الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
جماعت کی ترقی، خلافت سے وابستہ ہے
ہمارا ایمان ہے کہ جماعت احمدیہ کی تمام ترقیات خلافتِ احمدیہ سے ہی وابستہ ہیں۔ یہ کوئی لفظی دعویٰ یا کھوکھلا نعرہ نہیں ہے بلکہ خلافتِ احمدیہ کے آغاز سے ہی خلفائے کرام نے اپنے عارفانہ کلام کے پانی سے ہمارے ایمان کے اس درخت کی آبیاری کی ہے اور الٰہی بشارتوں اور وعدوں کا ذکرکرکے اس امرکو ہمارے دلوں میں راسخ کردیاہے۔ سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’تم خوب یادرکھو کہ تمہاری ترقیات خلافت کے ساتھ وابستہ ہیں اور جس دن تم نے اس کو نہ سمجھا اور اسے قائم نہ رکھا وہی دن تمہاری ہلاکت اور تباہی کا دن ہوگا۔ لیکن اگر تم اس کی حقیقت کو سمجھے رہو گے اور اسے قائم رکھو گے تو پھر اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں ہلاک کرنا چاہے گی تو نہیں کرسکے گی اور تمہارے مقابلہ میں بالکل ناکام و نامراد رہے گی۔‘‘
مجلس انصاراللہ برطانیہ کے رسالہ ’’انصارالدین‘‘ برائے ستمبر و اکتوبر ۲۰۱۴ء میں مکرم عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن کی جلسہ سالانہ یوکے کے موقع پر کی جانے والی ایک تقریر شامل اشاعت ہے جس میں وہ اپنے مشاہدات کی روشنی میں احمدیوں کے دلوں میں خلافت احمدیہ سے عشق اور غیروں کے دلوں میں خلافت احمدیہ کے احترام کے واقعات کا بیان کرتے ہیں۔
براعظم افریقہ کے چند نورانی چہرے والوں کا آنکھوں دیکھا حال آپ کو بتاتاہوں۔ ۲۰۰۸ء کے جلسہ سالانہ گھانا میں وہاں قریباً ایک لاکھ کا مجمع تھااور افریقہ کے مختلف ممالک سے لوگ جلسہ میں شمولیت کے لیے وہاں پہنچے تھے۔ جب حضورانور نمازوں کی ادائیگی کے بعد اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوتے جو کہ جلسہ گاہ کے اندرہی قریباً ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ پر تھی تو راستے کے دونوں اطراف مرد اور خواتین اور بچے دیوانہ وار اکٹھے ہوجاتے۔ حضورانور کی گاڑی آہستہ آہستہ چل رہی ہوتی۔ لوگ مسلسل نعرے لگاتے اور خواتین سفید رومال لہراکر اپنی عقیدت اور فدائیت کا اظہار کرتیں۔ اس جوش، جذبے اور ولولے کے ساتھ نعرے لگائے جاتے کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ اپنے آقاکی ایک جھلک دیکھنے کے خواہاں ان عشاق کاایک جم غفیر ہوتا۔ خواتین اس بات کے لیے تڑپ رہی ہوتیں کہ حضورانور کی ایک نظر اُن کے بچوں پر پڑجائے اوروہ بھی خلافت کی برکتوں سے حصہ لینے والے بن جائیں۔ افریقہ کے مختلف ممالک میں ہم نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ راستے پر چلتے ہوئے جب حضورانور بچوں کو پیار کرتے، ان کے سروں پر ہاتھ رکھتے اور بچوں کو اپنے ساتھ لگاتے تو مائیں فرطِ جذبات سے روتے ہوئے ان بچوں کو اُس جگہ سے چومنے لگتیں جہاں حضورانور کا ہاتھ لگا ہوتا۔
اس جلسے پر برکینا فاسو سے تین سو خدام انتہائی خستہ حال سائیکلوں پر سولہ سو کلومیٹر سے زائد کا بڑا تکلیف دہ اور انتہائی کٹھن سفر طے کرکے گھانا آئے تھے۔ ان سائیکل سواروں میں تیرہ سا ل کی عمر کے دو بچے بھی شامل تھے۔
ایک شام برکینافاسو اور آئیوری کوسٹ سے آنے والے چار ہزار سے زائد احباب کی حضورانور سے ملاقات تھی۔ یہ لوگ شرف مصافحہ حاصل کرنے کے بعد اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر اور اپنے سینوں پر پھیرتے اورروتے ہوئے کہتے جاتے کہ آج ہمارے سینے برکتوں سے بھرگئے ہیں۔ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہم نے اپنے آقا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ایک صاحب کہنے لگے کہ ’’نور ہی نور ہے۔‘‘ برکینا فاسو سے آنے والے ایک صاحب نے مصافحہ کرنے کے بعد اپنے ہاتھ پر کپڑا باندھ لیا تاکہ خلیفہ وقت کے وجود سے جو برکت ملی ہے وہ دُور نہ ہوجائے۔
گیمبیا کا ایک وفد بس کے ذریعہ افریقہ کے گرم موسم میں مسلسل پانچ روز میں سات ہزارکلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرکے پہنچا تھا۔ اس وفد کے ایک ممبر نے بتایاکہ ہم لوگ منگل کی رات گیارہ بجے جلسہ گاہ پہنچے تو سفر کی سختی اور گرمی سے نڈھال تھے۔ تھکان سے چور تھے۔ لیکن اگلے روز جب حضورانور نماز پڑھانے کے لیے جلسہ گاہ تشریف لائے تو حضورانور کے چہرے پر نظر پڑتے ہی ہماری ساری تھکان دُور ہوگئی۔ سفر کی سختی جاتی رہی اورساری تکلیفیں بھول گئیں۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ میں پہلی بار حضورکو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں اور میرے لیے ناممکن ہے کہ اپنے دل کی اس کیفیت کو بیان کرسکوں۔کہنے لگے کہ ٹی وی تو وہ نور دکھاہی نہیں سکتا جو آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔
پھر عرب ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک انقلاب برپا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں آتا جس میں عربوں کی طرف سے بیعتیں نہ ملتی ہوں۔ جہاں وہ رؤیا اور خوابوں کے ذریعہ احمدیت قبول کرتے ہیں وہاں حضورانور کے خطبات، خطابات اور عربی زبان میں خطاب نے ان کی زندگیوں میں ایک روحانی انقلاب برپا کردیاہے۔ ان لوگوں میں ایک کثیر تعداد خلافت سے وابستہ نشانات دیکھ کر قبولِ احمدیت کی توفیق پارہی ہے۔ چنانچہ ملک الجزائر سے تعلق رکھنے والی ایک نو احمدی خاتون نادیہ کاظمی صاحبہ نے حضورانورسے ملاقات میں اپنی والدہ کی کینسر کی بیماری کے لیے دعا کی درخواست کی جس پر حضورانور نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ صحت دے گا اور فضل کرے گا۔‘‘ اور ساتھ ہی حضورانور نے ان کی والدہ کے لیے ’’الیس اللہ‘‘ والی ایک انگوٹھی بھی دی جو ان کی والدہ نے پہن لی۔ کچھ عرصے بعد جب ان کی والدہ چیک اپ کے لیے گئیں تو ڈاکٹرز نے بتایاکہ ان کو اب کسی قسم کے ٹیسٹ یا کیموتھراپی کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی صحت اب کینسرہونے سے پہلے کی صحت سے بھی زیادہ اچھی اور بہتر ہے۔ خلیفۃالمسیح کی دعا کی قبولیت کے اس نشان نے ان کے سارے خاندان کے دلوں کو بدل دیا اور اس نشان کو دیکھ کر۳۶؍افراد پر مشتمل سارا خاندان بیعت کرکے جماعت میں داخل ہوگیا۔
