دینِ اسلام کی چوٹی جہاد ہے جس میں روزہ شامل ہے (الحدیث)
اس مہینے میں خاص طور پر قرآن کریم کے پڑھنے سننے اس کی تفسیر پڑھنے سننے کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے(حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)
حضرت معاذ ؓکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھنے پر کہ نیکیوں کے راستے کون کون سے ہیں آپؐ نے جو نیکیاں گنوائیں ان کے آخر میں فرمایا:’’سنو! روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے۔ صدقہ گناہ کی آگ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو۔ رات کے درمیانی حصہ میں نماز پڑھنا اجر عظیم ہے۔ دین کی جڑ اسلام ہے۔ اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔ ‘‘ (حدیقۃ الصالحین صفحہ ۶۵۱،۶۵۰)
حضرت ابو سعید خدریؓ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ عرض کی کہ حضور! مجھے کوئی نصیحت فرماویں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۱۔ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ تمام بھلائیوں کی یہ بنیاد ہے۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو کیونکہ یہ مسلمان کی رہبانیت ہے۔ ۳۔اللہ کا ذکر کرو کیونکہ یہ تیرے لیے نور ہے۔ ( حدیقۃ الصالحین صفحہ ۶۵۶)
ان دو احادیث میں بہت سے موضوع ہیں جن پر قلم سے زور آزمائی کی جا سکتی ہے لیکن آج میرا موضوع ’’ جہاد ‘‘ ہے جو دو طرح کا ہوتا ہے۔
۱۔ وہ جہاد جو اعلائے کلمہ اسلام کے لیے غیر مسلموں سے کیا جاتا ہے۔ جس کے لیے ایک امام کا ہونا ضروری ہے۔ اسے جہاد بالسیف کہا جاتا ہے۔
۲۔ وہ جہاد جو اللہ اور اس کے رسول حضرت محمدؐ، قرآن اور اسلام کی حقانیت اور اشاعت کے لیے جسمانی ، ایمانی کوششوں سے کیا جاتا ہے۔ یہ جہاد ، جہاد با لسیف سے بڑا ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک سے واپسی پر یہ اعلان فرمایا تھاکہ رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَاد الْأَصْغَر إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَر(البیہقی کتاب الزہد) کہ ہم چھوٹے جہاد یعنی جہاد اصغر (جہاد بالسیف)سے بڑے جہاد یعنی جہاد اکبر کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
جوتعلیم و تربیت اور اصلاحِ احوال کا جہاد ہے اور یہی جہاد اکبر ہے۔ اس عظیم جہاد کی طرف آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں کے کرنے کی تلقین فرمائی اور جن مناہی سے روکا وہ دراصل جہاد اکبر ہے۔ جیسے سلام کا جواب دینا ، بیماروں کی عیادت کرنا ، وفات یافتہ کے جنازے میں شامل ہونا ، پنجوقتہ نماز پڑھنا ، صدقہ دینا ، زکوٰۃ دینا ، روزہ رکھنا اور ان نیکیوں کی ترغیب دلانا وغیرہ۔
ایک اور موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: أَفْضَلُ الْجِهَادِ کَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَابِرٍ(ترمذی کتاب الفتن ) کہ بہترین جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق اور انصاف کی بات کہنا ہے۔
