خطبہ عید الاضحی سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ6؍جون 2025ء
عید کا حقیقی حق اس وقت ادا ہوتا ہے جب ہم اپنے نفس کی قربانیاں دینے والے ہوں اور اپنی اصلاح کرنے والے ہوں،
اپنی عبادتوں کا حق ادا کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کا حق اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے والے ہوں
آج کل جماعت احمدیہ کو تو پاکستان میں قربانی سے روکا جاتا ہے اور ہمیشہ کئی سالوں سے یہ ہو رہا ہے کہ ہمیں قربانی نہیں کرنے دی جاتی۔ تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اصل چیز تو تقویٰ ہے۔ اگر ہمیں قربانی نہیں بھی کرنے دی جاتی تو اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو جانتا ہے کہ ہم کس نیت سے قربانی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہماری نیتیں تقویٰ پر چلتے ہوئے ،اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے، اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے قربانی کرنے کی تھیں تو قربانی نہ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ ہماری قربانیاں قبول کرنے والا ہے
آج کل اگر ہمارے یہ حالات ہیں کہ ہر طرف سے سختیاں کی جا رہی ہیں تو اگر ہم پاکستان میں مثلاً عبادتوں کی طرف توجہ دیں۔ بعض جگہ ہمیں نمازیں پڑھنے سے بھی روکا جاتا ہے۔ مسجدوں میں آنے سے بھی روکا جاتا ہے تو اکٹھے ہو کر گھروں میں یا کسی جگہ جہاں ایسی سختیاں نہیں ہیں وہاں ہم نمازیں ادا کر سکتے ہیں اور جب ہم اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائیں گے تو یقینا ًہم دشمن سے نجات حاصل کرنے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے والے ہوں گے
یہ عہد کریں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے ہیں اور اپنی عبادتوں کے معیار وہاں تک لے کے جانے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے حضور وہ اس طرح پیش ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے پائے بھی ہلنے لگ جائیں اور اس طرح چلائیں اور گڑگڑائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں اور گڑگڑاہٹوں اور چلاہٹوں کو سن لے اور ایسا فضل ہم پر نازل فرمائے کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو اور دشمن کی خاک اڑا کے رکھ دے
ہمیں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ ان قربانی کے دنوں میں اپنی عبادت کے معیاروں کو بڑھائیں۔ اگر ہمارے لیے جانوروں کی قربانی کرنے کی اجازت نہیں ہے یا ہمارے لیے بعض جگہ اکٹھے ہوکر عید ادا کرنے پر روکیں پیدا کی جا رہی ہیں تو اس کے لیے ہم جہاں جہاں جتنی جتنی تعداد میں اکٹھے ہو کر گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی عبادت کا حق ادا کر سکتے ہیں وہ ادا کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے
پاکستان کے احمدیوں کو اس بات کو خاص طور پر یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنی عبادتوں کے معیار اس حد تک بڑھانے ہیں کہ جس سے اللہ تعالیٰ سے حقیقی محبت کا اظہار ہو اور اللہ تعالیٰ کے حقیقی خوف کا اظہار ہو اور جب یہ ہوگا تو پھر ہی قربانی کے اعلیٰ معیار بھی قائم ہوں گے اور اگر ہمیں ایک جگہ قربانی سے روکا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے قربانی کرنے کے دوسرے ذرائع بھی دیے ہوئے ہیں
پاکستان میں تو یہ پابندیاں ہیں لیکن دنیا میں جو اَور لوگ رہتے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا اظہار اس طرح کریں کہ اللہ تعالیٰ کے دین کا پیغام اپنے حلقے میں پہنچائیں۔ اپنے وقت کی قربانی بھی کریں اور تبلیغ کریں
آج کل کے حالات میں تو خاص طور پر احمدیوں کو تمام رنجشیں ختم کر کے ایک حسین معاشرہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ مخالفین کسی بھی طرح ہماری صفوں کو توڑنے والے نہ بن سکیں
مَیں تمام خطبہ سننے والوں کو، یہاں بیٹھے ہوؤں کو عید مبارک بھی دیتا ہوں
خطبہ عید الاضحی سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ6؍جون 2025ءبمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، (سرے) یوکے
(خطبہ عید کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾
وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَکًا لِّیَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ فَاِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗۤ اَسۡلِمُوۡا وَ بَشِّرِ الۡمُخۡبِتِیۡنَ ﴿۳۵﴾ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ الصّٰبِرِیۡنَ عَلٰی مَاۤ اَصَابَہُمۡ وَ الۡمُقِیۡمِی الصَّلٰوۃِ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۳۶﴾ وَ الۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمۡ فِیۡہَا خَیۡرٌ فَاذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا صَوَآفَّ فَاِذَا وَجَبَتۡ جُنُوۡبُہَا فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَ اَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَ الۡمُعۡتَرَّ کَذٰلِکَ سَخَّرۡنٰہَا لَکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۷﴾ لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا وَ لٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمۡ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٮکُمۡ وَ بَشِّرِ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۳۸﴾
