کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

خلافت۔ خدا کا وعدہ

خدا نے تم میں سے بعض نیکوکار ایمانداروں کے لئے یہ وعدہ ٹھہرا رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین پر اپنے رسول مقبول کے خلیفےکرے گا انہیں کی مانند جو پہلے کرتا رہا ہے اور انکے دین کو کہ جو ان کے لیے اس نے پسند کرلیا ہے یعنی دین اسلام کو زمین پر جما دے گا اور مستحکم اور قائم کردے گا اور بعد اسکے کہ ایماندار خوف کی حالت میں ہوں گے یعنی بعد اس وقت کے کہ جب بباعث وفات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ خوف دامنگیر ہوگا کہ شاید اب دین تباہ نہ ہوجائے۔ تو اس خوف اور اندیشہ کی حالت میں خدائے تعالیٰ خلافت حقہ کو قائم کرکے مسلمانوں کو اندیشہ ابتری دین سے بے غم اور امن کی حالت میں کردے گا وہ خالصاً میری پرستش کریں گے اور مجھ سے کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ یہ تو ظاہری طور پر بشارت ہے مگر جیسا کہ آیات قرآنیہ میں عادت الٰہیہ جاری ہے اسکے نیچے ایک باطنی معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ باطنی طور پر ان آیات میں خلافت روحانی کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہریک خوف کی حالت میں کہ جب محبت الٰہیہ دلوں سے اٹھ جائے اور مذاہب فاسدہ ہر طرف پھیل جائیں اور لوگ روبہ دنیا ہوجائیں اور دین کے گم ہونے کا اندیشہ ہوتو ہمیشہ ایسے وقتوں میں خدا روحانی خلیفوں کو پیدا کرتا رہے گا کہ جن کے ہاتھ پر روحانی طور پر نصرت اور فتح دین کی ظاہر ہو۔ اور حق کی عزت اور باطل کی ذلت ہو۔ تا ہمیشہ دین اپنی اصلی تازگی پر عود کرتا رہے اور ایماندار ضلالت کے پھیل جانے اور دین کے مفقود ہوجانے کے اندیشہ سے امن کی حالت میں آجائیں۔

(براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۵۹تا۲۶۰)

مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button