شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
[گذشتہ سے پیوستہ۔ تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۲۶؍مئی ۲۰۲۶ء]
فروتنی اور عاجزی
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’غریب لوگ تکبر نہیں کرتے اور پوری تواضع کے ساتھ حق کو قبول کرتے ہیں۔ مَیں سچ سچ کہتاہوںکہ دولتمندوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس سعادت کا عشر بھی حاصل کر سکیں جس کو غریب لو گ کامل طورپر حاصل کر لیتے ہیں‘‘۔ (ازالۂ اوہام۔ روحانی خزائن۔ جلد ۳۔ صفحہ ۵۳۷)
اس لئے آپؑ نے فرمایا تھاکہ جماعت میں شامل ہونے کے لئے عاجزی شرط ہے۔ تاکہ دین کو صحیح طورپر سمجھ سکواور اس پر عمل کرسکو۔ اب یہ تبدیلیاں کس طرح ہوئیںاس کے چند نمونے مَیں پیش کرتاہوں۔

حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جید عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک آسودہ حال خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اور اس کے باوجود آپ کی پاکیزگی ، انکسار اور سادگی قابل مثال تھی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دامن سے وابستہ ہو کر اور حضور کی غلامی کا جؤا گردن میں ڈال کر آپ نے دنیا طلبی کی خواہش ہی دل سے نکال دی۔ مدرسہ احمدیہ کی ملازمت کا سارا عرصہ ایک مختصر سے مکان میں گزار دیا جو دراصل ایک چپڑاسی کے بھی لائق نہ تھا۔ جب حضور کے در کی غلامی کی خاطر دنیا بھرکو چھوڑ دیا تو دنیوی چیزوں کی راحت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (اصحاب احمد۔ جلد پنجم۔ حصہ سوم۔ صفحہ۹ مطبوعہ ۱۹۶۴ء)
پھر ایک اَور مثال مولوی برہان الدین صاحب کی، عاجزی کے بارہ میں ہے۔ ’’ایک دفعہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو خداجانے کہاں خیال پہنچا، رونا ہی شروع کر دیا۔ حضور نے بہت پیار سے پوچھا کہ مولوی صاحب خیر تو ہے؟ عرض کیا حضور! پہلے میں کوٹھیٔ بنا، پھر باؤلی بنا ، پھر غزنی بنا ، اب مرزائی بنا ہو ں۔ رونا تو اس بات کاہے کہ عمر اخیر ہوگئی اور مَیں ’’جھڈّو دا جھڈّو ہی رہ گیا‘‘۔ یعنی پہلے مَیں نے کوٹھے والے پیر صاحب کی قدم بوسی حاصل کی۔ اس کے بعد بائولی صاحب والے بزرگ کی خدمت میں رہا۔ اس کے بعد مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی خدمت میں پہنچا۔ اب مَیں حضور کی خدمت میں آگیاہوں۔ رونا تو اس بات کاہے کہ مَیں وہی نالائق کا نالائق ہی رہا۔ (یہ عاجزی تھی ان کی )۔ اس پر حضورؑ نے مولوی صاحب کو بہت محبت پیار کیا۔ اور تسلی دی۔ فرمایا : مولوی صاحب!گھبرائیں نہیں۔ جہاں آپ نے پہنچنا تھا وہاں آپ پہنچ گئے۔ اب گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے تب جاکر سکون اور قرار ہؤا۔ ‘‘(ماہنامہ انصار اللہ ربوہ۔ ستمبر ۱۹۷۷ء۔ صفحہ ۱۴)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ
’’حبی فی اللہ سید فضل شاہ صاحب لاہور ی اصل سکنہ ریاست جموں نہایت صاف باطن اور محبت اور اخلاص سے بھرے ہوئے اور کامل اعتقاد کے نور سے منور ہیں اور مال و جان سے حاضر ہیں اور ادب اور حسن ظن جو اس راہ میں ضروریات سے ہے ایک عجیب انکسار کے ساتھ ان میں پایا جاتا ہے۔ وہ تہ دل سے سچی اور پاک اور کامل ارادت اس عاجز سے رکھتے ہیں اور للّہی تعلق اورحُب میں اعلیٰ درجہ انہیں حاصل ہے اور یکرنگی اور وفاداری کی صفت ان میں صاف طورپر نمایاں ہے اور اُن کے برادر حقیقی ناصرشاہ بھی اس عاجز سے تعلق بیعت رکھتے ہیں اور ان کے ماموں منشی کرم الٰہی صاحب بھی اس عاجز کے یکرنگ دوست ہیں۔ ‘‘(ازالہ اوہام۔ صفحہ ۷۹۸۔ روحانی خزائن۔ جلد ۳۔ صفحہ ۵۳۲)