محترم ملک سیف الرحمٰن صاحب مرحوم نے اپنی مدوّنہ کتاب حدیقۃ الصالحین میں جہاد کے نام سے جو باب باندھا ہے اس میں مسلم کتاب الصلوٰۃ کی یہ حدیث بھی لائے ہیں کہ جب بنوسلمہ قبیلہ نے مسجد نبوی کے ارد گرد آکر بسنے کا ارادہ کیا تانماز باجماعت کی ادائیگی میں آسانی ہو تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ علم پانے پر فرمایا کہ اے بنو سلمہ ! تم اپنے اُنہی گھروں میں رہو تمہیں ان قدموں کا بھی ثواب ملے گا جو مسجد کی طرف آتے ہوئے تمہارے اٹھتے ہیں۔ ( حدیقۃ الصالحین صفحہ۳۴۹)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وہ شخص جو خدا کی رضا کے لیے جہاد کرتا ہے ، امام کی اطاعت کرتا ہے ، اپنا عمدہ مال خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے ، اپنے ساتھی کے ساتھ نرم سلوک کرتا ہے اور فتنہ فساد سے بچا رہتا ہے۔ ایسے شخص کو سونے اور جاگنے الغرض سب حالات میں ثواب ملتا ہے۔ (حدیقۃ الصالحین صفحہ ۳۴۲)
محترم ملک سیف الرحمٰن صاحب مرحوم نے اس حدیث کو بھی جہاد میں جگہ دی جس میں درج ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ اشاعت دین اسلام کے لیے اپنے گھر کا پورا اثاثہ اور حضرت عمر فاروق ؓنصف اثاثہ لے آئے تھے۔ ( حدیقۃ الصالحین صفحہ ۳۴۰،۳۳۹)
الغرض جہاد اکبر بہت وسیع ہے۔ یہی وہ جہاد ہے جسے دین کی چوٹی کہا گیا ہے۔ یہی وہ جہاد ہے جسے ایک مسلمان کی رہبانیت یعنی ترک دنیا کہا گیا ہے۔ اسی مضمون کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نےایک اور جگہ یوں بیان فرمایا ہے کہ الدُّنيا سِجْنٌ لِلمؤمنِ وجَنَّةٌ لِلْكافرِ کہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ مومن جب ڈر ڈر کر خوف خدا سے زندگی بسر کرے گا تو یہ ایک جہاد ہو گا جسے مسلمان کی رہبانیت کہا گیا ہے۔
آئیں! دیکھتے ہیں کہ جہاد اکبر میں کیا کچھ شامل ہے۔
سب سے اوّل تو توحید باری تعالیٰ کے لیے کوشش کرنا ہے۔ ساری دنیا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے بول سے جگمگا اٹھے۔
پیارے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور نبوت کے لیے سعی کرنا۔ یہاں تک کہ تمام دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت نظر آئے۔
مسلمان اسلام کی تعلیم سے بہت پیچھے ہٹتے جا رہے ہیں ان کو حقیقی اسلام احمدیت کی طرف راغب کرنا اور دعوت دینا بھی اسلامی جہاد ہے۔
دنیا بھر میں مختلف مقامات پر جو توہین انبیاء ہو رہی ہے اس کے لیے جہاد کرنا اور احسن طریق سے روکنے کی کوشش کرنا ، اسی طرح توہین قرآن کے خلاف علمی ، تربیتی اور اخلاقی سعی کرنا بھی جہاد اکبر میں شامل ہے۔
قرآن کی تعلیم جو مسلمانوں کے دلوں سے اوجھل ہوتی جا رہی ہے۔ اُسے اجاگر کرنے کے لیے سعی کرنا جہاد اکبر ہے۔ قرآن کی حکومت قائم کرنے کی بھی کوشش کرنا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس مہینے میں خاص طور پر قرآن کریم کے پڑھنے سننے اس کی تفسیر پڑھنے سننے کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔ ایم۔ٹی۔اے پر بھی اس کے پروگرام آتے ہیں درس بھی آتا ہے اس کی طرف بھی توجہ دیں۔ جب ہم قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ اس کا ترجمہ اور اس کی تفسیر پڑھیں گے اور سنیں گے تب ہی ہم ان احکامات کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں جو اس میں بیان ہوئے ہیں انہیں اپنی زندگیوں کاحصہ بنا سکتے ہیں۔ اپنی زندگی کو قرآنی تعلیم کے مطابق ڈھال سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بن سکتے ہیں۔ (خطبہ جمعہ ۳۱؍مارچ ۲۰۲۳ء )
جماعت کے اندر جہاد
