حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

خلافت۔ اتحاد امت کا واحد حل

پس خلافت کے لیے اللہ تعالیٰ کے رحم نے جوش مارنا تھا نہ کہ حکومتوں کے خلاف مسلمانوں کے پُر جوش احتجاج سے خلافت قائم ہونی تھی۔ کیا ہر ملک میں خلافت قائم کریں گے؟ اگر کریں گے تو کس ایک فرقے کے ہاتھ پر تمام مسلمان اکٹھے ہوں گے۔ نماز میں امامت تو ہر ایک فرقہ دوسرے کی قبول نہیں کرتا۔

پس اس کا ایک ہی حل ہے کہ پہلے مسیح موعودؑ کو مانیں اور پھر آپ علیہ السلام کے بعد آپؑ کی جاری خلافت کو مانیں۔ یہ وہ خلافت ہے جو شدت پسندوں کا جواب شدّت پسندی کے رویّے دکھا کر قائم نہیں ہوئی۔ مسلم اُمہ کے دو گروہوں کے درمیان گولیاں چلانے اور قتل و غارت کرنے سے حاصل نہیں ہوئی بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے رحم کو جوش دلانے سے قائم ہونے والی خلافت ہے۔ اور جو خلافت اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کی عنایت سے ملے گی تو وہ نہ صرف مسلم اُمّہ کے لیے محبت پیار کی ضمانت ہو گی بلکہ کُل دنیا کے لیے امن کی ضمانت ہو گی۔ حکومتوں کو اُن کے انصاف اور ایمانداری کی طرف توجہ دلائے گی۔ عوام کو ایمانداری اور محنت سے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائے گی۔

پس جماعتِ احمدیہ تو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس تمام فساد کا جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے ایک ہی حل پیش کرتی ہے کہ خیرِ اُمّت بننے کے لیے ایک ہاتھ پر جمع ہو کر، دنیا کے دل سے خوف دور کر کے اُس کے لیے امن، پیار اور محبت کی ضمانت بن جاؤ۔ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے والے بن جاؤ۔ اس یقین پر قائم ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ اب بھی جسے چاہے کلیم بنا سکتا ہے تا کہ خیرِ اُمّت کا مقام ہمیشہ اپنی شان دکھاتا رہے۔ یہ سب کچھ زمانے کے امام سے جُڑنے سے ہو گا۔ اور یہی ایک ذریعہ ہے جس سے مسلمانوں کی حالت بھی سنورے گی۔

(خطبہ جمعہ ۲۵؍ فروری ۲۰۱۱ء، مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ ۱۸؍مارچ ۲۰۱۱ء)

مزید پڑھیں: خلافت سے جڑ کر رہنا ہی اصل چیز ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button