلو۔ یہاں بارش کی مثال نور کی طرح ہے جو آسمان سے اترتی ہے۔ آپ نے نور کی مثال دی ہے کہ نور اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے۔ اس کی مثال بھی اس نور کی طرح اور بارش کی طرح ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ اگر تم اس سے فائدہ نہیں اٹھا رہے تو پھر تم تاریکی میں چلنے والے ہو گے اور ٹھوکر کھا کر اندھے کنویں میں گر کر ہلاک ہو جاؤ گے کیونکہ تم باوجود نور کے اترنے کے آنکھیں بند کر کے چل رہے ہو۔ تم اس نور کو دیکھنے کی بجائے آنکھیں بند کر کے چلتے چلے جا رہے ہو۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ تم ٹھوکر کھاؤ گے اور گہرے کنویں میں گر جاؤ گے اور ہلاک ہو جاؤ گے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مادرِ مہربان سے بھی بڑھ کر مہربان ہے۔ مہربان ماں سے بھی بڑھ کے مہربان ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کی مخلوق ضائع ہو۔ وہ ہدایت اور روشنی کی راہیں تم پر کھولتا ہے۔ مگر تم ان پر قدم مارنے کے لیے عقل اور تزکیہ نفوس سے کام لو جیسے زمین جب تک ہل چلا کر تیار نہیں کی جاتی تخم ریزی اس میں نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب تک مجاہدہ اور ریاضت سے تزکیہ نفوس نہیں ہوتا پاک عقل آسمان سے نہیں اتر سکتی۔ پس صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ نور اتر آیا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں بھی کوشش کرنی پڑے گی۔ تمہیں بھی جہاد کرنا پڑے گا اور اپنے دلوں کو پاک صاف کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سننے کے لیے، اس کے فرستادوں کے پیغام کو سننے کے لیے، ان کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے سب کچھ خود کوشش کرنی پڑے گی تبھی تم اس نور کو حاصل کر سکوگے جس سے تم فیض یاب ہو سکتے ہو۔ تبھی تم اس سیدھے راستے پر چل سکو گے جو تمہیں کامیابی اور کامرانی کے راستے کی طرف لے جانے والا ہو گا۔ تبھی تم اس زمین کی طرح بن سکو گے جس میں خوبصورت پھلدار پودے اگتے ہیں۔ پس یہ چیز ہر ایک کو ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔

یہاں اس طرف بھی توجہ دلا دوں کہ بہت سارے کہتے ہیں کہ ہم نے بہت دعا کی۔ قبول نہیں ہوئی۔

دعاؤں کی قبولیت کے لیےبھی تقویٰ ضروری ہے۔ اپنے جائزےلیں کہ کیا تقویٰ ہے؟ جو شرائط اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں وہ پوری کر رہے ہیں؟

آپ نے فرمایا کہ اس زمانے میں خدا تعالیٰ نے بڑا فضل فرمایا ہے اور اپنے دین اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں غیرت کھا کر ایک انسان کو جو تم میں بول رہا ہے بھیجا ہے تاکہ وہ اس روشنی کی طرف لوگوں کو بلائے۔ اگر زمانے میں ایسا فساد اور فتنہ نہ ہوتا اور دین کے محو کرنے کے لیے جس قسم کی کوششیں ہو رہی ہیں نہ ہوتیں تو چنداں حرج نہ تھا لیکن اب تم دیکھتے ہو کہ ہر طرف یمین و یسار سے، دائیں سے بائیں سے اسلام ہی کو معدوم کرنے کی فکر میں ساری قومیں لگی ہوئی ہیں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد1صفحہ 61-62۔ایڈیشن 2022ء)

اُس زمانے میں تو مذہب کو ختم کرنے کے لیے چرچا ہو رہا تھا لیکن ابھی آج کل بھی آپ دیکھ لیں کہ اسے ختم کرنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔ اب کہنے کو تو یہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ ہم جغرافیائی جنگیں لڑ رہے ہیں۔ ٹھیک ہے، جغرافیائی جنگیں بھی ہو رہی ہیں۔ سیاسی اور جغرافیائی جنگیں بھی ہیں لیکن

