مَیں چاہتا ہوں کہ آسمانی مال سے ان کے گھر بھر جائیں
مَیں نے اتمامِ حجت کے لئے یہ ارادہ کیا ہے کہ مخالفین اور منکرین کی دعوت میں چالیس اشتہار شائع کروں تا قیامت کو میری طرف سے حضرتِ احدیت میں یہ حجت ہو کہ مَیں جس امر کے لئے بھیجا گیا تھا اس کو مَیں نے پورا کیا۔ سو اب مَیں بکمال ادب و انکسار، حضرات علما مسلمانان و علما عیسائیاں و پنڈتاں ہندوان وآریان یہ اشتہار بھیجتا ہوں اور اطلاع دیتا ہوں کہ مَیں اخلاقی و اعتقادی و ایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں۔ اور میرا قدم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قدم پر ہے۔ انہی معنوں سے میں مسیح موعود کہلاتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ محض فوق العادت نشانوں اور پاک تعلیم کے ذریعہ سے سچائی کو دنیا میں پھیلاوٴں۔ مَیں اس بات کا مخالف ہوں کہ دین کے لئے تلوار اٹھائی جائے اور مذہب کے لئے خدا کے بندوں کے خون کئے جائیں۔ اور مَیں مامور ہوں کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے ان تمام غلطیوں کو مسلمانوں میں سے دور کر دوں اور پاک اخلاق اور بُردباری اور حلم اور انصاف اور راست بازی کی راہوں کی طرف اُن کو بلاوٴں۔ مَیں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندووٴں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔ مَیں بنی نوع سے ایسی محبت کرتاہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔ مَیں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔ انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بد عملی اور نا انصافی اور بد اخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔
میری ہمدردی کے جوش کا اصل محرک یہ ہے کہ مَیں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے۔ اور مجھے جواہرات کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اس کان سے ملا ہے اور اس کی اس قدر قیمت ہے کہ اگرمَیں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم کروں تو سب کے سب اس شخص سے زیادہ دولت مند ہو جائیں گے جس کے پاس آج دنیا میں سب سے بڑھ کر سونا اور چاندی ہے۔ وہ ہیرا کیا ہے؟ سچا خدا۔ اور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہچاننا۔ اور سچا ایمان اس پر لانا، اور سچی محبت کے ساتھ اس سے تعلق پیدا کرنا، اور سچی برکات اس سے پانا۔ پس اس قدر دولت پا کر سخت ظلم ہے کہ مَیں بنی نوع کو اس سے محروم رکھوں اور وہ بھوکے مریں اور مَیں عیش کروں۔ یہ مجھ سے ہرگز نہیں ہو گا۔ میرا دل ان کے فقر و فاقہ کو دیکھ کر کباب ہوجاتا ہے۔ ان کی تاریکی اور تنگ گذرانی پر میری جان گھٹتی جاتی ہے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ آسمانی مال سے ان کے گھر بھر جائیں اور سچائی اور یقین کے جواہر ان کو اتنے ملیں کہ ان کے دامنِ استعداد پُر ہو جائیں۔
(اربعین نمبر ۱، روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۳۴۳تا۳۴۵)
مزید پڑھیں: انسان کی توبہ کا دن سب سے بہتر اور ہر عید سے بڑھ کر ہے