(الحج : 35 تا 38)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر امّت کےلیے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے تا کہ وہ اللہ کا نام اس پر پڑھیں جو اس نے انہیں مویشی چوپائے عطا کیے ہیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ پس اسی کے لیے فرمانبردار ہو جاؤ۔ اور عاجزی کرنے والوں کو بشارت دے دے۔ان لوگوں کو کہ جب اللہ کا ذکر بلند کیا جاتا ہے تو ان کے دل مرعوب ہو جاتے ہیں اور جو اس تکلیف پر جو انہیں پہنچی ہو صبر کرنے والے ہیں اور نماز کو قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور قربانی کے اونٹ جنہیں ہم نے تمہارے لیے شعائراللہ میں شامل کر دیا ہے ان میں تمہارے لیے بھلائی ہے۔ پس ان پر قطار میں کھڑا کرکے اللہ کا نام پڑھو۔ پس جب (ذبح کرنے کے بعد )ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت کرنے والوں کو بھی کھلاؤ اور سوال کرنے والوں کو بھی۔ اسی طرح ہم نے انہیں تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے تاکہ تم شکر کرو۔ ہرگز اللہ تک نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون لیکن تمہارا تقویٰ اس تک پہنچے گا۔ اِسی طرح اس نے تمہارے لیے انہیں مسخّر کردیا ہے تا کہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس بناپر کہ جو اس نے تمہیں ہدایت کی۔ اور احسان کرنے والوں کو خوشخبری دےدے۔

اس مضمون میں ہمیں یہ سمجھایا گیا ہے کہ قربانی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ تم دوسروں کی قربانی لو جیسا کہ عیدالاضحی پر جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے بلکہ تمہیں یہ بتانے کے لیے جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے کہ اعلیٰ چیز کے لیے ادنیٰ چیز قربان کی جاتی ہے اور تمہیں بھی اپنے پیدا کرنے والے کے لیے، مالکِ کُل کے لیے قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ تب سمجھا جا سکتا ہے کہ تم نے اس مفہوم کو سمجھ لیا۔ تو پھر تمہارے پیش نظر ہمیشہ یہ رہنا چاہیے کہ تمہارا ایک معبود ہے، ایک خدا ہے جس کی تم عبادت کرتے ہو اور تمہاری اس پر ہمیشہ نظر رہنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ جو احکامات ہمیں دیتا ہے ان پر ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس پر عمل کرو اور یہی صحیح طریقہ ہے جس پر چل کر تم قربانی کے اعلیٰ معیار حاصل کر سکتےہو۔ جس طرح جانور تمہارے لیے اپنی قربانی پیش کرتے ہیں۔ اپنی گردنیں تمہاری چھری کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ تم بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس کے احکامات بجا لانے کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہو تبھی تم اس کی رضا حاصل کرنے والے ہو سکتے ہو۔ ورنہ یہ گوشت جو تم کھاتے ہو اور جانور ذبح کرنے والے بڑے فخر سے ایک دوسرے کو کھلاتے بھی ہیں یا یہ خون جو تم جانوروں کی گردنیں کاٹ کر بہا رہے ہو تمہارےکسی کام بھی نہیں آ سکتے۔ اللہ تعالیٰ کو ان چیزوں سے قطعا ًکوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اللہ تو تمہارے سے تقویٰ پر چلنے کی امید رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سے یہ چاہتا ہے کہ میری خشیت، میرا خوف تمہارے دل میں رہے اور تم ہر وقت اس بات کے لیے کوشاں رہو کہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کر کے اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کروں۔
پس اللہ کی عبادت، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو قائم کرنا اور اپنے ایمانوں کو ترقی دینا یہ بنیادی باتیں ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں۔
آج کل جماعت احمدیہ کو تو پاکستان میں قربانی سے روکا جاتا ہے اور ہمیشہ کئی سالوں سے یہ ہو رہا ہے کہ ہمیں قربانی نہیں کرنے دی جاتی۔ تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اصل چیز تو تقویٰ ہے۔ اگر ہمیں قربانی نہیں بھی کرنے دی جاتی تو اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو جانتا ہے کہ ہم کس نیت سے قربانی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہماری نیتیں تقویٰ پر چلتے ہوئے،اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے، اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے قربانی کرنے کی تھیں تو قربانی نہ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ ہماری قربانیاں قبول کرنے والا ہے۔
یہ لوگ جو دکھاوے کی قربانیاں کر رہے ہیں ،بڑے بڑے جانور ،لاکھوں روپے کے جانور خرید کر یہ اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم نے اتنے لاکھ کی قربانی کی ہے ،یہ قربانی تقویٰ سے عاری قربانی ہے۔ کیا یہ لوگ خدا تعالیٰ کے حکم پر عمل کر رہے ہیں؟کیا اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ لوگوں کے حقوق کو پامال کرو؟ کیا اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ ظلم کرو اور اپنے ظلم سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے روکو؟ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہیں نہیں کہا۔
اللہ تعالیٰ نے تو ہر اس شخص کو جس نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا یہ کہہ دیا کہ وہ مسلمان ہے۔ کلمہ گو ہے اور تم اس کے ساتھ پیار، رحم اور شفقت کا سلوک کرو لیکن یہ لوگ آج کل پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ جو کر رہے ہیں یہ تو سر اسر تقویٰ سے دور لے جانے والی باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خوف سے دور ہٹی ہوئی باتیں ہیں اور صاف صاف ظلم ہے اور یقیناًیہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آنے والے لوگ ہیں
لیکن ہمارے لیے بہرحال ضروری ہے کہ
ہم اس بات کو سمجھیں کہ یہ جو قربانیاں ہیں، جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ ہمیں تقویٰ عطا کرنے کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کے لیے ہیں اور اسی کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ہمیں حتّی الوسع اس کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ اگر ہم یہ کریں گے تو ہماری عید پر اگر عید کی قربانیاں نہیں بھی ہو رہیں تب بھی اللہ تعالیٰ جو ہماری نیتوں کا اور ہمارے دلوں کا حال جانتا ہے وہ ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے گا اور ہمیں عید کی برکات سے مستفیض فرمائے گا اور پھر ہمیں اس کا اجر بھی عطا فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرما دیا ہے کہ مجھے تمہارے خون اور گوشت نہیں پہنچتے بلکہ مجھے تقویٰ پہنچتا ہے۔
