الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
محترم چودھری ظہور احمد باجوہ صاحب
جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ’’النور‘‘ فروری ۲۰۱۴ء میں محترم چودھری ظہور احمد باجوہ صاحب کے ایک انٹرویو کا کچھ حصہ شامل اشاعت ہے۔ یہ انٹرویو مکرم یوسف سہیل شوق صاحب نے ایم ٹی اے کے لیے ریکارڈ کیا تھا۔
محترم چودھری صاحب نے بیان فرمایا کہ میری پیدائش ۱۹۱۹ء میں ہوئی۔ گھر کے باہر ہمارا ڈیرہ تھا جہاں ہمارے دادا محترم چودھری علی بخش صاحب رہا کرتے تھے۔ مَیں نے ہوش سنبھالا تو دیکھا کہ دادا تو نماز ادا کرنے مسجد جاتے ہیں لیکن میرے والد گھر پر ہی اپنی نماز پڑھتے ہیں۔ مجھے بعد میں علم ہوا کہ میرے والد احمدیت قبول کرچکے تھے۔ مَیں نے ابتدائی پرائمری تعلیم اپنے گاؤں چک۳۳جنوبی سرگودھا سے حاصل کی۔ مڈل ساتھ والے گاؤں کے سکول سے کیا اور نہم جماعت میں قادیان چلاگیا۔ لیکن پھر میری والدہ کی وفات ہوگئی تو والد نے ہم دونوں بھائیوں کو قادیان سے بلالیا اور لالیاں ہائی سکول میں داخل کروادیا جہاں سے مَیں نے میٹرک کیا۔ پھر بہاولپور چلاگیا جہاں ہماری زمین تھی۔ وہاں سے ایف اے کیا۔ گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے بی اے کیا۔ پھر اپنے ایک دوست کے بلانے پر دہلی چلاگیا۔ جنگ عظیم دوم شروع ہوچکی تھی۔ وہاں ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ نے ایک سکول جاری کیا ہوا تھا جہاں تین چار ہفتے کی ٹریننگ ہوتی تھی۔ مَیں نے ٹریننگ لی اور قریباً تین سال وہاں رہا۔ جب مَیں نے دہلی میں ملازمت شروع کرنا چاہی تھی تو اپنے والد کو لکھا تھا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ خواب میں تمہاری والدہ آئی تھیں اور انہوں نے تمہارے لیے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر ملازمت میں اس کی تنخواہ سو روپے سے زیادہ ہو تو دو تہائی میں گزارہ کرے۔ میری تنخواہ ۱۲۰؍ روپے تھی۔ چنانچہ مَیں ۴۰؍روپے جماعت کو دے دیتا۔
ہم سات آٹھ احمدی لڑکے اکٹھے رہتے تھے۔ جب حضرت مصلح موعودؓ نے وقف کے بارے میں خطبات ارشاد فرمانے شروع کیے تو ہم بھی آپس میں ذکر کرتے۔ مَیں دعا بھی کرتا رہا۔ ایک رات مَیں نے خواب میں دیکھا کہ اپنے دادا جان کو خط لکھ رہا ہوں کہ حضور کی تحریک پر وقف کرنا چاہتا ہوں لیکن اس وقت میری تنخواہ اتنی ہونے کے باوجود جب چھٹیوں پر گھر آتا ہوں تو واپسی پر کرایہ آپ سے مانگنا پڑتا ہے۔ جبکہ حضور فرماتے ہیں کہ پندرہ روپے تنخواہ ہوگی اور مانگنا بھی کچھ نہیں ہے تو وہاں گزارا کیسے ہوگا۔ خواب میں ہی دیکھا کہ دادا نے مجھے لکھا کہ تمہارا ارادہ اچھا ہے، فوراً وقف کردو۔ احمدیت میں بہت خلفاء ہوں گے لیکن اس شان کا کوئی نہ ہوگا۔ اور تم خرچ کا کوئی فکر مت کرو، خداتعالیٰ تمہارے لیے تمام راہ کھول دے گا۔ چنانچہ مَیں نے وقف کے لیے خط لکھ دیا۔ حسب ارشاد انٹرویو کے لیے ۱۹۴۴ء کے جلسہ سالانہ پر حاضر ہوا تو مکرم عبدالرحمٰن انور صاحب نے مجھ سے پوچھ کر کوائف لکھے اور پھر پوچھا کہ اگر آپ تبلیغ نہ کرسکتے تو کیا کام کرسکیں گے؟ مَیں نے کہا کہ مَیں پڑھالکھا ہوں، کوئی کام میرے سپرد کرکے دیکھ لیں اگر وہ آپ کی مرضی کے مطابق نہ ہو تو کوئی اَور کام دے دیں، اس طرح کہیں نہ کہیں فِٹ کرلیں۔ مکرم انور صاحب یہ سب کچھ لکھ کر مجھے حضرت صاحب کے پاس لے گئے۔ حضور کے پاس مَیں کوئی دس منٹ تک رہا لیکن حضور نے وقف کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ دہلی میں کسی واقعے سے متعلق اختلاف کی رپورٹس حضور کے پاس آئی تھیں، حضور نے مجھ سے صرف اُس واقعے کے بارے میں پوچھا تو مَیں نے عرض کیا کہ مَیں چونکہ تھوڑے عرصے سے ہی دہلی میں ہوں اس لیے اس حوالے سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتا ۔
جب مَیں قادیان سے واپس دہلی آگیا تو دو تین ماہ بعد مارچ۱۹۴۵ء میں خط ملا کہ مجھے تبلیغ اسلام کے لیے منتخب کیا گیا ہے، فارغ ہوکر آجاؤں۔ چنانچہ مَیں نے اُسی وقت استعفیٰ دے دیا اور قادیان آگیا۔ دارالواقفین میں قیام تھا۔ پڑھائی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ کچھ دن کے بعد مولوی راجیکی صاحبؓ پڑھانے آجاتے۔ شیخ عبدالخالق صاحب جو پہلے مسلمان تھے پھر عیسائی ہوگئے اور پھر احمدی مسلمان ہوگئے وہ پڑھاتے تھے۔ بائبل انہیں زبانی یاد تھی۔ چند دن مولوی غلام صاحب نے بھی پڑھایا۔ پھر ایک بار جب حضور کی خدمت میں گیا تو آپ نے پوچھا کہ تمہاری پڑھائی کا کیا حال ہے؟ مَیں نے کہا کہ مولوی انور صاحب نے ’’براہین احمدیہ‘‘ دی ہوئی ہے، مَیں کہتا ہوں یہ مجھے سمجھ نہیں آتی، پڑھادیں لیکن موصوف کہتے ہیں خود سمجھنے کی کوشش کرو۔ حضور فرمانے لگے وہ تو انور صاحب کو بھی سمجھ نہیں آتی تمہیں کیا پڑھائیں گے، لیکن اب تمہارا اُس تعلیم سے کوئی تعلق نہیں جو انور صاحب بتاتے ہیں، تم صوفی غلام محمد صاحب کے پاس چلے جایا کرو، ان کی صحبت میں بیٹھو، بس یہی تمہاری تربیت ہے۔ چنانچہ پھر ہم تین واقفین وہاں جانے لگے۔ وہاں کوئی باقاعدہ کلاس نہیں ہوتی تھی، ہم کھیلتے رہتے تھے۔ صوفی صاحب کسی کسی وقت کوئی مسئلہ یا کوئی چیز بیان کردیتے، کبھی قرآن کی کوئی آیت سنادی اور اُس کی تفسیر کردی۔
جنگ ختم ہوئی تو دسمبر۱۹۴۵ء کے آخری دنوں میں ۹؍واقفین زندگی کا قافلہ قادیان سے بذریعہ ریل روانہ ہوا اور پھر بحری جہاز کے ذریعے ۱۶؍جنوری ۱۹۴۶ء کو برطانیہ پہنچ گیا۔ ہماری آمد کا وہاں چرچا ہوا اور تصویریں بھی چھپیں لیکن پبلک Reaction نہیں ہوا۔ نواحمدی بلال نٹل صاحب وہاں کسی ہوٹل میں کھانا پکایا کرتے تھے۔ انہوں نے ہمارے پہنچنے پر زردہ، پلاؤ اور گوشت ایسی مہارت کے ساتھ پکایا کہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ کسی انگریز نے پکایا ہے۔ پانچ سات لوگ مسجد میں آجایا کرتے تھے۔ پہلے سے چار واقفین بھی موجود تھے۔ ہمارے پہنچنے پر کُل تعداد تیرہ ہوگئی۔ کافی رونق ہوگئی۔ شمس صاحب نے دو دو واقفین کی کھانا پکانے کی ڈیوٹی لگاکر سارا ہفتہ تقسیم کردیا۔ اُن دنوں کسی نے ہماری دعوت کی تو شمس صاحب ہمیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے اور بس میں سوار ہوکر کنڈیکٹر کو بتایا کہ تیرہ ٹکٹ دے دو۔ اُس نے کہا: نہیں نہیں، آپ لوگ بارہ ہیں۔ دراصل انگریز تیرہ کا ہندسہ منحوس سمجھتے تھے۔ یہ میرے لیے عجیب انکشاف تھا۔
