متفرق مضامین

چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۱۲)

(امۃ الباری ناصر)

۹۱۔جسے دُور سے وہ نظر آتا تھا

اسے چولہ خود بھید سمجھاتا تھا

بھید bhaid: راز secret

گرو جی کو دور سے دیکھنے والے بھی سمجھ لیتے کہ یہ شخص وہ چولہ پہنے ہوئےہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ملا ہے۔

۹۲۔وہ ہر لحظہ چولے کو دکھلاتا تھا

اسی میں وہ ساری خوشی پاتا تھا

لَحظہ lahza: پل، لمحہ، دم بھر Moment,second

وہ ہر وقت اپنے چولے کی نمائش کرتا تھا۔اس کی ساری خوشیاں اب اسی کام میں تھیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو چولہ دکھائے

۹۳۔غرض یہ تھی تا یار خورسند ہو

خطا دُور ہو پختہ پیوند ہو

خورسند khursaNd: (خُرسند) خوش، شادماں، شاد Pleased

خطا khataa: غلطی Mistake,error,fault

پیوند paiwaNd: تعلق Connection, union, link

اس نمائش کا مقصد یہ تھا کہ اس کا معبود اس عمل سے خوش ہو اور جو کچھ عرصہ اس نے چھپ کے رہنے کی غلطی کی تھی وہ خطا معاف فرمادے ۔ اور اس عمل سے اللہ پاک سے تعلق زندہ اورمضبوط ہو۔

۹۴۔جو عشاق اُس ذات کے ہوتے ہیں

وہ ایسے ہی ڈر ڈر کے جاں کھوتے ہیں

عشاقush shaaq: عاشِق کی جمع، پسند کرنے والے Lovers

جو اللہ تبارک تعالیٰ سے عشق کرتے ہیں وہ اسی طرح ڈر ڈر کے رہتے ہیں اور یہ غم ان کی جان کو آجاتا ہے کہ کہیں کسی غلط کام سے اسے ناراض نہ کرلیں ۔

۹۵۔وہ اُس یار کو صدق دکھلاتے ہیں

اسی غم میں دیوانہ بن جاتے ہیں

ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے جذبات کی سچائی اس کے سامنے پیش کریں ۔ اور اس کے لیے وہ اتنی کوشش کرتے ہیں گویا جان لڑا دیتے ہیں ہوش کھو دیتے ہیں ۔ دیوانے سے ہوجاتے ہیں۔

۹۶۔وہ جاں اُس کی رہ میں فدا کرتے ہیں

وہ ہر لحظہ سَو سَو طرح مرتے ہیں

فدا کرناfedaa karnaa: قربان کرنا، To offer life , to sacrifice

سچے عاشق محبوب کے لیے اپنی جان قربان کردیتے ہیں۔ وہ ہر لمحہ کئی طرح کی قربانیاں کرتے ہیں گویا کہ ایک ایک لمحے میں سَو موتوں سے گزرتے ہیں۔ فدائیت کی انتہا ہو جاتی ہے

۹۷۔وہ کھوتے ہیں سب کچھ بصدق و صفا

مگر اس کی ہو جائے حاصل رضا

صدق و صفا sidq-o-safaa: سچائی، صفائی Truth, honesty, sincerity

وہ اپنا سب کچھ اس کی راہ میں خوشی سے سچے دل سے قربان کردیتے ہیں ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح مولا کریم کی خوشنودی حاصل ہوجائے۔

۹۸۔یہ دیوانگی عشق کا ہے نشان

نہ سمجھے کوئی اس کو جز عاشقان

جُز juz: سوائے Except

عاشِقاں ‘aashiqaaN: عاشِق کی جمع ’ محبت کرنے والے Lovers، Fond of

یہ جو دیوانہ پن ہے یہ عاشقوں کی ایک علامت ہے۔ ان کو وہی سمجھ سکتا ہے جس کے دل کو لگی ہو جو اس کیفیت سے گزرا ہو

۹۹۔غرض جوش الفت سے مجذوب وار

یہ نانک نے چولا بنایا شعار

مجذوب وار majzoob waar: وارکے معنی کی طرح ، مجذوب کے معنی خدا کی یاد میں مست، مجذوب کی طرحLike him who has gone crazy in the love of God

شعار she’aar: عادت، لباس Habit, way of life, dress

اب تک کی کہانی یہ ہے کہ بابا نانک نے اللہ تعالیٰ کی محبت میں مست ہوکر اس چولہ کو مسلسل پہنے رکھنا اپنا طریق بنا لیا ۔

۱۰۰۔مگر اس سے راضی ہو وہ دلستان

کہ اس بن نہیں دل کو تاب و تواں

دلستاں dilsetaaN: دل چھین لینے والا ، خوبصورت، محبوب Captive of heart, beloved, beautiful

تاب و تواں taab-o-tawaaN: طاقت و قدرت Tranquility, power,verve, strength,vitality

اللہ تعالیٰ کے اس تحفے کو جان سے لگائے رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ محبوب یہ دیکھ کے خوش ہو کہ اس کے تحفے کی قدرو قیمت کو پہچانا ہے۔ اس ذات بابرکات کو راضی کرنا ہی اصل زندگی ہے اس کے ساتھ ہی دل کو طاقت ملتی ہے۔ زندگی میں ساری خوب صورتی اور جینے کی امنگ اسی کے ساتھ وابستہ رہنے سے ملتی ہے ۔

مزید پڑھیں: چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۱۱)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button