اندر ہی اندر بہت سارے لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف ایک بغض اور کینہ ہے۔ آج تو ایک فلسطین کے اوپر حملہ ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آہستہ آہستہ باقی مسلمان ملک بھی متاثر ہوں گے۔ آج ایک ملک متاثر ہے، پھر دوسرا ہوگا، پھر تیسرا ہوگا اور یہ کام شروع ہو چکا ہے۔ پس ابھی وقت ہے کہ مسلمان آج بھی عقل سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں جو فرستادہ بھیجا ہے اس کو ماننے والے بنیں اور ایک ہو کر پھر اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے احکامات پر چلتے ہوئے گڑگڑائیں اور روئیں اور اس کی مدد مانگیں اور عملی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان پر عمل کر کے اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔ تو پھر دیکھیں کہ کیا انقلاب پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کوکوئی پروا نہیں۔

پس اگر ہم نے فائدہ اٹھانا ہے تو اس بات کو ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے۔ کیونکہ

ہم بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہے اور ہم نے ان کو مانا ہے۔ لیکن ہمارے دعوے اُس وقت سچے ثابت ہوں گے جب ہم حقیقت میں عملاً اپنی حالتوں کو بھی اس مقام پر لے جانے والے بنیں گے یا اس کی کوشش کرنے والے بنیں گے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم کو لے جانا چاہتے ہیں اور جو حقیقی اسلامی تعلیم کے حاصل کرنے سے مل سکتا ہے۔

آپؑ نے فرمایا کہ اگر تم اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو۔ بہت سارے لوگ پوچھتے ہیں، سوال کرتے ہیں کہ آج کل مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے، فلسطینیوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے یا فلاں ملک کے ساتھ جو ہو رہا ہے یا فلاں جگہ جو ہو رہا ہے اس کا کیا علاج ہے؟ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ آپؑ نے فرمایا کہ اس کا علاج تو یہی ہے کہ پہلے تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق پیدا کرو۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ جب یہ ہوگا تو پھر تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو نازل ہوتے ہوئےبھی دیکھو گے۔ مسلمانوں میں تو آج کل ہر طرف خود غرضی ہے۔ مظلوموں کی مدد کو تو کوئی تیار نہیں۔ جس بے حسی کا مظاہرہ فلسطینیوں کے معاملے میں مسلمان ممالک کر رہے ہیں وہ ظاہر ہے۔ اب ایسی حالت میں کیا توقع رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کیا کرے گا۔ ان کو پتہ نہیں کہ یہ اسلام مخالف یااسلام دشمن لوگ یا وہ لوگ جن کی ہوا و ہوس اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ وہ ہر ملک پہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں ایک ایک کر کے ان کو بھی ہضم کرتے چلے جائیں گے اور اب تو ان کے اپنے لوگ اور یہودیوں میں سے بعض لوگ اپنی حکومت کے خلاف بولنا شروع ہو گئے ہیں۔

آپؑ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا ( اٰل عمران: 201) کہ صبر دکھاؤ اور سرحدوں کی نگرانی کرو۔ جس طرح دشمن کے مقابلے پر سرحد پر گھوڑا ہونا ضروری ہے تاکہ دشمن سے سرحدیں محفوظ رہیں۔ یعنی جس طرح ملکوں کی فوجیں حفاظت کے لیے اپنی سرحدوں پر کھڑی ہوتی ہیں اسی طرح ایک مومن کو بھی چاہیے کہ اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اس طرح کھڑا ہو، ہوشیار ہو اور پوری طرح تیار ہو۔ فرمایا اس طرح تم بھی تیار رہو۔ ایسا نہ ہو کہ دشمن سرحد سے گزر کر اسلام کو صدمہ پہنچائے۔ پس اسلام کو صدمہ پہنچانے کی ہر طرف سے کوشش ہے ۔دہریوں کی طرف سے بھی ہے۔ لامذہبوں کی طرف سے بھی ہے۔ غیرمذاہب کی طرف سے بھی ہے۔ اس کو بچانے کے لیے آج احمدی کا کام ہے کہ وہ کھڑا ہو اور اپنے ایمان میں ترقی کرنے کی کوشش کرے اپنے تقویٰ میں ترقی کرنے کی کوشش کرے۔ اپنے معیاروں کو بلند کرنے کی کوشش کرے۔ اگر یہ نہیں تو دشمن پھر ہر طرف سے حملہ کرنے پر تلا بیٹھا ہے اور جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا کہ یہی ہم آج کل دیکھ رہے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو جس سے تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آ سکو گے۔ اللہ تعالیٰ کے مضبوط قلعے میں آجاؤ گے۔ تمہارے اندر تقویٰ طہارت ہوگا تو تم تبھی اللہ تعالیٰ کے محفوظ قلعہ میں آسکو گے۔ اس کے بغیر تو کوئی اَور راستہ نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے عمل ٹھیک نہ ہوں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموںپر چلنے والے نہ ہوں۔ ہمارے اندر تقویٰ نہ ہو اور پھر ہم کہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پناہ میں لے لے۔ تو اللہ تعالیٰ اس طرح اپنی پناہ میں نہیں لیا کرتا۔ جب تم یہ کروگے، تقویٰ اختیار کروگے، تو پھر تم اس کے حصن حصین میں آ سکو گے اور پھر تم کو اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہوگا ۔تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہو گئی ہے۔ آپ نے یہ فرمایا کہ اس زمانے میں بھی قومیں ان کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہو گئی تو بس پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔ آپ نے جماعت کو فرمایا کہ تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد1صفحہ 65۔ایڈیشن 2022ء)