مسجد میں ہفتہ وار میٹنگ ہوتی تھی جس میں چوبیس پچیس لوگ آجایا کرتے تھے، گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ میٹنگ اور سوال و جواب ہوتے اور پھر چائے پیش کردی جاتی۔ حضرت چودھری ظفراللہ خان صاحب ہمیں بار بار تاکید کیا کرتے تھے کہ ہر وقت انگریزی بولو، انگریزی پڑھو۔
لندن میں اُن دنوں بڑی بدحالی تھی۔ رہائش اور خوراک کی بہت تنگی تھی۔ لوگ ڈبل روٹی اور آلو کھاکر گزارہ کیا کرتے تھے۔ انڈا اور پھل صرف حاملہ عورت، کسی بیمار یا بچے کو ہی مل سکتا تھا۔ تازہ سبزی بھی مشکل سے ملتی تھی۔ دکاندار چھپاکر کسی جاننے والے کو دے دیتے تھے۔ میری ڈیوٹی سبزی لانے کی تھی۔ ہماری مسجد کے قریب ایک بوڑھی عورت کی دکان تھی۔ وہ دکان کے پیچھے ہی ایک چھوٹے سے کمرے میں رہا کرتی تھی۔ ایک دن مَیں نے کچھ مانگا تو اُس نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔ پھر باقی گاہکوں کو فارغ کرکے مجھے پچھلے کمرے میں لے گئی اور وہاں سے آم، کیلا اور ایک اَور پھل دکھاکر کہنے لگی کہ مَیں سب کے سامنے تو تمہیں نہیں دے سکتی لیکن تم ایسے وقت آیا کرو جب یا تو دکان کھلے یا مَیں بند کرنے لگی ہوں۔ پھر تم کسی کپڑے میں ڈال کر لے جایا کرنا۔ اس طرح ہم پھل لایا کرتے تھے۔
جو مبلغین مختلف ممالک کے لیے آئے تھے وہ اپنی اپنی جگہوں پر چلے گئے تھے۔ مَیں لندن میں ہی متعیّن تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ جو مضمون وغیرہ لکھتے تھے وہ ہمیں بھجوادیتے تھے اور ہم اُسی روز ترجمہ کرکے راتوں رات اُسے چھپواکر تقسیم کرتے تھے۔ جب پاکستان بن گیا تو حضور نے ہمیں لکھا کہ ہم لاہور آگئے ہیں اس لیے مَیں تمام واقفین کو وقف سے آزاد کرتا ہوں، جو آزاد ہونا چاہتا ہے، وہ ہوجائے۔ جب حالات بہتر ہوں گے مَیں تنکا تنکا اکٹھا کرکے گھونسلہ بنالوں گا اور آپ کو بلالوں گا۔
کرم الٰہی ظفر صاحب سپین میں تھے اور عطاءالرحمٰن صاحب فرانس میں۔ دونوں نے کہا کہ وقف میں رہ کر خود گزارہ کرلیں گے۔ تیسرا مَیں تھا۔ بہرحال مالی تنگی کا یہ دَور تین چار ماہ رہا پھر حضورؓ نے پیسے بھجوانے کا انتظام فرمادیا۔اس عرصے میں (چودھری اشرف صاحب جیسے) کچھ لوگ تھے جو جماعت کو پیسوں کی تنگی نہیں آنے دیتے تھے، لیکن تنگی تھی ضرور۔ چودھری اشرف صاحب مختلف میلوں میں پرفیوم وغیرہ بیچا کرتے تھے۔ تنگی کے اُن دنوں میں وہ مبلغ انچارج کی اجازت سے مجھے اپنے ساتھ لے جاتے اور واپس آکر منافع جماعت کو دے دیتے۔ اس لیے ہمیں احساس نہیں ہوا کہ ہمیں الاؤنس نہیں ملتا۔
