رمضان میں گھروں کی سجاوٹ اور رمضان کیلنڈرکے بارے میں راہنمائی
سوال: محترم ناظم صاحب دارالافتاء ربوہ نے ایک استفتا بابت کرسمس کی طرز پر رمضان میں گھروں کو سجانے اور رمضان کیلنڈر بنا کر عید تک دنوں کی گنتی کرنے کے بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے راہنمائی چاہی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۰؍مئی ۲۰۲۲ء میں اس مسئلہ کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: اصل بات یہ ہے کہ اس امر میں بھی ہمیں آنحضورﷺ کے ارشاد إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کو ہی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اگر تو رمضان میں گھروں کو سجانے اور رمضان کیلنڈر بنانے میں نیت یہ ہو کہ اہل خانہ اور بچوں کو رمضان کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی جائے، گھر میں ایسا ماحول بنا کر گھر والوں اور خاص طور پر بچوں کو رمضان کی عبادات اور دعاؤں کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا جائے تا کہ سحری اور افطاری کے وقت وہ اس ماحول کو دیکھ کر دعا اور عبادات میں مشغول ہو سکیں۔ اور اس طرح رمضان کے ہر دن کا ایک جوش اور ولولہ کے ساتھ وہ استقبال کر کے اس میں نازل ہونے والی برکتوں سے استفادہ کر سکیں تو اس نیت کے ساتھ ایسا کرنے میں بظاہر کوئی حرج کی بات نہیں۔
لیکن اگر صرف دکھاوا مطلوب ہو اور یہ سارے پاپڑ صرف ریا اور نمود و نمائش کے لیے بیلے جائیں اور ایک ایک دن اس سوچ کے ساتھ گزارا جائے کہ چلو اچھا ہوا اتنے دن گزر گئے، جن سے جان چھوٹ گئی، باقی دن بھی جلد گزر جائیں گے اور پھر عید منائیں گے اور عید میں بھی حقیقی خوشیاں تلاش کرنے کی بجائے صرف ظاہری خوشیوں کا خیال رکھا جائے تو اس نیت کے ساتھ گھروں کو سجانا اور رمضان کیلنڈر بنانا ہرگز جائز نہیں۔
پس خلاصہ کلام یہ کہ اگر اس کام سے اہل خانہ میں کوئی پاک تبدیلی پیدا ہو رہی ہو اور انہیں رمضان کی برکات کی طرف توجہ پیدا ہو کر اس سے استفادہ کرنے کا موقع ملے تو یہ سجاوٹ اور کیلنڈر بنانا جائز ہے۔ لیکن اگر صرف دکھاوا کرنا اور رمضان کو ایک چٹی سمجھ کر گزارنا مقصود ہو تو یہ سجاوٹ کرنا اور ایسے کیلنڈر بنانا ناجائز ہے اور بدعت شمار ہو گا۔
(بنیادی مسائل کے جوابات قسط ۵۵، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۰؍مئی ۲۰۲۳ء)
مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ کی رحمت کی دو اقسام



