روزہ کے طبی فوائد، عمومی مسائل اور ان کا حل
رمضان المبارک روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کے لیے بھی ایک اہم مہینہ ہے۔ روزہ رکھنا نہ صرف ایک عظیم عبادت ہے بلکہ اس کے جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
(۱)وزن میں کمی:سحری کا کھانا ختم کرنے کے بعد تقریباً آٹھ گھنٹے میں آنتیں خوراک سے غذائی اجزاجذب کرنے کا عمل مکمل کر لیتی ہیں اور جسم روزے (Fasting ) کی حالت میں داخل ہو جاتا ہے۔ توانائی کے لیے پہلے جسم جگر اور پٹھوں میں ذخیرہ شدہ گلوکوز استعمال کرتا ہے جب یہ گلوکوز ختم ہونے لگتا ہے تو جسم توانائی کے لیے چربی استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ توانائی کے لیے چربی کا استعمال وزن میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
(۲)دل کی صحت:چربی کا مسلسل استعمال جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتاہے۔خاص طور پر مضر کولیسٹرول( LDL) اوربلڈپریشرکو بھی کم کرتاہے۔اسی طرح روزہ رکھنےسےدل کی دھڑکن متوازن رہتی ہے،جسمانی وزن، چربی اور BMI ( باڈی ماس انڈیکس ) میں کمی ہونے کے باعث دل پر دباوٴ کم ہوتا ہے۔
(۳)ذیابیطس کا بہتر کنٹرول:روزہ کے دوران گلوکوز کی سطح میں کمی رہتی ہے اور جسم ذخیرہ شدہ توانائی گلیکوجن کا استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم میں انسولین بنانے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے جس سے وقت کے ساتھ انسولین کے خلاف مزاحمت کم ہونے میں مدد ملتی ہے۔ اور Type 2 ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں بہتری آتی ہے۔
(۴)نظام انہضام کو آرام:ہاضمے کے نظام کو آرام ملتا ہے۔ اور جسم کی قدرتی صفائی کا عمل بھی بہتر ہو جاتا ہے۔ چربی میں جمع نقصان دہ مادے بھی خارج ہونے لگتے ہیں۔ قوتِ مدافعت بڑھتی ہے۔چند دن روزہ رکھنے کے بعد دماغ میں بعض مفید ہارمون اینڈروفنز( endorphins) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ جو ذہنی دباؤ کو کم کرتے ہیں۔ طبیعت میں چُستی اور خوشی کا احساس پیدا کرتے ہیں اور یادداشت کو بڑھاتے ہیں۔
(۵)نظامِ تنفس پر مثبت اثرات:روزہ رکھنے سے جسم میں سوزش کی کمی ہوتی ہے۔ لہذا سانس کی نالیوں کو سکون ملتا ہے۔ پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ سانس لینے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ حتٰی کہ الرجی اور دمہ کی علامات میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔
(۶)گُردوں پر مثبت اثرات:روزہ کے دوران کھانے پینے کا وقفہ ہونے سے گردوں کو ایک حد تک آرام ملتا ہے۔ وزن اور بلڈ پریشر میں کمی گردوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔
(۷)ذہنی اور جذباتی سکون:روزہ ذہنی دباؤ، بے چینی اور منفی جذبات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ صبر، شکر گذاری، نظم و ضبط، باہمی ہمدردی کے جذبات پیدا کرکے انسان کی کردار سازی کرتا ہےاوربری عادتوں جیسے، سگریٹ نوشی یا بسیار خوری کو چھوڑنے میں مدد دیتا ہے۔
معزز قارئین! چونکہ رمضان کا روزہ طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک ہوتا ہے، اِس لیے سحری اور افطار ی کے درمیان کے اوقات میں جسم کو دوبارہ توانائی حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جسم آہستہ آہستہ گلوکوز سے چربی کے استعمال کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ لہٰذا پٹھوں کو نقصان پہنچنے سے بچاؤ رہتا ہے۔غرض یہ کہ اگر روزہ صحیح طریق سے رکھا جائے اور متوازن غذا اور مناسب پانی کا استعمال کیا جائے تو یہ جسم کو بہت فائدہ پہنچاتا ہے اور کئی بیماریوں سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اب رمضان المبارک کے مہینہ میں عمومی طور پر پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل کے لیے کچھ ٹپس ( Tips) پیش خدمت ہیں۔
(۱)سینے کی جلن:افطاری کے وقت بہت پیٹ بھر کر کھانے سے ہاضمے کی تکالیف جیسے پیٹ کا پھولنا،معدے میں درد اور تیزابیت کا پیدا ہونا شامل ہیں۔ افطار میں تلی ہوئی اور مصالحہ دار غذا کم سے کم شامل کریں اور کھانا اعتدال سے کھائیں۔ اپنی رفتار کو متوازن رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ روزہ،دو عدد کھجوروں اور ایک گلاس پانی سے کھولیں۔ سوپ کا ایک کپ بھی لیا جا سکتا ہے۔ پھر مکمل کھانے سے پہلے مغرب کی نماز ادا کریں۔ کھانے سے پہلے جسم کو تھوڑا سا وقت دینا ہا ضمے میں مدد دیتا ہے۔کھانا چبا چبا کر اور آہستہ کھائیں۔ ہر لقمے کا ذائقہ لیں اور اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کریں۔ اس کے علاوہ چائے اورکافی کا استعمال کم کر دیں۔اگر معدہ کی تیزابیت کی دوا لیتے ہیں تو سحری میں لے لیں۔
(۲) سردرد: روزے میں سر درد کی وجوہات بھوک، پانی کی کمی، نیند کی کمی، کیفین یا سگریٹ کی عادت کا اچانک چھوڑنا بھی ہو سکتی ہیں۔
سر درد سے بچاؤ کے لیے سحری ضرور کریں۔ مناسب مقدار میں پانی پیئیں۔ عبادات کے اوقات کے علاوہ نیند میں بہتری لائیں۔ اس موقع کو سگریٹ چھوڑنے کے لیے استعمال کریں۔
(۳) قبض:روزہ کے دوران قبض ایک عام مسئلہ ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں ضرور شامل کریں۔ سفید روٹی کی بجائے چوکر والی روٹی استعمال کریں۔ بچوں کو افطاری فاسٹ فوڈ سے نہ کروائیں۔ اپنے روایتی کھانوں کو فروغ دیں۔ دالیں سبزیاں اور اناج کھانوں میں شامل کریں سلاد کا باقاعدگی سے استعمال کریں۔ سوپ، پانی اور مشروبات بھی مناسب مقدار میں لیں۔ سحری میں چیاسیڈز کی پڈنگ اور افطاری میں دو کیوی (Kiwi)فروٹ کا استعمال بھی قبض کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
(۴)وزن میں اضافہ:اگر افطاری کے کھانوں میں اعتدال نہ رکھا جائے اور زیادہ چکنائی اور میٹھی چیزوں کا استعمال زیادہ کیا جائے تو وزن بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح سحری اور افطاری کے درمیان سوئے رہنا بھی وزن کو بڑھا سکتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ اعتدال کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ تلی ہوئی چیزوں کی بجائے گرِل کی ہوئی یا ابلی ہوئی چیزیں کھائیں۔ میٹھے مشروبات ضرورت سے زیادہ نہ پیئیں۔ سحری ہرگز نہ چھوڑیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےاسوۂ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کر کھائیں خود کو یاد دلائیں کہ بھوک لگنا معمول کی بات ہے۔ اور یادرکھیں کہ رمضان کا اصل مقصد ذات باری تعالیٰ کاحصول ہے۔