رشین ممالک میں بھی انقلابی کام ہوا ہے اور ۲۰۰۹ء میں جب سے یوکے میں رشین ڈیسک کا قیام عمل میں آیا اور حضورانور کے خطابات اور خطبات کے تراجم ایم ٹی اے اور رشین ویب سائٹ پر نشر ہونے شروع ہوئے تو ان ممالک میں ایک روحانی انقلاب برپا ہوا۔ اسی طرح براعظم ایشیا کی سرزمین، مشرق بعید کے ممالک اور سمندر میں آباد جزائرہیں۔ جب حضورانور مشرق بعید ممالک کے دورہ پر تشریف لے گئے تو سنگاپور میں انڈونیشیا سے قریباً تین چار ہزار احمدی پہنچے۔ اسی طرح ملائیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ، پاپوانیوگنی، کمبوڈیا اور برونائی سے بھی لوگ آئے ۔ ان کا اپنے اخلاص، محبت اور عشق اس حد تک بڑھاہواتھا کہ حضورانور کے چہرہ مبارک پر نظر پڑتے ہی رو پڑتے تھے۔ یہ لوگ اس چہرے کے بھوکے تھے، ترسے ہوئے تھے۔ کوئی لمحہ دیدار کا ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ بعض فیملیز تو بذریعہ سڑک اور بذریعہ سمندری جہاز اڑتیس گھنٹوں کا طویل سفر طے کرکے آئیں محض اس لیے کہ پیارے آقاکے دیدار کے چند لمحات نصیب ہوجائیں۔
الٰہی تائید و نصرت سے ایک نئے دَور کا آغاز اُس وقت ہوا جب دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں حضورانور بنفسِ نفیس تشریف لے گئے اور وہاں دنیا کے سرکردہ حکام کے سامنے اسلام کی امن و صلح کی حقیقی تعلیم پیش فرمائی اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض بتائی اور آپؑ کا پیغام پہنچایا۔
آسٹریلیا میںمیلبورن کی ایک تقریب میں چینل۳۱ کے نمائندہ نے کہا کہ حضورانور کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے آج میلبورن میں امن اتر آیا ہے۔
ملٹی فیتھ نیٹ ورک تنظیم کے ایک ممبرنے کہا کہ حضورانور کا خطاب سن کر آج مجھے علم ہواہے کہ خلیفۃ المسیح کیوں ایک عالمی امن کے سفیر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ کاش مسلمانوں کے باقی لیڈرز بھی ایسے ہی ہوتے تو آج دنیا میں امن ہی امن ہوتا۔
جاپان میں کمیونسٹ پارٹی کے ایک لیڈر (ممبرآف سٹی پارلیمنٹ) نے کہا کہ آج کا دن میری زندگی کے بہترین دنوں میں سے ایک ہے کہ مَیں نے دنیا کے غیرمعمولی مقدس انسان کو دیکھا ہے، اِن کا خطاب سنا ہے اور اس یقین پر پہنچاہوں کہ جماعت احمدیہ کے امام اور ان کی تعلیمات میں ہی دنیا کے امن کا راز پنہاں ہے۔
آسٹریلیا کے ایک ممبرآف پارلیمنٹ نے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا: خلیفۃ المسیح امن کے علمبردار ہیں اور ایک عالمی شخصیت ہیں۔ آج خلیفۃالمسیح کے خطاب نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔
خواہ پریس کانفرنس ہو، ٹی وی، ریڈیو یا اخبارات کے انٹرویوز ہوں، استقبالیہ تقریبات ہوں یا سرکردہ افراد کے ساتھ ملاقاتیں ہوں، ہر جگہ حضورانور نے اسلام کا دفاع کرتے ہوئے اسلام کا خوبصورت چہرہ دکھایا۔ جاپان کی ایک تقریب میں ایک وکیل نے کہا : اب تک ہم نے ٹی وی اور اخباروں میں یہی سنا تھاکہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ اسلام کی انتہائی خوفناک تصویر ہمارے سامنے تھی۔لیکن آج جب اسلام کے لیڈر خلیفۃالمسیح کی زبان سے اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیم سنی تو اسلام کے بارے میں میرا نظریہ یکسر تبدیل ہوگیا۔
ایک سکول کے پرنسپل نے خطاب سن کر کہا کہ میرے ذہن میں اسلام کا جو پہلے منفی تصور تھا خلیفۃ المسیح کے خطاب نے اسے بالکل تبدیل کردیاہے۔ آج مجھے تسلی ہوئی ہے کہ دنیا کی راہنمائی کرنے والا کوئی انسان تودنیا میں موجود ہے۔
جاپان کے ایک مشہور وکیل نے ناگویا میں ہونے والی استقبالیہ تقریب کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے اسلام کا خوبصورت چہرہ دیکھاہے اور میراایمان ہے کہ اگر دنیاکسی ایک ہاتھ پر جمع ہوسکتی ہے تو وہ جماعتِ احمدیہ کے امام کا ہی ہاتھ ہے۔
۲۰۰۶ء میں جب حضورانور جزائر فجی تشریف لے گئے تو صدر مملکت فجی سے ملاقات کے دوران نائب امیر جماعت فجی نے عرض کیاکہ آج ہوٹل میں reception ہے اور ہم نے آپ کودعوت دی تھی۔ صدر مملکت کو اس دعوت نامہ کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے سیکرٹری سے پوچھا تو اس نے بتایاکہ آج شام یونیورسٹی میں کانووکیشن کی تقریب ہے اور وہاں آپ نے جانا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خلیفۃالمسیح ہمارے ملک میں موجود ہوں اور مَیں حضورکا پروگرام چھوڑ کر کسی اَور پروگرام میں چلا جاؤں! مَیں ان کے پروگرام میں شامل ہوں گا۔ یونیورسٹی کے لیے کسی اَور کو بھجوادیں۔ چنانچہ موصوف شام کو حضورانور کی آمدسے قبل ہی ہوٹل پہنچے ہوئے تھے اور حضورانور کی آمد کے منتظر تھے۔
جب حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ۲۰۰۸ء میں بینن تشریف لے گئے تو بینن کی حکومت نے اعلان کیاکہ خلیفۃالمسیح ہمارے سرکاری مہمان ہوں گے۔ چنانچہ جب حضورانورنائیجیریا سے بارڈر کراس کرکے بینن میں داخل ہوئے توجہاں ایک طرف حکومت حضورانور کے استقبال کے لیے اپنے دل بچھائے بیٹھی تھی وہاں بینن کے تیس بادشاہ اپنی رعایا کے ہمراہ اپنے روایتی شان و شوکت کے ساتھ بینن کی سرزمین پر قدم رکھنے والے اس روحانی بادشاہ خلیفۃ المسیح کے سامنے نہایت ادب سے کھڑے بزبانِ حال یہ کہہ رہے تھے کہ دیکھو! ’’وہ بادشاہ آیا۔‘‘ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کہ ’’وہ بادشاہ آیا‘‘ ہم نے اپنی آنکھوں سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مبارک وجود میں پوراہوتا دیکھا۔
حضرت مصلح موعودؓ نے ایک موقع پر مجلسِ شوریٰ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا تھا: ’’وہ دن آنے والاہے جب انگلستان اور امریکہ ایسی بڑی حکومتیں مشورہ کے لیے اپنے نمائندے بھیجیں گی اور وہ اسے اپنے لیے موجب عزت خیال کریں گے۔‘‘ اب خداکی تقدیردنیاکی بڑی بڑی حکومتوں کو اس طرف لارہی ہے۔Capitol Hill کے پروگرام میں تیس سے زیادہ کانگریس مین، سینٹیرز اور تِھنک ٹینک کے نمائندے اور دیگر سرکردہ حکام موجود تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو کسی بھی ایسے پروگرام میں چند منٹ سے زائد نہیں بیٹھتے۔ لیکن اُس روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ یعنی ’میری رعب کے ساتھ نصرت کی گئی‘ بڑی شان سے پوراہوتادیکھا۔ جب تقریب شروع ہوئی تو ہال ان لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور تقریباً پونا گھنٹہ یہ تقریب جاری رہی۔ ان لوگوں میں سے ایک بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔ اپنی دیگر مصروفیات اور پروگرام بھول گئے۔ ان کے سیکرٹریان ان کو اشارے سے یاد کرواتے تو وہ سر جھٹک دیتے کہ نہیں۔ یہ اُسی رعب کا اثر تھا جو ہمارے پیارے آقا کو ایک نشان کے طور پر خدا کی طرف سے عطا ہواتھا اور جس نے ہر ایک کو بےبس کردیا۔