پس ہمیں اس بات پر عمل کرنا چاہیے اور ہمیں ان احکامات پہ عمل کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں احکامات دیتے ہوئے واضح طور پر فرما دیا کہ تمہاری پیدائش کا مقصد عبادت اور بندگی ہے اور یہ کب حاصل ہوتا ہے۔ جب حقوق اللہ کی ادائیگی ہو۔ جب حقوق العباد کی ادائیگی ہو۔
اب حقوق اللہ کی ادائیگی کیا ہے ؟سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نماز کو قائم کرنے والے بنو۔ ہمیں پانچ وقت کی نمازوں کا حکم ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوشش کر کے پانچ وقت ان نمازوں کو ادا کرو اور پھر یہی نہیں کہ پانچ نمازیں ہیں جیسے تیسے کر کے پڑھ لیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ مسجد میں آ کے باجماعت نمازیں ادا کرو۔

آج کل اگر ہمارے یہ حالات ہیں کہ ہر طرف سے سختیاں کی جا رہی ہیں تو اگر ہم پاکستان میں مثلاً عبادتوں کی طرف توجہ دیں۔ بعض جگہ ہمیں نمازیں پڑھنے سے بھی روکا جاتا ہے۔ مسجدوں میں آنے سے بھی روکا جاتا ہے تو اکٹھے ہو کر گھروں میں یا کسی جگہ جہاں ایسی سختیاں نہیں ہیں وہاں ہم نمازیں ادا کر سکتے ہیں اور جب ہم اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائیں گے تو یقیناً ہم دشمن سے نجات حاصل کرنے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے والے ہوں گے۔
پس سب سے بڑی بات تو یہی ہے کہ قربانی کے دنوں میں جو ہم سے قربانی لی جا رہی ہے،
اس قربانی کا حق ادا کرنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی عبادت کے حق ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور میں ایسے حاضر ہوں، اس طرح تڑپیں جس طرح ایک ذبح ہونے والا جانور تڑپ رہا ہوتا ہے اور اس سے رو رو کر دعائیں مانگیں اور اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے بے چین ہو کر اس کے آگے تڑپیں۔
تبھی وہ ہماری دعائیں بھی سنے گا اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہم ان ظالموں سے نجات بھی حاصل کرنے والے ہوں گے۔
پاکستان میں رہنے والے احمدیوں کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ جس کو تکلیف ہو وہ زیادہ تڑپ کر اپنے لیے دعا کر سکتا ہے۔
بہرحال
سب سے پہلی بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لیے ہمیں اپنی نمازوں کی طرف توجہ دینی چاہیے
اور اگر ہم اس طرف توجہ دیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔ نمازیں ہم نے اپنے گلے سے اتارنے کے لیے نہیں پڑھنیں بلکہ ان کا حق ادا کرتے ہوئے پڑھنی ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا باجماعت نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور سنوار سنوار کر نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہم یہ کر رہے ہوں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کے ایسے فضل ہوں گے کہ دشمن ہماری راہ میں جو روکیں حائل کر رہے ہیں یہ برائے نام سی روکیں ہیں یہ کبھی حائل نہیں ہوں گی اور ہوا میں اڑ جائیں گی۔
پس
آج یہ عہد کریں کہ ہم نے اپنی عبادت کے معیار بلند کرنے ہیں اور اُن معیاروں تک لے جانا ہے جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔
اسی طرح آج یورپ میں اور بہت سارے ملکوں میں جہاں ہم عید پڑھ رہے ہیں۔ وہ بھی اس طرف خاص توجہ کریں۔ بعض جگہ عید کل ہوگی۔ پاکستان میں بھی کل ہے۔ پاکستان میں تو ہمیں عید پڑھنے کی اجازت بھی شاید نہیں ملے گی۔ یہاں آپ آزاد ہیں۔ ہم آزادی سے عید پڑھ رہے ہیں۔ بہت سارے ملکوں میں پڑھ رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں انتظامیہ کی طرف سے پابندیاں لگا دی جائیں گی اور بعض جگہ لگا دی گئی ہیں ۔
لیکن ہم نے اس کی پرواہ نہیں کرنی یعنی اس وجہ سے اپنے دلوں میں مایوسی نہیں پیدا کرنی کہ پابندیاں لگ گئی ہیں۔
اپنے گھروں میں بے شک عید پڑھ لیں لیکن
یہ عہد کریں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے ہیں اور اپنی عبادتوں کے معیار وہاں تک لے کے جانے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے حضور وہ اس طرح پیش ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے پائے بھی ہلنے لگ جائیں۔ اور اس طرح چلّائیں اور گڑگڑائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں اور گڑگڑاہٹوں اورچلّاہٹوں کو سن لے اور ایسا فضل ہم پر نازل فرمائے کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو اور دشمن کی خاک اڑا کے رکھ دے۔
اگر ہم اس طرح عبادت کرنے والے ہوں گے تو پھر یقینا ًآپ دیکھیں گے کہ یہ جو عارضی روکیں ہماری راہ میں حائل کی جا رہی ہیں۔ مخالف کی جو دشمنیاں قدم قدم پر ہمارے سامنے ہیںجن کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے اللہ تعالیٰ ان کی خاک اڑا دے گا۔
پس نماز کا حق ادا کرنے کے لیے، عبادت کا حق ادا کرنے کے لیے ہمیں پوری طرح کوشش کرنی چاہیے۔ اس بارہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ
عبادت کے دو حصے ہیں ایک یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو ڈرنے کا حق ہے۔ خدا تعالیٰ کا خوف انسان کو پاکیزگی کے چشمے کی طرف لے جاتا ہے اور اس کی روح گداز ہو کر الوہیت کی طرف بہتی ہے اور عبودیت کا حقیقی رنگ اس میں پیدا ہو جاتا ہے۔
پس یہ چیز ہے۔ عبادت ایسی ہو جو ہمیں اللہ تعالیٰ کے خوف سے پاکیزگی کے چشمے کی طرف لے کر جائے اور ہماری روح پگھل جائے اور ہم عبودیت کا حق ادا کرنے والے ہوں ،دعاؤں کا حق ادا کرنے والے ہوں، بندگی کا حق ادا کرنے والے ہو ں۔اورفرمایا کہ دوسرا حصہ عبادت کا یہ ہے کہ انسان خدا سے محبت کرے جو محبت کرنے کا حق ہے۔ اس لیے فرمایا ہے وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ اور دنیا کی ساری محبتوں کو غیر فانی اورآنی سمجھ کر حقیقی محبوب اللہ تعالیٰ ہی کو قرار دیا جائے۔
اب یہ دیکھ لیں کہ
ہم میں کس حد تک یہ صورتحال ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے لیے خالص محبت کرتے ہوئے اس کے آگے جھکتے ہیں، گڑگڑاتے ہیں اور ہم نے ہر دوسری محبت کو پرے پھینکا ہوا ہے۔