عام طور پر تو ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی کیا حالت ہے لیکن اگر جماعت نے بھی اس طرف توجہ نہ کی اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق نہ بڑھایا اور اپنے تقویٰ کے معیار کو بلند نہ کیا تو آپؑ نے فرمایا کہ پھر تو خاتمہ ہی ہوگا اور کوئی انجام نہیں ہوگا۔

آپؑ نے فرمایا کہ ’’تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔ مسلمان پوچھنے پر الحمدللہ کہہ دینا سچا سپاس اور شکر نہیں ہے۔‘‘ اسی بات پہ خوش نہ ہو جاؤ کہ ہم مسلمان ہیں۔اصل شکر گزاری یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننا ہے تو پھر تقویٰ پہ چلنا ہو گا۔ آپؑ نے فرمایا

’’اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو۔ کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔‘‘

( ملفوظات جلد1صفحہ 66۔ایڈیشن 2022ء)

پھر اسی طرح ایک اَور جگہ تقویٰ کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: میں اپنی جماعت کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ ضرورت ہے اعمالِ صالحہ کی۔ خدا تعالیٰ کے حضور اگر کوئی چیز جا سکتی ہے تو وہی اعمال صالحہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو نہ ہماری دولت کی ضرورت ہے نہ ہمارے خاندان کی ضرورت ہے نہ ہماری جسمانی طاقت کی ضرورت ہے۔ ہاں تقویٰ ہے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کو پہنچتا ہے تو اس کی پھر اللہ تعالیٰ جزا بھی دیتا ہے۔ اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ (فاطر:11)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاک باتیں اس کی طرف چڑھ کر جاتی ہیں۔ پس یہ چیز ہے جس کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ہے کہ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُہٗ اور ایمان کے مطابق عمل ان کو اٹھاتا ہے۔ پس جس کا ایمان مضبوط ہوگا تو پھر جو اعمالِ صالحہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اٹھاتا ہے اور اوپر لے کے جاتا ہے۔ جس کا جتنا ایمان ہوگا اتنا ہی اس کے عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوتے چلے جائیں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنتا چلا جائے گا۔