اس دوران حضور نے فرمایا کہ وہاں سے کوئی باؤنڈری ایکسپرٹ سرویئر بھیجو۔ ہمارے پاس پیسے تو تھے نہیں۔ آخر ایک سرویئر جس نے کہا کہ پیسے نہیں لوں گا لیکن ٹکٹ میرا آپ دو۔ مَیں اپنے بینک میں گیا اور مینیجر سے کہا کہ اتنی رقم چاہیے۔ وہ کہنے لگا کہ اتنے تو نہیں دے سکتا۔ مَیں نے کہا کہ ۱۹۲۴ء سے اکاؤنٹ تمہارے پاس ہے۔ کہنے لگا کہ اس میں صرف تیس پینتیس پاؤنڈ ماہوار آتے ہیں جس کا ہم کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔ مَیں نے کہا کہ پھر ہمارا اکاؤنٹ بند کردو۔ اور مَیں اُٹھ کر چلا آیا۔ ابھی چند منٹ ہی چلا تھا کہ مینیجر نے ایک آدمی کار میں بھیجا اور واپس بلایا لیکن مَیں نے جانے سے انکار کردیا۔ جب مشن ہاؤس پہنچ گیا تو مینیجر خود آگیا اور کہنے لگا کہ مجھے بڑا افسوس ہے، مجھے احساس نہیں تھا کہ آپ اس حد تک جائیں گے۔ مَیں نے کہا کہ ہمارے ملک میں تباہی آئی ہوئی ہے، جب سے ہم یہاں آئے ہیں تمہارے پاس ہی اکاؤنٹ ہے۔ وہ کہنے لگا جتنی رقم چاہیے لے لیں۔
اکتوبر میں حضرت صاحب نے لکھا کہ تین مہینے یورپ میں گزار کر واپس آجاؤ۔ چنانچہ مَیں قریباً سارے ملکوں میں گھومتا پھرتا رہا اور پھر واپس چلاگیا تو اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری مقرر ہوا۔ پھر کچھ عرصے بعد بطور امام مسجد فضل لندن تقرری ہوئی تو ۳۱؍جولائی۱۹۵۰ء کو لندن پہنچا اور پانچ سال یہاں رہا۔ اس دوران وہاں گرم پانی یا ہیٹنگ کا انتظام نہیں تھا۔ مَیں ہر جمعے کو پبلک باتھ میں جاکر نہا آتا تھا اور وضو وغیرہ ٹھنڈے پانی سے کرکے جرابیں پہن لیتے تھے تو سارا دن گزر جاتا تھا۔ ایک بار ایک دوست آیا جس کا کاٹن کا کاروبار تھا۔ وہ باتھ روم گیا تو کہنے لگا بڑا ٹھنڈا پانی ہے۔ مَیں نے کہا کہ مَیں اسی سے چار سال سے گزارہ کررہا ہوں کیونکہ واقف زندگی ہوں۔ اس پر اُس نے ایک سو پاؤنڈ کا چیک دیا جس سے ہم نے گرم پانی کا انتظام کرلیا اور پبلک باتھ پر جانا بھی بند ہوگیا۔
کمرے گرم کرنے کے لیے کوئلہ جلایا جاتا تھا۔ مَیں تو نہیں جلاتا تھا لیکن ضرورت تو تھی۔ ایئرمارشل ظفر چودھری صاحب جب بھی لندن آتے تو ایک دو دن میرے پاس مشن ہاؤس آکر بھی ٹھہرتے۔ وہ اُس وقت فلائٹ لیفٹیننٹ تھے۔ ایک بار وہ آئے تو ہمارے لیے ریڈیو خرید لائے۔ اسی طرح ایک بار انہوں نے کمروں کے پردے بنوادیے۔
۱۹۵۵ء میں واپسی کا ارشاد ملا۔ چنانچہ واپس مرکز پہنچا تو چند دن بعد حضورؓ یورپ تشریف لے جانے والے تھے۔ آپؓ نے فرمایا کہ آجکل چار ماہ چھٹی ملتی ہے تم فوراً چلے جاؤ اور جب مَیں واپس آؤں تو میرے آنے سے پہلے کراچی آجانا۔ چنانچہ مَیں ربوہ آکر حافظ عبدالسلام صاحب وکیل اعلیٰ سے ملا۔ انہوں نے بھی کہا کہ چار مہینے کی چھٹی لے سکتے ہو۔ چنانچہ مَیں گھر پہنچا تو دوسرے دن ہی تار ملی کہ چھٹی کینسل ۔ جب مَیں ربوہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ میاں مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر چار ماہ کے لیے بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ چنانچہ اُن کی جگہ مَیں نے چار ماہ کام کیا۔ جب وہ واپس آگئے تو پھر حافظ صاحب نے کہا کہ اب چھٹی پر چلے جاؤ۔ چنانچہ مَیں روانہ ہوگیا۔ جب مَیں گھر پہنچا تو پھر ایک خط آگیا کہ چھٹی کینسل۔ جب واپس ربوہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب نے نائب ناظر اصلاح و ارشاد مقرر کیا ہے۔ اُن دنوں حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ ناظر اصلاح و ارشاد تھے۔ مَیں اُن کے پاس چلاگیا اور میری وہ چھٹی پھر بقایا ہی رہی۔
