یادِ رفتگاں

میری شریک حیات زاہدہ عفت مسعود صاحبہ کی یاد میں

(ابو ربیعہ احمد)

زاہدہ عفت مسعود دسمبر ۱۹۷۲ء میں میری شریک حیات بنیں اور تا دم آخر انہوں نے عسر و یسر میں یہ رشتہ خوب نبھایا اور میری غمگسار رہیں۔ آپ کا تعلق کھاریاں شہر ضلع گجرات کے معزز گو جر زمیندار گھرانہ سے تھا۔ آپ کے ددھیال میں احمدیت کا نفوذ آپ کے دادا حضرت حافظ مولوی فضل الدین صاحب یکے از ۳۱۳؍صحابہ مسیح پاک کے ذریعہ ہوا جن کا شمار کھاریاں شہر کے چوٹی کے علمائے دین میں ہوتا تھا اور ہر کوئی ان کی عزت و احترام کرتا تھا۔یہ احترام کا رشتہ مسیح پاکؑ کی بیعت کے بعد بھی جاری رہا۔

اہلیہ مرحومہ ۴؍دسمبر۱۹۴۴ء کو چودھری سعدالدین صاحب مرحوم اور نور الٰہی بیگم صاحبہ بنت حضرت چودھری ولی داد صاحبؓ کے ہاں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد گرامی بھی عالم دین تھے اور شعبہ تعلیم سے منسلک تھے۔ جماعت احمدیہ کھاریاں کے امیر و امام الصلوٰۃ رہے۔ آپ کے والد ماجد ۱۹۵۱ء میں جواں عمری میں ہی وفات پا گئے۔ اس وقت اہلیہ محترمہ کی عمر چھ؍ سات سال کی تھی۔

شوہر کے انتقال کےبعد بچوں کی کفالت اور دیگر تمام تر ذمہ داریاں آپ کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑیں۔ بایں مقصد آپ کی والدہ نے میٹرک اور دوسری ضروری تعلیم حاصل کی اور کھاریاں شہر میں بچیوں کے سکول میں استانی تعینات ہوئیں۔ آپ کی والدہ نے ملازمت کے ساتھ پانچ بیٹیوں اور ایک بیٹے کی پرورش اور تربیت نہایت احسن طور پر کی۔ ان میں دینی اور دنیاوی تعلیم کے حصول کا شوق و ذوق بیدار کیا۔ سب بہن بھائی انتہائی ذہین اور لائق تھے۔ تقریباً سب ہر سطح کے امتحانات میں وظیفہ لیتے رہے۔ میری اہلیہ محترمہ سب بہن بھائیوں میں ذہین تھیں۔ آپ نے فزکس کے مضمون میں ماسٹر آف سائنس پنجاب یونیورسٹی سے ۱۹۶۷ء میں اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا اور پنجاب بھر میں اوّل آکر گولڈ میڈل کی حقدار بنیں۔ مجھے بتایا کرتی تھیں کہ ہم بہن بھائیوں نے اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت تعلیم حاصل کی اور شادی بیاہ میں اپنی والدہ محترمہ کا ہاتھ بٹایا۔

دینداری اور تقویٰ: میری جیون ساتھی نے دینداری اور تقویٰ پرتا عمر عمل پیرا ہونا اپنی والدہ سے ہی سیکھا۔گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ملازمت کے فرائض سرانجام دیے اس طرح گھریلو اور بچوں کی تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات میں اس نیک بی بی نے میرا ہاتھ بٹایا۔ اپنے بچوں کی تربیت کے اسلوب اپنی والدہ مرحومہ سے ہی سیکھے اور انہی پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی تربیت کی۔انہیں دینی اور دنیاوی ہر دو تعلیمات کے زیور سے سجایا۔ مصروف زندگی کے باوجود بچوں کے ساتھ اپنے خاوند کے حقوق کا حق بھی ادا کیا۔مرحومہ دین کی روح کو سمجھنے والی ایک نیک بی بی تھیں۔

