الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

’’تحدیث نعمت‘‘ کا انگریزی ایڈیشن

حضرت چودھری سرمحمد ظفراللہ خان صاحبؓ کی خودنوشت ’’تحدیث نعمت‘‘ کا انگریزی ترجمہ مکرم کنور ادریس صاحب نے Recollection of Divine Favours کے نام سے کیا ہے۔ اس میں مترجم کے قلم سے ایک پیش لفظ بھی شامل ہے جس میں گویا حضرت چودھری صاحبؓ کی منفرد کامیابیوں اور حُسنِ سیرت کا خلاصہ پیش کردیا گیا ہے۔ اس پیش لفظ کا اردو ترجمہ مکرم ڈاکٹر پرویز پروازی صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۷؍جون ۲۰۱۴ء کی زینت ہے۔ اس پیش لفظ کے چیدہ چیدہ نکات ذیل میں ہدیۂ قارئین ہیں۔

حضرت سرمحمد ظفراللہ خان صاحبؓ (۱۸۹۳ء ۔ ۱۹۸۵ء) ایک وکیل اور جج، منتظم اور سفارت کار، مذہبی علوم کے شناور اور کتب کے مصنف تھے اور بایں ہمہ سیاستدان بھی تھے۔ آپؓ نے ان تمام میدانوں میں اپنے نقوش مرتسم کیے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بانی پاکستان محمد علی جناح اور پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان دونوں کی مشترکہ خواہش تھی کہ آپؓ نوزائیدہ مملکت کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں یا تقسیم کے نتیجےمیں سب سے زیادہ افراتفری کا شکار ہونے والے صوبے پنجاب کی وزارت علیا پر فائز ہوجائیں مگر ان سب سے بہتر ہوگا کہ مُلک کے وزیرخارجہ بن جائیں اور آپؓ نے ساڑھے چھ سال یہ ذمہ داری نبھائی۔

آپؓ کی عملی زندگی کئی مسابقتوں کا مرقّع ہے جو خود اختیارکردہ نہیں بلکہ اتفاقی ہیں۔ اگر آپؓ کی دائیں آنکھ کی نظر کمزور نہ ہوتی تو آپؓ گورنمنٹ کالج کے دیگر آنرز گریجوایٹس کی طرح ICS میں چلے گئے ہوتے۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے کیمبرج پہنچے تو طبّی معاملات آڑے آئے اور مجبوراً لنکنزاِن اور کنگز کالج میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور پھر آپؓ پہلے ہندوستانی تھے جو لندن یونیورسٹی میں ایل ایل بی کے امتحان میں اوّل آئے۔ آپؓ پہلے ایشیائی تھے جو پندرہ سال تک بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے جج رہے اور اس کی صدارت پر بھی متمکّن ہوئے۔ آپؓ کو یہ اوّلیت بھی حاصل ہوئی کہ آپؓ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف دونوں کی صدارت پر سرفراز ہوئے۔

۷۸؍سال کی عمر میں آپؓ نے اپنی یادداشت کے سہارے پندرہ سو صفحات پر مشتمل اپنے حالاتِ زندگی قلمبند کیے۔ دس سال بعد مزید اٹھارہ صفحات لکھ کر مسوّدہ مکمل کردیا۔ مرتّبین نے کتاب کو صرف ایک جلد تک محدود کرنے کے لیے اسے ۷۵۰؍صفحات تک محدود کردیا۔ افسوس کہ کانٹ چھانٹ کرکے نکالے گئے صفحات کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔

آپؓ ۱۹۳۰ء سے ۱۹۳۲ء تک لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنسوں میں شامل ہوئے تو سر آغا خان کا غیرمتزلزل اعتماد حاصل کیا۔ وہ سر آغا خان ’’جن کے لیے سب دروازے بغیر دستک دیے کھل جاتے تھے۔‘‘ نیز ونسٹن چرچل نے آپؓ کو یوں خراج تحسین پیش کیا کہ ’’ہندوستان کی آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے روبرو تم نے دو گھنٹے میرا ناک میں دم کیے رکھا۔‘‘

