اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ کی روشنی میں فلسفۂ نماز
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ سورت بنی اسرائیل کی آیات ۷۹و۸۰؍کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’حدیث میں آیا ہے جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا۔سلیم الفطرت لوگ ہوتے ہیں۔ان کے دلوں میں کپٹ نہیں رہتی۔ایسے لوگوں کی عادت ہے کہ جو اُن کے ساتھ نیکی کرے۔وہ اس کے ساتھ محبت رکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ کے کس قدر احسان ہیں۔اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا(ابراہیم:۳۵)کہ گِنے بھی نہیں جا سکتے۔پس اس سے بڑھ کر کون محسن ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ کون سزا وارِ محبّت و اطاعت ہو سکتا ہے؟
ایک معمولی بال سفید ہو جاوے تو انسان کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ذرا سی ناک کٹ جائے یا آنکھ کی پُتلی خراب ہو یا کان میں ضرر پہنچ جاوے تو کیا انجام ہوتا ہے۔یہ خدا کے فضل سے سلامت رہتے ہیں۔غرض ایسے مُحسن کی محبّت و اطاعت کے اظہار کیلئے نماز ہے۔جس کا حکم اس رکوع میں دیتا ہے۔اور ان کے ادا کرنے کے اوقات بتائے ہیں جو پے در پے آنیوالے ہیں۔تاکہ ایک نماز کے پڑھنے سے روحانیت کا اثر ابھی باقی ہو کہ دوسرا آجائے۔اہل اﷲ تو آٹھ بار نماز پڑھتے ہیں۔نماز صبح۱ کے بعد اشراق۲ پھر ضحی۳ پھر ظہر۴کی نماز پھر عصر۵۔پھرمغرب۶ پھر عشاء ۷۔پھر تہجد۸۔
فَتَہَجَّدۡ بِہٖ: ہجود کے معنے سونے کے ہیں۔… تہجد کے معنی ہیں۔نیند کو ہٹا کر کھڑا ہونا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۳؍مارچ ۱۹۱۰ء)‘‘
(حقائق الفرقان جلد۲ صفحہ ۵۵۶-۵۵۷)




