حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

نئی نئی بدعات و رسوم ردّ کرنے کے لائق ہیں

تو اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جن رسموں کا دین سے کوئی واسطہ نہیں ہے ،جو دین سے دور لے جانے والی، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات اور ارشادات کی تخفیف کرنے والی ہیں، وہ سب مردود رسمیں ہیں۔ سب فضول ہیں۔ رد کرنے کے لائق ہیں۔ پس ان سے بچو کیونکہ پھر یہ دین میں نئی نئی بدعات کو جگہ دیں گی اور دین بگڑ جائے گا۔ جس طرح اب دیکھو دوسرے مذاہب میں رسموں نے جگہ پاکر دین کو بگا ڑ دیا ہے ۔خیر یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ اس زمانے میں زندہ مذہب صرف اور صرف اسلام نے ہی رہنا تھا۔ لیکن آپ جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ دوسرے مذاہب نے مثلاً عیسائیت نے باوجود اس کے کہ ایک مذہب ہے۔ مختلف ممالک میں، مختلف علاقوں میں اور ملکوں میں اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنی رسموں کو بھی مذہب کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ افریقہ میں بھی یہ باتیں نظر آتی ہیں۔ پھر جب بدعتوں کاراستہ کھل جاتا ہے تو نئی نئی بدعتیں دین میں راہ پاتی ہیں ۔ تو آنحضرت ؐ نے ان بدعتیں پیدا کرنے والوں کے لئے سخت انذار کیا ہے، سخت ڈرایا ہے۔ آپ کو اس کی بڑی فکر تھی حدیث میں آتا ہے فرمایا: میں تمہیں ان بدعتوں کی وجہ سے، تمہارے ہواوہوس کا شکار ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ خوف زدہ ہوں مجھے ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے دین میں بگاڑ نہ پیدا ہو جائے ۔تم گمراہ نہ ہو جائو ۔

آج کل آپ یہاں اس مغربی معاشرہ میں رہ رہے ہیں، یہاں کے بے تحاشا رسم و رواج ہیں، جو آپ کو مذہب سے دور لے جانے والے، اسلام کی خوبصورت تعلیم پر پردہ ڈالنے والے رسم و رواج ہیں، طور طریق ہیں ۔کیونکہ دنیاداری کی جو چکاچوند ہے زیادہ اثر کرتی ہے۔ اس لئے اس معاشرے میں بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے تو بجائے ان کی غلط قسم کی رسوم اپنانے کے اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کرنی چاہئے ۔ہر احمدی کا اتنا مضبوط کیریکٹر ہونا چاہئے، اتنا مضبوط کردار ہونا چاہئے کہ مغربی معاشرہ اس پر اثر انداز نہ ہو مثلاً عورتوں میں پردہ کا اسلامی حکم ہے۔ عورتوں کی عزت اسی میں ہے کہ پردہ کی وجہ سے ان کا ایک نمایاں مقام نظر آتا ہو۔ جب عورت خود پردہ کرے گی اور اس معاشرے میں پردے کی خوبیاں بیان کرے گی تو اس کا بہرحال زیادہ اثر ہوگا بہ نسبت اس کے کہ مرد پردے کے فوائد اور خوبیاں اس معاشرے میں بیان کرتے پھریں۔ تو جو خواتین پردہ کرتی ہیں ان کو صرف ایک انفرادیت کی وجہ سے تبلیغ کے بھی زیادہ مواقع میسر آجاتے ہیں۔ اس طرف بھی بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ پھر اور بھی بہت سی اس مغربی معاشرے کی برائیاں ہیں۔ انہیں صرف اس لئے اپنانا کہ ہم اس معاشرے میں رہ رہے ہیں، مجبوری ہے،یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔ مثلاً آپ کی ایسے شخص سے دوستی ہے جو شراب پیتا ہے تو آپ اس کے ساتھ ایسے ریسٹورنٹ میں یا بار وغیرہ میں چلے جائیں کہ ٹھیک ہے وہاں بےشک وہ شراب پیتا رہے میں تو کافی یا کوئی اور مشروب پی لوں گا تو یہ بھی غلط ہے۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے کسی دن آپ اس سے متاثر ہوکر ہوسکتا ہے کہ خود بھی پہلے ایک گھونٹ لیں اور اس کے بعد اس کی عادت پڑ جائے، اللہ نہ کرے۔ اس لئے درج ذیل حدیث کو جس میں آنحضرت ﷺ نے بہت فکر کا اظہار فرمایا ہے پیش نظر رکھیں۔

حضرت ابو بردہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ وہ بات جس کے سبب سے میں تمہارے بارہ میں خائف ہوں وہ ایسی خواہشات ہیں جو تمہارے شکموں میں اور تمہاری شرمگاہوں میں پیدا ہوجائیں گی۔ نیز ہواو ہوس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی گمراہیوں کے بارے میں بھی خائف ہوں۔ (مسند احمد بن حنبل۔ جلد۴۔ صفحہ۴۲۳۔مطبوعہ بیروت)

حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’جب تک انسان سچا مجاہدہ اور محنت نہیں کرتا وہ معرفت کا خزانہ جو اسلام میں رکھا ہوا ہے اور جس کے حاصل ہونے پر گناہ آلود زندگی پر موت وارد ہوتی ہے انسان خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہے اور اس کی آواز یں سنتا ہے اسے نہیں مل سکتا ۔ چنانچہ صاف طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاَمَّامَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی۔ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی (النازعات:۴۱)۔ یہ تو سہل بات ہے کہ ایک شخص متکبرانہ طور پر کہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں اور باوجود اس دعویٰ کے اس ایمان کے آثار اور ثمرات کچھ بھی پیدا نہ ہو ں یہ نری لاف زَنی ہوگی ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی کچھ پرواہ نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی پرواہ نہیں کرتا۔‘‘ (الحکم۔ جلد۹۔ نمبر۲۹۔مورخہ۱۷اگست۱۹۰۵ء۔ صفحہ۶)

پھر آپؑ فرماتے ہیں: ’’جوکوئی اپنے ربّ کے آگے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اور اپنے نفس کی خواہشوں کو روکتا ہے توجنت اسکا مقام ہے۔ ہوائے نفس کو روکنایہی فنافی اللہ ہونا ہے اور اس سے انسان خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرکے اسی جہان میں مقام جنت کو پہنچ سکتا ہے۔‘‘ (بدر۔ جلد نمبر۱۔ مورخہ۳؍اگست ۱۹۰۵ء۔ صفحہ۲)(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۱۰۵ تا ۱۰۸)

مزید پڑھیں: علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button