متفرق شعراء
خوبیاں تو عنقا ہیں عہد نو کے رہبر میں

خوبیاں تو عنقا ہیں عہد نو کے رہبر میں
جہل کے جزیرے ہیں علم کے سمندر میں
جانتے نہیں بالکل زندگی کے مقصد کو
بے جہت مسافت ہے گھومتے ہیں چکر میں
با حجاب کھیتوں میں کاشت آبرو کیجے
ورنہ اب تباہی ہے نسلوں کے مقدر میں
بحر و بر کی ہر طاقت لے کے اپنے قبضے میں
وقت کے خداؤں نے کیا لکھا مقدر میں؟
مجھ کو کل نہیں پڑتی آگہی کی ضربوں سے
درد ہے زمانے کا میرے دیدۂ تر میں
اب یہ فرض ہے اپنا شمع ہاتھ میں لے کر
روشنی کو پھیلا دیں جیسے بھی ہو گھر گھر میں
(امۃ الباری ناصر۔امریکہ)
مزید پڑھیں: خلافت مظہر انوار ذات کبریا