فرمایا کہ یہ دو حق ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنی نسبت انسان سے مانگتا ہے۔ یوں تو ہر قسم کی عبادت اپنے اندر ایک رنگ رکھتی ہے مگر ان دونوں قسم کے حقوق کے ادا کرنے کے لیے اسلام نے عبادت کی دو مخصوص صورتیں مقرر کی ہوئی ہیں۔فرمایا کہ خوف اور محبت دو ایسی چیزیں ہیں کہ بظاہر ان کا جمع ہونا بھی محال نظر آتا ہے۔ بڑا مشکل ہے۔ عجیب بات ہے کہ خوف بھی ہو اور محبت بھی ہو۔ یہ بڑی عجیب چیز نظر آتی ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ بہت محال نظر آتا ہے کہ ایک شخص جس سے خوف کرے اس سے محبت کیونکر کر سکتا ہے ۔جس کا خوف ہو اس سے محبت کس طرح ہو سکتی ہے ؟مگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ایک الگ رنگ رکھتی ہے۔
جس قدر ایک انسان خدا کے خوف میں ترقی کرے گا اسی قدر محبت زیادہ ہوتی جاوےگی اور جس قدر محبت الٰہی میں ترقی کرے گا اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہوکر بدیوں اور برائیوں سے نفرت دلا کر پاکیزگی کی طرف لے جائے گا۔
پس اللہ تعالیٰ سے یہ خوف اس لیے ہے اور اس کی روح یہ ہے کہ بدیوں اور برائیوں سے دور لے جائے اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا کہ پھر اللہ تعالیٰ سے محبت بڑھے گی اَور زیادہ محبت بڑھے گی۔ جب محبت بڑھے گی تو پھرخوف پیدا ہو گا ۔خوف پیدا ہوگا تو پھر محبت بڑھے گی۔ یہ آپس میں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔دونوں آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ پس فرمایا کہ اسلام نے ان دونوں حقوق کو پورا کرنے کے لیے ایک صورت نماز کی رکھی ہے جس میں خدا کے خوف کا پہلو رکھا ہے اور محبت کی حالت کے اظہار کے لیے حج رکھا ہے۔آج کل لوگ حج بھی کر رہے ہیں بہت سارے لوگ حج پرگئے ہوئے ہیں۔ حج کے دن ہیں اور یہ حج کے دن یہ محبت کے اظہار کے دن ہیں۔ اسلام کی یہی دو تعلیمیں ہیں لیکن بعض جگہ ہمیں حج پر جانے سے بھی روکا جاتا ہے لیکن بعض احمدی پھر بھی حج پر چلے جاتے ہیں۔ وہ اس محبت کے اظہار سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور وہ لوگ محبت کا اظہار کر رہے ہیں ۔لیکن نماز ہم عبادت کے لیے پڑھتے ہیں،اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا کرنے کے لیے پڑھتے ہیں تاکہ ہماری اس سے محبت بڑھے اور
جب محبت کی انتہا ہو جاتی ہے تو اس محبت کے اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ پھر تم حج پر جاؤ اور اس کے لیے حج رکھا ہے۔ جن کو توفیق ہے وہ حج کرتے ہیں۔
فرمایا کہ خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز کے ارکان سے بخوبی واضح ہیں کہ کس قدر تذلل اور اقرارِ عبودیت اس میں موجود ہے اور
حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں۔
بعض وقت شدت محبت میں کپڑے کی بھی حاجت نہیں رہتی۔ عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے۔ کپڑوں کو سنبھال کے رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا کہ آدمی صرف اپنے کپڑوں کو دیکھتا رہے۔ آپ نے ایک مثال دی کہ ایک عورت تھی وہ کسی کی عاشق ہو گئی تو اس کے عشق میں کپڑے پھاڑ دیتی تھی۔ تو فرمایا کہ یہ تو دنیاداروں کی مثال ہے۔ تمہیں تو اللہ تعالیٰ سے بہت بڑھ کر محبت کرنی چاہیے۔فرمایا کہ یہ جو ساری باتیں ہیں یہ حج میں موجود ہیں ۔محبت کے اظہار کے لیے اس میں سر منڈایا جاتا ہے ۔اس میں دوڑتے بھی ہیں۔ محبت کا بوسہ رہ گیا وہ بھی ہے۔ خود حجر اسودکو بوسہ دیا جاتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آیا ہے ۔پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھلایا ہے۔ قربانی کرنی ہے۔ یہ بھی عشق کاکمال ہے۔ پھر اس کے بعد جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے۔ یہ بھی عشق کی انتہا ہے۔ آپؑ نے فرمایا۔ اسلام نے پورے طور پر ان حقوق کی تکمیل کی تعلیم دی۔ نادان ہے وہ شخص جو اپنی نابینائی سے اعتراض کرتا ہے۔
(ماخوذازملفوظات جلد3صفحہ96-97ایڈیشن2022ء)
پس محبت کے اظہار کے لیے حج کیا جاتا ہے اور محبت کے اظہار کے لیے قربانی کی جاتی ہے۔ پس اگر ہم یہ چیزیں سامنے رکھیں گے تو پھر ہماری محبت کا اظہار ہو گا اور جہاں ہمارے لیے روکیں پیدا کی جاتی ہیں وہاں پھر ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ ہمارے لیے آسانیاں بھی پیدا کرے گا۔ وہ تو ہمارے دلوں کا حال جانتا ہے، ہماری محبت کے جذبات کو جانتا ہے، ہماری عبادتوں کے معیاروں کو جانتا ہے۔ اور اگر مخالفین کی طرف سے ہمیں عبادتوں سے روکنے کی وجہ سے روکیں ہیں تو ان عبادتوں کا ثواب بھی ہمیں عطا فرمائے گا جن کے کرنے سے ہمیں روکا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو بڑا دینے والا ہے ۔پس اگر ہم عبادت کا حق ادا کر لیں گے، نمازوں کو سنوار کر پڑھیں گے ،محبت کا اظہار پوری طرح کریں گے، ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ہی خوف پیدا ہوگا۔ اس کی محبت حاصل کرنے کے لیے خوف پیدا ہوگا تو پھر اللہ تعالیٰ اس خوف کو محبت میں بدل دے گا اور اس کی وجہ سے پھر جب ہم اس کے قریب ہونے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ یہ حالات بھی ان شاء اللہ بدل دے گا اور دشمن کی ہر کوشش کو ناکام و نامراد کر دے گا۔
ان کی کوشش تو یہی ہے کہ احمدی اپنے ایمان سے دور ہو جائیں۔ یہ اس میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ جو مضبوط احمدی ہےوہ بہرحال مضبوط ہے ۔جس کے دل میں ایمان ہے وہ کبھی ان لوگوں کی سختیوں سے اور ظلموں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔
پس
ہمیں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ ان قربانی کے دنوں میں اپنی عبادت کے معیاروں کو بڑھائیں۔اگر ہمارے لیے جانوروں کی قربانی کرنے کی اجازت نہیں ہے یا ہمارے لیے بعض جگہ اکٹھے ہو کر عید ادا کرنے پر روکیں پیدا کی جا رہی ہیں تو اس کے لیے ہم جہاں جہاں جتنی جتنی تعداد میں اکٹھے ہو کر گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی عبادت کا حق ادا کر سکتے ہیں وہ ادا کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔
پاکستان میں رہنے والے بہت سارے ایسے بھی ہیں جن کے عزیز رشتہ دار باہر ہیں۔پاکستان میں اگر قربانیاں نہیں کر سکتے تو ان کے ذریعے سے وہ باہر افریقہ کے ملکوں میں بھی اور دوسرے غریب ملکوں میں بھی قربانیاں کروا سکتے ہیں۔ پس
اس بات کو پاکستان کے احمدیوں کو خاص طور پر یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنی عبادتوں کے معیار اس حد تک بڑھانے ہیں کہ جس سے اللہ تعالیٰ سے حقیقی محبت کا اظہار ہو اور اللہ تعالیٰ کے حقیقی خوف کا اظہار ہو اور جب یہ ہوگا تو پھر ہی قربانی کے اعلیٰ معیار بھی قائم ہوں گے اور اگر ہمیں ایک جگہ قربانی سے روکا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے قربانی کرنے کے دوسرے ذرائع بھی دیے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے غریبوں کا خیال رکھو۔ کھانا جو کھلانا ہے تو صرف مانگنے والے اور بھوکے اور غیربھوکے کو کھلانے کا حکم نہیں ہے۔ صرف کھانے کی ہی بات نہیں ہے بلکہ ان کی ضروریات کو بھی پورا کرنا ہے۔ ہم دین کی اشاعت کے لیے قربانی کر سکتے ہیں۔ایسے وسائل استعمال کر سکتے ہیں جہاں غریبوں کی مدد کریں۔ ان کے لیے کھانے کا سامان مہیا کریں ۔ان کے حقوق ادا کرنے کے لیے قربانی کر سکتے ہیں اور جماعت میں تو ایسی مدّات بھی جاری ہیں جن میں قربانی کر کے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا بہترین اجر بھی عطا فرماتا ہے۔ اس کے علاوہ جیسا کہ میں نے کہا ظاہری طور پر بھی بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو اپنے عزیزوں کے ذریعے سے باہر قربانیاں کروا سکتے ہیں۔ بہت سارے لوگ اپنے تجربات بھی لکھتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے مختلف جگہوں پہ قربانیاں کیں۔ جماعت کی خاطر صرف بکروں کی قربانیاں نہیں بلکہ چندوں کی ،مال کی قربانیاں بھی کیں کہ فلاں فلاں چندے ہم نے دیے اور کس قربانی سے دیے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔ تواللہ تعالیٰ نے ان دنوں میں یہ قربانی تو رکھی ہے جس کا حج کے ساتھ تعلق ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے قربانی کےاَور مواقع بھی پیدا کر دیے ہوئے ہیں۔ اگر ہمیں ایک جگہ سے روکا جاتا ہے تو ہمیں دوسری جگہ ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہے۔
پاکستان میں تو یہ پابندیاں ہیں لیکن جو لوگ اَور دنیا میں رہتے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا اظہار اس طرح کریں کہ اللہ تعالیٰ کے دین کا پیغام اپنے حلقے میں پہنچائیں۔ اپنے وقت کی قربانی بھی کریں اور تبلیغ کریں۔اگر ایک جگہ روک پیدا کی جا رہی ہے تو دنیا کے دوسرے ممالک میں جہاں یہ روک نہیں ہے وہاں ہمارے ہر احمدی کو تبلیغ کے میدان میں آگے بڑھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے اس محبت کا اظہار کرنا چاہیے جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں ارشاد فرمایا ہے
اور اس کا خوف رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس محبت کے اظہار کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے فیض سے فیض اٹھانے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔
آج کل تو دنیا تباہی کے گڑھے کے دہانے پہ کھڑی ہے اور کسی وقت بھی خوفناک جنگ کی تباہی کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔پس
اس حالت میں ہمیں دنیا کو بہت زیادہ بتانے کی ضرورت ہے اور دنیا کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی بقااسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف آؤ اور یہ بھی ہمارا ایک فرض ہے اور یہ بھی قربانی کا ایک تقاضا ہے جس کو ہمیں سمجھنا چاہیے۔ ان دنوں میں صرف بکروں کی قربانی یا جانوروں کی قربانی ہی قربانی نہیں ہے بلکہ یہ بھی قربانی ہے کہ اپنے وقت کو قربان کریں، اپنے مال کو قربان کریں اور دین کی اشاعت کے لیے جہاں اللہ تعالیٰ نے مواقع مہیا فرمائے ہوئے ہیں وہاں دین کی اشاعت کے لیے بھرپور کوشش کریں۔
پھر
یہ بھی قربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں سے روکا ہے ان سے رک جائیں ۔
مثلاً ایسی مجالس جن میں بیٹھنے سے اخلاق خراب ہوتے ہیں یا ان کے خراب ہونے کا خطرہ ہے ان میں بیٹھنے سے بچنا چاہیے۔ اس میں غلط قسم کی فلمیں بھی آ جاتی ہیں۔آج کل تو ٹی وی پہ بھی ،نیٹ پہ بھی ،سوشل میڈیا پہ بھی بے شمار ایسے پروگرام ہیں جن سے بچنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے ۔لیکن بدقسمتی سے بعض جگہ ہمارے بعض نوجوان بھی اس میں ملوث ہیں بلکہ بعض بڑی عمر کے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں جن کے گھر والے پھر شکایتیں کرتے ہیں۔اس چیز کو نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے ۔دنیا میں پڑے ہوئے ہیں۔
پس اگر یہ باتیں ہیں تو پھر ہمیں عید قربان منانے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ ہم تو صرف دنیاوی لذّات کے لیے عید منا رہے ہیں جبکہ
عید قربان تو قربانی کی روح کو قائم کرنے کے لیے منائی جاتی ہے۔ اس روح کو پیدا کرنے کے لیے منائی جاتی ہے جس کا اظہار حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا،
حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے کیا ،حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کیا۔
پس اس بات کو ہمیں سامنے رکھنا چاہیے اور جب یہ ہوگا تو تب ہی ہماری حقیقی قربانی ہوگی اور آج کل کی دنیا میں رہتے ہوئے بظاہر یہ بہت مشکل نظر آتا ہے۔ بعض دفعہ بعض دنیاوی لالچیں ہیں، بعض دنیاوی دلچسپیاں ہیں، دنیاوی طور پر بعض ایسی باتیں ہیں جن کی طرف انسان کھچا چلا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان کی خواہشات بڑھتی چلی جا رہی ہیں تو ان خواہشات کو قربان کرنا، غلط کاموں سے بچنا یہ بھی ایک قربانی ہے اور یہ بکروں کی قربانی سے زیادہ بڑی قربانی ہے۔
پاکستان میں جو احمدی ہیں یا دنیا میں اَور جگہ جہاں احمدی ہیں وہ اگر قربانی نہیں کر سکتے تو اپنی نیکیوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں اور اپنی خواہشات کو قربان کرنے کی کوشش کریں تو اس کا بھی ان کو ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ قبول کرنے والا ہے۔