آپ کو بچپن سے ہی دینی اور دنیاوی تعلیم کے حصول کا شغف تھا۔انتہائی ذہین، بااخلاق، عبادت گزار، دعاگو، غریب پرور، نیک و کفایت شعار، سلیقہ شعار اور باوقار بی بی تھیں۔ سوالی کو کبھی خالی ہاتھ نہ جانے دیتیں، گھریلو خادماؤں کی ضروریات کا خیال رکھتیں، گھر صاف ستھرا رکھنا آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ رحمی رشتوں کے ساتھ سسرالی رشتہ داروں سے بڑھ کر نیک سلوک کرنے والی۔ پنجوقتہ نماز اور تہجد گزار ہونے کے ساتھ نوافل کی ادائیگی میں بھی حظ محسوس کرتی تھیں۔ تلاوت قرآن کریم روزانہ باترجمہ ان کا معمول تھا۔ بچوں کو بھی قرآن پاک کی تلاوت کا عادی بنایا۔

خدمت دین: جماعتی و تنظیمی کاموں میں سر گرمی سے حصہ لیتیں۔ زندگی کے آخری دو سال تو شدید بیمار ہو گئی تھیں۔ مگر لجنہ اماء اللہ کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اپنی بیماری کو آڑے نہ آنے دیا اور نہ کبھی میری بار بار کی گزارش کو در خور اعتنا سمجھا کہ گرمی سردی کا خیال کریں اور تنظیمی پروگرام گھر پر ہی کر لیا کریں۔ جواباً اتنا ہی کہہ دیتیں کہ فلاں نے بڑے پیار سے اپنے گھر آنے کو کہا ہے میری اسی میں عزت ہے کہ میں ان کو عزت دوں۔ میری اہلیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے چھ سال پنجاب سوسائٹی کی صدر لجنہ اور چار سال نگران قیادت رہیں۔ مالی قربانی میں پیش پیش تھیں۔ اپنا زیور مختلف تحریکات میں دے چکی تھیں۔

لجنہ کی قرآن کریم کی کلاسز گھر پر اور گھر سے باہر جاکر لینا پسندیدہ معمول تھا۔ اپنے تنظیمی دائرہ کار میں ہر دلعزیز اور عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ مختلف دینی عناوین پر ینگ لجنہ کو مضامین اور تقاریر لکھنےمیں معاونت کرتیں۔ اسلوبِ تقریر بھی سکھاتیں۔ آپ الحمد للہ موصیہ تھیں اور آپ کے تینوں بچے بھی آپ کا عملی نمونہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے پابند صوم و صلوٰة اور موصی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں نیکیوں پر قائم رکھے اور اپنے بچوں کی بھی اسی طریق پر تربیت کرنے والے ہوں اور والدہ کی نیکیوں کو جاری رکھیں۔ آمین

ہر ایک کی خوشی غمی میں برابر کی شریک رہیں۔ بہن بھائیوں اور سسرالی تعلق داروں میں ہر دلعزیز۔ قصہ مختصر آپ کی ذات بہت سی خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ان کا اور میرا ساتھ نصف صدی سے زائد عرصہ تک محیط رہا۔جہاں میاں بیوی کا رشتہ سب رشتوں سے مضبوط ہے وہاں بہت کمزور بھی ہے۔ مگر اہلیہ محترمہ نے اپنی صفات سے اسے مضبوط تر بنائے رکھا۔ الحمدللہ۔ اگر یہ کہوں کہ گھر کو جنت نظیر بنائے رکھا جہاں ہم سب مل کر ان کے دم آخر تک خوش و خرم زندگی گزارتے رہے تو مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔

بچوں کی تعلیم و تربیت میں برابر کی شریک رہیں۔رات کے کھانے اور باورچی خانہ بند کرنے کے بعد بچوں کے سکول یونیفارم کے ساتھ اپنا اور میرا لباس بھی تیار کرکے اگلے روز کے لیے طالبات کے لیے لیکچر تیار کرکے سوتیں۔ صبح جلدی اٹھ جاتیں اور پھر ہم سب کے ناشتہ کا اہتمام کرتیں۔ اور کم و بیش میرے ساتھ ہی کالج کے لیے روانہ ہو جاتیں۔محکمہ تعلیم میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فزکس کوئین میری کالج لاہور سے ۳؍دسمبر ۲۰۰۴ء کو ریٹائرڈ ہوئیں۔ آپ اپنی رفقائے کار اور طالبات میں بھی ہردلعزیز تھیں۔