۲۰۱۳ء میں حضورانور لاس اینجلس تشریف لے گئے تووہاں ہوٹل میں ایک تقریب میں بڑی تعداد میں کانگریس مین اور دوسرے سرکردہ حکام شامل ہوئے۔ یہاں ان دنوں میئر کا انتخاب ہونے والاتھا۔ میئر کے لیے ایک امیدوار Eric صاحب نے حضورانور کا چہرہ دیکھا تو کہنے لگے کہ آج لاس اینجلس میں فرشتہ اترآیاہے۔ انہوں نے حضورکی خدمت میں دعا کی درخواست کی۔ ان کے معمر والدنے بھی اپنا سر جھکائے اور اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے اپنے بیٹے کی کامیابی کے لیے دعاکی درخواست کی۔ عام لوگوں کا خیال یہی تھاکہ مخالف امیدوارخاتون جیت جائے گی اورEric صاحب ہار جائیں گے۔ لیکن حضورانور کی دعاکے نتیجہ میں ان کی ہار جیت میں بدل گئی اورEric صاحب لاس اینجلس کے میئر بن گئے۔ ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ میں خلیفۃالمسیح کی دعا سے ہی جیتاہوں۔
۴؍دسمبر۲۰۱۲ء کا دن بھی جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک عظیم الشان انقلاب کی نوید لے کر آیا جب حضورانور نے یورپین پارلیمنٹ میں معرکہ اراء خطاب فرمایا۔ ۲۸؍یورپین قوموں کے ممبرانِ پارلیمنٹ اور دیگر سرکردہ حکام سامنے بیٹھے تھے۔ آج حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاتھا: ’’ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہوجائے گا۔ سو اے سننے والو! ان باتوں کو یاد رکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ کر لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔‘‘
اس تقریب میں شامل ایک بشپ ڈاکٹر Amen Howard نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: یہ شخص جادوگر نہیں لیکن اس کے الفاظ جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ لہجہ دھیما ہے لیکن اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ غیر معمولی طاقت، شوکت اور اثر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اس طرح کا جرأت مند انسان میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ مَیں اسلام کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا تھا لیکن حضور کے خطاب نے اسلام کے بارے میں میرے نقطہ نظر کو کلیتاً تبدیل کردیاہے۔
خلیفہ وقت کے مبارک وجود سے اپنے اور بیگانے سبھی فیض اور برکات حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ ۴؍مئی۲۰۰۶ء بروز جمعرات جب حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مشرق بعید کے دورہ کے دوران ناندی (فجی) میں تھے تو رات قریباً اڑھائی تین بجے کا وقت تھا کہ ربوہ، لندن اور دنیا کے مختلف ممالک سے فون آنے شروع ہوگئے کہ ٹی وی پر خبریں آرہی ہیں جن کے مطابق ایک بہت بڑا سونامی طوفان فجی کے ساتھ والے جزائر Tonga میں آیاہے اور یہ طوفان طاقت کے لحاظ سے انڈونیشیا والے سونامی سے بڑاہے جس نے لاکھوں لوگوں کو غرق کردیاتھا اور دنیا کے کئی ممالک میں تباہی مچائی تھی۔ ہم نے جب ٹی وی آن کیاتو یہ خبریں آرہی تھیں کہ یہ سونامی مسلسل اپنی شدت اور طاقت میں بڑھ رہاہے اور صبح کے وقت ناندی کا سارا علاقہ اور قریبی جزائر غرق ہوسکتے ہیں۔ آسٹریلیا کا ایک حصہ بھی غرق ہوگا اور یہ نیوزی لینڈ کے بھی ایک بڑے حصے کو بھی غرق کردے گا۔ صبح ساڑھے چار بجے جب حضورانور نماز فجر کی ادائیگی کے لیے تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں اس طوفان کے بارے میں رپورٹ پیش ہوئی اور جو پیغامات خیریت دریافت کرنے کے لیے فون پر موصول ہورہے تھے ان کے متعلق بتایاگیا۔ حضورانورنے نماز فجرپڑھائی اور بڑے لمبے سجدے کیے اور خدا کے حضور مناجات کیں۔ نماز سے فارغ ہوکر آپ نے احبابِ جماعت کو مخاطب ہوکر فرمایاکہ ’’فکر نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔ کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ پھر حضورانو رہوٹل واپس تشریف لے آئے۔ واپس پہنچ کر جب ہم نے ٹی وی آن کیا تو ٹی وی پر یہ خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ سونامی کا زور ٹوٹ رہاہے اور آہستہ آہستہ اس کی شدت ختم ہورہی ہے۔ پھر قریباً دو اڑھائی گھنٹے بعد یہ خبریں آگئیں کہ اس سونامی کا وجود ہی مٹ گیاہے۔ اس روز فجی کے اخبارات نے یہ خبریں لگائیں کہ سونامی کا ٹل جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔
آج جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقیات کو دیکھ کر مخالفین احمدیت اپنے بدارادوں اور ناپاک منصوبوں میں انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں۔ جہاں وہ عملی طور پر ظلم و ستم کی انتہا کرتے ہیں وہاں انہوں نے میڈیا کے ذریعے بھی مخالفانہ مہم کا ایک جال بچھایا ہوا ہے۔ جبکہ خلافتِ احمدیہ تو خداتعالیٰ کے فرشتوں کے حصار میں ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ایک موقع پران مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’جس خلافت کے گرد خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت پہرہ دے رہی ہے اس خلافت کے قلعے پر تو تمہاری لات اگر پڑے گی تو تمہاری ہڈیاں ہی اس طرح چور چور ہوجائیں گی کہ ان کے ذرے بھی دنیا کو نظر نہیں آئیں گے۔‘‘
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’مَیں بڑے دعویٰ اور استقلال سے کہتاہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدا ئے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک مَیں دُوربین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں اور قریب ہے کہ مَیں ایک عظیم الشان فتح پاؤں۔ کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اَور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لیے ایک اَور ہاتھ چل رہاہے جس کو دنیانہیں دیکھتی مگر مَیں دیکھ رہاہوں۔‘‘
………٭………٭………٭………
خلیفہ وقت سے محبت اور اُن کی اطاعت