۱۹۳۵ء میں آپؓ جب وائسرائے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رُکن بنے تو لاہور ہائیکورٹ کی الوداعی تقریب میں چیف جسٹس ڈگلس ینگ نے یوں خراج تحسین پیش کیا کہ ایک لحاظ سے مَیں نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ یہ یہاں سے جانے والا ہے۔ اس کے زورِ خطابت کے اثر سے خطرہ تھا کہ مجھ سے سرکار کے حق میں کوئی بےانصافی سرزد ہوجائے۔ نوبت اب یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ کسی بھی جرم کا مرتکب اسے وکیل کرلیتا تو صاف بچ نکلتا۔

تقسیم ہند کے وقت قائداعظم محمد علی جناح نے پنجاب باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا کیس پیش کرنے کے لیے آپؓ کا انتخاب کیا۔ بعد میں اقوام متحدہ میں کشمیر اور فلسطین کا کیس پیش کرنے کے لیے بھی آپؓ کا انتخاب کیا۔ تینوں مواقع پر آپؓ کے مخالفین نے بھی آپؓ کی قانونی قابلیت کا بھرپور اعتراف کیا۔ دراصل قائداعظم کی نگاہ میں آپؓ کی پسندیدگی کی تاریخ پرانی ہے۔ چنانچہ ۱۹۳۷ء میں حضرت چودھری صاحبؓ نے برطانوی ہند کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے لنکاشائر انڈسٹری سے ایک تجارتی معاہدہ کیا تو امپیریل دستورساز اسمبلی کی آزاد پارٹی کے سربراہ مسٹر محمد علی جناح نے اس حوالے سے کہا: میرے لیے ظفراللہ کی تعریف میں کچھ کہنا ایسے ہی ہے جیسے مَیں اپنے بیٹے کی تعریف کررہا ہوں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کی حیثیت سے آپؓ نے زرّیں تاریخ رقم کی۔ پاکستانی وفد میں شامل سیّداحمد سعید کرمانی بیان کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی راہداریوں میں مجھے ظفراللہ کے ملک کا مندوب کہہ کر پہچانا جاتا تھا۔ ظفراللہ کے لیے بادشاہ اور صدور آداب و رسوم کو بالائے طاق رکھ دیتے تھے۔ مراکش کے شاہ حسن ان کے استقبال کے لیے محل کی سیڑھیوں تک چل کر آئے، مصر کے صدر نجیب ان کو لینے خود ہوائی اڈّہ پر پہنچے۔ اردن کے شاہ حسین انہیں اپنا بھائی سمجھتے تھے۔ الجیریا کی گلیوں میں عوام ان کے استقبال کے لیے قطار در قطار کھڑے رہتے تھے۔ تیونس میں پیدا ہونے والے کئی بچوں کے نام ان کے نام پر رکھے گئے۔

آپؓ پکے مذہبی آدمی تھے جن کی اپنی بیوی پردہ دار تھی۔ مگر ہر حیثیت کی دیگر خواتین آپؓ سے ملاقات کو بہت پسند کرتیں۔ برطانیہ کی ملکہ مَیری نے اپنے سٹاف کو ہدایت دے رکھی تھی کہ اُن کے محل میں قیام کے دوران اگر ظفراللہ کی نماز کا وقت ہوجائے تو اس کا انتظام کیا جائے۔ ہالینڈ کی ملکہ جولیانہ نے آپؓ کو یہ منفرد اعزاز دیا کہ عالمی عدالت سے ریٹائرمنٹ کے وقت آپؓ کو اپنے محل میں الوداعی دعوت دی۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان جب ہالینڈ میں پاکستان کی سفیر تھیں تو اصرار کرتی تھیں کہ آپؓ ہر ہفتے کے اختتام پر کھانا اُن کے ساتھ کھائیں۔ آپؓ کی وفات پر بیگم رعنا نے آپؓ کی متنوّع طبیعت اور برجستہ حس مزاح کی بہت تعریف کی۔ بھوپال کی شہزادی عابدہ سلطانہ پر آپؓ کی غیرمعمولی دانشمندی، اخلاص اور بےپناہ حبّ الوطنی کا گہرا اثر تھا۔ وہ آپؓ کی بعض منفرد خدمات بیان کرنے کے بعد کہتی ہیں کہ یہ بات کتنی شرمناک ہے کہ پاکستان نے محض اُن کے ذاتی عقائد کے اختلاف کی وجہ سے اُن کی اعلیٰ ترین خدمات پر پردہ ڈال دیا ہے۔

