تقویٰ کا مطلب
تقویٰ کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایسا خوف یا ایسی تڑپ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے بے چین رکھے۔ پس یہ بے چینی دل کو تقویت دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بناتی ہے۔ دنیا دار کی بے چینی اس کے برعکس دلوں پر حملہ کرنے والی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والا، محسنین میں شمار ہونے والا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ رکھتا ہے اور اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد بنتا ہے۔
(خطبہ جمعہ ۳؍فروری ۲۰۱۲ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل مورخہ ۲۴؍فروری ۲۰۱۲ء)
ایمان پہلے ہوگا تو پھر عرفان بھی ملے گا۔ پس ایمان کا اعلیٰ معیار ہوگا تو پھر ہی قبولیت دعا کے نظارے بھی ہوں گے۔ یہ نہیں کہ کسی ابتلا سے انسان ڈانواں ڈول ہو جائے۔ یہ دلیل اللہ تعالیٰ نے اپنے ہونے کی بتائی ہے کہ دعا سنتا ہوں ۔ پس اگر دعا سنی نہیں گئی تو اس تعلق میں کمی ہے جو دو دوستوں میں ہوتا ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کا طریق بھی بتا دیا کہ تقویٰ کی حالت پیدا کرو۔ اس بات پر کامل یقین ہو اور اس کا اقرار کرو کہ خدا موجود ہے۔ اس کے وجود پر ایمان بالغیب ہو اور تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کامل یقین ہو کہ وہ تمام طاقتیں اور قوتیں رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اَور کوئی نہیں جو تمام طاقتیں رکھتا ہو۔پس یہ معیار دعا کی قبولیت کےکم از کم معیار ہیں۔
(خطبہ جمعہ ۲۹؍مارچ ۲۰۲۴ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۹؍اپریل ۲۰۲۴ء)
مزید پڑھیں: حقیقی تقویٰ کی برکات