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۵؍اپریل۲۰۱۴ء میں مکرم ڈاکٹر حبیب الرحمٰن صاحب اپنے والد محترم فضل الرحمٰن خان صاحب (سابق امیر جماعت احمدیہ ضلع راولپنڈی) کی خلافت احمدیہ سے محبت اور خلیفہ وقت کی اطاعت کے حوالے سے چند واقعات بیان کرتے ہیں۔
محترم فضل الرحمٰن خان صاحب جب انجینئرنگ کالج لاہور میں زیرتعلیم تھے اور احمدی طلبہ کی تنظیم کے صدر بھی تھے تو اطلاع ملی کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ لاہور جانے کا قصد فرمارہے ہیں۔ احمدی طلبہ نے پروگرام بنایا کہ حضورؓ کی خدمت میں غیراحمدی طلبہ سے خطاب کرنے کا پروگرام بھی بنالیا جائے۔ چنانچہ خان صاحب ربوہ جاکر حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے حضورؓ سے خطاب کے لیے درخواست کرتے ہوئے اپنی حماقت میں موضوع بھی عرض کردیا کہ حضورؓ اپنے لیکچر ’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘ کا دوسرا حصہ موضوع سخن بنائیں۔ میری درخواست سن کر حضورؓ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نمایاں ہوئے اور حضورؓ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ مَیں کیوں لاہور جارہا ہوں، مَیں بیمار ہوں اور بغرضِ علاج لاہور جارہا ہوں، کیا بیمار آدمی لیکچر دیا کرتا ہے؟ چونکہ مَیں نے حضورؓ کی ناراضگی پہلی مرتبہ دیکھی تھی اس لیے برداشت نہ ہوسکا اور رونے لگ گیا۔ اس کے بعد حضورؓ نے اَور باتیں شروع کردیں اور کافی وقت گزر گیا۔ اس دوران پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے گھنٹی بجائی کہ ملاقات کا وقت پورا ہوگیا ہے۔ مَیں اٹھنے لگا تو حضورؓ نے بٹھادیا اور باتیں کرنے لگے اور اُس وقت تک جانے نہ دیا جب تک میرے چہرے پر بشاشت نہ آگئی اور مَیں ہنس نہ پڑا۔ یہ ملاقات آدھے گھنٹے کے لگ بھگ رہی۔ بعد میں مَیں نے غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ پیشگوئی مصلح موعود کے مطابق حضورؓ دل کے نہایت حلیم تھے۔ آپؓ نے گوارا نہ کیا کہ ایک طالب علم کو مضطرب حالت میں اپنے پاس سے رخصت کریں۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ ۱۹۹۱ء میں جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی بیگم صاحبہ کی وفات ہوئی تو ابا جان بھی صرف جنازے میں شرکت کے لیے پاکستان سے خاص طور پر لندن آئے۔ مصافحہ ہونے پر جب حضورؒ کے علم میں یہ بات آئی تو حضورؒنے اس پر خوشنودی کا اظہار فرمایا۔
اباجان کا دستور تھا کہ ہر سال جلسہ سالانہ یوکے میں شمولیت کے لیے تشریف لاتے اور جلسے کے بعد چند ہفتے اپنے بچوں کے ساتھ لندن میں گزارتے۔ وفات سے ایک سال قبل جب معمول کے مطابق جلسے کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ملاقات کے لیے حاضر ہوئے تو حضورانور نے فرمایا کہ خان صاحب! آپ ابھی گئے نہیں؟ ملاقات کے بعد آپ نے گھر آتے ہی میری امی کو کہا کہ چلنے کی تیاری کرو اور بچوں کو کہا کہ ہماری واپسی کی سیٹ بُک کرادو۔ چند روز کے بعد عید تھی۔ بچوں نے کہا کہ عید کرکے جائیں۔ کہنے لگے کہ خلیفہ وقت کے ارشاد کی تعمیل ضروری ہے۔ چنانچہ باوجود بچوں کے اصرار کے آپ کو جو پہلی سیٹ ملی اُسی پر واپس چلے گئے۔
۲۰۱۲ء میں جلسہ سالانہ یوکے کے چند ہفتے بعد جب آپ حضورانور کی خدمت میں واپسی کی اجازت لینے کے لیے حاضر ہوئے تو اس مرتبہ حضورانور نے فرمایا: خان صاحب جانے کی کیا جلدی ہے، ابھی کچھ عرصہ یہیں رہیں۔ چنانچہ آپ ٹھہر گئے۔ چند ہفتے بعد امّی نے آپ سے کہا کہ اب حضور سے واپسی کی اجازت لینی چاہیے تو کہنے لگے کہ ہرگز نہیں۔ خلیفہ وقت نے خود ہی ہمیں رہنے کا کہا ہے، وہ جب مناسب سمجھیں گے حکم کریں گے، مَیں اجازت نہیں مانگوں گا۔ چونکہ لندن میں آپ کا زیادہ تر وقت فراغت میں گزرتا تھا اس لیے جلد تنگ بھی آجاتے تھے۔ دل بھی پاکستان جلد جانے کے لیے مضطرب تھا اور کئی مرتبہ بہت پژمردہ خاطر بھی ہوتے تھے لیکن یہی اصرار تھا کہ جب تک خلیفہ وقت خود نہیں فرمائیں گے تب تک یہیں ٹھہریں گے۔ دراصل یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی کہ آپ نے ۲۹؍اکتوبر ۲۰۱۲ء کو لندن کے ایک ہسپتال میں وفات پائی اور حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔
………٭………٭………٭………
حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ
حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خوبصورت یادوں پر مشتمل مکرم مرزا نصیر احمد صاحب کا ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۲ و ۲۴؍مئی۲۰۱۴ء میں شائع ہوا ہے۔
٭…مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ ۱۹۷۰ء میں مجھے جامعہ کے لیے مقالہ لکھنا تھا جس کا عنوان ملا: ’’افغانستان میں عبرانی کتبات‘‘۔ اس کا تحقیقی مواد تلاش کیا تو افغانستان سے کچھ مواد ہاتھ لگا جو اٹالین زبان میں تھا۔ اس مواد کا ترجمہ کروانے کے لیے بہت کوشش کی۔ کچھ اٹالین انجینئرز تربیلا میں تھے، اُن سے بھی جاکر ملا مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ محترم میر داؤد احمد صاحب نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے دریافت فرمانے پر خاکسار کا احوال عرض کرتے ہوئے مقالے کا بھی ذکر کیا تو حضورؒ نے فرمایا کہ جلسے پر ڈاکٹر محمد عبدالہادی کیوسی صاحب آرہے ہیں، اُن سے مل لو۔ محترم ڈاکٹر صاحب اٹالین نژاد تھے مگر اُن دنوں جرمنی میں مقیم ہوچکے تھے۔ حسب ارشاد اُن سے ملاقات کی اور انہوں نے بہت تعاون کیا۔ بعد میں دیگر یورپین زبانوں میں بھی مواد دستیاب ہوگیا اور مقالہ بروقت مکمل کرنے کی توفیق مل گئی۔
٭…مقالے کے سلسلے میں مجھے دو تین بار افغانستان جانے کا موقع ملا۔ ۱۹۶۸ء میں ایک موقع پر محترم سیّد میر محمود احمد ناصر صاحب نے فرمایا کہ جلال آباد میں ’’شہزادہ نبی کا چبوترہ‘‘ کے نام سے ایک معروف مقام ہے اُس پر بھی تحقیق کی جائے۔ یہ دراصل ایک مزار ہے۔ اس حوالے سے محترم میر صاحب نے حضورؒ کی خدمت میں پیش کرکے دعا کی درخواست بھی کردی۔ حضورؒ کی دعا کا اثر اس سفر میں نمایاں محسوس ہوا۔ اخراجات کے لیے حسب ضرورت رقم ایک عزیز کی طرف سے بطور تحفہ مل گئی۔ راہنما کے طور پر ایک دوست میسّر آگئے۔ اصل مقام پر جاتے ہوئے راستے میں ایک صاحب ملے تو اُن سے بات چیت پر معلوم ہوا کہ پہلے ہمیں ایک دوسرے گاؤں جانا چاہیے جہاں اس مزار کی دیکھ بھال پر مامور لوگ رہتے ہیں۔ چنانچہ وہی ہمیں وہاں لائے اور متعلقہ افراد سے ملوادیا۔ انہوں نے ہماری بہت خدمت کی اور بہت سی معلومات دیں، مخطوطات بھی دکھائے۔ پھر مزار پر لے جاکر زیارت کروائی جو چشمے والے پانی کی چھوٹی سی ایک ندی پر واقع ہے۔ الغرض جس قدر معلومات درکار تھیں وہ سب مل گئیں۔ واپس ربوہ آکر جب حضورؒ کی خدمت میں رپورٹ پیش کی تو آپؒ بہت مسرور ہوئے۔
