متفرق

اَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ

واقفات نَو ماؤں کی اولاد کی اچھی تربیت آئندہ نسلوں میں دائمی انسانیت ،اخلاق اور امن کی بنیاد ہے

ہمارے پیارے آقا سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’میرے سامنے کئی ایسی واقفات نَو بیٹھی ہیں جوکہ اب خود مائیں ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ مختلف پیشوں سے وابستہ کام بھی کررہی ہیں۔ لہٰذا میں اب دوبارہ انہیں یاددہانی کرواتا ہوں کہ انہیں اپنے وقت کو اس طرح سے تقسیم کرنا چاہئے کہ ان کے بچوں کی پرورش اور تربیت متأثر نہ ہو۔ یہاں کئی نوجوان لڑکیاں موجود ہیں جن کی شادیاں ہونے والی ہیں اور عنقریب ان شاء اللہ ان کی اپنی فیملی لائف کا آغاز ہوگا، انہیں زندگی کے اس اگلے باب میں اس بات کے ادراک کے ساتھ داخل ہونا چاہئے کہ ان کی پہلی ترجیح بچوں کی تربیت ہے۔ اگر آپ اپنی یہ بنیادی ذمہ داری پوری کریں گی تو اس سے نہ صرف آپ کو اور آپ کے خاندان کو فائدہ ہوگا بلکہ آپ کی یہ کوششیں آپ کی قوم کےلئے فخر اور فائدہ کا باعث ہوں گی کیونکہ آپ نئی نسل میں مثبت اقدار و روایات منتقل کریں گی۔ آپ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گی کہ آپ کے بچے بڑے ہوکر عملی نمونہ ہوں اور آئندہ بعد میں آنے والوں کے تعلق سے بھی اپنے فرائض کو سمجھنے والے ہوں۔ اس طرح آپ آئندہ نسلوں میں دائمی انسانیت، اخلاق اور امن کے ایک دور (cycle) کی بنیاد رکھیں گی۔ اسلامی تعلیمات کےمطابق اپنے بچوں کی تربیت کرکے آپ نہ صرف ان کی بلکہ بعد میں آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت کے سامان کرنے والی ہوں گی۔‘‘(خطاب سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ ۲۵؍فروری ۲۰۱۷ء بر موقع نیشنل اجتماع واقفاتِ نو)

(مرسلہ:قدسیہ محمود سردار۔ کینیڈا)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button