جناب کنور ادریس (مترجم) لکھتے ہیں کہ آپؓ کا اپنا حال یہ تھا کہ ایک پاؤنڈ یومیہ پر گزارہ کرتے تھے۔ سفر پر جاتے تو کسی سادہ معیشت والے دوست کے ہاں قیام کرتے۔ عالمی عدالت جانے کے لیے بسوں پر سفر کرتے یا پیدل ہی اپنے دفتر چلے جاتے۔ پچپن برس قبل پاکستان سول سروس کے زیرتربیت افسر کی حیثیت سے راقم الحروف کو ایک دو راتیں احمدیہ مشن ہاؤس دی ہیگ سے ملحقہ کمرے میں گزارنے کا موقع ملا۔ چلتے وقت مَیں نے میزبان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہہ دیا کہ کمرہ ذرا چھوٹا ہے۔ جب اُس نے بتایا کہ حضرت چودھری صاحبؓ اسی کمرے میں مہینوں قیام فرما رہے ہیں تو مَیں پسینےپسینے ہوگیا۔ بعد ازاں چودھری صاحب مسجد فضل لندن سے ملحقہ ایک کمرے کے فلیٹ میں برسوں مقیم رہے اور لاہور اپنے کشادہ مکان میں اُس وقت آئے جب احساس ہوا کہ جانے کا وقت قریب ہے۔

آپؓ کی یادداشتیں کسی روایتی مدبّر یا جج کی یادداشتیں نہیں ہیں بلکہ ان کا لہجہ ایک ایسے باپ کا ہے جو اپنے بچوں کو تنبیہ و طنز و تمسخر کا سہارا لیے بغیر بتا رہا ہے کہ اس کی زندگی کیسے گزری۔ آپؓ کے اسی لہجے نے مجھے ’’تحدیث نعمت‘‘ کا ترجمہ کرنے پر اُکسایا حالانکہ آپؓ کی اپنی لکھی ہوئی A Servant of God بھی موجود ہے نیز کولمبیا یونیورسٹی کے دو پروفیسروں کو دیے گئے انٹرویوز بھی دستیاب ہیں۔

………٭………٭………٭………

فِن لینڈ (Finland)

فِن لینڈ کا پرانا نام Suomi تھا۔ ۱۹۱۷ء میں اسے آزادی ملی۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۶؍اپریل۲۰۱۴ء میں فِن لینڈ کے بارے میں مکرم مدثر احمد صاحب کا ایک تفصیلی معلوماتی مضمون شاملِ اشاعت ہے۔

فِن لینڈ کا رقبہ تین لاکھ اڑتیس ہزا ر ایک سو کلومیٹر اور آبادی (۲۰۲۵ء کے مطابق) ۵۶؍لاکھ سے کچھ زائد ہے۔ فِن لینڈ کو جھیلوں کی سرزمین بھی کہتے ہیں۔ اس میں قریباً ایک لاکھ ۸۷؍ہزار جھیلیں واقع ہیں۔ ملک کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر Helsinki ہے۔ دیگر بڑے شہروں کی تعداد قریباً سولہ ہے۔ شہروں کے قریب لکڑی کا کارخانہ قائم کرکے لکڑی کی مختلف اشیاء تیار کرکے برآمد کی جاتی ہیں۔ لکڑی کے فالتو ٹکڑوں اور چھلکوں کو ساتھ ہی بنائے جانے والے بجلی گھروں میں لے جاکر جلایا جاتا ہے اور بھاپ پیدا کی جاتی ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ پھر یہی بھاپ پائپوں کے ذریعے شہر کے مرکز اور بازار اور فٹ پاتھ وغیرہ کے نیچے سے یوں گزاری جاتی ہے کہ اس کی گرمی سے گرنے والی برف پگھلتی رہتی ہے۔ بھاپ کے پائپ مختلف گھروں میں پہنچتے ہیں اور اُن کو گرم کرنے کے علاوہ گرم پانی بھی مہیا کرتے ہیں۔ اسی طرح قریباً ہر گھر میں Sauna Bath استعمال ہوتا ہے تاکہ جسم سے مصنوعی طور پر پسینہ نکالنے کا عمل کیا جاسکے۔