صبر و تحمل اور حوصلہ کی پیکر: آپ نے زندگی بھر صبر و تحمل اور حوصلہ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔میرے ساتھ جب بھی اختلاف رائے ہوا تو اپنی رائے کو چھوڑ کرخاموش ہو جاتیں اور میری رائے پر عمل کرتیں۔ ان کے صبر و تحمل اور حوصلہ کے بہت سے واقعات ہیں۔ صرف ایک واقعہ جو سب پر حاوی ہے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔

دوران ملازمت ایک معاند رفیقہ کار نے آپ پر اقدام قتل کاپرچہ پولیس میں درج کروادیا۔ جس سے آپ بے خبر تھیں۔ مجھے ایک دن دفتر بیٹھے ایک دوست نے فون پر یہ تکلیف دہ خبر دی جو اخبار نوائے وقت کے پہلے صفحہ پر تین کالم پر محیط شائع ہوئی تھی۔ اس خبر کے سننے سے تشویش لاحق ہونا قدرتی عمل تھا۔ یہ خبر پڑھ کر پولیس حکام سے فوری رابطہ کیا۔ پولیس افسران سے اس دن اس خبر کی تصدیق نہ ہوسکی۔ دفتر سے فارغ ہو کر گھر پہنچا تو اسی سوچ میں رہا کہ اہلیہ محترمہ سے ذکر کروں یا نہ۔ بالآخر ان کے ساتھ اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے دوران مدعیہ کا نام لے کر پوچھا کہ انہیں جانتی ہیں۔ اس طرح بات آگے بڑھا کر اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے یہ دل دوز خبر بتائی تو چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں مگر ضبط کیے ہوئے۔ انہوں نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ مدعیہ کی عائلی زندگی نا خوشگوار گزری۔ یہ ایک فوجی آفیسرکی اہلیہ تھیں مگر ان میں جب سے علیحدگی ہوئی ہے تب سے یہ ڈپریشن کا شکار ہے اور ایک مذہبی جماعت کی کارکن ہے اور ان کی مجالس میں شامل رہتی ہیں۔

ایف آئی آر میں مدعیہ کے ساتھ پیش آنے والےواقعہ کا حوالہ دیا کہ وہ ڈیوس روڈ پر جا رہی تھی کہ اس کا موٹر سائیکل پر سوار اوباش نوجوان تعاقب کر رہاتھا۔ قریب آنے پر اس نے مدعیہ سے اس کا پرس چھینا اور اسے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دے کر موٹر سائیکل پربیٹھ کر بھاگ گیا۔ اس واقعہ کی ذمہ دار اس نے میری اہلیہ کو ٹھہراتے ہوئے تحریر کیاکہ زاہدہ مسعود نے اسے جان سے مار دینے کے لیے اس کےپیچھے قادیانی غنڈے لگائے ہیں اور اگر اسے مار دیا گیا تو اس کی ذمہ دار زاہدہ مسعود لیکچرار فزکس کوئین میری کالج لاہور ہوگی۔ مخالف دینی جماعتوں نے اس خبر کو بری طرح اچھالا بالخصوص رسالہ المنار فیصل آباد نے۔ علاوہ ازیں آئے روز مختلف ہاتھوں کے تحریر کردہ دھمکی آمیز خطوط ڈاک کے ذریعہ موصول ہوتے رہے جس میں میری اہلیہ اور ہم سب کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جاتیں۔ اور لکھا ہوتا کہ اگر تم باز نہ آئے تو برا انجام ہوگا۔ اور یہ سلسلہ ایک دو دن نہیں کئی ماہ چلتا رہا۔ ہم دونوں حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ کو صورتحال سے باقاعدگی سے آگاہ کرنے کے ساتھ دعا کی عاجزانہ درخواست کرتے رہے۔ پیارے آقا کے شفقت اور محبت بھرے دعائیہ خطوط ملتے رہے جن میں حفاظتی تدابیر کرنے کےساتھ بعض دیگر نصائح بھی شامل ہوتیں۔ان پر عمل کرتے رہے۔ ان حالات میں انہیں کالج لے جانے اور واپس لانے کی ذمہ داری میں نے خود اٹھا لی۔جو اس شکایت کے منطقی انجام کو پہنچنے کے بعد بھی کچھ عرصہ جاری رہی ماسوائے ان ایام کے جب میں ملازمت کے ضمن میں لاہور سے باہر ہوتا۔

