ادبیات

چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ (قسط ۱۶)

(امۃ الباری ناصر)

۱۳۱۔کوئی یار سے جب لگاتا ہے دل

تو باتوں سے لذت اٹھاتا ہے دل

جب کوئی اس محبوب ہستی سے محبت کرتا ہے۔ تو اس سے بات ہوجانا بہت بڑی نعمت سمجھتاہے۔ عاشق کا دل اپنے پیارے کی باتوں سے بہت لطف اُٹھاتا ہے۔

۱۳۲۔ وہ دلدار کی بات ہے اک غذا

مگر تو ہے منکر تجھے اس سے کیا

غذا ghezaa: خوراک Nourishment

محبت کرنے والے کو محبوب کی بات سے روحانی غذا اورتوانائی ملتی ہے۔ مگرہندو جو منکرین الہام ہیں اس لذت کو کیا جانیں ؟

۱۳۳۔نہیں تجھ کو اس رہ کی کچھ بھی خبر

تو واقف نہیں اس سے اے بے ہنر

واقف waqif: جاننے والا، شناسا Aware of knowing

بے ہنر be hunar: کام نہ جاننے والا Unskillfull, inapt

اس لذت سے وہی واقف ہوتا ہے جو اس راہ سے گزرے تجھے تو اس کا پتہ ہی نہیں ہے۔تو کیا جانے کہ اس کا کیا مزا ہے تجھے تو کچھ آتا ہی نہیں ہے۔

۱۳۴۔وہ ہے مہربان و کریم و قدیر

قسم اس کی۔ اس کی نہیں ہے نظیر

قدیر Qadeer: خدا تعالیٰ کی صفت، قدرت والا، طاقتور Mighty, Powerful, an attribute of God

نظیر nazeer: مثال، نمونہ، مانند Peer, resemblance, example

کریم kareem: بہت مہربان‘ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت Generous, great, noble benefactor, charitable, an attribute of Allah

اللہ تعالیٰ بہت ہی مہربان‘ دل کھول کر دینے والا ‘ اور ہر قدرت کا مالک ہے۔ اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس کا کوئی ثانی نہیں

۱۳۵۔جو ہوں دل سے قربان ربّ جلیل

نہ نقصاں اٹھاویں نہ ہوویں ذلیل

ربّ جلیل rabb-e-jaleel: شان والا ربّ Glorious God

ذلیل zaleel: بےعزت، کمینہ lowly, worthless, insignificant, Mean, disgraced

جو صدقِ دل سے اس پاک ذات پر قربان ہوتے ہیں وہ کبھی نقصان نہیں اٹھاتے کبھی ذلیل و رسوا نہیں ہوتے۔

۱۳۶۔اسی سے تو نانک ہؤا کامیاب

کہ دل سے تھا قربان عالی جناب

نانک پر اللہ تعالیٰ کے غیر معمولی فضل و احسان کی یہی وجہ تھی کہ وہ دل سے اُس کا عاشق تھا۔ دل و جان سے اُس پر نثار تھا۔

۱۳۷۔بتایا گیا اس کو الہام میں

کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں

الہام ilhaam: اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں ڈالی گئی بات ‘القاء Divine revelation

اللہ تعالیٰ نے نانک کو اپنی ذات کی تلاش میں سرگرداں دیکھا تو اسے الہام ہوا کہ میں تجھے اسلام میں ملوں گا۔ اس سچے دین کی طرف آجاؤ۔

۱۳۸۔یقین ہے کہ نانک تھا ملہم ضرور

نہ کر وید کا پاس اےپُرغرور

ملہم mulham: جس کو الہام ہوتا ہو، غیب کی خبر الہام کے ذریعے سے پانے والا One who is blessed with Divine revelation

غُرور؍ غَرور ؍ gharoor ghuroor: دھوکا ‘تکبرDeception,hautiness pride, vanity, ego, egoism

یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ نانک کو الہام ہوتا تھا۔ یہ جان لینے کے باوجود وید کو اپنا راہنما ماننا نفس کا دھوکا ہے۔ خود پسندی اور تکبر ہے۔

۱۳۹۔دیا اس کو کرتار نے وہ گیان

کہ ویدوں میں اس کا نہیں کچھ نشان

کرتار kartar: کرنے والا، پیدا کرنیوالا، خالق The Creator, God

گیان geyaan: غورو فکر، علم Knowledge, religious understanding

اللہ تبارک تعالیٰ نے اس کو اپنی جناب سے جو سمجھ بوجھ اور عرفان عطا فرمایا ہے اس کا وید میں نام ونشان بھی نہیں ہے

۱۴۰۔اکیلا وہ بھاگا ہنودوں کو چھوڑ

چلا مکہ کو ہند سے منہ کو موڑ

ہنود hunud: followers of Hinduism

وہ ہندوؤں کو چھوڑ کر ہندوستان سے منہ موڑ کر تنہا نکل کھڑا ہوا اور مکہ کی طرف روانہ ہوگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button