٭…۱۹۷۲ء میں مسجد اقصیٰ ربوہ کا افتتاح ہوا۔ اس سے ایک روز قبل حضورؒ انتظامات کا معائنہ فرمانے وہاں تشریف لائے۔ جامعہ کے چند طلبہ کو وہاں پہنچنے کا حکم تھا جن میں خاکسار بھی شامل تھا۔ حضورؒ مختلف طلبہ کو مائیک پر کچھ پڑھنے کا ارشاد فرماتے اور خود مسجد کے مختلف کونوں میں جاکر آواز کی کوالٹی ملاحظہ فرماتے۔ حضورؒ نے محترم میر داؤد احمد صاحب سے فرمایا کہ تمہارا ایک شاگرد بڑی دھواںدھار تقریر کرتا ہے وہ کہاں ہے؟ چنانچہ عبدالسلام طاہر صاحب حاضر ہوگئے جن کو خلافت کے موضوع پر تقریر کرنے کا ارشاد ہوا۔ حسب ارشاد مجھے سورۃالفاتحہ کی تلاوت کرنے کی توفیق ملی۔
٭…جامعہ سے ہماری فراغت ۱۹۷۱ء میں ہوچکی تھی۔ چند ماہ بعد میری تقرری سالٹ پانڈ (غانا) کے احمدیہ مشنری ٹریننگ کالج کے پرنسپل کے طور پر ہوگئی۔ ۱۹۷۲ء سے ۱۹۷۹ء تک وہاں مقیم رہا۔ حضورؒ کی دعاؤں کے کئی نشان اس دوران دیکھے۔ مثلاً ٹیچی مان میں نصرت جہاں سکیم کے تحت جب ہسپتال قائم کرنے کے لیے حضورؒ نے محترم ڈاکٹر بشیر احمد خان صاحب کو وہاں بھجوایا تو متعصّب حکام نے یہ کہہ کر اجازت دینے سے انکار کردیا کہ وہاں پہلے ہی ایک مشنری ہسپتال کام کررہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب صبر کرکے بیٹھ گئے تو اس دوران مشن ہسپتال کے ڈَچ ڈاکٹر کو رخصت پر جانا پڑگیا۔ اُس کی عدم موجودگی میں ہسپتال میں ایک سرجیکل ایمرجنسی پیش آگئی۔ اس پر ہسپتال والوں نے مجبوراً محترم ڈاکٹر بشیر احمد خان صاحب سے رجوع کیا تو آپ نے جواب دیا کہ مَیں قانوناً پریکٹس کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔ اس پر ہسپتال والوں نے لکھ کر دیا کہ وہ مکمل ذمہ داری لیتے ہیں۔ چنانچہ محترم ڈاکٹر صاحب نے اُس عرصے میں جو عزت سمیٹی اُس کا نتیجہ تھا کہ اصل ڈاکٹر کے واپس آنے کے بعد بھی مریض ہسپتال جانے کی بجائے آپ کے پاس آتے لیکن آپ اپنی مجبوری بتاتے کہ قانوناً آپ علاج نہیں کرسکتے۔ آخر لوگوں کے اصرار اور محترم بشارت احمد بشیر صاحب (امیر سیرالیون) کے حکام پر دباؤ ڈالنے کے نتیجے میں محترم ڈاکٹر بشیراحمد خان صاحب کو کلینک چلانے کی اجازت مل گئی جو بہت جلد ترقی کرتا چلا گیا۔ یہ حضورؒ کی دعاؤں کی قبولیت اور آہنی عزم کا ہی ایک معجزہ تھا۔
٭…حضورؒ کے ارشاد پر ایک ہسپتال سویڈرواگونا میں قائم کیا گیا تھا جہاں پہلے ڈاکٹر محترم چودھری آفتاب احمد صاحب تھے جو اپنی اہلیہ کے ہمراہ وہاں ۱۹۷۴ء تک مقیم رہے۔ یہ عابد، دعاگو، فرشتہ سیرت جوڑا تھا۔ یہ ہسپتال ایک کرایہ کی عمارت میں کھولا گیا اور بہت جلد دُور دُور سے مریض یہاں آنے لگ گئے۔ چرچ والوں اور بعض حکّام پر یہ بات بہت شاق گزری اور کوشش شروع ہوگئی کہ کسی طرح اسے بند کردیا جائے۔ کوئی وجہ نہ نکل سکی تو قانون کو آڑ بناکر شکایات شروع کردی گئیں جن کے نتیجے میں ہسپتال بند کرنے کا آرڈر جاری ہوگیا۔ محترم مولانا عطاءاللہ کلیم صاحب امیر گھانا تھے۔ انہوں نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خدمت میں یہ خبر پہنچائی تو جواب آیا کہ ہسپتال کے عملے کو فارغ نہ کیا جائے اور باقاعدہ تنخواہ دی جاتی رہے۔ چنانچہ (ڈاکٹر صاحب کے علاوہ سارا عملہ) دس ماہ تک گھر بیٹھ کر تنخواہ وصول کرتا رہا۔ جماعت کی درخواستوں اور سرکاری ڈیمانڈ کے مطابق ہسپتال میں سامان مہیا کردیا گیا لیکن حکومت اجازت نہیں دے رہی تھی۔ ایک بار تو وزیر صحت (جو ایک کرنل تھا) سے ہمارے وفد کی گرمی سردی بھی ہوگئی اور صورتحال بہت نازک ہوگئی۔ آخر اُسے سربراہ مملکت کے ہاں زک اٹھانی پڑی تو اُس نے خود ہسپتال کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا اور آخر ایک روز اپنے وفد کے ساتھ وہاں پہنچا۔ معائنے کے دوران ہی ایک ضعیف العمر دیہاتی وہاں آیا اور ڈاکٹر صاحب سے اپنے علاج کی درخواست کی۔ ڈاکٹر صاحب نے معذرت کی کہ ہسپتال کو حکومت نے بند کررکھا ہے۔ لیکن کسی دنیاوی پروٹوکول سے ناآشنا وہ بوڑھا مریض اصرار کرتا رہا۔ کرنل کچھ دیر تو دلچسپی سے یہ مکالمہ سنتا رہا۔ پھر اُس نے آنے والے مریض سے پوچھا کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟ اُس نے دو سو میل دُور واقع ایک جگہ کا نام لیا۔ کرنل دھاڑا کہ دو سو میل کے فاصلے میں اُسے کوئی اَور ہسپتال نظر نہیں آیا تھا؟ وہ نہایت سادگی سے بولا کہ ہسپتال تو بہت تھے جہاں دوا تو ملتی ہے لیکن شفا صرف یہاں ملتی ہے۔ یہ سن کر وہاں ایک سناٹا چھا گیا۔ بہرحال حکومت اس صورتحال کو زیادہ عرصہ Resist نہ کرسکی اور (فوجی حکومت کے سربراہ) جنرل اچمپانگ نے ذاتی مداخلت کرتے ہوئے ہسپتال کھلوادیا۔ اس کے بعد رونقیں پہلے سے بھی بڑھ کر نظر آنے لگیں، یہ یقیناً حضورؒ کی قوّت قدسیہ کی برکت تھی۔
٭…کچھ ہی عرصے بعد مکرم چودھری عبدالشکور صاحب نے محترم مولانا کلیم صاحب کو بتایا کہ سویڈرو میں ایک نئی عمارت برائے فروخت ہے جو ہسپتال کھولنے کے لیے نہایت موزوں ہے۔ مکرم مولانا صاحب سویڈرو پہنچے تو علم ہوا کہ وہ نئی عمارت بنیادی طور پر ایک ہسپتال کے لیے ہی تعمیر کی گئی تھی جسے سابقہ حکومت کے وزیرصحت نے (جو خود بھی ڈاکٹر تھے) اپنے لیے تعمیر کروایا تھا لیکن حکومت کا تختہ الٹ گیا اور سارے وزراء جیل بھیج دیے گئے۔ بعدمیں وزیر صاحب رہا تو ہوگئے لیکن وہ عمارت کسی کے استعمال میں نہ آئی اور اب بتیس ہزار سڈی میں فروخت ہورہی تھی۔ اندازاً اس کی تزئین پر آٹھ ہزار مزید خرچ ہونے تھے۔ چنانچہ فوری طور پر حضورؒ کی خدمت میں لکھا گیا اور منظوری ہونے پر عمارت خرید کر مجلس نصرت جہاں کے تحت ہسپتال قائم کردیا گیا جس کا افتتاح ۴؍مئی ۱۹۷۴ء کو وزیرصحت اور پیراماؤنٹ چیف نے کیا اور جماعت کی خدمات کو سراہتے ہوئے بہت ہی اثرانگیز تقریر کی۔ اس موقع پر گھانا میں پاکستان کے سفیر جناب شیخ عبدالمعید صاحب بھی تشریف لائے۔ وہ اکثر ہمارے فنکشنز پر مدعو ہوتے اور تشریف لایا کرتے تھے۔ بہرحال جماعت کے دیگر ہسپتالوں کی طرح یہ ہسپتال شاندار خدمات بجالارہا ہے۔