آپؑ نے فرمایا کہ فتح اور نصرت اسی کو ملتی ہے جو متقی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ كَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْن(الروم:48) یعنی مومنوں کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ پس تقویٰ اور ایمان صحیح ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی ہمارے شامل حال ہوگی۔ اور اسی طرح فرمایا۔ ولَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا(النساء:142) اللہ تعالیٰ کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔ پس مومن بننا شرط ہے۔ اپنے ایمان کو کامل کرنا شرط ہے اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر کافروں کو راہ نہیں دیتا۔ اس لیے یاد رکھو کہ تمہاری فتح تقویٰ سے ہے ورنہ عرب تو نرے لیکچرر اور خطیب اور شاعر ہی تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کی پہلے کیا حالت تھی؟ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر تقویٰ اختیار کیا جو خدا تعالیٰ نے اپنے فرشتے ان کی مدد کے لیے نازل کیے۔ اگر انسان تاریخ کو پڑھے تو اسے نظر آ جاتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس قدر فتوحات کیں وہ انسانی طاقت اور سعی کا نتیجہ نہیں ہو سکتیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک بیس سال کے اندر ہی اندر اسلامی سلطنت عالمگیر ہو گئی۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ اب ہم کو کوئی بتائے کہ انسان ایسا کر سکتا ہے؟ اس لیے اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ(النحل:129) کہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ یقیناًان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہو اور جو نیکوکار ہوں۔پس ہمیں اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے بغیر گزارا نہیں کہ تقویٰ اختیار کیا جائے۔

فرمایا کہ متقی کے معنی ہیں ڈرنے والا۔ ایک ترکِ شر ہوتا ہے اور ایک افاضۂ  خیر یعنی ایک چیز تو یہ ہے کسی برائی کو، شر کو، گناہ کو چھوڑا جائے اور ایک یہ ہے کہ خیر، نیکی کی کی جائے۔ متقی ترکِ شر کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے اور محسن افاضہ خیر کو چاہتا ہے۔ جو متقی ہے وہ شر سے بچتا ہے اور شر کو چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں یہ فرمایا کہ وَ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔ کہ محسن کون ہیں؟ وہ جو خیر چاہتے ہیں۔ جو نیکیاں چاہتے ہیں۔ نیکی کرتے ہیں۔ اپنے عمل کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کے وارث بن جاتے ہیں۔ پس ہمیں اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ آپؑ نے فرمایا کہ یہاں مُحْسِنُوْنَ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے کہ وہ نیکیاں کرے۔ پورا راستباز انسان تب ہوتا ہے جب بدیوں سے پرہیز کر کے یہ مطالعہ کرے کہ نیکی کون سی کی ہے؟ ( ماخوذ از ملفوظات جلد1صفحہ 165-166۔ایڈیشن 2022ء) صرف بدیوں سے پرہیز نہیں کیا بلکہ یہ بھی دیکھو اور اپنے آپ میں جائزہ لو کہ نیکی کون سی کی ہے؟ صرف یہی نہیں کہ ہم نے فلاں برائی نہیں کی بلکہ یہ دیکھے اور اپنا جائزہ لے کہ ہم نے نیکی کون کون سی کی ہے؟ جب یہ حالت ہوگی تو تبھی ہم کہہ سکیں گے کہ حقیقی تقویٰ ہے۔ آپؑ نے فرمایا یاد رکھو اپنا عملی نمونہ دکھاؤ اور اس میں ایسی چمک پیدا کرو ایسا عملی نمونہ ہو کہ دوسروں کو نظر آئے اور جب وہ دوسروں کو نظر آئے گا تو وہ اسے قبول کریں گے۔

پس صرف بیعت کے الفاظ دہرا لینا یا اس میں شامل ہو جانا، اپنے آپ کو احمدی کہہ لینا، مسلمان کہہ لینا یہ کافی نہیں بلکہ لوگوں کے سامنے ایک ایسا عملی نمونہ ہمیں دکھانا ہو گا اور چاہے ہم منہ سے بول کے تبلیغ کریں یا نہ کریں، ہمارے عمل ہی ایسے ہوں گے جو لوگوں کو اس طرف قائل کریں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایسی تعلیم پر عمل کر رہے ہیں جو خدا تعالیٰ کے قریب لے جانے والی ہے۔ وہ تعلیم بندوں کے حقوق ادا کرنے والی بھی ہے اور دنیا میں امن قائم کرنے والی تعلیم بھی ہے اور دنیا کی اصلاح کرنے والی بھی ہے۔ جس میں پھر لوگوں کارجحان اس طرف ہوتا ہے اور وہ قبول بھی کرتے ہیں۔ بہت سارے واقعات ایسے ہوتے ہیں اور بہت ساری بیعتیں ایسی آتی ہیں جو صرف یہ عمل دیکھ کے قبول کر رہے ہوتے ہیں۔

