خلیفہ خدا بناتا ہے
سارا عالم زور لگا لے اور خلیفہ بنا کر دکھا دے، وہ نہیں بنا سکتا، کیونکہ خلافت کا تعلق خدا کی پسند سے ہے
آج کی فرصت میں یہ ثابت کرنا مقصود ہےکہ خلیفہ خود اللہ تعالیٰ بناتا ہے۔ خلیفہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کو اللہ تعالیٰ نبوت کے مقام پر فائز کرتا ہے۔ اسے خدا براہِ راست الہام کرکے منتخب کرتا ہے۔ دوسرا وہ جسے نبی کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کی جماعت سے انتخاب کرواتا ہے۔ اور وہ انتخاب خدا ہی کا انتخاب ہوتا ہے۔ مگر کیوں؟
بخاری کتاب الجنائز بَابُ ثَنَاءِ النَّاسِ عَلَی الْمَیِّتِ میں حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ۔ ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَی فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ وَجَبَتْ۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَاوَجَبَتْ؟ قَالَ هَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَهَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللّٰهِ فِي الْأَرْضِ۔ یعنی وہ (آنحضور ﷺ اور بعض صحابہؓ ) ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو صحابہؓ نے اس میّت کی تعریف کی کہ اچھا آدمی تھا۔ آنحضورﷺ نے فرمایا’ واجب ہوگئی‘۔ پھر ایک اور جنازے کے پاس سے گزرے تو صحابہؓ نے اس میّت کے بارے میں بُرے رنگ میں ذکر کیا تو آنحضور ﷺ نے فرمایا’واجب ہو گئی‘۔ اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کی : کیا واجب ہو گئی؟ آپﷺ نے فرمایا جس کی تم نے تعریف کی اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم نے بُرائی بیان کی، اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی۔ تم زمین پر خدا کے گواہ ہو۔
اِس حدیث سے روزِروشن کی طرح واضح ہے کہ نبی کی تربیت سے ایک ایسی جماعت پیدا ہو جاتی ہے جو اللہ والوں کی جماعت ہوتی ہے۔ اگرچہ اِس میں کمزور بھی ہوتے ہیں مگر مِنْ حَیْثُ الْجَمَاعَۃ وہ جماعت ایسی ہوتی ہے کہ جن کی مرضی خدا کی مرضی ہوتی ہے اور یہ اِس با ت کا بھی ثبوت ہوتا ہے کہ نبی اپنے مشن میں خدا کے فضل سے کامیاب و کامران ہو کر اِس دنیا سے رخصت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کے بعد خلیفہ کا انتخاب اللہ تعالیٰ اِس جماعت کے سپرد فرماتا ہےکیونکہ وہ اسی کو چنتے ہیں جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہو تا ہے۔ لہٰذا یہ حقیقت ہے کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔
آنحضرت ﷺ نے اسی لیے اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کے بارے میں فرمایا تھا: یَاْبَی اللّٰہُ وَالْمُوْمِنُوْنَ اِلَّا اَبَابَکْرٍ ( صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ) کہ میرےبعد اللہ اور مومن ابو بکر کے سوا کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔ یہاں اللہ کے ساتھ المومنون بھی فرمایا جس سے واضح ہے کہ مومنین انتخاب کریں گے مگر وہ انتخاب اللہ تعالیٰ ہی کا ہو گا۔
اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں میں ایک تو عمومی طور پر ڈالتا ہے کہ کس کاانتخاب کریں، نیز بعض مومنوں کو بذریعہ کشف و رؤیا، قبل از وقت بتا دیتا ہے کہ کون خلیفہ ہو گا۔ بعض اوقات کئی دن، کئی ماہ،کئی سال پہلے خبر دے دیتا ہے۔ جن کو خبر دیتا ہےوہ اسے اپنے تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ یا شاذ کے طور پر کسی قابل اعتماد قریبی کو بتا دیتے ہیں جو اپنے تک محدود رکھتا ہے۔ پھر موقع آنے پر وہی بزرگ خلیفہ منتخب ہو جا تا ہے۔
