صنعت وتجارت
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں: ’’پس اگلی نسل میں ہمت اور عزم ہونا چاہیے اور نوکریوں کی طرف جانے کی بجائے دوسرے کاموں مثلاً تجارت اور زمیندارہ کی طرف جانا چاہیے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ بعض نوکریوں میں بھی جانا چاہیے۔ کیونکہ ہر شعبہ زندگی میں ہم نے اپنا حصہ لینا ہے۔ اور ہمارا حصہ تعداد کے مطابق نہیں، ہمارا حصہ ہماری عقل اور فراست اور دیانتداری کے مطابق ہے۔ کئی لوگ ہم سے بڑے ناراض ہوتے ہیں اور وہ اس واسطے ناراض ہوتے ہیں کہ یہ دیانت دار کیوں ہیں؟ جس طرح آج انگریز پاکستانیوں کے خلاف بڑی نفرت اور غصے کے جذبات رکھتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ زیادہ پیسے کمانے کی خاطر اوور ٹائم (Over Time) بڑی خوشی سے لگا دیتے ہیں اور زیادہ ہمت سے کام کرتے ہیں اور زیادہ پیسے کما لیتے ہیں اور ہم ہفتہ کی شام کو چھٹی کرتے ہیں اور شراب خانے آباد کرتے ہیں اور یہ نالائق کارخانوں میں آجاتے ہیں اور کام کرتے ہیں اور پیسے لے جاتے ہیں، اس لیے انہیں اس کا بڑا غصہ ہے۔ اسی طرح بعض لوگ ہم سے بھی سخت ناراض رہتے ہیں کہ جی یہ دیانت دار کیوں ہیں؟ زیادہ Efficient کیوں ہیں؟ زیادہ توجہ سے کیوں کام کرتے ہیں؟۔‘‘(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۷۱ء)
(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)