آپؑ نے ایک جگہ فرمایا کہ

’’اگر ہم نری باتیں ہی باتیں کرتے ہیں تو یاد رکھو ‘‘کہ اس کا ’’کچھ فائدہ نہیں ہے۔ فتح کے لیے ضرورت ہے تقویٰ کی۔ فتح چاہتے ہو تو متقی بنو۔‘‘

( ملفوظات جلد1صفحہ 214۔ایڈیشن 2022ء)

پس یہ ایک بنیادی بات ہے جسے ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ آپؑ نے فرمایا ’’اس لیے ضروری امر یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق اور اعمال میں ترقی کریں اور تقویٰ اختیار کریں تاکہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور محبت کا فیض ہمیں ملے۔ پھر خدا کی مدد کو لے کر ہمارا فرض ہے اور ہر ایک ہم میں سے جو کچھ کر سکتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ ان حملوں کا جواب دینے میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔ ہاں جواب دیتے وقت نیت یہی ہو کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔‘‘یہ ہے اصل تقویٰ۔ ہم نے اگر فتوحات لینی ہیں تو اس لیے نہیں کہ ہم نے کوئی دنیاوی جاہ و حشمت حاصل کرنی ہے یا ہمیں کسی حکومت کی ضرورت ہے یا ہم نے دنیا پر قبضہ کرنا ہے۔ نہیں بلکہ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم نے خدائے واحد کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنا ہے۔ اس کے لیے بھرپور کوشش کرنی ہے اور دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لے کر آنا ہے۔ اگر ہم یہ کریں گے تو یہی ہماری کامیابی ہے اور یہی ہمارا مقصد ہے۔ آپؑ نے فرمایا ’’ لوگ میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ تو کہہ جاتے ہیں کہ دین کو دنیا پر ترجیح دوں گا لیکن یہاں سے جا کر اس بات کو بھول جاتے ہیں وہ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ‘‘

( ملفوظات جلد1صفحہ 215۔ایڈیشن 2022ء)

پس اصل بات یہی ہے کہ صرف عہد کافی نہیں کہ دین کو دنیا پر ترجیح دوں گا یا دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا بلکہ اس کے لیے عمل ضروری ہے۔ تقویٰ ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا ضروری ہے اور اس کی مخلوق کا حق ادا کرنا ضروری ہے اور اپنی عملی حالتوں کو بدلنا ضروری ہے اور اپنے گھروں کے ماحول کو پاک صاف کرنا ضروری ہے۔ اپنے بیوی بچوں کی اصلاح کے لیے اپنے عملی نمونے دکھانے کی ضرورت ہے۔ جب یہ چیزیں ہوں گی تو تبھی ہم کامیاب ہوں گے، تبھی ہم تقویٰ پر چلنے والے ہوں گے، تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے والے ہوں گے اور اگر یہ نہیں تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

حقوق العباد کے بارے میں

آپؑ نے ایک جگہ فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ کسی کی پروا نہیں کرتا مگر صالح بندوں کی۔ آپس میں اخوت اور محبت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑ دو ہر ایک قسم کے ہزل اور تمسخر سے مطلقاً کنارہ کش ہو جاؤ۔‘‘کوئی مذاق نہ اڑاؤ۔ تمسخر نہ کرو۔ کسی کی تحقیر نہ کرو ’’کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے۔‘‘ ہنسی ٹھٹھا انسان کو پھر سچائی سے بھی دور لے جاتا ہے۔ ’’آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔ ہر ایک اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دیوے۔ اللہ تعالیٰ سے ایک سچی صلح پیدا کر لو اور اس کی اطاعت میں واپس آ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا غضب زمین پر نازل ہو رہا ہے اور اس سے بچنے والے وہی ہیں جو کامل طور پر اپنے سارے گناہوں سے توبہ کر کے اس کے حضور میں آتے ہیں۔ ‘‘

( ملفوظات جلد1صفحہ 242-243۔ایڈیشن 2022ء)

پس یہی بنیادی چیز ہے اس کو ہمیں اپنانا ہوگا۔

آج کل دنیا کے جو حالات ہیں اس میں ضروری ہے کہ ہم جہاں اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے ہوں وہاں اس کے بندوں کے بھی حق ادا کرنے والے ہوں۔