اگرچہ ہر خلیفہ کے بارے میں کثرت سے ایسے رؤیا و کشوف ہیں، مگر اختصار کی غرض سے ذیل میں خلفاء المسیح کے بارے میں ایک ایک مثال پیش کردی جاتی ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کے بارے میں حضرت مستری حسن الدین صاحبؓ آف سیالکوٹ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا :’’ ایک دالان کے اندر مع بہت سے دوستوں کے بیٹھا ہوں۔ درمیان دالان کے آنحضرت ﷺتشریف رکھتے ہیں۔ نو کر کھانا لایا۔ میں نے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ نے کھانا تنا ول فرما لیا ہے؟ نوکر نے کہا۔ ابھی نہیں۔ میں نے ادب کے لیے کھانا ر کھ دیا۔ پھر دیکھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ کی شکل حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کی ہوگئی۔ میں بڑا خوش ہؤا اور نیند کھل گئی‘‘ ( اخبار البدر نمبر ۸ مورخہ ۱۸؍ فروری۱۹۰۹ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے بارے میں چودھری غلام رسول صاحب چک نمبر ۹۹ شمالی سرگودھا بیان کرتے ہیں کہ ’’میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے مندرجہ ذیل خواب اسی طرح دیکھا ہے : ’’ ہم گھٹیالیاںضلع سیالکوٹ میں ہی تھے اور ابھی خلیفۃ المسیح الاولؓ زندہ تھے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ احمدیہ چوک قادیان میں کھڑا ہوں اور ارد گرد دکانیں سناروں کی معلوم ہوتی ہیں، اور دکانوں میں چاندی کے بہت سے تیار شدہ زیور پڑے ہیں، اور کچھ تیار کیے جا رہے ہیں، اور کچھ سونے کے زیور بھی ہیں۔ ا ن میں سے ایک سنار مسمّٰی رمضان ہے جو کہ ہمارا واقف ہے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ایک جانب سے آ نکلے ہیں(اس وقت ہم حضرت صاحب کو میاں صاحب کہتے تھے) کہ کسی نے ہاتھ سے میاں صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہا : ابنِ مسعود خلیفہ ہو گیا ہے۔‘‘( بشارات رحمانیہ صفحہ ۲۸۵)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒکے بارے میں تنزانیہ مشرقی افریقہ کے شیخ یو سف عثمان کا مبا ا ُلا یا صاحب جو اس وقت جامعہ احمدیہ ربوہ میں طالب علم تھے بیان کرتے ہیں: ’’ میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر عرض کرتا ہوں کہ جس رات حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کی طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی،میں رات کو درد دل سے دعا کر کے سویا۔ رات ایک بجے خواب میں دیکھا کہ حضور وفات پا چکے ہیں اور نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے ممبر ایک جگہ جمع ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ میں بھی ممبر ہوں۔ ہم رو رہے تھےکہ اچانک ایک بورڈ سامنے لایا گیا جس پر لکھا تھا :’’مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ ثالث ہو گئے ہیں۔ ‘‘میں گھبراہٹ میں اٹھا کہ تہجد پڑھوں۔ ۲ گھنٹے بعد حضور کی وفا ت کی خبر ملی‘‘ (جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارے میںکشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے صفحہ۲۹۷)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکے متعلق ثاقب زیروی صاحب سابق مدیر رسالہ لاہور بیان کرتے ہیں : ’’ہم حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ کی وفات کا سن کر لاہور سے ربوہ پہنچے۔ ۹؍جون ۱۹۸۲ء کی رات تھی۔ میں نے اڑھائی بجے وضو کرکے نفل پڑھنے شروع کیے اور بڑے الحاح سے اپنے ربّ سے جماعت کے سربراہ کے بارے میں التجائیں کیں،جن کے دوران مجھے بڑے زور سے آواز آئی کہ : ’’ابن ِمریم آرہا ہے۔‘‘انتخاب کے بعد یہ عقدہ کھلا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کی والدہ کا نام مریم تھا،اس لیے آپ کے ابن ِمریم ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ‘‘ (ہفت روزہ لاہور ۲۹ نومبر ۱۹۹۷ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بارے میں محترم الشيخ محمد شریف عودہ صاحب امیر جماعت احمدیہ فلسطین عربی زبان میں اپنے مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ مئی۲۰۰۲ء میں ایک فلسطینی دوست (امجد کَمِیْل صاحب) سے رابطہ کیا اور کہا کہ امسال آپ جلسہ سالانہ برطانیہ میں شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں استخارہ کر کے بتاؤں گا۔ چند دن بعد انہوں نے بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ لندن گیا ہوں اور خلیفہ وقت سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔ لیکن حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ سے نہیں، بلکہ کوئی اَور خلیفہ ہیں۔ پھر اس خلیفہ کا حلیہ بیان کرنا شروع کر دیا کہ ان کی داڑھی چھوٹی ہےآنکھیں اس طرح کی ہیں وغیرہ۔ اپریل ۲۰۰۳ء میں قیام خلافت خامسہ کے بعد فلسطین میں… مکرم امجد کمیل صاحب سے ملاقات ہوئی، ان کو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ايدہ اللہ تعالی ٰبنصرہ العزیز کی تصویر دکھائی تو بےساختہ کہنے لگے : یہ تو وہی ہیں جن سے میں نے رؤیا میں ملاقات کی تھی حتّٰی کہ کوٹ اور کرسی بھی وہی ہیں۔ ‘‘( البدر قادیان مئی ۲۰۰۵ء صفحہ ۲۷)
ان رؤیا اور کشوف سے صفائی کے ساتھ ثابت ہو جاتا ہے کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔
ایک دفعہ کسی نے حضرت مسیح موعودؑ سے پوچھا کہ آنحضورﷺ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد کیوں نہ کیاتو حضورؑ نے فرمایا : ’’اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپﷺ کو خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرما دے گا، کیونکہ یہ خدا کا کام ہے اور خدا کے کام میں نقص نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکرؓ کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب سے پہلے حق انہی کے دل میں ڈالا‘‘۔ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۵۲۴)
ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے
آنحضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے : مَاکَانَتِ النُّبُوَّۃُ قَطُّ اِلَّا تَبِعَتْھَا خِلَافَۃٌ (الجامع الصغیر للسیوطی) یعنی ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے امتِ محمدیہ کی قیامت تک کی تاریخ کا خلاصہ یوں بیان فرمایا ہے: تَكُوْنُ النُّبُوَّةُ فِيْكُمْ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ تَكُوْنَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللّٰہُ تَعَالیٰ۔ ثُمَّ تَكُوْنُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ تَكُوْنَ۔ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللّٰہُ تَعَالیٰ۔ ثُمَّ تَكُوْنُ مُلْكًا عَاضًّا فَتَكُوْنُ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ تَكُوْنَ۔ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللّٰہُ تَعَالیٰ، ثُمَّ تَكُوْنُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَیَكُوْنُ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ یَّكُوْنَ۔ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللّٰہُ تَعَالیٰ۔ ثُمَّ تَكُوْنُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ۔ ثُمَّ سَكَتَ۔ (مسند احمد۔ مشکٰوۃ ) ترجمہ :تم میں نبوت رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا۔ (یہاں رفع کا لفظ قابل غور ہے)۔ پھر تَكُوْنُ مُلْكٌ عَاضٌّ نہیں بلکہ مُلْكًا عَاضًّا فرمایا۔ یہاں مُلْكًا منصوب ہے جو تَکُوْنُ کی خبر ہے، تَکُوْنُ کا اسم ضمیر مستتر ھِیَ کا مرجع خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ہے، یعنی پھر خلافت مُلْكًا عَاضًّا (کاٹ کھانے والی بادشاہت) میں بدل جائے گی(یعنی وہ بادشاہ اپنے آپ کو خلیفہ کہتے رہیں گے، مگر وہ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ نہ ہوگی بلکہ بادشاہت ہوگی)۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر یہ (کاٹنے والی بادشاہت) جبری بادشاہت میں بدل جائے گی۔ اور اس وقت تک رہے گی جب تک خدا چاہے گا۔ ثُمَّ تَكُوْنُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ یعنی پھر خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ہو گی۔
یہاں ثُمَّ تَكُوْنُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ نہیں فرمایا بلکہ ثُمَّ تَكُوْنُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ فرمایا یعنی جبری بادشاہت خلافت میں تبدیل نہیں ہوگی، بلکہ یہ آخری زمانے کی خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ قائم ہو گی۔ مطلب یہ ہے کہ پھر آنحضرت ﷺ کی بعثتِ ثانیہ ہو گی۔ جیسا کہ سورۃ الجمعہ میں وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ میں پیشگوئی ہے۔ اور پھر اس ظلی نبوت کے بعد خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ قائم ہو گی کیونکہ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ سے پہلے نبی کا آنا ضروری ہوتا ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۰؍اپریل ۱۹۹۳ء میں فرماتے ہیں : ’’ خلافت سے پہلے لازم ہے کہ نبوت ہو۔ نبوت کے بغیر خلافت کا وجود ممکن ہی نہیں۔ اور نہ خلافت دنیا میں قائم کی جا سکتی ہے، کیونکہ نبوت ہی ایک منصب ہے جو براہِ راست خدا تعالیٰ کی طرف سے قیام میں لایا جاتا ہے۔ اور اس پر ایسا شخص فائز فرمایا جاتا ہے جو خدا کی نظر میں سب سے معزز ہو۔ اور وہ صاحب تقویٰ ہوتا ہے۔ پس جب تک بگڑے ہوئے نظام پر خدا کا نمائندہ پہلے مقرر نہ کیا جائے،انتخابی اداروں میں یا انتخابی نظام میں تقویٰ داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے دنیا میں کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ سارا عالم زور لگا لے اور خلیفہ بنا کر دکھا دے، وہ نہیں بنا سکتا، کیونکہ خلافت کا تعلق خدا کی پسند سے ہے۔ اور خدا کی پسند خود انگلی رکھتی ہے اس شخص پر جسے وہ صاحب تقویٰ سمجھتا ہے، اور اس کے بعد وہ متقیوں کا ایک گروہ اپنے گرد پیدا کرتا ہے،وہ دہی ایک قطرے کی طرح دودھ میں جاگ بن جاتا ہے۔ اور جو بھی لوگ اس کے گرد اکٹھے ہوتے ہیں، وہ نبی کے تقویٰ سے تقویٰ پاکر متقی ہونے شروع ہو جاتے ہیں،پھر ان کا انتخاب خدا کا انتخاب کہلاتا ہے۔‘‘
آخری زمانے میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے بعد کیا ہوگا ؟ حدیث میں ہے: ثُمَّ سَكَتَ یعنی پھر آنحضرت ﷺ خاموش ہو گئے۔ اِس خلافت کے بعد پھر یہ نہیں فرمایا کہ یہ خلافت بادشاہت میں تبدیل ہو جائے گی۔ حکومتیں بے شک آئیں گی، مگر خلافت اپنی جگہ الگ طور پر قیامت تک قائم رہے گی،اور حکومتیں احمدی ہونے کی وجہ سے خلیفۃ المسیح کی اطاعت شعار ہوں گی۔