ایک دن یوں ہوا کہ متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او صاحب کالج کی پرنسپل صاحبہ کی اجازت سے ان کے دفتر آئے۔ اور انہیں آنے کی غرض بیان کی اور مدعیہ اور مدعا علیہ کو اپنے دفتر بلانے کی درخواست کی تاکہ ان کی موجودگی میں تفتیش کر سکیں۔ پرنسپل صاحبہ نے اہلیہ محترمہ اور مدعیہ کو اپنے پاس دفتر میں بلا لیا۔ اور مدعیہ سے مدعا علیہ کے خلاف اپنی ایف آئی آر کے حق میں تحریری اور زبانی ثبوت مانگے تاکہ مدعا علیہ کو گرفتار کر سکوں۔ جسے اللہ رکھےاسے کون چکھے کے مصداق مدعیہ غصہ سے بھر گئیں اور تفتیشی آفیسر سمیت جنرل ضیاء الحق صاحب کے خلاف برے اور سخت الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیے۔ یہاں تک کہ تفتیشی اور اس کے بالا افسران اور جنرل ضیاء الحق کو قادیانی قرار دے دیا۔ تفتیشی کی استدعا پر پرنسپل صاحبہ نے سائیکالوجی کی پروفیسر صاحبہ کو بلالیا اور ان کے روبرو بھی مدعیہ اسی طرح بولتی چلی گئیں۔ اس پر تفتیشی نے سائیکالوجسٹ سے مدعیہ کے رویّہ کے بارے استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ اس وقت مدعیہ کی ذہنی حالت درست معلوم نہیں ہوتی۔ تفتیشی آفیسر نےاہلیہ مرحومہ اور سائیکالوجسٹ کے بیان لکھ لیے جبکہ مدعیہ بیان دینے سے مسلسل انکاری رہیں۔ اس پر تفتیشی بیانات پر دستخط لے کر روانہ ہوگیا۔

جب میں اہلیہ محترمہ کو کالج سے لینے کے لیے گیا تو مجھےان کے چہرہ سے گھبراہٹ اور خوف کے آثارواضح دکھائی دیے۔ جب اس کیفیت کی وجہ دریافت کی تو ان پر رقت طاری ہوگئی۔ میں انہیں تسلی دیتا رہا اور پوچھتا رہا مگر خاموش رہیں۔ گھر پہنچ کر اور کچھ آرام کر لینے کے بعد پھر پوچھا تو مذکورہ تفصیل مجھے بتائی۔ زیادہ بات کرنے سے اجتناب برتتی رہیں۔تسلی ہی دیتا رہا۔ پیارے امام کو اس صورتحال سے بذریعہ فیکس اطلاع دے کر دعا کی درخواست کی۔ کالج جانے اور لانے کی ذمہ داری خود نبھاتا رہا۔پولیس حکام سے بھی رابطہ میں رہا۔ بالآخر ایک دن میں پنجاب اسمبلی کےاجلاس سے فارغ ہوکر انہیں کالج سے لینے کے لیے نکلا اور ڈرائیور کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک صاحب جنہیں میں شکل سے پہچانتا تھا مجھے آکر ملے اوراپنا تعارف کروایا کہ میں فلاں تھانہ کا علاقہ مجسٹریٹ ہوں۔ مجھ سے اہلیہ مرحومہ کے نام کی تصدیق کرکے خوشخبری دی کہ ان کے خلاف جو اقدام قتل کا پرچہ تھا اس سے تفتیشی نے بری الذمہ قرار دےکر مسل مقدمہ میری عدالت میں اس سفارش کے ساتھ پیش کی کہ مدعا علیہ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا لہذا ایف آئی آر داخل دفتر کر دی جائے۔ اور مزید بتایا کہ انہوں نے ایف آئی آر داخل دفتر کر دی ہے۔ میں نے مجسٹریٹ صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پھر ملنے کا وعدہ کیا اور اجازت لے کر کالج روانہ ہوگیا اور اہلیہ محترمہ کو لینے کے لیے خود کالج کے اندر چلا گیا۔ ابھی کلاس میں تھیں جب فارغ ہو کر باہر نکلیں تو میری طرف مسکرا کر دیکھا اور انتظار کرنے کا کہہ کر سٹاف روم میں چلی گئیں۔ جب واپس آئیں تو میں نے مبارکباد دے کر خوشخبری سنائی توالحمد للہ کا وردکرتی رہیں۔ ہم نے گھر پہنچ کر مردِخدااور اپنے پیارے امام کو چٹھی لکھ کر اپنی خوشی میں شامل کیا۔ الحمدللہ ہم سب ہر شر سے اللہ کی حفاظت میں ہیں اور اسی سے حفاظت کے طلبگار ہیں۔ اس سارے عرصہ میں آپ نے انتہائی صبر و تحمل اور حوصلہ کا مظاہرہ کیا کبھی شائبہ تک نہ ہونے دیا کہ آپ کو کوئی فکر یا پریشانی ہے اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور توکّل کے ساتھ یہ سارا عرصہ گزارنا ان کا ہی حصہ تھا۔

