شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
پھر دوسری بات جو اس شرط میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ فروتنی اور عاجزی اورخوش خلقی اورحلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کروں گا۔ جیساکہ مَیںنے پہلے بھی کہا ہے کہ جب آپ اپنے دل ودماغ کو تکبر سے خالی کرنے کی کوشش کریں گے ، خالی کریں گے تو پھر لازماً ایک اعلیٰ وصف ،ایک اعلیٰ صفت ،ایک اعلیٰ خُلق اپنے اندرپیداکرنا ہوگا ورنہ پھر شیطان حملہ کرے گا کیونکہ وہ اسی کام کے لئے بیٹھا ہے کہ آپ کا پیچھا نہ چھوڑے ۔ وہ خُلق ہے عاجزی اورمسکینی۔ اور یہ ہو نہیں سکتاکہ عاجز اورمتکبر اکٹھے رہ سکیں ۔متکبر لوگ ہمیشہ ایسے عاجز لوگوں پر جو عبادالرحمن ہوں طعنہ زنیاں کرتے رہتے ہیں ، فقرے کستے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کے مقابل پر آپ نے ان جیسا رویہ نہیں اپنانا۔بلکہ خداتعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنا ہے فرمایا:وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَھُمُ الْجَاھِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (الفرقان: آیت۶۴) اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو (جواباً) کہتے ہیں ’’سلام‘‘۔

حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضورؐنے فرمایا جس نے اللہ کی خاطر ایک درجہ تواضع اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ رفع کرے گا یہاں تک کہ اسے علیّین میں جگہ دے گا، اور جس نے اللہ کے مقابل ایک درجہ تکبّر اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ نیچے گرا دے گا یہاں تک کہ اسے اسفل السافلین میں داخل کردے گا۔ (مسند احمد بن حنبل۔ باقی مسند المکثرین من الصحابۃ۔ مسند ابی سعید الخدری)
ایسے لوگوں کی مجالس سے سلام کہہ کراٹھ جانے میں ہی آپ کی بقا، آپ کی بہتری ہے کیونکہ اسی سے آپ کے درجات بلند ہو رہے ہیں اورمخالفین اپنی انہی باتوں کی وجہ سے اسفل السافلین میں گرتے چلے جا رہے ہیں۔
حدیث میں آیا ہے اور اسے ہمیں آپس کے معاملات میں بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا بندہ جتنا کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی زیادہ اسے عزت میں بڑھاتا ہے۔ جتنی زیادہ کوئی تواضع اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔(صحیح مسلم۔ کتاب البرو الصلۃ۔ باب استحباب العفو و التواضع)
عیاض بن حمار المجاشعی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان خطاب کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کی ہے کہ تم اس قدر تواضع اختیار کرو کہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے پر فخر نہ کرے ، اورکوئی ایک دوسرے پر ظلم نہ کرے ۔(صحیح مسلم۔ کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمھا و أھلھا۔ باب الصفات الّتی یُعرف بھا فی الدنیا اھل الجنّۃ و اھل النّار۔ حدیث نمبر ۷۲۱۰)
پھر ایک روایت ہے اسے ہمیں آپس کے معاملات میں بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔ حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا بندہ جتنا کسی کو معاف کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اتنا ہی زیادہ اسے عزت میں بڑھاتا ہے۔ جتنی زیادہ کوئی تواضع اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔(صحیح مسلم۔ کتاب البر والصلۃ۔ باب استحباب العفو والتواضع)
پس ہر احمدی ایک دوسرے کو معاف کرنے کی عادت ڈالے۔اگلے جہان میں بھی درجات بلند ہو رہے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی آپکی عزتیں بڑھاتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ اپنی خاطر کئے گئے کسی فعل کو کبھی بغیر اجر کے جانے نہیں دیتا۔
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۱۳۴تا۱۳۶)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: عالمی حالات کے پیش نظر دعاؤں کی تحریک