یہ بھی بڑی عظیم الشان بات ہے کہ خلیفہ علی وجہ البصیرت جانتا ہے کہ خدا نے ہی اسے خلیفہ بنایا ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے فرمایا: ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے، جس طرح آدمؑ اور ابو بکرؓ اور عمرؓ کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا۔ جب میں مرجاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہوگا جسے خدا تعالیٰ چاہے گا، اور خدا اس کو آپ کھڑا کرے گا۔ ‘‘ (بدر، ۴؍جولائی۱۹۱۲ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ بیان فرماتے ہیں : ’’میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی انسان سے خلافت کی تمنا نہیں کی۔ اور یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ وہ مجھے خلیفہ بنا دے۔ یہ اس کا اپنا فعل ہے۔ یہ میری درخواست نہ تھی… مجھے اس نے اس طرح خلیفہ بنایاجس طرح پہلوں کو بنایا۔ ‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا: ’’اس [خدا تعالیٰ]نےمجھے بڑے پیار سے فرمایا:یَا دَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ۔ پس میں خلیفہ اس لئے نہیں ہوں کہ تم میں سے کسی گروہ نے مجھے منتخب کیا ہے۔ میں خلیفہ اس لئے ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے منتخب کیا اور خلیفہ بنایا اور پیار کے ان الفاظ سے یاد فرمایا ہے۔‘‘ (خطباتِ ناصر -جلد ۴، صفحہ ۹۸)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں : ’’میں جانتا ہوں کہ خدا نے جماعت کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ہے۔ اس لیے جو جس رنگ میں مَیں تربیت کرنا چاہتا ہوں، اسی رنگ میں ہونی چاہئے۔ جب خدا میرے بعد کسی اور کو خلیفہ بنائے گا تو پھر اس کے اوپر ذمہ داری ہوگی‘‘( خطباتِ طاہر۔ جلد ۷ صفحہ۱۱۲، خطبہ جمعہ ۲۶؍ فروری ۱۹۸۸ء)
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے خلیفہ چن لیتا ہے۔ وہ ایک گمنام آدمی کو دنیا کی ایک معروف شخصیت بنا دیتا ہے۔ کون ہے جو مجھے میری خلافت سے قبل جانتا تھا؟کوئی بھی نہیں۔ لیکن کسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ یہ ذمہ داری مجھ پر ڈالے، سو اُس نے جماعت کے لوگوں کی اس طرف راہنمائی کی۔‘‘(الفضل انٹرنیشنل ۱۷؍دسمبر۲۰۲۱ء صفحہ۱۱)
اوپر ذکر ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری زمانے میں پھر خلافت علی منہاج النبوۃ کے انعقاد کے ذکر کے بعد خاموش ہو گئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ آخری زمانے کی خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ دائمی ہو گی، وہ بادشاہت میں تبدیل نہیں ہوگی۔ اگرچہ حضرت مسیح موعو دؑ کی جماعت کو تین صدیوں میں عالمی غلبہ کامل طور پر نصیب ہو جائے گا۔ حکومتیں بھی ملیں گی مگر خلافت علی منہاج النبوۃ اپنی جگہ قائم و دائم رہے گی اور سب حکومتیں چونکہ خلیفۃ المسیح کی پیرو ہوں گی لہذا سب ان کی ہدایات پر عامل ہوں گے۔
حضرت مسیح موعودؑ اپنے بعد خلافت کے دوام کی بشارت دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ’’سو اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو۲ قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو۲ جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا وے سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لیے تم میری اس بات سے جو مَیں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا‘‘۔ (رسالہ الوصیت،روحانی خزائن جلد۲۰صفحہ۳۰۵)