اس واقعہ تک آپ کو صرف تھائی رائیڈ کا عارضہ لا حق تھا مگر وہ درد جو آپ نے دل ہی دل میں چھپائے رکھا اس کا اس وقت علم ہواجب آپ کو بلڈ پریشر اورذیا بیطس کا مرض بھی لاحق ہوگیا جس کا آپ علاج ڈاکٹری مشورہ سے باقاعدگی سےکرتی رہیں۔ مگر یہ بیماریاں اندر ہی اندر اپنا اثر دکھاتی رہیں۔ نوّے کی دہائی میں دل کا عارضہ بھی لگ گیا۔ ۲۰۰۴ء میں پہلی مرتبہ آپ کی انجیو پلاسٹی ہوئی۔ان بیماریوں نے گردوں کے فعل کو بھی متاثر کیا اور یہ مرض باوجود پرہیز اور علاج کے بڑھتا ہی گیا۔ پرہیز کرنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس کے باوجود یہی عارضے موذی شکل اختیار کر گئے اور بالآخر آپ اپنے مولائے حقیقی سے جا ملیں۔ شدت بیماری میں بھی آپ عزیزواقربا کے علاوہ لجنہ اماء اللہ اور سہیلیوں کی خوشی غمی میں باقاعدہ شامل ہوتی رہیں۔

پابند صوم و صلوٰۃ: مرحومہ پابند صوم و صلوٰة تھیں۔ بروقت نماز ادا کرنے کو ترجیح دیتیں۔ صحت کی حالت میں باقاعدگی سے ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کی پابندی کرتی رہیں۔ جب میں یا بچے گھر ہوتے تو باجماعت نماز ادا کرنے کا اہتمام کرواتیں۔ با وضو رہنے کی کوشش کرتیں۔ یہاں تک کہ بیماری اور ہسپتال میں ڈائیلسز کے دوران بھی جو نماز آتی اس کا بار بار وقت پوچھتیں کہ اب ظہریا عصر یا مغرب کا وقت تو نہیں ہوگیا اور بتانے پر نماز ادا کرتیں۔ایک دن آئسولیشن وارڈ آئی سی یو میں داخل تھیں۔ علاج پر ہونے والے اخراجات کی انہیں جو فکرتھی اس کا مجھے اس وقت احساس ہوا جب میں ملاقات کے وقت میں ان کے پاس گیا تو مجھے کہنے لگیں کہ میرے علاج پر بہت خرچ اٹھ رہا ہے۔ میں نے تسلی دی کہ آپ کیوں یہ فکر کر رہی ہیں۔ آپ کے دونوں بیٹوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا دے وہ علاج میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھ رہے۔ آپ اپنی کامل شفا یابی اور ان کے لیے دعا کرتی رہیں۔اس وقت آپ کے بازو میں سونے کی چوڑیاں تھیں ان کی طرف اشارہ کرکے قیمت لگوا کر زکوٰۃ ادا کرنے کو کہا۔

