خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۱؍اکتوبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: آجکل جنگِ احزاب کا ذکرچل رہا ہے۔ یہ بیان ہوا تھا کہ کفار نے رات کو آندھی اور طوفان کی وجہ سے میدان خالی کر دیا۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غزوہ احزاب میں لشکروں کی واپسی اورمسلمان شہداءکی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ سے لشکروں کو واپس بھگا دیا تو آپﷺ نے فرمایا۔ اَلْآنَ نَغْزُوْھُمْ وَلَا یَغْزُوْنَنَا۔ یعنی آئندہ ہم قریش کے خلاف نکلیں گے مگر انہیں ہمارے خلاف نکلنے کی ہمت نہیں ہو گی۔ اور اس کے بعد واقعی ایسا ہوا۔ قریش کو ہمت اورجرأت نہیں ہوئی کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کریں یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کے ہاتھوں مکہ فتح ہو گیا۔بہرحال صبح ہوئی تو خندق کے پار کوئی مخالف موجود نہ تھا سب بھاگ چکے تھے۔ آپﷺ نے مسلمانوں کو اپنے گھروں کی طرف جانے کی اجازت دے دی۔ سب خوشی خوشی اپنے گھروں کو جانے لگے۔بیان کیا جاتا ہے کہ خندق کا محاصرہ پندرہ دن رہا یا ایک قول کے مطابق یہ محاصرہ بیس دن رہا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک ماہ کے قریب محاصرہ رہا۔غزوۂ خندق میں نو افراد شہید ہوئے تھے۔ایک سعد بن معاذؓ ہیں۔ یہ اس جنگ میں زخمی ہوئے تھے اور کچھ دنوں کے بعد وفات ہوئی۔ انس بن اوسؓ پھر عبداللہ بن سہلؓ، طفیل بن نعمانؓ،ثَعْلَبَہ بن عَنَمَہ بن عدیؓ، کعب بن زیدؓ، قیس بن زید بن عامرؓ، عبداللہ بن ابی خالدؓ، اَبُو سِنَان بن صَیْفِی بن صَخْرؓ۔ اور دو صحابہؓ دراصل پہلے شہید ہو گئے تھے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے جو ابوسفیان کے لشکر کا پتہ کرنے گئے تھے اور وہاں شہید ہوئے۔ یوں کُل گیارہ شہید ہوئے۔ یہ دو جو تھے یہ سُلَیط ؓاور سُفْیَان بن عَوف اسلمی ؓتھے۔مشرکین کے تین افراد مارے گئے جو عَمرو بن عَبْدِوُدّ، نَوفَل بن عبدُاللہ بن مُغِیرہ اور عُثمان بن مُنَبِّہ۔ اس کو خندق کے دن ایک تیر لگا تھا یعنی جس دن کفار نے پُرزور حملہ کیا تھا اور مسلمانوں نے بھی تیروں کا جواب تیروں سے دیا تھا جس کے زخم سے یہ مکہ جاکر مرا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓنے لکھا ہے کہ ’’کم وبیش بیس دن کے محاصرہ کے بعد کفار کالشکر مدینہ سے بے نیل و مرام واپس چلا گیا اور بنوقریظہ جو ان کی مدد کے لیے نکلے تھے وہ بھی اپنے قلعہ میں واپس آگئے۔ اس لڑائی میں مسلمانوں کا جانی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔ یعنی صرف پانچ چھ آدمی شہید ہوئے مگر قبیلہ اوس کے رئیس اعظم سعد بن معاذ کوایسا کاری زخم آیا کہ وہ بالآخر اس سے جانبر نہ ہو سکے اور یہ نقصان مسلمانوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان تھا۔ کفار کے لشکر میں سے صرف تین آدمی قتل ہوئے لیکن اس جنگ میں قریش کو کچھ ایسا دھکا لگا کہ اس کے بعد ان کو پھر کبھی مسلمانوں کے خلاف اس طرح جتھہ بنا کر نکلنے یا مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ہمت نہیں ہوئی اور آنحضرتﷺ کی پیشگوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔لشکر کفار کے چلے جانے کے بعد آنحضرتﷺ نے بھی صحابہ کو واپسی کا حکم دیا اور مسلمان میدانِ کارزار سے اٹھ کر مدینہ میں داخل ہو گئے۔