یہ کوشش کہ ہر بندہ یا بندی نمازی بن جائے۔ مرد حضرات با جماعت نماز کو ترجیح دیں۔ قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کرنے والے ہوں۔ قرآن کریم میں درج تعلیمات کو سمجھنے کے لیے احادیث کا مطالعہ اور حکم و عدل کی کتب کے مطالعہ کو حرز جان بنائیں۔ ایم ٹی اے باقاعدگی سے سنیں بالخصوص ’’وقت کی آواز ‘‘ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات جمعہ کو بار بار سُن کر ہر فرد جماعت بیان فرمودہ ہدایات و نصائح کو اپنے اندر اتارے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: آجکل ہم رمضان کے مہینے سے گزر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں ایک روحانی ماحول بن جاتا ہے اور مومنوں کی جماعت میں یہ ماحول بننا چاہئے۔ اس مہینے میں روزوں کے ساتھ عبادتوں کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔ قرآن کریم پڑھنے سننے کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے اور اگر روزوں کا حقیقی فیض اٹھانا ہے تو عبادتوں کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے سننے کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہونی چاہئے اور رمضان کو تو قرآن کریم کے ساتھ خاص نسبت ہے یا قرآن کریم کو رمضان کے ساتھ نسبت بھی ہے۔ ‘‘ ( خطبہ جمعہ بیان فرمودہ ۳۱مارچ۲۰۲۳ء )
معاشرہ میں امن و آشتی کے ساتھ رہ کر دوسر ے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لیے نمونہ بنیں۔ عدالتوں میں سچ بولنے والے اور خدمت دین و خدمت خلق کو اپنی زندگیوں کا شعار بنائیں۔
مساجد کی آباد کاری کے لیے جہاں کوششیں کرنی ہیں وہاں اجتماعات اور جلسوں پر حاضری بڑھانے کے لیے سعی کی ضرورت ہے۔ آپس میں بھائی چارہ ، اخوت بڑھا کر ایک روحانی جماعتی خاندان کومزید ہوا دینی ہے۔
نیز آج کل رمضان کے حوالے سے تمام شرائط کے ساتھ روزے رکھنا ، کم از کم ایک بار قرآ ن کریم ختم کرنا ، اپنے اندر سے ایک برائی تلف کرنا اور ایک نیکی اپنانا وغیرہ بھی جہاد اکبر ہے اور یہی دین کی چوٹی ہے۔ جس کو اس رمضان میں سر کرنا ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے۔
دُعا
آخری بات جو جہاد اکبر کا حصہ ہے وہ دُعا ، دُعا اور دُعا ہے خواہ وہ اپنے نفس کے جہاد اکبر کے لیے ہو۔ خواہ دعوت الی اللہ کے کسی میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہو۔ پس دُعاؤں کے ساتھ جہاد اکبر کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: رمضان میں دعاؤں کی طرف بھی خاص توجہ دیں پہلے بھی میں نے کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر احمدی کو ہر شر سے بچائے اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں جو ناقابل اصلاح ہیں ان کو عبرت کا نشان بنائے تا کہ دوسرے لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے بن سکیں۔ (خطبہ جمعہ بیان فرمودہ۳۱مارچ۲۰۲۳ء )
پھرحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ زیر نظر مضمون ’’دین اسلام کی چوٹی جہاد ہے ‘‘ کی تفصیل میں بیان فرماتے ہیں: ’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین اسلام کی چوٹی جہاد ہے۔ اب اس زمانے میں تلواروں اور بندوقوں کا جہاد تو ختم ہو گیا۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح کی آمد کے ساتھ ہی تلوار کا جہاد ختم ہونا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس و جہ سے فرمایا ہے کہ میرے آنے کے بعد اب تلوار کا جہاد نہ صرف بند ہو گیا ہے بلکہ حرام ہو گیاہے۔ اس کے بعد کیا یہ سمجھا جائے کہ اسلام کی اس چوٹی تک پہنچنے کے راستے ختم ہو گئے؟ نہیں، بلکہ تلوار کا جہاد تو جہاد کی ایک قسم ہے جس کی اُس وقت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اجازت دی تھی۔ بلکہ اُس وقت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت اور تبلیغ کو ہی جہاد اکبر قرار دیا تھا۔ بلکہ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآنی دلائل سے دشمن کا منہ بند کرنے اور پیغام پہنچانے کو جہاد قرار دیا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہےوَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِہَادًا کَبِیْرًا (الفرقان:۵۳) یعنی اس قرآن کے دلائل کے ساتھ بڑا جہاد کرو۔