پھر حضر ت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:’’حبی فی اللہ منشی رستم علی ڈپٹی انسپکٹر پولیس ریلوے۔ (ہمارے ملکوں میں پولیس کا محکمہ بہت بدنا م ہے۔ اس لحاظ سے اگر اس پس منظر میں دیکھیں تو پھر سمجھ آتی ہے)۔ یہ ایک جوان صالح اخلاص سے بھرا ہؤا میرے اول درجہ کے دوستوں میں سے ہے۔ ان کے چہرے پر ہی علامات غربت و بے نفسی و اخلاص ظاہر ہیں۔ کسی ابتلاء کے وقت مَیں نے اس دوست کو متزلزل نہیں پایا۔ اورجس روز سے ارادت کے ساتھ انہوں نے میری طرف رجوع کیا اس ارادت میں قبض اور افسردگی نہیں بلکہ روز افزوں ہے‘‘۔ یعنی ترقی کی طرف ہی بڑھ رہے ہیں۔ (ازالہ اوہام۔ صفحہ ۸۰۶-۸۰۷۔ روحانی خزائن۔ جلد ۳۔ صفحہ ۵۳۶)
تکبر سے پرہیز
پھر اس میں تھا کہ ’تکبر سے پرہیز کریں گے‘۔ اس بارہ میں سید محمد سرور شاہ صاحبؓ کی مثال دیتاہوں۔
’’باوجود علم وفضل میں بہت بلند مقام رکھنے کے اس زمانہ کے دیگر نام نہاد علماء کے برعکس آپ کی طبیعت میں سادگی اور تواضع اس قدر تھا کہ اگر کسی وقت چھوٹے بچے نے بھی آپ سے بات کرنا چاہی تو بلاجھجک آپ سے ہمکلام ہو سکتا۔ آپ بڑی محبت سے اس کی بات سنتے اور تسلی بخش طریق پر اس کے سوال کا جواب دیتے۔ (تو مولوی محمدحفیظ بقاپوری اپنے بچپن کا واقعہ سناتے ہیں کہ) اس عاجز کے کسی قریبی رشتہ دار کے ہاں بچہ پیداہوا۔ خط کے ذریعہ ایسی اطلاع ملنے پر مَیں نے حضرت مولوی صاحبؓ سے نومولود کا نام تجویز کرانے کا ارادہ کیا۔ آپ شاید مسجد اقصیٰ میں درس دینے کے لئے جارہے تھے یاواپس تشریف لارہے تھے۔ مَیں آگے بڑھا۔ اس عاجز کو اپنی طرف آتا دیکھتے ہی رُک گئے۔ بڑی محبت سے التفات فرمایا اورمیری درخواست پر نومولود کا نام تجویز فرما کر اس کے حق میں دعا فرمائی‘‘۔ (اصحاب احمد۔ جلد پنجم۔ حصہ سوم۔ صفحہ ۳۵)
پھر اس بارہ میں حضرت مولوی برہان الدین صاحبؓ کا ایک واقعہ ذکر کرتا ہوں۔ پہلے بھی مثالوں سے ظاہر ہوگیا ہے آپ میں نام ونمود اور ریا ظاہرداری وغیرہ کچھ بھی نہیں تھا۔ پھر علمی گھمنڈ اور تکبر بھی ہرگز نہیں تھا باوجودیکہ بڑے عالم آدمی تھے۔ دوران قیام قادیان جب بھی کوئی کہتا ’مولوی صاحب‘ تو فوراً روک دیتے کہ مجھے مولوی مت کہو ،مَیں نے تو ابھی مرزا صاحب سے ابجد شروع کی ہے۔ یعنی الف ب پڑھنی شروع کی ہے۔ (ماہنامہ انصاراللہ ربوہ۔ ستمبر ۱۹۷۷ء۔ صفحہ ۱۲)
پھرفروتنی اور عاجزی کا ایک اور نمونہ جو سب نمونوں سے بڑھ کر ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت صاحبزادہ سیّدعبداللطیف صاحب شہید کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ ’’بے نفسی اور انکسارمیں اس مرتبہ تک پہنچ گئے تھے کہ جب تک انسان فنا فی اللہ نہ ہو یہ مرتبہ نہیں پا سکتا۔ ہر ایک شخص کسی قدر شہرت اور علم سے محجوب ہوجاتاہے۔ اور اپنے تئیں کچھ سمجھنے لگتاہے اور وہی علم اور شہرت حق طلبی سے اس کو مانع ہوجاتی ہے۔ (یعنی حق کو پہچاننے میں روک بنتی ہے)۔ مگر یہ شخص ایسا بے نفس تھاکہ باوجودیکہ ایک مجموعہ فضائل کا جامع تھا مگر تب بھی کسی حقیقت حقہ کے قبول کرنے سے اس کو اپنی علمی اور عملی اور خاندانی وجاہت مانع نہیں ہو سکتی تھی۔ اور آخر سچائی پر اپنی جان قربان کی اور ہماری جماعت کے لئے ایک ایسا نمونہ چھوڑ گیا جس کی پابندی اصل منشاء خدا کاہے‘‘۔(تذکرۃالشہادتین۔ صفحہ ۴۵۔ روحانی خزائن۔ جلد۲۰۔ صفحہ۴۷)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۳۷تا۲۴۱)
مزید پڑھیں: خلیفہ خدا بناتا ہے