اسی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ ’’اصل بات یہی ہے کہ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ویرانہ کو آبادی اور آبادی کو ویرانہ بنا دیتا ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ سب طاقتوں کامالک ہے بہت سارے شہر ہیں وہ کھنڈر بنا دیتا ہے۔ فرمایا کہ ’’شہر بابل کے ساتھ کیا کیا؟‘‘آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ کس طرح شہروں کے شہر بمبارمنٹ سے کھنڈر بنتے چلے جا رہے ہیں۔ کچھ اپنے لوگ اسے تباہ کر رہے ہیں، کچھ دشمن تباہ کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ’’جس جگہ انسان کا منصوبہ تھا کہ آبادی ہو وہاں مشیت ایزدی سے ویرانہ بن گیا۔‘‘یہ تو پرانے لوگوں کی تاریخ ہے جو ہمارے لیے نمونہ ہے اور ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ اگر ایٹمی جنگ ہوئی تو پھر ایک ہولناک تباہی ہوگی جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ فرمایا کہ ’’…جس جگہ انسان چاہتا تھا کہ ویرانہ ہو وہ دنیا بھر کے لوگوں کا مرجع ہو گیا۔‘‘ خانہ کعبہ کی طرف لوگ آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی آبادی کا جو وعدہ کیا تھا وہ اس نے پورا کر دیا۔’’پس خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر …تدبیر پر بھروسہ کرنا حماقت ہے۔‘‘ آپ نے جماعت کو نصیحت فرمائی کہ ’’اپنی زندگی میں ایسی تبدیلی پیدا کر لو کہ معلوم ہو کہ گویا نئی زندگی ہے۔ استغفار کی کثرت کرو۔ جن لوگوں کو کثرت اشغال دنیا کے باعث کم فرصتی ہے ان کو سب سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔‘‘ جو دنیا کے کاموں میں مصروف ہیں ان کوسب سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔ ذکر الٰہی کرنا چاہیے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کے بڑے کام ہیں۔ ہمیں نمازیں بھول جاتی ہیں بہت سارے لکھنے والے مجھے بھی لکھتے ہیں کہ نمازوں کی طرف توجہ نہیں ہوتی، استغفار کثرت سے نہیں پڑھتے۔ دنیاوی دھندوں میں پڑے ہوئے ہیں ان کو بہت زیادہ ڈرنا چاہیے۔ آپؑ نے فرمایا ’’ملازمت پیشہ لوگوں سے اکثر فرائض خداوندی فوت ہو جاتے ہیں۔‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے فرائض صحیح طرح ادا نہیں کرتے ’’اس لیے مجبوری کی حالت میں ظہرو عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھ لینا جائز ہے‘‘اس میں کوئی ہرج نہیں۔ یہ مجبوری میں ہے لیکن یہ مجبوری کی حالت ہے۔ ہر وقت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں ہونا چاہیے اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنا چاہیے۔ آپ نے فرمایا’’ ترکِ نماز کے لیے ایسے بے جا عذر بجز اپنے نفس کی کمزوری کے اور کوئی نہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ظلم و زیادتی نہ کرو۔ اپنے فرائض منصبی نہایت دیانتداری سے بجا لاؤ۔‘‘

(ملفوظات جلد1صفحہ 265۔ایڈیشن 1984ء)

جہاں حق اللہ ادا کرو وہاں اللہ تعالیٰ کے بندوں کا حق بھی ادا کرو۔ یعنی جو تمہارے فرائض ہیں اور جو فرائض تمہیں دیے گئے ہیں، نوکری ہے، ملازمت ہے، پیشہ ہے، اس کا بھی حق ادا کرو۔