حضرت میاں شریف احمد صاحبؓ سے میری واقفیت لندن میں ہوئی تھی جب آپؓ پاکستان بننے کے بعد سات آٹھ مہینے انگلستان میں مقیم رہے تھے۔ مَیں نے حاضر ہوکر آپؓ سے پوچھا کہ کوئی ہدایت یا نصیحت؟ فرمانے لگے کہ دو باتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ ہمارا بجٹ بہت تھوڑا ہوتا ہے، اس بارے میں میٹنگ میں بحث کرنا کارآمد نہیں ہے اور اس معاملے میں انجمن کو زیادہ نہیں لکھنا چاہیے، بس اطلاع دے دو کہ ہمارا بجٹ فلاں مہینے کا ختم ہوگیا ہے۔ دوسری بات یہ یاد رکھنا کہ جماعت میں کسی کو شامل کرنا بڑا مشکل ہے لیکن جماعت سے نکالنا بڑا آسان ہے اس لیے کسی کو نکالنے میں کبھی جلدبازی نہ کرنا۔
………٭………٭………٭………
محترم خان بہادر سیّد محی الدین احمد صاحب
ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان ۲ جنوری۲۰۱۴ء میں محترم الحاج خان بہادر سیّد محی الدین احمد صاحب (عرف بنّو بابو ایڈووکیٹ رانچی) کا مختصر ذکرخیر اُن کے بیٹے مکرم سیّد فرقان احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم خان بہادر صاحب کا شمار ہزاروں کیس جیتنے کی وجہ سے بھارت کے چوٹی کے وکلاء میں ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کشمیر کے وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ نے اپنی قانونی لڑائی کے لیے بھارت اور لندن کےوکلاء کی فہرست میں آپ کا نام سرفہرست رکھا ہوا تھا اور اپنے کیس کی دفاعی کونسل کا چیف بنایا ہوا تھا۔
محترم خان بہادر صاحب ایک خوبصورت اور پُروقار شخصیت کے مالک تھے۔ غریب پرور، یتیموں کے سرپرست، متقی اور علمی شخصیت تھے۔ وکالت کے ساتھ ساتھ لکھنے کا بھی شوق تھا۔ ۱۹۳۵ء میں اپنی کوٹھی ’’آشیانہ‘‘ سے The Sentinel کے نام سے ایک انگریزی اخبار شروع کیا۔ آپ کی وسیع و عریض کوٹھی اُس زمانہ میں گویا سیاحوں کا مرکز سمجھی جاتی تھی۔ سرکاری افسران اور جج و وکلاء مختلف مشوروں کے لیے وہاں آنا اپنی عزت افزائی سمجھتے تھے۔ کسی بھی خط پر اگر ’’بنوبابو۔ بہار‘‘ لکھ دیا جاتا تو وہ خط آپ کے گھر تک پہنچ جاتا۔ آپ کا ایک فارم ہاؤس ’’سملیہ‘‘ بھی تھا جس میں ایک بنگلہ، مسجد، گوال گھر، پولٹری فارم، امرود کا باغ وغیرہ موجود تھے۔ پن چکّی کے ذریعے وہاں بجلی پیدا کی جاتی تھی۔ اس علاقے کے لوگ آپ کے وہاں آنے کا انتظار کیا کرتے، آپ مشورہ اور مدد ہر ایک کو مہیا فرماتے۔ وہاں کے جو لوگ ملازمت کے لیے رانچی شہر کا رُخ کرتے تو کام ملنے تک آپ کی کوٹھی میں مقیم رہتے۔ تینوں وقت پچاس سے زائد افراد کا کھانا پکتا۔ خدمت گزاروں کی ایک بڑی تعداد ہمہ وقت مہمانوں کی خدمت کے لیے موجود رہتی۔