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺکے وصال کے معاً بعد جو خلافت راشدہ حسبِ آیتِ استخلاف جاری ہوئی وہ تو صرف تیس سال رہی۔ کیا وجہ ہے کہ آخری زمانے کی خلافت علی منہاج النبوۃ دائمی ہوگی؟
اس تعلق میں یہ یاد رہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ آپﷺ کی بعثت کے بعد قیامت تک ممتد ہے۔ وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ (سورۃالجمعہ) اس کی نصّ ہے کہ آپﷺ کے بروز اور ظل حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت آنحضرتﷺ کی جماعت ہے۔ پھر دونوں زمانوں میں خلافت کے بارے میں الگ الگ پیشگوئیاں بھی آنحضرتﷺ ہی نے فرمائی ہیں۔ آیت ِاستخلاف پر غور کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔
خلافتِ راشدہ حضرت علیؓ کے بعد کیوں بند ہو گئی، اس تعلق میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: ’’اگر خلافت کا مسلمانوں سے وعدہ تھا تو حضرت علیؓ کے بعد خلافت کیو ں بند ہوگئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وعدہ شرطی تھا۔ آیت کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ یہ وعدہ ان لوگوں کے لیے تھا جو خلافت پر ایمان رکھتے ہوں گے اورحصول خلافت کے لیے جو مناسب قومی اعمال ہوں گے وہ کرتے رہیں گے۔ کیونکہ یہاں اٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِکے الفاظ ہیں اور صَلُحَ کے معنے عربی زبان میں ایسے کام کے ہوتے ہیں جو مناسب ِحال ہو۔ چونکہ اس آیت میں خلافت کا ذکر ہے اس لیے اٰمَنُوْا سے مراد اٰمَنُوْا بِالْخلَافَۃِ ہے اور عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سے مراد عَمِلُواعَمَلًامُنَاسِبًا لِـحُصُوْلِ الْخلَافَۃِ ہے۔ اگر یہ شرط پوری نہ ہوگی تو خدا تعالیٰ کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوگا، حضرت علیؓ کے بعد صرف لفظ خلافت باقی رہ گیا تھا، لیکن عملاً بادشاہت قائم ہوگئی اور خلافت کے لیے جو شرط ہے کہ تبلیغ دین اور تبلیغ اسلام کرے وہ مٹ گئی تھی۔ پس شرط کے ضائع ہونے سے مشروط بھی ضائع ہو گیا۔ اور خدا تعالیٰ کا وعدہ ٹل گیا۔ ‘‘ ( تفسیر کبیر جلد۸ سورۃالنور۔ صفحہ ۶۰۳)
خلافتِ راشدہ کے قریباً تیس سال کے بعد بند ہو جانے کی وجہ تو معلوم ہو گئی۔ آنحضرت ﷺکی بعثت ثانیہ کے بعد خلافت دائمی ہونے کی وجہ آنحضرت ﷺکی ایک حدیث سے واضح ہو جاتی ہے۔ جو یہ ہے: عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اَنَّہُ قَالَ لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ۔( بخاری کتاب الادب۔ باب لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ) یعنی مومن ایک بِل میں دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔
پس جب مومنین کی جماعت ایک دفعہ خلافت کی نعمت پانے کی شرائط ضائع کرنے پر ڈسی گئی اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کھو بیٹھی تو اب دوسری بار آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ڈسی نہیں جائے گی۔
پس آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ میں آپ ﷺکی جماعت کے خلافت کی نعمت کے تعلق میں نہ ڈسے جانے کا معاملہ بالکل واضح ہے، اور یہ بھی آنحضرتﷺ کی صداقت کی بیّن دلیل ہے۔