آپؑ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی کی پروا نہیں کرتا مگر صالح بندوں کی پرواہ کرتا ہے۔ آپس میں اخوت اور محبت کو پیدا کرو تو اللہ تعالیٰ تمہاری پروا کرے گا۔ فرمایا’’ تم یاد رکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فرمان میں تم اپنے تئیں لگاؤ گے اور اس کے دین کی حمایت میں ساعی ہو جاؤ گے‘‘ کوشش کرو گے ’’تو خدا تمام رکاوٹوں کو دور کر دے گا اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کسان عمدہ پودوں کی خاطر کھیت میں سے ناکارہ چیزوں کو اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے اور اپنے کھیت کو خوش نما درختوں اور بارآور پودوں سے آراستہ کرتا اور ان کی حفاظت کرتا اور ہر ایک ضرر اور نقصان سے ان کو بچاتا ہے مگر وہ درخت اور پودے جو پھل نہ لاویں اور گلنے اور خشک ہونے لگ جاویں ان کی مالک پرواہ نہیں کرتا کہ کوئی مویشی آ کر ان کو کھا جاوےیا کوئی لکڑہارا ان کو کاٹ کر تندور میں ڈال دیوے۔ سو ایسا ہی تم بھی یاد رکھو اگر تم اللہ تعالیٰ کے حضور میں صادق ٹھہرو گے تو کسی کی مخالفت تمہیں تکلیف نہ دے گی‘‘ ہاں یہ شرط ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تم صادق ٹھہرو سچے بن جاؤ اپنے عمل ایسے بناؤ جس سے اللہ کے حق بھی ادا ہو رہے ہوں اور اس کے بندوں کے بھی حق ادا ہو رہے ہوں۔ فرمایا ’’پر اگر تم اپنی حالتوں کو درست نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے فرمانبرداری کا ایک سچا عہد نہ باندھو تو پھر اللہ تعالیٰ کو کسی کی پرواہ نہیں۔ ہزاروں بھیڑیں اور بکریاں روز ذبح ہوتی ہیں پر ان پر کوئی رحم نہیں کرتا اور اگر ایک آدمی مارا جاوے تو کتنی باز پرس ہوتی ہے۔‘‘ گو کہ آج کل ظالموں کا یہ حال ہے کہ وہ ظلم کی انتہا کر بیٹھے ہیں اور قتل و غارت مچائی ہوئی ہے۔ فلسطین میں بھوکے لوگوں کو مار رہے ہیں لیکن پھر بھی ان کو کوئی نہیں پوچھتا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کو آواز دینے والے لوگ ہیں۔ بہرحال آپؑ فرماتے ہیں کہ جہاں کچھ نہ کچھ انسانیت ہے وہاں اگر ایک بھی انسان مرتا ہے تو اس کی بازپرس ہوتی ہے کیونکہ انسان کی زندگی کی قیمت ہے۔ ’’سو اگر تم اپنے آپ کو درندوں کی مانند بیکار اور لاپرواہ بناؤ گے تو تمہارا بھی ایسا ہی حال ہوگا۔‘‘آپؑ نے فرمایا کہ

’’چاہیے کہ تم خدا کے عزیزوں میں شامل ہو جاؤ تاکہ کسی وبا کو یا آفت کو تم پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہو سکے۔‘‘ کوئی ابتلا تم پر نہ آئے ’’کیونکہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر زمین پر ہو نہیں سکتی۔

ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنیٰ باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ۔ لوگ تمہاری مخالفت کریں گے… پر تم ان کو نرمی سے سمجھاؤ اور جوش کو ہرگز کام میں نہ لاؤ۔ یہ میری وصیت ہے۔ ‘‘

( ملفوظات جلد1صفحہ 267-268۔ایڈیشن 1984ء)

پس یہ وہ باتیں ہیں کہ اگر ہم انہیں یاد رکھیں گے تو ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں گے اور ان کے مورد بنتے چلے جائیں گے۔ خدا تعالیٰ کرے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نصائح پر عمل کرتے ہوئے ان باتوں کو اختیار کرنے والے ہوں، حاصل کرنے والے ہوں اور اِس سے فیض پانے والے ہوں اور پھر ہم اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے والے ہوں۔ اپنی نسلوں کی دنیا و عاقبت سنوارنے والے ہوں اور جلد ہم وہ نظارہ دیکھیں جب اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے جماعت احمدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو تمام دنیا کے کونوں میں، سب کناروں میں گاڑنے والی ہو، پہنچانے والی ہو اور خدائے واحد کی حکومت کو دنیا پر قائم کرنے والی ہو اور ہر ایک اس میں اپنا اہم کردار ادا کرنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔دعا کر لیں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ برطانیہ، کینیڈا اور بیلجیم کی مجالس شوریٰ سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز (آن لائن)خطاب فرمودہ مورخہ 24؍مئی 2025ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button