ملک میں آمدورفت کا بہترین انتظام ہے۔ ریلوے اور بسوں کا نیٹ ورک ہر قسم کے موسم میں فعال رہتا ہے۔ ذاتی گاڑیوں کے لیے ایک سسٹم ہر جگہ مفت میسر ہے جس میں آپ اپنی گاڑی کے ہیٹر اور انجن کو ایک بیرونی ساکٹ سے جوڑ دیتے ہیں جس میں ٹائمر لگا ہوتا ہے جو ڈرائیونگ شروع کرنے سے دو گھنٹے قبل گاڑی کو اور انجن کو گرم کرنا شروع کردیتا ہے۔ جس سے گاڑی پر گرنے والی برف بھی صاف ہوجاتی ہے۔

یہاں کی تعلیم بالکل مفت ہے جبکہ سیکنڈری کلاسز تک کتابوں، کاپیوں کے علاوہ دوپہر کا کھانا اور دودھ بھی مفت مہیا کیا جاتا ہے۔ سات سے سولہ سال کی عمر میں تعلیم لازمی ہے۔ ویسے کسی بھی عمر میں کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تمام کورسز مفت ہوتے ہیں بلکہ دورانِ تعلیم مالی معاونت بھی حاصل رہے گی۔ تعلیم یافتہ معاشرہ اور جدید سیکیورٹی سسٹم کی وجہ سے یہاں جرائم کی شرح صفر ہے۔ شراب کے نشے میں دھت ہوکر سڑک پر گرے پڑے افراد کی جیب میں رقم اور فون وغیرہ ہوں تو بھی محفوظ رہتے ہیں۔

فن لینڈ کے کھانے پھیکے اور بےمزہ ہوتے ہیں لیکن حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق تیار ہوتے ہیں۔ سبزی، سلاد، مچھلی پسندیدہ ہے۔ اگرچہ موسم سرما میں یہاں کی جھیلوں کے اوپر کی سطح جم جاتی ہے اور لوگ اُس پر سکیٹنگ کرتے ہیں یا کرسیاں رکھ کر جمے ہوئے پانی میں سوراخ کرکے مچھلی کا شکار کرتے ہیں۔ یہاں کا قومی کھیل آئس ہاکی ہے۔ فٹ بال اور برف پر کھیلے جانے والے کھیل بھی مقبول ہیں لیکن کرکٹ عموماً ناپسند ہے۔ یہاں ہرن بہت زیادہ ہیں۔ اجازت لے کر ان کا شکار بھی کیا جاسکتا ہے۔

یہاں کی ۷۷فیصد آبادی عیسائی ہے۔ مسلمان صرف ڈیڑھ فیصد ہیں یعنی ۷۰؍ہزار کے قریب۔ مسلمان تاتاریوں کی یہاں آمد ۱۸۷۰ء سے ۱۹۲۰ء کے درمیان شروع ہوئی۔ پھر بیسویں صدی کے آخر میں ایشیا اور افریقہ کے مسلم مہاجرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔ مقامی مسلم باشندے بھی موجود ہیں۔ ۱۹۵۰ء میں ان مسلمانوں نے یہاں ایک مسجد کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اُن کی اپیل پر پاکستان نے سب سے پہلے لبیک کہا اور وزیرخارجہ چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب نے فن لینڈ کا دورہ کیا اور مسجد کے لیے پانچ ہزار برطانوی پاؤنڈ کا عطیہ دیا۔ اس عطیہ کا تفصیل سے ذکر انگریزی کتاب The Muslims of Finland میں موجود ہے جو ۱۹۵۵ء میں فن لینڈ کے مسلمانوں کی طرف سے شائع ہوئی۔ بعد ازاں احمدی مبلغین بھی یہاں آتے رہے۔ جماعت احمدیہ کی باقاعدہ بنیاد یہاں ۱۹۹۰ء میں رکھی گئی۔

………٭………٭………٭………

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button