پھر حقوق اللہ کے بعد دوسری اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت کے علاوہ، اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کرنے کے علاوہ
حقوق العباد ادا کرنا۔ بندوں کے حقوق ادا کرنا۔
بندوں کے حقوق ادا کرنے میں بہت ساری چیزیں آ جاتی ہیں جس میں ماں باپ کے بھی حق ہیں، بہن بھائیوں کے بھی حق ہے، میاں بیوی کے بھی حق ہیں، ساس سسر کے بھی حق ہیں، بچوں کے بھی حق ہیں، ہمسایوں کے بھی حق ہیں، دوستوں کے بھی حق ہیں، محلے داروں کے بھی حق ہیں۔غرض کہ بے شمار حقوق ہیں۔ بیواؤں کے حق ہیں، بوڑھوں کے حق ہیں، بلکہ اسلام نے دشمنوں کے بھی حقوق رکھے ہیں۔ آج کل تو یہ دشمنی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ اندھے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم اسلام کی خاطر یہ کر رہے ہیں۔ان کو پتہ نہیں کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔اگر یہ ہمیں دشمن سمجھتے ہیں تب بھی اسلام نے حقوق رکھے ہیں۔ اسلام نے غلاموں اور لونڈیوں کےبھی حقوق رکھے ہیں بلکہ غیر مسلموں کے بھی حقوق رکھے ہیں۔ ایک طرف کہتے ہیں مسلمان نہیں ہیں ۔چلو !مسلمان نہیں ہیں تب بھی اللہ تعالیٰ نے تو غیر مسلم کے بھی حقوق رکھے ہیں وہ بھی یہ ادا نہیں کر رہے اور کہتے اپنے آپ کو بہت بڑا مسلمان ہیں۔ اب
پاکستان میں تو ہمیں غیر مسلم کہہ کے ہمارے ہر قسم کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے اور اسلام میں جو تعلیم اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تلقین فرمائی ہے اور عمل کر کے دکھایا ہے۔ اپنے نمونے سے جو قائم فرمایا ہےوہ تو یہ ہے کہ غیر مسلموں کے بھی حقوق اداکرو۔
پھر اَور بہت سارے حقوق ہیں۔ یتیموں کے حق ہیں، محتاجوں کے حق ہیں۔ اَور بے شمار حقوق ہیں۔ لیکن جب ہم عام مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو یہ لوگ تمام قسم کے حقوق کو توڑنے والے ہیں۔ ان کو غصب کرنے والے ہیں۔ اور ان کا حق نہیں ادا کر رہے۔ اگر ہم بھی اسی طرح بن گئے تو ہمارے اور ان میں کیا فرق رہ جائے گا۔ پس
ہر احمدی کو خاص طور پر ان حقوق کےادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر صرف ہم اس بات پر پریشان ہو جائیں گے کہ ہم پاکستان میں یا بعض اَور جگہوں پہ قربانی نہیں کر سکتے یا ہمیں پوری طرح عبادت کا حق ادا کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔ ہمیں مسجدوں میں باجماعت نمازوں سے روکا جاتا ہے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ اگر ہم حقوق العباد کو ادا کر رہے ہیں تو یہ حقوق العباد ہی ہیں جو بعض دفعہ عبادت کا بھی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب کا مستحق بنا دیتے ہیں۔ پس اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہیے ،اس کے بارے میں ہمیں سوچنا چاہیے اور اس کے لیے ہمیں کوشش بھی کرنی چاہیے۔
اسی طرح ہمیں ہر جگہ اپنی وفا کے معیاروں کو بڑھانا چاہیے۔ ہمارا اللہ تعالیٰ سے وفا کا معیار بڑھنا چاہیے۔ پھر آپس میں حقوق ادا کرتے ہوئے ایک دوسرے سے وفا کا معیار بھی بڑھانا ہوگا۔ مومن تو بھائی بھائی ہیں اور ایک کی تکلیف سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے۔ ہمیں اپنی بیعت کے حق ادا کرنے کے لیے اپنی بیعت کے وفا کے معیار کو بڑھانا ہوگا۔
حقوق کے ادا کرنے کے بارے میں ایک حدیث میں آتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت اور محبت کا معاملہ کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں تم مومنوں کو ایک جسم کی طرح پاؤ گے۔ جب اس کا کوئی حصہ بھی تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
(صحیح مسلم کتاب البر و الصلۃ باب تراحم المومنین …حدیث نمبر 6529)
پس آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے لیے یہ وہ معیار ہے جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کو خاص طور پر تلقین فرمائی ہے۔ پس اس طرف توجہ دینی چاہیے ۔ اگر اس طرح کرو گے تو تب ہی تم لوگ وہ مقام حاصل کر سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا مقام ہے۔ ہم اپنا جائزہ خود ہی لے سکتے ہیں کہ کس حد تک ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ صرف ایک ہی بات سے اللہ تعالیٰ تم سے راضی نہیں ہوتا کہ تم نے بکرے کی قربانی کر دی بلکہ
اللہ تعالیٰ تو مختلف قسم کے حقوق کی ادائیگی سے بھی راضی ہوتا ہے بلکہ اس کی تلقین فرمائی ہے۔ اگر ہم اس کی کوشش کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔
اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے یہ آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہ بات پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
(صحیح بخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان یحب لاخیہ حدیث نمبر13)
اب
دوسرے کے لیے پسند کرنے کا یہ کام بھی بغیر قربانی کے نہیں ہو سکتا۔
اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا جذبہ ہو تبھی یہ کام ہو سکتا ہے۔انصار میں تو یہ جذبہ اور یہ تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس حد تک تھا کہ انہوں نے مہاجرین کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور ان کا یہ فعل اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر فرما دیا اور ان کی قربانی کو ایسا قبول کیا کہ تا قیامت وہ دنیا کے لیے ایک نمونہ بن گئے۔
اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لے آؤ اور تم اس وقت تک ایمان نہیں لا سکتے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ ایمان کو ایک دوسرے سے محبت کے ساتھ ملایا۔ فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں کہ اگر تم وہ کر لو تو آپس میں محبت کرنے لگو گے اور وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو رواج دو۔
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان انہ لا ید خل الجنۃ الا المومنون… حدیث نمبر 194)
