وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لیے
جماعت احمدیہ مسلمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا الٰہی نظام گذشتہ ۱۱۸؍سال سے اپنی تمام تر فیوض و برکات کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ یہ عظیم نعمتِ خداوندی ہے جو دنیا میں پھیلے ہوئے کروڑوں احمدیوں کو ایک ہاتھ پر جمع کیے ہوئے ہے اور ان کو اخلاقی اور روحانی بیماروں سے بچاتے ہوئے ان کے لیے تسکین اور چھاؤں کے سامان مہیا کرتا ہے۔
جہاں اللہ تعالیٰ نے آیت استخلاف میں اس نعمت کا وعدہ فرمایا ہے وہاں اس کے ساتھ ساتھ جماعتِ مومنین کی بھی یہ ذمہ داری قرار دی ہے کہ وہ خلیفہ وقت کی دل و جان سے اطاعت کریں۔ چنانچہ اطاعت کا یہ عہد شرائط بیعت میں ’’طاعت درمعروف‘‘ کے الفاظ میں موجود ہے۔ اسی طرح ذیلی تنظیموں کے عہدوں میں بھی ’’معروف فیصلوں کی پابندی‘‘ کرنے کا عہد لیا جاتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز دسویں شرط بیعت میں طاعت درمعروف کے الفاظ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اس نظام میں شامل ہو کر ایک بھائی چارے کارشتہ مجھ سے قائم کر رہے ہو…یہاں برابری کا تعلق اور رشتہ قائم نہیں ہو رہا بلکہ تم اقرار کر رہے ہو کہ …سر بلندی اور اسلام کواکناف عالم میں پہنچانے کے لئے پھیلانے کے لئے رشتہ جوڑ رہے ہیں۔ اس لئے یہ تعلق اس اقرار کے ساتھ کامیاب اور پائیدار ہو سکتا ہے جب معروف باتوں میں اطاعت کا عہد بھی کرو اورپھر اس عہدکومرتے دم تک نبھاؤ اورپھر یہ خیال بھی رکھو کہ یہ تعلق یہیں ٹھہر نہ جائے بلکہ اس میں ہر روزپہلے سے بڑھ کرمضبوطی آنی چاہئے اور اس میں اس قدر مضبوطی ہو اور اس کے معیار اتنے اعلیٰ ہوں کہ اس کے مقابل پر تمام دنیاوی رشتے، تعلق، دوستیاں ہیچ ثابت ہوں۔ ایسا بے مثال اورمضبوط تعلق ہو کہ اس کےمقابل پر تمام تعلق اور رشتے بےمقصد نظر آئیں …رشتہ داریوں میں کبھی کچھ لو اور کچھ دو، کبھی مانو اورکبھی منواؤ کا اصول بھی چل جاتا ہے۔ تویہاں یہ واضح ہو کہ تمہارا یہ تعلق غلامانہ اور خادمانہ تعلق بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ تم نے یہ اطاعت بغیر چون چرا کئےکرنی ہے۔‘‘(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں، صفحہ ۱۶۸،۱۶۷)
پس خلیفہ وقت کے تمام ارشادات، تحریکات اور فرمودات دراصل معروف کے زمرے میں آتے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہونا ہی ایک مومن کی زندگی میں کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کہیں خلیفہ وقت کی بات کو اہمیت نہ دی جائے اور اس کے ارشادات سے رو گردانی کی جائے تو اس کے خطرنات نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال جو ہمیں آج کل نظر آرہی ہے وہ دنیا کے خطرنات جنگی حالات کے حوالے سے ہے۔ ایک عرصے سے خلفائے کرام نے بارہا مختلف سربراہانِ مملکت اور چنیدہ حکمرانوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ وہ ایک ایسی خوفناک تباہی کو دعوت دے رہے ہیں جس کا سدّ باب نہ کیا گیا تو ایسے بھیانک نتائج ظاہر ہوسکتے ہیں جو نسل در نسل نقصان کا موجب بن سکتے ہیں۔ بالخصوص خلافت خامسہ میں امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں دنیا کے کونے کونے میں اس انتباہ کو بارہا بیان فرمایا ہے اور ہر ممکن ذریعہ سے دنیا کو خبردار کرنے کی بھرپور کوشش فرمائی ہے۔ تاہم جیسا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حالیہ خطاب برموقع پیس سمپوزیم میں فرمایا کہ افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ دنیا نے اس پیغامِ امن پر کان نہیں دھرا جس کی وجہ سے آج کی مخدوش صورتحال ظاہر و باہر ہے۔
تاہم خدا تعالیٰ کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔چنانچہ زمین پر اس کا نمائندہ آج دنیا کو عموماً اور اُمّتِ مسلمہ کو خصوصاً پکار پکار کر حصارِ عافیت میں آنے کی دعوت دے رہا ہے ۔ کاش کہ وہ اس آسمانی صدا کو سنیں اور تباہی سے بچیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے کس درد سے فرمایا کہ ’’ہمیں دعائیں بھی کرنی چاہئیںکہ اللہ تعالیٰ مسلم دنیا کو اس بدامنی اور فساد سے بچائے اور محفوظ رکھے اور مسلمان دنیا اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پُرامن ہو جائیں اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں۔ یہی ان کی اسلامی تعلیم ہے نہ یہ کہ وہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے والے ہوں۔پس ہمارا یہی کام ہے اور ہم ایک عرصے سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنوں اور غیروں دونوں کو ظلم سے روکنے کے لیے آگاہی دینی ہے،ان کو ہوشیار کرنا ہے کیونکہ یہ ظلم اب جس طرح روز بروز بڑھتا جارہا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ وسیع پیمانے پر جنگ عظیم ہونی ہے بلکہ بعض مغربی تبصرہ نگاروں کے نزدیک تو عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے۔مَیں بھی یہی کہتا ہوں کہ شروع ہو چکی ہے۔لیکن اگر اب بھی مسلمان دنیا عقل سے کام لے، ہوش کرے، ایک ہو جائے اور آپس میں سرجوڑ لے تو وہ اب بھی دجال کے فتنوں سے محفوظ رہ سکتی ہے۔…
مَیں ایک عرصے سے لوگوں کو توجہ دلاتا رہا ہوں۔وہی لوگ جو اس وقت میری باتیں سن کے کہا کرتے تھے کہ تم دنیا کے بارے میں بہت مایوس کن باتیں کرتے ہو،منفی قسم کا تصوّر رکھتے ہو کہ دنیا خطرناک جنگ میں شامل ہو جائے گی آج وہی لوگ خود کہنے لگ گئے ہیں کہ چند سال پہلے جس چیز کو ہم ناممکن سمجھتے تھے اب وہی چیز ممکن بن گئی ہے اور جنگیں شروع ہو چکی ہیں۔…
ہمارا کام تو یہی ہے کہ خاص طور پر مسلمان دنیا اور معصوموں کے لیے دعا کریں۔ … اُمّتِ مسلمہ کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقل دے کہ دنیا میں اور خاص طور پر مسلم دنیا میں امن قائم ہو سکے۔… اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی رنگ میں دعاؤں کی توفیق بھی عطا فرمائے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۶؍مارچ ۲۰۲۶ء)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ’’آسماں پر اِن دنوں قہرِ خدا کا جوش ہے‘‘