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غزوہ بنوقریظہ کےپس منظرکی بابت کیاروایت بیان فرمائی؟
جواب: فرمایا: بنوقریظہ نے عین جنگ کے دوران عہد شکنی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف قریش کی مدد کی تھی اور ان معاہدوں کو توڑ دیا تھا جو اُن کے اور رسول اللہﷺ کے درمیان تھے۔ جب رسول اللہﷺ غزوۂ خندق سے فارغ ہونے کے بعد واپس تشریف لائے تو آپؐ نے اور صحابہ نے ہتھیار اتار دیے۔آنحضورﷺ حضرت عائشہؓ کے گھر میں داخل ہوئے اور پانی منگوایا اور اپنا سر دھونے لگے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے غسل کیا اور خوشبو منگوائی اور ظہر کی نماز اد اکی۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے ہمیں سلام کیا جبکہ ہم گھر میں تھے۔ اس نے آواز دی تو رسول اللہﷺ جلدی سے اس کی طرف گئے اور میں دروازے کے درمیان میں سے دیکھ رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہاں حضرت دِحْیَہ کَلْبِیؓ تھے، وہ اپنے چہرے سے غبار جھاڑ رہے تھے اور انہوں نے عمامہ باندھا ہوا تھا۔ رسول اللہﷺ سواری کی گردن سے ٹیک لگا کر کھڑے تھے۔ اس نے کہایا رسول اللہﷺ! آپؐ نے ہتھیار اتار دیے۔ اللہ کی قَسم! ہم نے ہتھیار نہیں اتارے۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب سے آپؐ کا دشمن سے سامنا ہوا ہے تب سے فرشتوں نے اسلحہ نہیں اتارا اور ابھی تک ہم احزاب کے تعاقب سے واپس آ رہے ہیں۔بات اس نے کہی کہ فرشتوں نے اسلحہ نہیں اتارا یہاں تک کہ ہم حمراء الاسد تک پہنچ گئے اور اللہ نے ان کو شکست دی۔ اب آپ ادھر کا رخ کریں۔ آپﷺ نے فرمایا کدھر؟ تو اس نے اشارہ سے کہا اُدھر یعنی بنوقریظہ کی طرف۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ میں اندر واپس آگئی۔ جب رسول اللہﷺ تشریف لائے تو میں نے کہا یا رسول اللہﷺ! وہ شخص کون تھا جس سے آپ بات کر رہے تھے؟ آپ نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ تو میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا تم نے اسے کس شخص کے مشابہ پایا تو میں نے کہا ۔ حضرت دِحْیَہ کَلْبِیؓ کے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ جبرئیل تھے۔یہاں وہ بات ظاہر ہو گئی کہ فرشتوں نے ہتھیار نہیں اتارے۔یہ جبرئیل تھے جو مجھے کہہ رہے تھے کہ میں بنوقریظہ کی طرف جاؤں۔رسول اللہﷺ نے اسی وقت اعلان کروایا کہ بنوقریظہ کی طرف نکل پڑیں اور عصر کی نماز وہیں پڑھیں۔
سوال نمبر۳: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے غزوہ بنوقریظہ کےلیےاسلامی لشکرکی روانگی اورمحاصرہ کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: رسول اللہﷺ نے مدینہ پر حضرت ابن ام مکتوم ؓکو نگران مقرر فرمایا اور بنوقریظہ کی طرف بدھ کے دن نکلے اور ذوالقعدہ کے سات دن باقی تھے۔ رسول اللہﷺ نے ہتھیار اور زرہ پہنی اور خود پہنا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لے لیا اور ڈھال گلے میں لٹکا لی اور اپنے گھوڑے لُحَیْف پر سوار ہوئے۔ مسلمانوں کے پاس چھتیس گھوڑے تھے اور رسول اللہﷺ اپنے صحابہؓ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ تین ہزار افراد تھے۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ حضرت علیؓ مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کے ساتھ پہلے ہی بنوقریظہ کے پاس پہنچ چکے تھے۔ حضرت ابوقَتَادہؓ کہتے ہیں کہ ہم بنوقریظہ کے پاس پہنچ گئے اور حضرت علیؓ نے قلعہ کے نیچے جھنڈا گاڑھ دیا۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو انہیں جنگ کا یقین ہو گیا۔ پھر وہ اپنے قلعوں میں بند ہو کر رسول اللہﷺ اور آپؐ کی ازواج مطہرات کو گالیاں دینے لگے۔ حضرت ابوقتادہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم خاموش رہے اور ان گالیوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور کہا کہ اب تمہارے اور ہمارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی۔ رسول اللہﷺ بھی بنوقریظہ تک پہنچ گئے اور بنوقریظہ کے پہاڑ کےدامن میں بِئْرِ اُنَّا پر ان کے قلعہ کے قریب ٹھہر گئے۔اسے بِئْرِ اَنَّا بھی کہا جاتا ہے اور یہ بنوقریظہ کے کنوؤں میں سے ایک کنواں ہے۔اس بارے میں سیرت خاتم النبیینؐ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے جو تفصیل لکھی ہے یوں ہے کہ ’’جب حضرت علیؓ وہاں پہنچے توبجائے اس کے کہ بنوقریظہ (جن میں غزوۂ خندق کے بعد بنونضیر کا رئیسِ اعظم اور فتنہ کا بانی مبانی حُیَیِّ بن اخطب بھی اپنے وعدہ کے مطابق آکر شامل ہوگیا تھا) اپنی غداری وبغاوت پر اظہارِ ندامت کر کے عفو اور رحم کے طالب بنتے انہوں نے برملا طور پر آنحضرتﷺ کو گالیاں دیں اورکمال بے حیائی اور کمینگی کے طریق پر ازواجِ مطہرات کے متعلق بھی نہایت ناگوار بدزبانی کی۔حضرت علیؓ اور ان کے دستے کے روانہ ہوچکنے کے تھوڑی دیر بعد آنحضرتﷺ بھی مسلح ہوکر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ اس وقت آپؐ ایک گھوڑے پرسوار تھے اور صحابہ کی ایک بڑی جماعت آپ کے ساتھ تھی۔ جب آپؐ بنوقریظہ کے قلعوں کے قریب پہنچے تو حضرت علیؓ نے جو تھوڑی دور تک آپ کے استقبال کے لیے واپس آگئے تھے آپؐ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ! میرے خیال میں آپ کو خود آگے تشریف لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم لوگ ان شاء اللہ کافی ہوں گے۔ آپ سمجھ گئے اور فرمانے لگے ‘‘کیا بنوقریظہ نے میرے متعلق کوئی بدزبانی کی ہے؟ ’’حضرت علی نے عرض کیا کہ ہاں یارسول اللہ! آپؐ نے فرمایا خیر ہے، چلو۔قَدْ اُوْذِیَ مُوْسٰی بِاَکْثَرَمِنْ ھٰذَا۔یعنی ’’موسیٰؑ کو ان لوگوں کی طرف سے اس سے بھی زیادہ تکالیف پہنچی تھیں۔‘‘غرض آپ آگے بڑھے اوربنوقریظہ کے ایک کنوئیں پرپہنچ کر ڈیرہ ڈال دیا۔‘‘…رسول اللہﷺ سحری کے وقت آگے بڑھے اور تیر انداز دستے کو آگے رکھا۔ انہوں نے یہودیوں کے قلعوں کا احاطہ کر لیا اور ان پر تیر اندازی کی اور پتھر برسائے اور وہ یہودی بھی، اپنے قلعوں سے تیر اندازی کرتے رہے، یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ پھر قلعوں کے ارد گرد رات گزاری اور مسلمان یہود پر باری باری حملہ کرتے رہے۔ رسول اللہﷺ مسلسل ان پر تیر اندازی کرواتے رہے یہاں تک کہ یہود نے ہلاکت کا یقین کر لیا اور مسلمانوں پر تیر اندازی چھوڑ دی اور کہنے لگے کہ ہمیں چھوڑ دو ہم تم سے بات چیت کرتے ہیں۔رسول اللہﷺ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ انہوں نے نَبَّاشْ بن قَیس کو آپؐ کے پاس بھیجا۔ اس نے رسول اللہﷺ سے کہا کہ انہیں یہاں سے چلے جانے کی اجازت دے دیں جیسے بنو نضیر یہاں سے گئے تھے اور آپؐ اموال اور ہتھیار لے لیں اور ہمارے خون معاف فرما دیں۔ ہم آپؐ کے شہر سے اپنی عورتوں اور بچوں کے ساتھ نکل جائیں گے۔ یہ یہود کی طرف سے پیشکش ہوئی۔ اور ہمارے لیے وہ سامان ہو گا جس کوہمارا ایک اونٹ اٹھا سکے۔ لیکن رسول اللہﷺ نے انکار کر دیا اور پھر نَبَّاشْ نے کہا کہ ہمیں اموال کی ضرورت نہیں جس کو ہمارے اونٹ اٹھائیں۔ رسول اللہﷺ نے انکار کر دیا کہ انہیں آنحضرتﷺ کے فیصلے کے مطابق اترنا ہو گا لیکن اس نے رسول اکرمﷺ کے فیصلہ پر اترنے سے انکار کر دیا اور اپنی قوم میں واپس چلا گیا۔
سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے حضرت ابولبابہؓ کےساتھ پیش آنےوالےواقعہ کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: آپؓ لکھتے ہیں کہ’’آخر جب بنوقریظہ محاصرہ کی سختی سے تنگ آگئے تو انہوں نے یہ تجویز کی کہ کسی ایسے مسلمان کو جو ان سے تعلقات رکھتا ہواوراپنی سادگی کی وجہ سے ان کے داؤ میں آسکتا ہو اپنے قلعہ میں بلائیں اور اس سے یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں کہ آنحضرتﷺ کا ان کے متعلق کیا ارادہ ہے تاکہ وہ اس کی روشنی میں آئندہ طریق عمل تجویز کر سکیں۔ چنانچہ انہوں نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں ایک ایلچی روانہ کرکے یہ درخواست کی کہ ابولُبَابہ بن مُنْذِر انصاری کوان کے قلعہ میں بھجوایا جاوے تاکہ وہ اس سے مشورہ کر سکیں۔ آپؐ نے ابولُبَابہ کو اجازت دی اوروہ ان کے قلعہ میں چلے گئے۔ اب رؤساء بنوقریظہ نے یہ تجویز کی ہوئی تھی کہ جونہی ابولُبَابہ قلعہ کے اندرداخل ہو سب یہودی عورتیں اوربچے روتے اور چِلّاتے ہوئے ان کے اردگرد جمع ہوجائیں اوراپنی مصیبت اورتکلیف کاان کے دل پر پورا پورا اثر پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ ابولُبَابہ پر یہ داؤ چل گیا اور وہ قلعہ میں جاتے ہی ان کی ’’مصیبت‘‘کا شکار ہو گئے اور بنوقریظہ کے اس سوال پر کہ اے ابولُبَابہ! توہمارا حال دیکھ رہا ہے۔ کیا ہم محمدؐ کے فیصلہ پراپنے قلعوں سے اتر آویں؟ ابولُبَابہ نے بے ساختہ جواب دیا‘‘ہاں’’مگر ساتھ ہی اپنے گلے پرہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ آنحضرتﷺ تمہارے قتل کاحکم دیں گے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط تھا اور آنحضرتﷺ نے قطعاً کوئی ایسا ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا مگر ان کی مصیبت کے مظاہرہ سے متاثر ہو کر ابولُبَابہ کاخیال آلام ومصائب کی رو میں ایسا بہاکہ موت سے ورے ورے نہیں ٹھہرا اور ابولُبَابہ کی یہ غلط ہمدردی (جس کی وجہ سے وہ بعد میں خود بھی نادم ہوئے اوراس ندامت میں انہوں نے اپنے آپ کو جا کر مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ حتی کہ آنحضرتﷺ نے انہیں معاف کرتے ہوئے خود جاکر انہیں کھولا ) بنوقریظہ کی تباہی کاباعث بن گئی اور وہ اس بات پر ضد کرکے جم گئے کہ ہم محمدﷺ کے فیصلہ پر نہیں اتریں گے۔‘‘
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: رمضان’’خدا کے فضلوں کا مہینہ ہےاس سے جس قدر ہو سکے فائدہ اٹھا لو‘‘




