لیلۃ القدر
قرآن شریف میں جو لیلۃ القدر کا ذکر آیا ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔یہاں لیلۃالقدر کے تین معنی ہیں۔ اوّل تو یہ کہ رمضان میں ایک رات لیلۃالقدر کی ہوتی ہے۔ دوم یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ایک لیلۃالقدر تھا یعنی سخت جہالت اور بےایمانی کی تاریکی کے بعد وہ زمانہ آیا جبکہ ملائکہ کا نزول ہوا کیونکہ نبی دنیا میں اکیلا نہیں آتا بلکہ وہ بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں ملائکہ کا لشکر ہوتا ہے۔ جو ملائک اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں۔ سوم لیلۃالقدر انسان کے لئے اس کا وقت اصفیٰ ہے۔
(ملفوظات جلد۲ صفحہ۲۲۸۔۲۲۹۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)
اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ۔ وَمَاۤ اَدۡرٰٮکَ مَا لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ۔ لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ۔ تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ۔ سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ(القدر:۲تا۶) یعنی ہم نے اس کتاب اور اس نبی کولیلۃ القدر میں اتار ہے اور تو جانتا ہے کہ لیلۃالقدر کیا چیز ہے لیلۃ القدر ہزار مہینہ سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے اذن سے اترتے ہیں۔اور وہ ہر یک امر میں سلامتی کا وقت ہوتا ہے یہاں تک کہ فجر ہو۔اب اگر چہ مسلمانوں کے ظاہری عقیدہ کے موافق لیلۃالقدر ایک متبرک رات کا نام ہے مگر جس حقیقت پر خدا تعالیٰ نے مجھ کو مطلع کیا ہے وہ یہ ہے کہ علاوہ ان معنوں کے جو مسلّم قوم ہیں لیلۃالقدر وہ زمانہ بھی ہے جب دنیا میں ظلمت پھیل جاتی ہے اور ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے تب وہ تاریکی بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ آسمان سے کوئی نور نازل ہو۔سو خدا تعالیٰ اس وقت اپنے نو رانی ملائکہ اور روح القدس کو زمین پر نازل کرتا ہے۔اسی طور کے نزول کے ساتھ جو فرشتوں کی شان کے ساتھ مناسب حال ہے تب روح القدس تو اس مجد داور مصلح سے تعلّق پکڑتا ہے جو اجتبا اور اصطفا کی خلعت سے مشرف ہو کر دعوت حق کے لئے مامور ہوتا ہے اور فرشتے ان تمام لوگوں سے تعلق پکڑتے ہیں جو سعید اور رشید اور مستعد ہیں اور ان کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں اور نیک توفیقیں ان کے سامنے رکھتے ہیں تب دنیا میں سلامتی اور سعادت کی راہیں پھیلتی ہیں اور ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جب تک دین اپنے اس کمال کو پہنچ جائے جو اس کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔
(شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۱۳، ۳۱۴)
مزید پڑھیں: آگ کے عذاب سے بچنے کے لیے حضرت مسیح موعودؑ کی چند دعائیں



