چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۱۴)
۱۱۲۔اگر وہ نہ بولے تو کیوں کر کوئی
یقیں کر کے جانے کہ ہے مختفی
مختفیmukhtafi: چھپا ہوا، پوشیدہ، پنہاں، ظاہر Manifest, hidden
اس کی ذات نہاں در نہاں ہے۔ وہ آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا ۔ اس کی ہستی کاثبوت یہ ہے کہ وہ مضطر کی دعا کو سنتا اور جواب دیتا ہے۔ اس کے کلام سے اس کا نشان ملتا ہے اور اس کی ہستی پر حق الیقین پیدا ہوتا ہے ۔
۱۱۳۔وہ کرتا ہے خود اپنے بھگتوں کو یاد
کوئی اس کے رہ میں نہیں نامراد
بھگت bhagat: نیک آدمی، شریف انسان Devotee, a Godly person
نامراد naa muraad: محروم، بےنصیبUnfortunate
اللہ تعالیٰ اپنے سے پیار کرنے والے نیک بندوں کو خود یاد کرتا ہے ان پر اپنی رحمتیں برساتا ہے کوئی جو اس سے محبت کرتا ہے بے نصیب نہیں رہتا۔وہ اس کی مرادیں پوری فرماتا ہے۔
۱۱۴۔مگر وید کو اس سے انکار ہے
اسی سے تو بے خیر و بیکار ہے
وید waid: ہندوؤں کی مذہبی کتاب Vedas, the religious book of Hindus
بے خیر bay khair: جس میں بھلائی نہ ہوUnbeneficial
بے کار bay kaar: فضول Useless
وید جو ہندوؤں کی مذہبی کتاب ہے کسی ایسی ہستی کی خبر نہیں دیتی جو رحیم اور کریم ہو اسی لیے اس سے کسی بھلائی کی امیدنہیں ۔ بالکل بے فیض ہے۔
۱۱۵۔کرے کوئی کیا ایسے طومار کو
بلا کر دکھاوے نہ جو یار کو
طومار toomaar: لپٹا ہوا کاغذ
کسی کتاب کا حجم بڑا ہونا کوئی فضیلت نہیں رکھتا ۔ وہ صرف کاغذات کا ایک ڈھیر ہے جو یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ اپنے معبود کو بلا کردکھادے یا اس سے کلام کروادے۔
۱۱۶۔وہ ویدوں کا ایشر ہے یا اک حجر
کہ بولے نہیں جیسے اک گنگ و کر
وید waid: ہندوؤں کی مذہبی کتاب Vedas, the religious book of Hindus
ایشر eeshar: ایشور، خدا تعالیٰ، حاکم God
حجر hajar: پتھرStone
گنگ وکر guNg-o-kar: گونگا بہرہ Deaf and dumb
وہ وید کا خدا ہے یا پتھر ہے جو نہ بولتا ہے نہ سنتا ہے۔
۱۱۷۔تو پھر ایسے ویدوں سے حاصل ہی کیا
ذرا سوچو اے یارو بہر خدا
وید waid: ہندوؤں کی مذہبی کتاب Vedas, the religious book of Hindus
بہرِ خدا behre Khudaa: خدا کے لیے For God’s sake
ایسی مذہبی کتاب کا کیا فائدہ ۔ اللہ کے واسطے اس بات پر غور کرو ۔
۱۱۸۔وہ انکار کرتے ہیں الہام سے
کہ ممکن نہیں خاص اور عام سے
وہ الہام کے منکر ہیں ۔ سمجھتے ہیں کہ کوئی خاص ہو یا عام بندہ ہو کسی پر الہام نہیں ہو سکتا۔
۱۱۹۔یہی سالکوں کا تو تھا مدعا
اسی سے تو کھلتی تھیں آنکھیں ذرا
سالک saalik: راہ رو، خدادوست، زاہد، خدا کی راہ پر چلنے والا A devotee seeker of the right path
مدّعا mudda’aa: مقصد object, desire
اللہ تعالیٰ کی محبت کی راہوں پر چلنے والے یہ خواہش رکھتے تھے کہ انہیں کلام الہی کی نعمت میسر آئے جس سے انہیں ہستی باری تعالیٰ کے بارے میں جاننے میں مدد ملے ۔ان کی روحانی آنکھیں کھلیں ۔ حقیقت واضح ہو۔
۱۲۰۔اگر یہ نہیں پھر تو وہ مر گئے
کہ بے سود جاں کو فدا کر گئے
بے سودbe sood: بے کار، بے فائدہUseless
فدا کرناfedaa karnaa: قربان کرنا۔ نثار کرنا
To offer life , to sacrifice
اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت کرنے والوں کو کوئی جواب نہ ملے ۔تو وہ زندہ نہ رہ سکیں بلکہ اس غم سے جان سے جائیں کہ ان کی اپنے معبود کی خاطر جان کی قربانی بےفائدہ ، بےمقصد اور لاحاصل رہی۔
۱۲۱۔ یہ ویدوں کا دعویٰ سنا ہے ابھی
کہ بعد ان کے ملہم نہ ہوگا کبھی
وید waid: ہندوؤں کی مذہبی کتاب Vedas, the religious book of Hindus
ملہم mulham: جس کو الہام ہوتا ہو، غیب کی خبر الہام کے ذریعے سے پانے والا۔ One who is blessed with Divine revelation
ویدوں کا یہ دعویٰ حال ہی میں سننے میں آیا ہے کہ الہام کا سلسلہ وید کے ساتھ ختم ہوگیا ۔ اس کے بعد کوئی ملہم نہیں ہوگا یعنی کسی کو خدا کی طرف سے الہام کے ذریعہ کوئی خبر نہیں ملے گی۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لیے