آپ ایک عابد و زاہد شخص تھے۔ پچاس سال میں کبھی بلاوجہ تلاوت قرآن کریم میں ناغہ کرتے نہیں دیکھا۔مقدمات کے لیے سفر بھی درپیش رہتا لیکن نماز کی پابندی ہمیشہ قائم رہتی۔ جہاں نماز کا وقت ہوتا تو گاڑی رکوادیتے اور وضو کرکے اُسی اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے جیسے گھر پر ہوں۔ ہم نے ان کی زندگی میں بہت سے معجزات دیکھے۔ ایک بار دو موکل گھر پہنچے اور اگلے دن اُن کے مقدمے کی تاریخ پر جانے کے لیے اصرار کرنے لگے۔ ایک کے بیٹے کو سزائے موت کا سامنا تھا تو دوسرے کے بھائی کی عمرقید کا معاملہ تھا۔ ظاہر ہے کہ آپ جسمانی طور پر صرف ایک جگہ ہی جاسکتے تھے۔ دونوں اصرار کے ساتھ باقاعدہ رونے لگے اور منّت سماجت کے ساتھ درخواست کرتے رہے۔ اس پر آپ دلگیر ہوکر اپنے چیمبر سے اُٹھے اور پیچھے اپنے کمرے میں جاکر جائے نماز بچھائی اور سجدے میں چلے گئے۔ کتنی ہی دیر یونہی گزر گئی کہ اچانک ایک موکل کے گھر سے فون آیا کہ جج بیمار ہوگیا ہے اس لیے کل آنے کی ضرورت نہیں۔ ایسے کئی واقعات ہم نے مشاہدہ کیے جب خداتعالیٰ نے آپ کی دعائیں قبول فرماکر کسی خاص معاملے میں فوری آسانی پیدا فرمادی۔
۱۹۴۷ء میں کسٹوڈین نے جماعت احمدیہ بھارت کی ساری جائیداد کو Evacuee Property ڈیکلیئر کردیا تھا۔ اس کیس کو لڑنے کے لیے ہندوستان کے تین بڑے وکلاء کے نام حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں پیش کیے گئے تو حضورؓ نے آپ کے نام کا انتخاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے حضورؓ کے اس فیصلے کی خبر بذریعہ خواب آپ کو دے دی۔ چنانچہ اگلے روز جب قادیان سے محترم عبدالحمید عاجز صاحب اچانک رانچی میں آپ کے چیمبر میں پہنچے تو آپ نے اُن کے کچھ کہنے سے پہلے کہا کہ مَیں حضور کی بھیجی ہوئی فائل کا انتظار کررہا ہوں۔ بہرحال آپ کسٹوڈین جنرل کے ذریعے یہ معاملہ ہوم منسٹری تک لے گئے جہاں سے یہ پنڈت جواہر لال نہرو تک پہنچا۔ نہرو صاحب نے آپ کو چائے کی دعوت دی۔ آپ نے یہ دعوت قبول کرنے سے قبل اُن سے انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے کا وعدہ لیا۔ الحمدللہ کہ فیصلہ جماعت کے حق میں ہوا۔
آپ کی شخصیت روحانیت اور خدمت خلق کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے بارہا غریب موکلوں سے فیس نہیں لی۔ دوسری طرف بہار کے چیف منسٹر کرپوری ٹھاکر صاحب بھی آتے تو اُنہیں بھی آپ کی نماز کے ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑتا۔
۲۸؍نومبر۱۹۷۴ء کو آپ نے وفات پائی۔ آپ کو اپنے خاندان کا پہلا احمدی ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔
………٭………٭………٭………
جماعت احمدیہ امریکہ کے اردو ماہنامہ ’’النور‘‘ جنوری ۲۰۱۴ء میں محترمہ امۃالباری ناصر صاحبہ کی درج ذیل مختصر نظم شامل اشاعت ہے:
سوچ کو چہرہ وہی اہل نظر دیتے ہیں
عزم و ایمان جنہیں اچھی خبر دیتے ہیں
بعد صدیوں کے بہار آئی ہے اس گلشن میں
مست جھونکے گُلِ رعنا کی خبر دیتے ہیں
ہیں مسیح کے لیے شام و سحر گردش میں
حق کا پیغام ہمیں شمس و قمر دیتے ہیں
گالیاں سن کے دعا دینے کا ہے حکم ہمیں
دل دُکھا ہو تو یہ مشکل ہے مگر دیتے ہیں
نفرتیں، کینے، حسد، بغض کسی سے بھی نہیں
ساری دنیا کوفقط پیار سے بھر دیتے ہیں
دودھ اُتر آتا ہے رحمت کا بلک کر مانگو
مضطرب آنسو دعاؤں کو اثر دیتے ہیں
مزید پڑھیں: خلیفہ خدا بناتا ہے