پس دلائل کے ساتھ اسلام کی خوبیاں بتانا اور اسلام کی تبلیغ کرنا اصل جہاد ہے اور ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچائے۔ یقینًا اس کی وجہ سے قربانیاں بھی دینی پڑیں گی۔ لیکن یہ قربانیاں ہی ہیں جن کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی چوٹی جہاد کو قرار دیا ہے اور اس نیکی میں ہر احمدی کو ایک دوسرے سے بڑھنے کی خاص کوشش کرنی چاہئے۔ اپنے عملوں کو بھی درست کریں کہ اسے دیکھ کر لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں اور پھر تبلیغ کے میدان میں کود جائیں۔ آپ کی وطن سے محبت بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان لوگوں کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے بارے میں بتائیں، اس کی خوبیاں بتائیں۔ آئندہ انسانیت کی بقا بھی اسی میں ہے کہ دنیا ایک خدا کو مانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔ پس اس چوٹی کو حاصل کرنے کے لئے ہر احمدی کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرے۔ ورنہ ہمارا یہ دعویٰ غلط ہو گا کہ ہم ہر میدان میں نیکیوں میں آگے بڑھنے والے لوگ ہیں اور یہ ہمارا مطمح نظر ہے اور یہی ہمارا مقصد ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ۲۹؍اپریل۲۰۰۵ء)
پھر حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: بہت سی نیکیوں کی باتیں آپؐ نے خود کھول کھول کربیان کر دیں کہ روزہ تمہیں گناہوں سے بچائے گا۔ صدقہ خیرات، مالی قربانی تمہیں آگ سے بچائے گی، تہجد پڑھنا بہت بڑے اجر کا باعث ہو گا، پھر اس کی چوٹی جہاد بتایا اور اس زمانے میں جہاد کیا ہے، کیونکہ تلوار کا جہاد تو حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کے بعد ختم ہو گیا جنگ اور قتال کو تو آپؑ نے دین کے لئے حرام قرار دے دیا۔ یہاں جہاد سے مراد اپنے نفس کے خلاف جہاد ہے۔ نفس کو برائیوں سے روک کر نیکیوں پر قائم کرنے کا بلکہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کا جہاد یہاں مرادہے۔ مالی قربانیوں کا جہاد مراد ہے۔ دلائل سے دشمن کا منہ بند کرنے کا جہاد مراد ہے۔ آج دجال نے اپنی چالوں سے مسلمانوں کو اپنے دین سے لاتعلق کر دیا ہے۔ اس دجال کے خلاف اسی طرح کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے، اس سے وہ جہاد کرنا مراد ہے۔ وہ تو اپنے لٹریچر کے ذریعے سے جہاد کر رہے ہیں۔ تو جماعت احمدیہ بھی لٹریچر کے ذریعہ سے ہی جہاد کرتی ہے،
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنے کا جہاد مراد ہے اور انہی چیزوں کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد اکبر قرار دیا ہے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ ۱۰ستمبر۲۰۰۴ء )
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں اسلامی تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنے اور معاشرے میں اس کو نافذ کرنے کی توفیق دے۔ آمین
مزید پڑھیں: اصلاحِ نفس