اوپر ذکر ہوا تھا کہ رسول اللہﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ مَاکَانَتِ النُّبُوَّۃُ قَطُّ اِلَّا تَبِعَتْھَا خِلَافَۃٌ یعنی ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ دلچسپ بات ذکر کردینے کے لائق ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے بیان فرمائی جو درج ذیل ہے : ’’گجرات کے دوستوں نے سنایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہوئے توایک اہل حدیث مولوی نے ہمیں کہا : اب تم لوگ قابو آئے ہو، کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہے اور تم میں خلافت نہیں ہو گی۔ تم لوگ انگریزی دان ہو، اس لیے خلافت کی طرف تم نہیں جاؤ گے۔ وہ دوست بتاتے ہیں کہ دوسرےدن تار موصول ہوئی کہ جماعت نے حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کی بیعت کرلی ہے اور ان کو اپنا خلیفہ بنالیا ہے۔ جب احمدیوں نے اُس مولوی کو بتایا تو کہنے لگا : نورالدین بڑا پڑھا لکھاآدمی تھا اِس لیے اُس نے جماعت میں خلافت قائم کر دی، اگر اس کے بعد خلافت رہی تو پھردیکھیں گے۔ جب حضرت خلیفہ اوّل فوت ہوئے تو کہنے لگا اُس وقت اور بات تھی اب کوئی خلیفہ بنے گا تو دیکھیں گے۔ دوست بتاتے ہیں کہ اگلے دن تار پہنچ گئی کہ جماعت نے میرےہاتھ پر بیعت کر لی ہے۔ اس پر کہنے لگا : یا روتم بڑے عجیب ہو، تمہارا کوئی پتہ نہیں لگتا۔ ‘‘ (انوار العلوم جلد ۱۸ صفحہ ۲۴۲)
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بجائے مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت پر ایمان لاتے، یہ کہہ کر کہ ’’تم بڑے عجیب ہو، تمہارا تو پتہ ہی نہیں لگتا ‘‘اپنے ہی عقیدے کو ٹھکرا دیا۔
خلیفہ خدا بناتا ہے کہ بارے میں عاجز کا ذاتی تجربہ
۱۹۶۵ء میں جب حضرت مصلح موعودؓ کی وفات ہوئی، عاجز اُس وقت پاکستان آیا ہوا تھا، اور انتخابِ خلافت کمیٹی کا ممبر بھی تھا۔ عاجز کے والد صاحبؓ بھی ممبر تھے۔ دل و دماغ میں یہ بات خوب راسخ تھی کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔ جب سب انتظامی امور مکمل ہونے کے بعد عاجز مسجد مبارک میں داخل ہوا تو اپنے والد صاحب محترم سے کافی دور بیٹھا تاکہ ان کی رائے سے متاثر نہ ہُوں، اور ان کی طرف دیکھتا بھی نہ تھا۔ گردن جھکائے خدا کے حضور دعا میں منہمک تھا کہ خدایا !مجھے تو کچھ علم نہیں کہ کون خلیفہ ہو، خلیفہ تو تُو خود بناتا ہے۔ میری نصرت فرما میں اپنے آپ کو تیرے حضور surrenderکرتا ہوں۔ پھر جب نام پیش ہوئے تو عاجز کا اضطراب اور بھی بڑھ گیا اور الحاح سے خدا کے حضور عرض کی کہ خدایا مجھے علم نہیں کہ کس کے حق میں ووٹ دوں۔
ابھی اعلان ہو رہا تھا کہ کوئی اور نام، کوئی اور نام۔ پھر کچھ مزید وقت بھی اللہ کے حضور عاجزی کا میسّر آیا اور عرض کیا کہ خدایا مجھے کچھ علم نہیں کہ کیا کروں۔ پھر جب ووٹ دینے کا موقع آیا تو صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے نام پر میرا ہاتھ خود بخود اُوپر ہو گیا۔اس وقت عاجز نے اپنے والد صاحب کی طرف دیکھا، ان کا ہاتھ بھی کھڑا تھا۔ دل کو ناقابل بیان سکینت حاصل ہوئی الحمدللہ، الحمدللہ،الحمد للہ۔
پس جب درحقیقت خدا ہی خلیفہ بناتا ہے تو ظاہر ہے خلیفہ کا مقام و مرتبہ کیا ہوگا۔ وہ کس قدر مومنین کی جماعت کو پیارا ہوگا، کس قدر اس کا ادب دل کی گہرائیوں میں راسخ ہوگا اور کس قدر خلیفہ وقت کی اِطاعت کا جذبہ مومنین کے دلوں میں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ خلافت کے دامن سے وابستہ رکھے۔ ہماری اولاد در اولاد کو تا روز قیامت خلافت سے چمٹا رہنے کی توفیق سے نوازے۔ دینی معاملات اور دنیوی زندگی کے معاملات میں بھی خلیفہ وقت سے رابطہ رکھیں۔ ان کی دعائیں لیں۔ خلیفہ وقت کی دعائیں، مقبول دعائیں ہیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لیے