٭…مکرم ڈاکٹر لئیق احمد فرخ صاحب نے ایک بار مجھے بتایا کہ ایک مریض جب اُن کے ہسپتال میں لایا گیا تو وہ ہرنیا (Hernia) کی شدید تکلیف میں مبتلا تھا اور چیخیں ماررہا تھا۔ ایمرجنسی میں اُسے لے جاکر مَیں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کو اس تکلیف سے نجات دلاسکوں لیکن باوجود کوشش کے کامیابی نہیں ہورہی تھی اور ڈر تھا کہ تکلیف کے مارے چیخ چیخ کر وہ مرجائے گا۔ آخر تھک کر مَیں نے اپنے کمرے میں آکر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خدمت میں دعا کا عریضہ لکھا اور خادم کو دے کر کہا کہ ابھی اسے پوسٹ کرآؤ۔ پھر جب آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا تو مریض کی چیخیں سنائی نہیں دے رہی تھیں۔ مجھے خیال گزرا کہ شاید وہ وفات پاچکا ہے۔ مَیں مایوسانہ انداز میں تھیٹر کے اندر گیا تو وہ اٹھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ خدا کی قدرت اور خلیفہ وقت کی قوّت قدسیہ پر اُس روز مجھے نیا ایمان حاصل ہوا۔
٭…غالباً جون ۱۹۷۳ء کی بات ہے کہ محترم مولانا کلیم صاحب نے مجھے بتایا کہ ابھی دارالحکومت اکرا سے صدر مملکت جنرل اچمپانگ کا فون آیا تھا، انہوں نے کہا کہ مجھے ایک ضروری کام ہے فون پر بات نہیں ہوسکتی، کیا کل اکرا آسکتے ہو؟ مَیں نے کہا کہ کل تو بہت مصروف ہوں، پرسوں آسکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، پرسوں مَیں تمہارا انتظار کروں گا سیدھے میرے دفتر میں آجانا۔
اس ملاقات کو ایک دن مُلتوی کرنے کا صرف یہی مقصد تھا کہ حضورؒ کی خدمت میں دعا کا خط لکھ سکیں۔ چنانچہ ہم نے بذریعہ ٹیلیگرام دعا کی درخواست بھجوادی۔ اُسی روز جواب آگیا کہ فکر تو ہے مگر دعا کررہے ہیں۔ بہرحال مولانا صاحب مقررہ روز اوسُوکیسل پہنچ گئے جہاں صدر مملکت کا دفتر تھا۔ وہاں سب کو منتظر پایا۔ سیکرٹری نے اطلاع دی تو فوراً ہی بلالیے گئے۔ جنرل صاحب کسی اَور بڑی شخصیت سے مصروف گفتگو تھے۔ انہوں نے اُسے فارغ کیا اور مولانا صاحب سے کہا کہ تشریف رکھیں۔ وہاں موجود سیکیورٹی والے کو بھی باہر بھیج دیا اور پھر مولانا صاحب سے حال احوال پوچھنے کے بعد کہنے لگے کہ مَیں نے تمہیں دعا کی غرض سے بلایا ہے۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ عناصر میری حکومت کا تختہ اُلٹانے کی سازش میں مصروف ہیں اور میری درخواست ہے کہ تم دعا کرو اور میری طرف سے حضرت صاحب کو بھی دعا کرنے کے لیے لکھ دو۔ مولانا صاحب نے وعدہ کیا اور جب اٹھنے لگے تو جنرل صاحب نے کچھ رقم بطور تحفہ پیش کی۔ مولانا نے بہت پس و پیش کی مگر جنرل صاحب جس اخلاص کے ساتھ اصرار کررہے تھے اسے ردّ کرنا ممکن نہ تھا چنانچہ آپ نے وہ رقم قبول کرلی۔
ملاقات سے فارغ ہوکر مولانا کلیم صاحب سیدھے بازار گئے اور اور مشن ہاؤس کو چولہا جو بڑے عرصے سے زچ کیے ہوئے تھا (مگر بجٹ میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے خریدا نہ جاسکتا تھا) قریباً اُسی قیمت میں آگیا جو صدر صاحب نے بطور تحفہ پیش کی تھی۔ مولانا صاحب جماعتی فنڈز کے معاملے میں بہت سخت گیر تھے اور اُن کی بیگم صاحبہ کے لیے کسی خاص گھریلو ضرورت کے لیے اُن سے مشن کا پیسہ نکلوالینا بہت مشکل تھا۔ چنانچہ ایک عرصے سے مُلتوی کیا جانے والا چولہے کا معاملہ بھی اُس دن حل ہوگیا۔ بہرحال مولانا صاحب نے واپس پہنچ کر حضورؒ کے نام ٹیلیگرام بھجوایا جس میں صدر مملکت کی طرف سے بیان کردہ حالات عرض کرکے دعا کی درخواست کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضورؒ کی دعاؤں کی برکت سے فضل فرمایا اور وہ سازشی عناصر پکڑوادیے چنانچہ سازش ناکام ہوگئی۔ (ان سازشوں کا ذکر گھانا کی تاریخ میں بھی بیان ہوا ہے۔)
٭…۱۹۷۰ء میں دورۂ افریقہ کے دوران حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے مجلس نصرت جہاں سکیم جاری فرمائی۔ اُس وقت محترم کلیم صاحب امیر و مبلغ انچارج گھانا تھے۔ جلد ہی اُن کی جگہ محترم بشارت احمد بشیر صاحب کی تقرری ہوگئی جنہوں نے نہایت جانفشانی سے ۱۹۷۲ء تک دو سکول اور چار ہسپتال جاری کیے۔ دو مزید سکول کھولنے کا پروگرام بھی قریباً مکمل ہوچکا تھا۔ ۱۹۷۲ء میں محترم مولانا کلیم صاحب کا دوبارہ تقرر ہوا تو جلد ہی دونوں سکول جاری کرنے کے علاوہ سویڈرو کا ہسپتال دوبارہ کھل گیا جسے فوجی حکومت نے بند کردیا تھا۔ عدم سے وجود میں آنے والے یہ سارے ادارے خلافت کی قوّت قدسیہ اور کارکنان کی بےلوث کوششوں کے آئینہ دار تھے۔
٭…دارالحکومت اکرا سے قریباً ۵۵؍میل اور سالٹ پانڈ سے ۱۶؍میل کے فاصلے پر اسارچر واقع ہے۔ یہاں کے سکول میں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب (ایدہ اللہ تعالیٰ) ۱۹۸۰ء میں بطور ہیڈماسٹر بھجوائے گئے تھے۔ اس سکول کے قیام کے بعد ۱۹۷۲ء سے ۱۹۸۰ء تک مکرم چودھری نصیر احمد صاحب وہاں ہیڈماسٹر رہے۔ میرا قیام سالٹ پانڈ میں تھا۔ ہماری فیملیاں ابھی ہمارے ساتھ نہیں تھیں۔ اس لیے مَیں اکثر چودھری صاحب سے ملنے چلا جاتا یا وہ تشریف لے آتے۔ کار ہمارے پاس نہیں تھی اس لیے پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار تھا جو بہت کم دستیاب ہوتی تھی اور بعض اوقات سڑک پر کھڑے ہوکر گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ شاذ کے طور پر لفٹ بھی مل جاتی تھی۔ ایک روز خاکسار اُن سے ملنے گیا تو شام کو واپسی پر وہ مجھے الوداع کہنے سڑک تک آئے جو سکول سے قریباً ڈیڑھ فرلانگ دُور تھی۔ بس کے انتظار میں کھڑے کھڑے شام گہری ہونے لگی تو فکر بھی پیدا ہونے لگی کیونکہ چاروں طرف گھنا جنگل تھا اور اندھیرا پھیلتے ہی ہر قسم کے چھوٹے بڑے سانپ اور بڑے بڑے بچھو بھی سڑک پر نکل آتے تھے۔ جتنی بسیں بھی آرہی تھیں وہ سواریوں سے بھری ہوئی تھیں لہٰذا کوئی ڈرائیور بھی لفٹ نہیں کرارہا تھا۔ کاریں بھی گزر رہی تھیں لیکن ہمارا دھیان اُن کی طرف نہیں تھا۔ بسوں اور مِنی بسوں کا انتظار کرتے ہوئے پریشانی اور دعاؤں میں اضافہ ہورہا تھا۔ اچانک ایک کار ہمارے پاس سے گزرتے ہی چند گز جاکر بڑی زوردار بریکیں لگاکر رُک گئی۔ پھر ریورس ہوکر ہمارے سامنے آکر رُک گئی اور ڈرائیور نے پوچھا کہ آپ نے کہاں جانا ہے؟ مَیں نے بتایا: سالٹ پانڈ۔ کہنےلگا: مَیں ٹاکوارڈی جارہا ہوں اور تمہیں سالٹ پانڈ سے باہر سڑک پر اُتار سکتا ہوں۔ یہ سڑک میرے گھر سے قریب ہی تھی اس لیے مَیں نے اثبات میں جواب دیا تو اُس نے اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے اپنے عزیز کو پیچھے بھیجا اور مجھے اپنے ساتھ بٹھالیا۔ سفر شروع ہوا تو چند تعارفی کلمات کے بعد وہ کہنے لگا کہ دراصل میرا ایک کام ہے اور جب میری نظر تم پر پڑی تو میرے دل نے کہا کہ اس سے اپنے کام کے لیے کہو۔ چنانچہ مَیں نے تمہیں اپنے ہمراہ لے لیا۔ یہ سُن کر مَیں پریشان ہوگیا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ وہ اشانٹی کے کسی علاقے کے پیراماؤنٹ چیف ہیں، اپنے علاقے کے چرچ کے پادری بھی ہیں اور ایک بہت بڑی ادویات کی کمپنی کے مالک ہیں۔ صدر جنرل اچمپانگ کے بچپن کے دوست اور قریبی ساتھی بھی وہ تھے۔ مجھے یہ تفصیل معلوم ہورہی تھی تو میرے دل کی دھڑکن میں تیزی آرہی تھی کہ مجھ جیسے کمزور انسان سے انہیں کیا کام ہوسکتا ہے اور وہ کام مَیں کیسے کرسکتا ہوں۔ بہرحال انہوں نے بتایا کہ اکثر اپنے بزنس کے سلسلے میں چونکہ امریکہ بھی جاتے رہتے ہیں اس لیے کسی دشمن نے جنرل اچمپانگ کو میری شکایت کی ہے کہ مَیں کسی بیرونی طاقت کے ساتھ مل کر اُن کے خلاف کوئی سازش کررہا ہوں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے مجھے اکرا بلایا تھا اور اب مَیں اُن سے مل کر آرہا ہوں۔ اگرچہ میرے صفائی پیش کرنے پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے مگر مَیں نے اُن کی آنکھیں پڑھ لی ہیں، تم ہم افریقیوں کو نہیں جانتے مگر یہ سمجھ سکتے ہو کہ سربراہ مملکت اگر مطمئن نہ ہو تو اس کا کیا نتیجہ ہوسکتا ہے اس وجہ سے مَیں سخت پریشان ہوں۔ لہٰذا تم میرے لیے خصوصی طور پر دعا کرو کہ یہ بلا ٹل جائے۔
اُن کی باتیں سُن کر میری پریشانی میں اضافہ ہوگیا کہ مَیں بھلا اُن کو اس مصیبت سے کیسے نجات دلاسکتا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ وہ دنیاوی لحاظ سے ایک بہت بڑا شخص ہے جو سربراہ مملکت کا قریبی دوست بھی ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ یہ پادری ہوکر بھی دین کے ایک خادم کو دعا کے لیے کہہ رہا ہے۔ بہرحال انہی باتوں میں سالٹ پانڈ آگیا۔ مگر بجائے سیدھے جانے کے انہوں نے کار سالٹ پانڈ کی طرف موڑ دی اور مجھے میرے گھر تک پہنچایا۔ مَیں نے اُنہیں تھوڑی دیر بٹھایا اور مشروبات پیش کیے۔ جب وہ روانہ ہونے لگے تو انہوں نے دو سڈی کے نوٹ نکالے اور بڑے اصرار کے ساتھ میری میز پر رکھ دیے۔ جب وہ روانہ ہوگئے تو مَیں وہ پیسے لے کر ایک بیوہ احمدی خاتون کے ہاں گیا، اُن کو پیش کرکے دعا کی درخواست کی۔ مکرم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب گھانا کے امیر تھے، اُن سے بھی دعا کی درخواست کی۔ اور پھر اصل کام کیا یعنی ایک تفصیلی خط حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خدمت میں دعا کی غرض سے لکھا۔
قریباً ایک ہفتہ گزرا تو وہی صاحب میرے پاس دوبارہ پہنچے اور گھر کے باہر دیکھتے ہی نہایت خوشی سے بتایا کہ وہ اکرا سے آج دوبارہ جنرل اچمپانگ سے مل کر آرہے ہیں، صدر اب مکمل طور پر مطمئن ہیں اور اب کوئی پریشانی والی بات نہیں۔ میں نے اُن کو بٹھانا چاہا تو کہنے لگے کہ صرف تمہیں بتانے کے لیے سیدھا یہاں آیا ہوں اور اب اپنے گھر جاؤں گا۔ چنانچہ وہ روانہ ہوگئے اور مَیں نے خداتعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
٭…خلافتِ ثالثہ کی بابرکت تحریک نصرت جہاں اپنی ذات میں ایک عظیم الشان معجزہ تھی۔ وہ محاورہ صادق آرہا تھا کہ اگر ڈاکٹر کسی کو راکھ کی چٹکی بھی دے دیتے تو خدا تعالیٰ اُس میں بھی شفا ڈال دیتا تھا۔ بےشمار لوگ احمدیت کی شفابخشی کی اس قوت سے خوب واقف تھے۔ ہمارے احمدیہ سکول معیار میں مُلک کے بہترین سکولوں میں شمار ہوتے تھے۔ سرکاری افسران کا بڑا حصہ ہمارے سکولوں کا فارغ التحصیل تھے۔ وزراء بھی ہمارے سکولوں میں بچوں کو داخلہ دلوانے کے لیے کوشاں رہتے۔ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور برکت ہر کام اور فیصلے میں نظر آتی تھی۔ ایک بار سویڈرو ہسپتال کے ڈاکٹر مکرم آفتاب احمد صاحب کماسی جاتے ہوئے کار کے حادثے میں شدید زخمی ہوگئے اور جس جگہ حادثہ ہوا تھا وہاں کے ہسپتال میں ایک ماہ سے زیادہ زیرعلاج رہے۔ اس دوران سویڈرو ہسپتال میں کوئی باقاعدہ ڈاکٹر نہ تھا۔ چنانچہ محترم مولانا کلیم صاحب نے مکرم عبدالشکور صاحب مبلغ سلسلہ کو حکم دیا کہ جاکر سویڈرو کا ہسپتال چلائیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک یہ ذمہ داری نبھائی اور کسی کو بھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہیں بلکہ خداتعالیٰ کے فضل سے تمام امور خوش اسلوبی سے طے ہوتے رہے۔ الحمدللہ
٭…ٹیچی مان سے سترہ میل دُور جنگلات میں ایک مقام انکورانزا ہے جہاں کے سرکاری سکول کو چلانے میں انتظامیہ کو دقّت پیش آرہی تھی۔ انہوں نے احمدیہ مشن ٹیچی مان سے رابطہ کرکے درخواست کی کہ اُن کا سکول جماعت لے لے۔ مولانا کلیم صاحب نے مقامی جماعت کی درخواست پر حضورؒ کی خدمت میں خط بھجوادیا۔ حضورؒ نے جواباً فرمایا کہ جو سکول ہم نے شروع کیے ہوئے ہیں، پہلے اُن کو سنبھال لیں پھر دیکھا جائے گا۔ مگر پھر مقامی جماعت کے اصرار پر حضورؒ نے اُن کو اجازت مرحمت فرمادی اور ایک ہیڈماسٹر بھی مہیا کردیا جنہوں نے جاکر سکول کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ مقامی لوگوں کا تعاون بھی ہر طرح سے حاصل تھا مگر پھر بھی یہ سکول زیادہ دیر نہ چل سکا اور جماعت کو اس سے دستکش ہونا پڑا۔ وجہ صرف یہی تھی کہ حضورؒ کی توجہ اس طرف نہ تھی لہٰذا یہ بات زیادہ نہ چلی۔
