متفرق

صنعت وتجارت

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں: ’’بخل کے نتیجہ میں انسانی فطرت اس طرف بھی مائل ہو جاتی ہے کہ جب انسان ماپ اور تول والی چیزوں کو لینے لگتا ہے تو زیادہ لیتا ہے یعنی دوسرے کے حق کو چھیننے کی کوشش کرتا ہے اور جب اسے کوئی چیز دینے لگتا ہے تو کم تول کر یعنی کم اور چھوٹے پیمانے سے اس کو ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے سورۂ انعام میں ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَالۡمِیۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ(الانعام : ۱۵۳)

کہ ماپ اور تول کو تم حق و انصاف کے ترازو پر تولا کرو اس میں صرف کَیۡل اور میزان ہی نہیں بلکہ معنی کے لحاظ سے ہر ایک چیز کا پیمانہ مراد ہے۔ مثلاً با ہمی معاہدات ہوتے ہیں کہ اس قسم کی چیز دینی لینی ہے جیسے مثلاً روئی ہے تو اس قسم کی روئی ہو۔گندم ہے تو اس قسم کی گندم ہو۔ویسے اب گندم کی بھی بہت سی قسمیں نکل آئی ہیں تاہم لین دین میں اس معاہدہ کی اصل روح کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قومیں جو اپنے عہد و پیمان کو انصاف سے پورا کرنے والی نہیں ہوتیں وہ اقتصادی لحاظ سے کبھی نہیں اُ بھریں۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۱؍جولائی ۱۹۶۹ء، مطبوعہ خطبات ناصر جلد ۲ صفحہ ۷۳۵۔۷۳۶)

(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button