ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۷)
’’ایک مقام پر یوں فرمایا ہے: ’’اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآئ ذِی الۡقُرۡبٰی(النحل : ۹۱)
اس آیت میں ان تین مدارج کا ذکر کیا ہے جو انسان کو حاصل کرنے چاہئیں۔ پہلا مرتبہ عدل کا ہے اور عدل یہ ہے کہ انسان کسی سے کوئی نیکی کرے بشرطِ معاوضہ۔ اور یہ ظاہر بات ہے کہ ایسی نیکی کوئی اعلیٰ درجہ کی بات نہیں بلکہ سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ عدل کرو اور اگر اس پر ترقی کرو تو پھر وہ احسان کا درجہ ہے یعنی بلا عوض سلوک کرو۔ لیکن یہ امر کہ جو بدی کرتا ہے اس سے نیکی کی جاوے، کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے دوسری پھیر دی جاوے۔ یہ صحیح نہیں۔ یا یہ کہو کہ عام طور پر یہ تعلیم عملد ر آمد میں نہیں آسکتی۔ چنانچہ سعدیؔ کہتا ہے؎
نکوئیِ با بداں کردن چُناں است
کہ بد کردن برائے نیک مرداں
اس لیے اسلام میں انتقامی حدود میں جو اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی ہے کوئی دوسرا مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ یہ ہے۔ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ (الشوریٰ:۴۱) یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے اور جو معاف کر دے مگر ایسے محل اور مقام پر کہ وہ عفو اصلاح کا مُوجب ہو، اسلام نے عفو خطا کی تعلیم دی لیکن یہ نہیں کہ اس سے شرّ بڑھے۔‘‘ (ملفوظات جلد ہشتم صفحہ۲۴۸۔ ۲۴۹۔ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی شعر شیخ سعدی کا ہے جو کہ شیخ سعدی کی کتاب گلستان سعدی کے پہلے باب کی حکایت نمبر۴ کے آخر پر آیاہے۔ شعر مع حکایت پیش خدمت ہے۔
حکایت: عرب کے چوروں کے ایک گروہ نے پہاڑ کی چوٹی پر قبضہ جما لیا اور قافلہ کا راستہ بند کردیا۔…شہروں کی رعایا اور بادشاہ کا لشکر اس سے بہت پریشان تھا۔ شہروں کے عقلمندوں نے اس نقصان رسانی کے رفع کرنے کا مشوہ کیا کہ اگر یہ گروہ کچھ دیر اسی طرح پر جما رہاتو پھر اس کا مقابلہ ناممکن ہوجائے گا۔چنانچہ فیصلہ ہوا اور ایک شخص کو ان کی سراغ رسانی پر مقررکردیاگیا جو موقع کا متلاشی رہا کہ وہ کب لُوٹ مار کی غرض سے اپنی جگہ چھوڑ کر جاتاہے۔ جب ان کی قیام گاہ خالی تھی تو چند تجربہ کار اور بہادر آدمی وہاں جا کر چھپ رہے۔ چوروں کا لشکر جب آیا تو آتے ہی تھکاوٹ کی وجہ سے اپنا اسلحہ اتار کر فوراًسو گیا۔ بہادر لوگ نکلے اور انہوں نے ایک ایک کو پکڑ کر باندھ دیا اور لاکر بادشاہ کے دربار میں حاضر کردیا۔ بادشاہ نے سب کو مارڈالنے کا حکم دیا۔اتفاق سے ان میں ایک نوجوان بھی تھا۔ ایک وزیر نے سفارش کی کہ ابھی اس نے زندگی کا میوہ نہیں چکھا اس کا خون معاف کردیا جائے بعض اور درباریوں نے بھی اس کی تائید کی۔ بادشاہ نے باوجود نہ چاہنے کے ان کی بات مان لی اسے معاف کردیا۔ خلاصہ یہ کہ لڑکے کی نازونعمت سے پرورش کی اور ادب سکھانے کے لئے استاد مقررکیے۔چنانچہ انہوں نے بات چیت کا سلیقہ، جواب دینے کا طریقہ اور بادشاہوں کی خدمت کے طریقے اس کو سکھادیےاور سب اس کو پسند کرنے لگے۔ ایک دن وزیر نے بادشاہ کے سامنے اس کی تعریف کی تو بادشاہ اس بات پر مسکرایا اور کہنے لگا۔ ؎
عَاقِبَتْ گُرْگ زَادِہْ گُرْگ شَوَدْ
گَرْچِہْ بَا آدمِی بُزُرْگْ شَوَدْ
ترجمہ: انجام کار بھیڑیے کا بچہ بھیڑیا ہوتاہے اگرچہ انسان کے ساتھ پل کر بڑا ہوا ہو۔
دوسال اس بات کو گزر گئے۔ محلےکے بدمعاشوں کا ایک گروہ اس سے مل گیا اور انہوں نے اس سے دوستی کا عہد باندھ لیا۔ آخر موقع پا کر اس نے وزیر اور اس کے دونوں لڑکوں کو مار ڈلا اور لاتعداد دولت لے کر چلا گیا اور باپ کی جگہ پر چوروں کی گھاٹی میں رہنے لگا اور باغی ہوگیا۔بادشاہ نے افسوس سے انگلی دانتوں میں دبائی اور کہا:۔ قطعہ؎
شَمْشِیْرِ نِیْک زِآہنِ بَدْ چُوْں کُنَدْ کَسِیْ
نَاکِسْ بِہْ تَرْبیت نَہْ شَوَدْ اَےْ حَکِیْم کَسْ
ترجمہ : برے لوہے سے عمدہ تلوار کوئی کیسے بنائے۔ اے عقلمند سکھانے پڑھانے سے نالائق لائق نہیں ہوسکتا۔
بَارَاں کِہْ دَرْلَطَافَتِ طَبْعَشْ خِلَاْف نِیْست
دَرْبَاغْ لَالِہْ رُوْیَدْ و دَرْ شُوْرِہْ بُوْم خَسْ
ترجمہ: بارش جس کی طبیعت کے پاکیزہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں باغ میں لالہ اورشوریلی زمین میں جھاڑ اگاتی ہے۔ قطعہ
زَمِیْنِ شُوْرِہْ سُنْبُلْ بَرْنَیْاَرَدْ
دَرُو تُخْمِ عَمَلْ ضَائِعْ مَگَرْدَاں
ترجمہ: شوریلی زمین سنبل نہیں اگا سکتی اس میں کوشش کا بیج ضائع نہ کر۔
نِکُوْئِیْ بَابَدَاںْ کَرْدَنْ چُنَاںْ اَسْت
کِہْ بَدْکَرْدَنْ بَرَائے نِیْک مَرْدَاںْ
ترجمہ: بُروں کے ساتھ نیکی کرنا ایسا ہی ہے، جیسے نیکوں کے ساتھ بدی کرنا۔
لغوی بحث: نِکُوْئِیْ(نیکی) بَا(ساتھ) بَدَاںْ(بروں) کَرْدَنْ(کرنا) چُنَاںْ(ایسا) اَسْت(ہے) کِہْ(کہ) بَدْ(بدی) بَرَائے(ساتھ/کے لیے) نِیْک(نیک) مَرْدَاںْ(مردوں)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مجلس خدام الاحمدیہ بیلجیم کی بتیسویں نیشنل تعلیمی و تربیتی کلاس ۲۰۲۶ء