٭…خداتعالیٰ کے افضال کی بارش مغربی افریقہ میں خدمتِ دین کرنے والا ہر شخص مشاہدہ کررہا تھا اور اکثر اس کا اظہار بھی کیا کرتے تھے۔ مکرم ایم اے لطیف شاہد صاحب جو لمبا عرصہ گھانا کے مختلف مقامات پر سیکنڈری سکول چلاتے رہے، انہوں نے بتایا کہ غالباً ۱۹۸۰ء میں ایک خاتون پاکستان کی سفارتکار بن کر اکرا میں آئیں۔ اکرا سے دو سو میل کے فاصلے گھانا کا دوسرا بڑا شہر کماسی ہے جہاں کی مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے شہر کی ایک یونیورسٹی میں ایک اجلاس بلایا لیکن عمداً اُس میں کسی احمدی کو مدعو نہیں کیا گیا۔ لیکن کیونکہ فنڈز اکٹھے کرنے کا پروگرام تھا اس لیے اسلامی ممالک کے سفیروں کو بلایا گیا۔ پاکستانی سفیر صاحبہ بھی اپنے فرسٹ سیکرٹری کے ہمراہ کماسی کے لیے روانہ ہوئیں تو راستے میں کماسی سے دس میل پہلے واقع Ejusu کے مقام پر گاڑی ایک تنگ پُل سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے فرسٹ سیکرٹری بُری طرح زخمی ہوئے اور اُن کی چھاتی کی اکثر ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ خاتون سفیر صاحبہ کے بازو میں بھی فریکچر ہوگیا۔ ان سب کو کماسی کے مرکزی ہسپتال لے جایا گیا۔ ملک بھر میں دواؤں کی بہت کمی تھی اس لیے ایسوسی ایشن والے بہت گھبراگئے۔ انہوں نے اپنا نمائندہ بھیج کر احمدیہ مشن ہاؤس کو خبر دی اور مدد کے لیے درخواست کی۔ احمدی مبلغ کے اطلاع دینے پر دو قریبی احمدیہ ہسپتالوں سے ڈاکٹر سردار حمید احمد صاحب اور ڈاکٹر شفیق احمد قیصر صاحب اور دو سکولوں کے انچارج بھی ہسپتال پہنچ گئے۔ مکرم عبدالوہاب صاحب امیر و مبلغ انچارج کی کوششوں سے سفیر صاحبہ کو بذریعہ ہیلی کاپٹر اکرا بھجوادیا گیا اور فرسٹ سیکرٹری کا علاج احمدی ڈاکٹرز کی نگرانی میں سرکاری ہسپتال میں جاری رہا جبکہ اُن کے کھانے پینے کا انتظام مربی صاحب کرتے رہے۔ پچیس روز کے بعد تندرست ہونے پر وہ بھی اکرا چلے گئے۔ پھر سفیر صاحبہ چھٹی پر پاکستان چلی گئیں اور واپس اکرا آکر اپنے عملے سے ناراضگی کا اظہار کیا کہ کیوں احمدیوں کی گھانا میں موجودگی سے انہیں باخبر نہیں رکھا گیا۔ واپس آکر انہوں نے احمدیہ ہسپتالوں اور سکولوں کا دورہ بھی کیا اور بہت سا کھیلوں کا سامان تحفۃً احمدیہ سکولوں کو دیا۔ اُن کے جماعت احمدیہ سے تعلقات کی اطلاع ملنے پر حکومت پاکستان نے اُن کو واپس بلوالیا۔
دوسری طرف مسلم ایسوسی ایشن کے جس اجلاس میں احمدیوں کو دانستہ طور پر مدعو نہیں کیا گیا تھا، وہاں مہمان خصوصی وزیرتعلیم تھے۔ انہوں نے اپنی جگہ مسٹر عبداللہ بوٹنگ ڈائریکٹر آف ایجوکیشن اشانٹی ریجن کو بھجوادیا جو ایک نہایت مخلص احمدی ہیں اور لمبا عرصہ احمدیہ سکول کماسی کے ہیڈماسٹر بھی رہ چکے ہیں۔ اس پر چند احمدیوں کو بھی میٹنگ میں مدعو کرلیا گیا۔ یہ بھی قابل ذکر بات تھی کہ مالی تعاون کی درخواست پر عطایا دینے والے اکثر احمدی ہی تھے۔ نیز صرف ایک مُلک یعنی عراق کے سفیر ہی اس پروگرام میں شامل ہوئے۔
………٭………٭………٭………
سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے دورۂ امریکہ کے دوران عظیم الشان ایمان افروز نظاروں کے حوالے سے کہا گیا مکرم فاروق محمود صاحب کا کلام روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۲۵؍مئی ۲۰۱۵ء میں شامل اشاعت ہے۔ اس طویل نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
چلی ہے خاص پُروا، فضل کا ہے مینہ برستا بھی
وہ آیا بادشاہ کہ اِک جہاں ہے دست بستہ بھی
سپاہِ عزت و تکریم کا خدمت میں دستہ بھی
دلوں کو جانے والا ایک اِک ہے صاف رستہ بھی
کلیدِ شہر دل اعزاز سے پھر سونپی جاتی ہے
خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے
یہ ممکن ہی نہیں دستِ بشر میں ایسی طاقت ہو
کہ دنیا کے بھی ایوانوں پہ طاری رعبِ عظمت ہو
بدل ڈالے جو دل یکسر کسی میں وہ صداقت ہو
طلوع سورج ہے مغرب سے، اگر چشمِ بصیرت ہو!
جو حق کی روشنی آئے، تو ظلمت بھاگ جاتی ہے
خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے
دلوں کی سلطنت پر کر رہا ہے حکمرانی بھی
وہ جس سے منسلک ہے بادشاہت آسمانی بھی
جمالِ مصطفیٰ ؐ کی ہے جہاں میں وہ نشانی بھی
عیاں جس کی فصاحت سے ہوا یارِ نہانی بھی
صدائے ’اِنِّی مَعَکَ‘ شش جہت میں پھیل جاتی ہے
خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے
………٭………٭………٭………
روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۲۵؍مئی ۲۰۱۵ء میں خلافت احمدیہ کے حوالے سے مکرم عبدالکریم خالد صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
انہیں زعمِ تفاخر ہے زر و مال و حکومت پر
ہمیں شرفِ فضیلت ہے کہ مرتے ہیں خلافت پر
زہے قسمت ہمارے سر پہ سایہ ہے امامت کا
ہمیں وہ لوگ ہیں جن کا یقیں پختہ خلافت پر
یہ اس کا فضل و احساں ہے یہ اس کی مہربانی ہے
یہ خاص الخاص رحمت ہے جو اُس نے کی جماعت پر
نبوت قدرتِ اوّل خلافت قدرتِ ثانی
یہ دونوں قدرتیں شاہد ہیں مہدی کی صداقت پر
خلافت منبعِ خیر و عمل رشد و ہدایت ہے
خلافت دائمی نعمت ہے منہاج نبوت پر
کہاں ہوگا جہاں اَور کوئی ہم سا خوش قسمت
کہ خود کو بیچ ڈالا ہے ترے دستِ امامت پر
ترا ہر بول شیریں ہے ترا ہر لفظ خوشبو ہے
ملائک وجد کرتے ہیں ترے حُسنِ خطابت پر
………٭………٭………٭………
خلافت احمدیہ کے حوالے سے کہا گیا مکرم بشارت محمود طاہر صاحب کا کلام روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۲۵؍مئی ۲۰۱۵ء میں شامل اشاعت ہے۔ اس خوبصورت نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
آنکھ میں تم ہو مری سانس میں چلتے تم ہو
دل ہو، ارمان، سینے میں مچلتے تم ہو
میرے اپنے ہو مرے درد میں جلتے تم ہو
غم مجھے ہو تو مرے غم میں پگھلتے تم ہو
دکھ کے صحرا میں بہاروں کی علامت تم ہو
دورِ حاضر میں مسیحا کی کرامت تم ہو
اُس کو کہنا کہ اداسی میں گزر ہوتی ہے
زندگی اب تری راہوں میں بسر ہوتی ہے
اپنی حالت پہ کہاں میری نظر ہوتی ہے
تری ہستی مری آنکھوں کا گہر ہوتی ہے
حسن کا راز ہو جذبوں کی امانت تم ہو
دورِ حاضر میں مسیحا کی کرامت تم ہو
مجھ کو حسرت ہے تجھے سامنے چلتا دیکھوں
ساری دنیا کو ترے عشق میں جلتا دیکھوں
تیرا گلزار سدا پھولتا پھلتا دیکھوں
تیرے ہر لفظ سے قسمت کو بدلتا دیکھوں
حُسن میں چاند اداؤں میں قیامت تم ہو
دورِ حاضر میں مسیحا کی کرامت تم ہو
………٭………٭………٭………
مکرم ضیاءاللہ مبشر صاحب کی نظم ’’لمحۂ وصل‘‘ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۲؍ستمبر۲۰۱۴ء میں شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
اِک خواب سی وہ دید تھی اس پُرجمال کی
مجھ کو عطا ہوئی جو گھڑی تھی وصال کی
تھا کاروانِ شوقِ زیارت مرا وجود
اشکوں کی پالکی میں تھی دلہن خیال کی
مَیں تشنہ روح، تشنہ جاں، پیاسا تھا دید کا
بارش تھی اس کی اِک نظر آبِ زلال کی
وہ نُور نُور چہرہ، وہ آنکھیں حیا حیا
پرچھائیں ہے اُس عکسِ رُخِ ذوالجلال کی
ہر لفظ تھا گلاب تو ہر بول بوستاں
مہکی تھی بات بات میں خوشبو کمال کی
اُس پہ خدا کا سایۂ رحمت رہے سدا
آئے کبھی نہ کوئی گھڑی بھی ملال کی
مزید پڑھیں: تَلْزَمْ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ اِمَامَھُمْ