پس اس میں بتادیا ہے کہ
آپس میں محبت اور سلام کے رواج کو بھی اللہ تعالیٰ نے جنت میں جانے کے لیے ایک راستہ بنایا ہے۔
اگر یہ بات ہم سمجھ لیں تو پھر ہی ہم حقیقی مومن ہو سکتے ہیں۔ اب جو سلام کرنے والے ہیں وہ دوسروں سے لڑائی تو نہیں کریں گے ۔سلام تو سلامتی کا پیغام ہے۔ جب یہ ہوگا تو ایک محبت اور پیار کی فضا قائم ہوگی۔ اور جب یہ ہوگا تو پھر ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا یہ بات بھی بغیر قربانی کے نہیں ہو سکتی۔ اگر ہم احمدی اس بات کو سمجھ لیں تو کبھی کسی کی حقوق تلفی کرنے والے نہ ہوں بلکہ قربانی کر کے حق ادا کرنے والے ہوں اور اس کے نتیجے میں نہ صرف اخروی جنت کو حاصل کرنے والے ہوں بلکہ اس دنیا میں بھی جنت نظیر معاشرہ بنانے والے ہوں گے۔ اور
آج کل کے حالات میں تو خاص طور پر احمدیوں کو تمام رنجشیں ختم کر کے ایک حسین معاشرہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ مخالفین کسی بھی طرح ہماری صفوں کو توڑنے والے نہ بن سکیں۔
پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی حمدبھی کریں۔ اس کی عبادت کا حق بھی ادا کریں اور اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے کی کوشش کریں۔ آپس میں محبت پیار اور سلامتی کا پیغام بھی دیں۔ جب ہم یہ کریں گے تو ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔ ہمیں یہی کوشش کرنی چاہیے کہ
ہم میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کے لیے وفا کے ساتھ حقوق ادا کرنے والا ہو
اور اگر ہم یہ حقوق ادا کرنے والے بنیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر چلتے ہوئے یہ کام کریں گے تو پھر جہاں ہم اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا وارث بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث بھی بنائیں گے وہاں ہم ایک حسین معاشرہ بھی قائم کرنے والے ہوں گےجہاں ہر شخص دوسرے کے لیے قربانی کرنے والا ہوگا اور جب ایک دوسرے کے لیے قربانی کرنے والا ہو گا تو یہ وہی باتیں ہیں جو حقیقی قربانی کی طرف ہمیں توجہ دلاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قربانیاں کرو۔ تمہارا تقویٰ مجھ تک پہنچتا ہے۔ تمہارے خون مجھ تک نہیں پہنچتے ۔ اگر ہمیں بکروں کی قربانیوں سے روکا گیا ہے تو ہمیں تقویٰ کے وہ معیار حاصل کرنے چاہئیں کہ جس سے ہم ایک انتہا تک پہنچ جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بن سکیں۔ پس ہمیشہ ہمیں یہی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم تقویٰ پر چلنے والے ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ تقویٰ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
’’ہر ایک نیکی تب قبول ہوتی ہے جب کہ اس کے اندر تقویٰ ہو ورنہ قبول نہیں ہوتی۔‘‘
آپؑ نے فرمایا کہ’’ زندگی تو برف کے ٹکڑے کی مثال رکھتی ہے۔ہزاروں پردوں میں رکھو پگھلتی جاوے گی۔ ‘‘
(ملفوظات جلد3صفحہ223ایڈیشن2022ء)
بیشک لپیٹتے جاؤ جتنی مرضی لپیٹ دو لیکن پگھلتی جائے گی۔ پس زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ یہ تو کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اگر ہم میں تقویٰ پیدا ہوگا تو پھر ہی ہم اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے اور ہماری قربانیاں بھی تب ہی قبول ہوں گی۔ نہ قربانی کر کے بھی ہم قربانی کرنے والے ہوں گے اور جو ظاہری طور پر قربانیاں کر رہے ہیں ان کی قربانیاں اللہ تعالیٰ ان کے جانوروں کو ذبح کرنے کے باوجود بھی قبول نہیں کرتا کیونکہ اس میں تقویٰ نہیں ہے۔ پس
ہمیں اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے سب کام کرنے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عاجزی کرنے والوں کو بشارت دے دو۔ جو عاجزی کریں گے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے اور جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کو سامنے رکھتے ہوئے عاجزی کریں گے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بشارت دی ہے۔ نماز کو قائم کرنے والے ہوں گے تو وہی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانے والے ہوں گے تو وہی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنائیں گے۔ دین کی خاطر قربانی کرنے والے ہوں گے تو وہی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے۔ اور تقویٰ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے ہوں گے تووہی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے۔
پس ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ اگر یہ چیزیں ہم میں ہیں تو قربانیاں نہ کر کے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی نیتوں کی وجہ سے مقبول ہوں گے اور جو قربانیاں کرنے والے ہیں ان کی بدنیتی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی قربانیاں ان پر الٹا دے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ
’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت بنائی تھی ان میں سے ہر ایک زکی نفس تھا اور ہر ایک نے اپنی جان کو دین پر قربان کر دیا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جو منافقانہ زندگی رکھتا ہو۔ سب کے سب حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے۔
سو یاد رکھو اس جماعت کو بھی’’ یعنی جماعت احمدیہ کو بھی، آپ کے ماننے والوں کو بھی ‘‘خدا تعالیٰ انہی کے نمونہ پر چلانا چاہتا ہے اور صحابہؓ کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔ جو شخص منافقانہ زندگی بسر کرنے والا ہوگا وہ آخر اس جماعت سے کاٹا جائے گا ۔‘‘
(ملفوظات جلد 10صفحہ63 ایڈیشن2022ء)
پھر آپؑ نے فرمایا:
