ہر ایک کو اپنی قربانیوں کے معیار بلند کرنے چاہئیں
مالی قربانیاں کوئی معمولی چیز نہیں ہیں ان کی بڑی اہمیت ہے۔ ایمان مضبوط کرنے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہونے کے لئے انتہائی ضروری چیز ہے۔ صحابہؓ کی قربانیوں کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح پھل لگائے جس کا روایات میں کثرت سے ذکر آتا ہے۔ شروع میں یہی صحابہ جو تھے بڑے غریب اور کمزور لوگ تھے، مزدوریاں کیا کرتے تھے۔ لیکن جب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی مالی تحریک ہوتی تھی تو مزدوریاں کرکے اس میں چندہ ادا کیا کرتے تھے۔ حسبِ توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کیا کرتے تھے تاکہ اللہ اور اس کے رسول کا قرب پانے والے بنیں، ان برکات سے فیضیاب ہونے والے ہوں جو مالی قربانیاں کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہیں، جن کے وعدے کئے ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا وہاں مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طورپر ایک مُداناج وغیرہ ملتا تو اس میں سے صدقہ کرتا۔ تھوڑی سی بھی کوئی چیز ملتی تو صدقہ کرتا۔ اور اب ان کا یہ حال ہے انہی لوگوں کا جوسب مزدوری کرتے تھے۔ کہ ان میں سے بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم یا دینار ہے۔ (بخاری کتاب الاجارۃ۔ باب من آجر نفسہ لیحمل علی ظہرہ ثم تصدق بہ حدیث نمبر2273)
پس دیکھیں کہ ابتدائی حالت کیا تھی اور آخری حالت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان پر فضل فرمائے۔ ان کی قربانیوں کو کس طرح نوازا۔
چندوں کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’مَیں یقیناً جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریاکاری کے موقعوں میں تو صدہا روپیہ خرچ کریں۔ اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔ شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خست اور بخل کو نہ چھوڑے۔ یہ خداتعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی مرتبہ صحابہ پر چندے لگائے جن میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے۔ سو مردانہ ہمت سے امداد کے لئے بلاتوقف قدم اٹھانا چاہئے۔ جو ہمیں مدد دیتے ہیں آخر وہ خدا کی مدد دیکھیں گے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 156)
پس خدا کی مدد دیکھنے کے لئے ہر ایک کو اپنی قربانیوں کے معیار بلند کرنے چاہئیں۔
(خطبہ جمعہ ۶؍ جنوری ۲۰۰۶ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۷؍جنوری ۲۰۰۶ء)
مزید پڑھیں: کھانا کھا کر کلّی کرنا اور ہاتھ دھونا