ہماری پیاری بیٹی عزیزہ ربیعہ احمد سلمہا بھی برطانیہ سے پاکستان آ گئی ہوئی تھی۔ پھر ہمارے بڑے بیٹے عزیز ڈاکٹر جہانزیب مسعود بھی مشی گن امریکہ سے لاہورپہنچ گئے تھے۔ مقامی معالجین کے ساتھ مل کر انہوں نے علاج کیا۔ اپنے تینوں بچوں کے پاس ہونے کی وجہ سے اہلیہ مرحومہ نے طبیعت میں بشاشت محسوس کی۔ بیٹی کے آنے سے پہلے ہماری بھتیجی / بہو عزیزہ زرمین عثمان سلمہا نے دن رات ایک کرکے گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ اپنی تائی جان کی تیمارداری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ اس عرصہ کے دوران لاہور میں میرے بھتیجوں نےمیرے بیٹوں کا خوب ہاتھ بٹایا۔ فجزا ھم اللہ احسن الجزاء

بیماری کے دوران خواب: ایک دن بیٹی کو بتایاکہ میں نے بہت لمبا خواب دیکھا ہے کچھ بھول گئی ہوں جتنا یاد تھا آکسیجن ماسک کے باوجودخواب بیان کیا کہ میں نے دیکھا ہے کہ میرےابا جان مرحوم اپنی پہلی اہلیہ (جن کے بطن سے محترم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب آف کانونائیجیریا اور محترمہ آپا امتل صاحبہ زوجہ محترم چودھری رشید الدین صاحب مرحوم سابق امیر جماعت کھاریاں کی والدہ ہیں) کے ہمراہ کہیں جا رہے ہیں میں حیران ہوئی کہ میری امی مرحومہ محترمہ نور الہی بیگم صاحبہ ( مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ ) ابا جان کے ہمراہ نہ ہیں۔ میں اپنی امی جان کو ڈھونڈنے نکل پڑی۔ … اس کے بعد کی خواب کا حصہ یاد نہ رہا۔

جب میری بیٹی نے مجھے یہ خواب سنایا تو اس کی تفہیم میرے ذہن میں یہ آئی کہ وفات کے بعد اپنی والدہ مرحومہ کے پہلو میں یا قدموں میں دفن ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ اسی وقت میں نے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت بابرکت میں ادب کے ساتھ اس خواب کا ذکر کرکے ان کی وفات کی صورت میں ان کی بہشتی مقبرہ دارالفضل میں از راہ شفقت تدفین کرنے کی اجازت مرحمت فرمانے کی عاجزانہ درخواست کی۔ پیارے آقا ایدہ اللہ تعالیٰ کا محبت اور دعاؤں بھرا خط موصول ہوا جس میں آپ (ایدہ اللہ) نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ جب وقت آئے گا پھر دیکھیں گے۔سبحان اللہ کہاں یہ نالائق خطاکاراور کہاں پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ جنہوں نےاپنے مبارک دستخطوں کے ساتھ شفقت نامہ میں ہماری ڈھارس بندھائی۔ اس دعائیہ خط کے موصول ہونے کے چند روز بعد ہی آپ کو اپنے مالک حقیقی کا بلاواآ گیا اور آپ اس کے حضور حاضر ہو گئیں۔

مرحومہ کی خوش نصیبی کہ ان کے بیٹے، بیٹی، داماد، بہوئیں اور پوتا پوتیاں اور نواسی بھی بیرون ممالک سےان کے پاس پہنچ گئے تھے۔ مجھے اور بچوں کو اس صدمہ نےہلا کر رکھ دیا۔ مگر فوراً ہی اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اس صدمہ سے وقتی طور پر باہر نکل آئے کیونکہ ہماری ڈھارس بندھانے کے لیے ہمارے جملہ بہن بھائی، بھتیجے بھتیجیاں اور دیگرعزیزواقرباء اور جماعتی بہن بھائی ہمارے گرد جمع ہو گئے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے مرحومہ کے سفر آخرت کی تیاری کے انتظامات کرنا اپنے ذمہ لے لیا۔ محترم صدر صاحب جماعت اور قائد صاحب خدام الاحمدیہ نے تعزیت کے لیے آنے والے احباب کے لیے بیٹھنے اور سردی سے بچنے کے لیے جملہ انتظامات لحظہ بھر ہی میں مکمل کر دیے۔ غسل دینے کےلیے میری بیٹی اور بہوؤں کے ساتھ لجنہ اماء اللہ حلقہ نے مقدور بھر معاونت کی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین جزا دے۔

بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جان فدا کر

لاہور میں نماز جنازہ میں ایک کثیر تعداد نے شمولیت کی،اگلے روز ۵؍مئی ۲۰۲۴ء کو جنازہ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کی ایمبولینس پر ربوہ لے جایا گیا جہاں ربوہ اور بیرون ربوہ سے تشریف لانے والے عزیزو اقرباء اور احباب جماعت و لجنہ اماءاللہ کثیر تعداد میں مرحومہ کو الوداع کرنے کے لیے جمع تھے۔ نماز جنازہ کے بعد بہشتی مقبرہ دارالفضل میں تدفین عمل میں آئی۔

اس عاجز کی درخواست پر پیارے آقا ایدہ اللہ تعالیٰ نے ازراہِ شفقت مرحومہ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی نیز اہلِ خانہ کی ڈھارس کے لیے تعزیتی پیغام بھی ارسال فرمایا۔

محترمہ فوزیہ شمیم صاحبہ سابقہ صدر لجنہ اماءاللہ لاہور کی طرف سےجو ذکر خیر حضور انور کی خدمت میں بھجوایا گیا وہ ہمارے لیے مرحومہ کی قیمتی یادوں کا سرمایہ ہے جسے اس تحریر کا حصہ بنائے بغیر مضمون ادھورارہتا ہے۔

محترمہ فوزیہ شمیم صاحبہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکےتحریر کرتی ہیںکہ ’’پچھلے دنوں ہماری ایک بےحد پیاری لجنہ کی ممبر محترمہ زاہدہ صاحبہ …وفات پاگئیں۔ ان کی وفات سے ایک بہت بڑا خلا ہماری جماعت میں پیدا ہوا۔

میں جب بھی اپنی صدارت کے دوران دورہ جات میں ان سے ملی ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئی۔ جماعت کے کاموں میں پیش پیش تھیں۔ ۶؍سال پنجاب سوسائٹی امارت ٹائون شپ کی صدر رہیں اور ۴؍سال سے نگران قیادت کا کام کرہی تھیں۔ بہت ہردل عزیز تھیں اور اپنی دھیمی پُرشفقت طبیعت کی وجہ سے ان کی مقبولیت کا دائرہ وسیع تھا۔

مجھے مجالس میں تحریک جدید کے ضمن میں اکثر جانا پڑتا تھا۔ جب بھی میںنے تحریک کی انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ایک بار سب سے آگے بیٹھی ہوئی تھیں۔ میری تحریک پر مَیں نے دیکھا کہ فوراً اپنے ہاتھ سے کڑے نکال کر پیش کردیے۔ ان کی بیٹی نے مجھے بتایا کہ اب تو ان کے پاس زیور ہی نہ رہا تھا۔ اتنا مختلف تحریکات میں دے دیا۔

میں ان کے گھر تعزیت کے لیے دو دفعہ گئی۔ اور ان کے بچوں سے بہت متاثر ہوئی۔ اگلی نسل کی تربیت بھی اپنی ذمہ داری سمجھ کر کی۔ ان کی بیٹی نے بتایا کہ ڈھائی سال روز اس کو قرآن فون پر تفسیر کے ساتھ پڑھاتی رہیں اور ختم کروایا۔ اس کووصیت کی کہ اب یہ سلسلہ صدقہ جاریہ سمجھ کر جاری رکھنا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی نیکیاں اگلی نسل میں جاری رہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ اہلیہ محترمہ زاہدہ مسعود صاحبہ کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور اپنے پیاروں کا قرب عطا فرمائے اور ہمیں ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق دے۔ آمین۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: فہیم الدین ناصر صاحب مربی سلسلہ رومانیہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button