’’ پس اس مقام سے غافل مت ہو اے مخلوق کے گروہ! اور نہ اس بھید سے غافل ہو جو قربانیوں میں پایا جاتا ہے۔ اور قربانیوں کو اس حقیقت کے دیکھنے کے لئے آئینوں کی طرح بنا دو اور ان وصیتوں کو مت بھلاؤ اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے اپنے خدا اور اپنی موت کو بھلا رکھا ہے اور اس پوشیدہ بھید کی طرف خدا تعالیٰ کی کلام میں اشارت کی گئی ہے۔ چنانچہ خدا جو اصدق الصادقین ہے اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری عبادت اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اس خدا کےلئےہے جو پروردگار عالمیاں ہے۔ پس دیکھ کہ کیونکر نُسُککے لفظ کی حیات اور ممات کے لفظ سے تفسیر کی ہے اور اس تفسیر سے قربانی کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ‘‘عبادتوں کا معیار اگر ایسا ہو گا تو قربانی کے انعام بھی مل جائیں گے۔ ’’پس اے عقلمندو! اس میں غور کرو اور جس نے اپنی قربانی کی حقیقت کو معلوم کرکے قربانی ادا کی اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ ادا کی پس بہ تحقیق اس نے اپنی جان اور اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں کی قربانی کر دی اور اس کے لئے اجر بزرگ ہے جیسا کہ ابراہیم کے لئے اس کے ربّ کے نزدیک اجر تھا اور اسی کی طرف ہمارے سید برگزیدہ اور رسول برگزیدہ نے جو پرہیزگاروں کا امام اور انبیاء کا خاتم ہے اشارہ کیا اور فرمایا اور وہ خدا کے بعد سب سچوں سے زیادہ تر سچا ہے۔ بہ تحقیق
قربانیاں وہی سواریاں ہیں کہ جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں
یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچیں جو سب مخلوق سے بہتر ہیں۔ ان پر خدا تعالیٰ کا سلام اور برکتیں ہوں اور آنجناب نے ان کلمات میں قربانیوں کی حکمتوں کی طرف فصیح کلموں کے ساتھ جو موتیوں کی مانند ہیں اشارہ فرمایا ہے۔ پس افسوس اور کمال افسوس ہے کہ اکثر لوگ ان پوشیدہ نکتوں کو نہیں سمجھتے اور اس وصیت کی پیروی نہیں کرتے اور ان کے نزدیک عید کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ غسل کریں اور نئے کپڑے پہنیں اور طعام کو سارے مونہہ کے ساتھ اور دانتوں کے کناروں سے چباویں۔ خود اور ان کے اہل و عیال اور نوکر اور غلام۔اور پھر آرائش کے ساتھ نماز عید کے لئے باہر نکلیں جیسے بڑے رئیس ہوتے ہیں اور تُو دیکھے گا کہ اچھے کھانوں میں اس دن ان کی سب سے بڑی خوشی ہے اور ایسا ہی اچھی اور نفیس پوشاکوں میں انتہائی مرتبہ ان کی حاجتوں کا ہے تا قوم کو دکھلائیں اور نہیں جانتے کہ قربانی کیا چیز ہے ۔اور کس غرض کے لئے بکریاں اور گائیاں ذبح کی جاتی ہیں۔‘‘
(خطبہ الہامیہ،روحانی خزائن جلد16صفحہ42-46ایڈیشن 2008ء)
پس جیسا کہ شروع میں مَیں نے ذکر کیا ہے ظاہری طور پر کھانوں میں پڑے ہوئے ہیں ،دعوتوں میں پڑے ہوئے ہیں ،دکھاوے میں پڑے ہوئے ہیں، قربانی یا بکرے قربان کرنے میں پڑے ہوئے ہیں لیکن حقیقی قربانی کاپتہ نہیں کہ بکریاں اور گائیاں کیوں قربان ہو رہی ہیں۔ پس یہ وہ چیزیں ہیں جس کو ہمیں سمجھنا چاہیے۔ یہ وہ بات ہے جس کو ہمیں سمجھنا چاہیے۔ غیر جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں مانا وہ تو اسی سوچ پر قربانیاں دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ظاہری قربانیاں دے کر وہ عید کا حق ادا کر رہے ہیں جبکہ
عید کا حقیقی حق اس وقت ادا ہوتا ہے جب ہم اپنے نفس کی قربانیاں دینے والے ہوں اور اپنی اصلاح کرنے والے ہوں۔ اپنی عبادتوںکا حق ادا کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کا حق اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے والے ہوں۔
جب ہم یہ کریں گے تب ہی ہم اس مقصد کو حاصل کرنے والے بنیں گے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں عید قربان کے منانے کا حکم دیا ہے ورنہ صرف کپڑے پہن کر اور اچھے کھانے کھا کر عید منانا تو کوئی مقصد نہیں ہے۔ اگر ہم اس بات کو یاد رکھیں گے تو ہم حقیقی عید منانےوالے بھی ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے والے بھی ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ کرے کہ ہماری عید دکھاوے کی عید نہ ہو بلکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ادا کرنے والی عید ہو اور ہم اس کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنتے چلے جائیں۔
دعائیں بھی کریں اور
دعاؤں میں شہداء کے بچوں کو بھی یاد رکھیں جنہوں نے قربانیاں کی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ ان کو اور ان کی نسلوں کو اس حقیقت کو سمجھنے کی بھی توفیق دے کہ ان کے عزیزوں نے اور پیاروں نے جو قربانیاں کی ہیں وہ دنیا کے لیے نہیں کیں بلکہ دین کے لیے کی ہیں اور اسی دین کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔
اسی طرح
اسیران کے لیے دعا کریں
اللہ تعالیٰ جلد ان کی بھی رہائی کے سامان پیدا فرمائے۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے اسی طرح
پاکستان میں جہاں خاص طور پر قانوناً بہت ساری پابندیاں لگائی گئی ہیں دعا کریں اللہ تعالیٰ یہ پابندیاں بھی دور کرے اور ہمیں حقیقت میں کھلے طور پر عبادت کا حق بھی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ سب روکیں دور ہوں اور جو ظاہری قربانیاں ہیں وہ بھی ان کو وہاں کرنے کی توفیق ملے۔ علاوہ اَور قربانیوں کے آزادی سے جانوروں کی قربانیاں بھی کر سکیں۔
اور ہمارے دلوں کو بھی وہ سمجھ اور بوجھ عطا فرمائے جس سے ہم ان قربانیوں کی روح کو سمجھ کر اس کا حق ادا کرنے والے بنیں اور بکریوں پر صرف ظاہری چھری پھیرنے والے نہ بنیں یا جانوروں پرچھری پھیرنے والے نہ بنیں۔
پس جب یہ ہوگا تو ہم ان شاء اللہ تعالیٰ اس مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں اللہ تعالیٰ ہمیں پہنچانا چاہتا ہے اور جس کے لیے ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت میں آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ کرے کہ ہم یہ مقصد حقیقت میں حاصل کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں۔ اور اس کے ساتھ ہی
مَیں تمام خطبہ سننے والوں کو، یہاں بیٹھے ہوؤں کو عید مبارک بھی دیتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ اس عیدکو بابرکت فرمائے۔ یہ مبارکیں صرف ظاہری نہ ہوں بلکہ حقیقت میں ہم اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کر کے اپنے آپ کو اس مبارکباد کا حقدار بنانے والے ہوں۔ دعا بھی کر لیں ۔
٭…٭…٭



