جلسہ سالانہ

تازہ ترین: ۳۳ویں جلسہ سالانہ سویڈن کے پہلے دن کی مختصر روئیداد۔ ۱۳جون ۲۰۲۶ء

(رضوان احمد افضل۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل سویڈن)

(مسجد ناصر، گوتھن برگ، سویڈن، ۱۳ جون ۲۰۲۶ء، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل) اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۳۳واں جلسہ سالانہ سویڈن ۲۰۲۶ء مورخہ ۱۳ و ۱۴؍جون ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ و اتوار مسجد ناصر، گوتھن برگ میں منعقد ہورہا ہے۔ جلسہ سے دو روز قبل جمعرات کی رات سے ہی مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ بعض مہمان تقریباً ۱۵۰۰ کلومیٹر کا سفر طے کرکے بذریعہ کار جلسہ میں شمولیت کے لیے تشریف لائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کے لیے لنگر خانہ میں کھانے کا انتظام موجود تھا۔

آج بروز ہفتہ صبح سے شرکائے جلسہ کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ کارڈ چیکنگ، سکیننگ اور سیکیورٹی پر مامور خدام ناشتہ سے قبل اپنی ڈیوٹیوں پر موجود تھے۔ تمام شاملین جلسہ کے لیے ناشتے کا انتظام مسجد میں ہی تھا اس لیے شعبہ ٹرانسپورٹ نے مستعدی سے جماعتی طور رہائش کے انتظام کی جگہوں سے شاملین جلسہ کو جلسہ گاہ پنہچانا شروع کر دیا تاکہ ناشتے کے بعد بروقت جلسہ کی کارروائی شروع ہوسکے۔

 گیارہ بجے پرچم کشائی کی تقریب ہوئی۔ محترم مامون الرشید صاحب امیر جماعت احمدیہ سویڈن اور مکرم آغا یحیٰی خان صاحب مبلغ انچارج سویڈن نے بالترتیب لوائے احمدیت اور سویڈش جھنڈے لہرائے۔ اس موقع پرمحترم امیر صاحب نے اجتماعی دعا کروائی۔

سوا گیارہ بجے جلسہ سالانہ سویڈن کا پہلا اجلاس زیر صدارت مکرم امیر صاحب سویڈن شروع ہوا۔ امسال حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت جلسہ سالانہ کا مرکزی موضوع شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں رکھنے کی منظوری عطا فرمائی۔ اس لیے جلسہ کی تمام تقاریر کے عناوین شرائط بیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے رکھے گئے تھے۔ تلاوت اور نظم کے بعد مکرم امیر صاحب نے افتتاحی تقریر کی۔ آپ نے جلسہ سالانہ کے مقاصد اور جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لیے حضرت مسیح موعودؑ کی دعاؤں کے حوالے سے احباب جماعت کو توجہ دلائی۔ اس اجلاس میں تین تقاریر پیش کی گئیں۔ پہلی تقریر مکرم احتشام مقصود ورک صاحب نے ‘‘آنحضورﷺ پر درود بھیجنے میں مداومت اختیار کرنا‘‘ کے موضوع پر اردو زبان میں کی۔ جبکہ دوسری تقریر مکرم نجیب الرشید صاحب مبلغ سلسلہ گاتھن برگ نے ’’نمازوں کی پابندی اور تہجد میں شغف‘‘ کے موضوع پر اردو زبان میں کی۔ اس اجلاس کی آخری تقریر مکرم امیر صاحب نے”دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا ” کے موضوع پر کی۔ یہ اجلاس دوپہرایک بجے ختم ہوا۔

بعد ازاں وقفہ برائے طعام تھا۔ اس موقع پر بعض سویڈش مہمانوں کو بھی دعوت دی گئی تھی جن کے لیے الگ سے دوپہر کے کھانے کا انتظام تھا تاکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر انہیں جماعت کا احسن رنگ میں تفصیلی تعارف کروایا جاسکے۔ کھانے سے فارغ ہو کر نماز ظہر و عصر ڈھائی بجے ادا کی گئیں۔ جس کے بعد پہلے دن کا دوسرا اجلاس شروع ہوا۔ دوسرے اجلاس کی صدارت مکرم کاشف محمود ورک صاحب مبلغ سلسلہ مالمو نے کی۔ جماعت احمدیہ سویڈن کی یہ روایت ہے کہ جلسہ کا یہ اجلاس مکمل طور پر سویڈش زبان میں ہوتا ہے۔ اس اجلاس میں بہت سے سویڈش مہمان بھی شامل ہوئے۔ اجلاس کے آغاز میں سورہ الحجرات کی آیات مع سویڈش ترجمہ پیش کی گئیں۔ نظم کے بعد مکرم منیر نیازی صاحب سیکرٹری امور خارجیہ سویڈن نے جماعت کا تعارف کروایا۔ اس اجلاس میں دو تقاریر ہوئیں پہلی تقریر مکرم رضوان الٰہی صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ سویڈن نے ”ذکر حبیب۔ حضرت مسیح موعودؑ کے اخلاق فاضلہ” کے موضوع پر کی جبکہ دوسری تقریر صدر اجلاس نے ”جدید دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفادار رہنا” کے موضوع پر کی۔ جس کے بعد بعض مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ انہوں نے جماعت کی مہمان نوازی کی تعریف کی۔ جماعت کے ماٹو محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور جماعت کی معاشرے کے لیے خدمات کو سراہا۔ تاثرات کے اظہار کے بعد یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

شام ساڑھے چھ بجے سوال و جواب کا ایک اجلاس ہوا۔ جس میں مبلغین سلسلہ نے احباب جماعت کے سوالوں کے جوابات دیے۔ جس کے بعد نماز مغرب و عشاء ادا کی گئی۔ اور رات کا کھانا پیش کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button