پروفیسر مسعود احمد عاطف صاحب
(ڈاکٹر ایم اے عاطف)
میرے پیارے اباجان اکتوبر ۱۹۲۶ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم پہلے تعلیم الاسلام سکول اور اس کے بعد کالج سے حاصل کی۔ پارٹیشن کے بعد حالات کے موافق کچھ دیر کے لیے محکمہ انہار میں سرکاری جاب بھی کی۔ لیکن جونہی آپ کو موقع ملا آپ نے اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے فزکس میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی اس کے ساتھ ہی آپ نے وقف کر دیا۔ آپ کی تعیناتی تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں ہوئی۔ تقریباً ۳۵؍سال آپ نے اسی کالج میں علم کی شمع جلائے رکھی۔

آپ بہترین استاد تھے۔ ایک ایسا استاد جو اپنے مضمون پر تو عبور رکھتا ہی تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شاگردوں کی نفسیاتی، دینی اور معاشرتی تربیت کرنے کی بھی کوشش کرتا اور اس پر نظر رکھتا تھا۔ آپ کا اپنے ہر طالبِ علم سے ایک گہرا انفرادی تعلق ہوتا تھا۔یہ تعلق ایسا تھا کہ ہر ایک سمجھتا تھا کہ جو میرا عاطف صاحب کے ساتھ تعلق ہے وہ اورکسی کا نہیں ہے۔ آپ فزکس جیسے مضمون کو نہایت آسان، سادہ اور دلچسپ انداز میں سمجھاتے تھے کہ آپ کی کلاس اتنی دلچسپ ہوتی کہ کوئی اسے مس کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ آپ اپنے طالب ِعلموں کو کلاس کے علاوہ بھی تعلیم میں مدد دیتےتھے اور خاص بات یہ ہے کہ آپ ہر طالب ِعلم کی حوصلہ افزائی کرتے اور کسی کی حوصلہ شکنی نہیں کرتے تھے۔آپ کے کئی طالب علموں نے بتایا کہ ہم نے تو اپنے حالات کی وجہ سے ایف ایس سی کے بعد تعلیم منقطع کرنے کے بارے میں سوچ لیا تھا لیکن عاطف صاحب کی حوصلہ افزائی اور راہنمائی کی بدولت ہم نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اور آج ان میں سے کوئی کسی یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہےیا کسی ہسپتال میں ماہر ڈاکٹر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ میری بہن ثمینہ بھنو جب حضورانور سے ملنے گئیں اور اپنا تعارف کروایا تو حضور نے فرمایا کہ آپ تو ’’ہمارے استاد‘‘ کی بیٹی ہیں۔
جب کبھی آپ سے کوئی دینی بات کی جاتی یا کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو آپ اس کا نہایت جامع انداز میں جواب دیتے بلکہ اکثر اوقات سلسلہ کی کتب کے حوالے بھی دیتے۔ آپ کہتے تھے کہ میں نے تمام کتب کا تفصیل سے تو مطالعہ نہیں کیا لیکن بچپن اور نوجوانی میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی مجالس ِعرفان اور درس القرآن میں شامل ہونے کی پوری کوشش کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ روزنامہ الفضل کا باقاعدہ تفصیل سے مطالعہ کرتا تھا۔آخری عمر میں جب آپ کی بینائی پر کافی اثر پڑ گیا تو یہ خاکسار اور میرے بھائی حامد مقصود مربی سلسلہ مرحوم کی ڈیوٹی ہوتی کہ ہم سارا الفضل پڑھ کر سنائیں جس کے درمیان میں آپ ہمیں سوال بھی کرتے جاتے اور اکثر باتوں کو تفصیل سے سمجھاتے۔
آپ باقاعدگی سے فجر کی نماز کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور اس کا ترجمہ بھی پڑھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی تلاوت ِقران کی تلقین کرتے۔
۱۹۶۰ء میں آپ کو کندھے میں ایک درد شروع ہوئی جس کا بہت علاج کرنے کے باوجود کوئی افاقہ نہ ہوا۔ کسی نے آپ کو ہومیو پیتھی کا مشورہ دیا تو آپ نے اپنی علامتوں کے مطابق خود دوا تجویزکی اور اس کے چند دن استعمال کے بعدآ پ کا وہ درد ختم ہو گیا۔ اس سے آپ کو ہومیوپیتھی سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ بعد ازاں آپ نے ہومیوپیتھی کا بہت مطالعہ کیا۔ مختلف ملکی اور غیر ملکی رسائل لگوائے اور ہومیوپیتھی کے میٹیریا میڈیکا کو بھی زیر مطالعہ رکھتے اور اپنی ادویات کو اپنے عزیز و اقارب پر استعمال بھی کرتے رہے۔ آہستہ آہستہ آپ کو اتنا تجربہ حاصل ہو گیا کہ دور دور سے آپ کے پاس مریض آتے اور محلے میں تو یہ عام بات تھی کہ کسی کو رات کو کوئی تکلیف ہوتی تو وہ دروازہ کھٹکھٹاتا تو آپ اسے فورا ًدوا دیتے۔آپ کے ہاتھ میں بہت شفا تھی جس کا ثبوت وہ مریض تھے جو دور دور سے آپ کے پاس دوا لینے کے لیے آتےاور شفایاب ہوتے۔
آپ کو وقت ضائع کرنے سے نہایت نفرت تھی۔ آپ کہا کرتے تھے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں کام کے لیے وقت نہیں ملتا، وہ غلط کہتے ہیں وقت بہت ہوتا ہے لیکن انہیں وقت صحیح طریقے سے استعمال کرنا نہیں آتا۔ ایک اور بات آپ کہتے تھے کہ اگر آپ کو کوئی ذمہ داری کسی کو دینی ہو تو آپ اگر کسی مصروف شخص کو وہ کام دیں گے تو وہ اپنے مصروف شیڈیول میں سے اس کے لیے وقت نکال لے گا جبکہ ایک فارغ شخص اس کام کو سرانجام نہیں دے سکے گا کیونکہ نہ اس کا کوئی شیڈیول ہوگا اور نہ اس میں سے وہ وقت نکال سکے گا۔
مشورہ دینے والے کےلیے دو امور بہت اہم ہوتے ہیں۔ ایک دیانت اور دوسرا رازداری۔ آپ میں یہ دونوں خصوصیات موجود تھیں۔ جب کوئی آپ سے کسی امر کے بارے میں مشورہ طلب کرتا تو آپ تمام کاموں کو چھوڑ کر اپنی پوری توجہ اور مکمل ذہنی استعداد کے مطا بق اس کو پوری دیانت داری سے مشورہ دیتے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ سے مشورہ کرنے والے کو یہ مکمل یقین ہوتا تھاکہ یہ بات آپ کی ذات سے آگے نہیں جائے گی اور ایسا ہی ہوتاتھا۔
آپ میں کسی معاملہ کی تہ تک پہنچنے اور اس کا تجزیہ کرنے کی خاص صلاحیت تھی بہت جلد کسی مسئلہ کی اصل وجہ معلوم کر لیتےاور اس کے بعد جو اپنی رائے دیتے وہ اکثر اوقات درست ثابت ہوتی تھی۔
آپ کی یادداشت بہت اچھی تھی۔ اگر کوئی شخص کسی معاملے کو بیان کرتا تو آپ اتنے غور سے اس کو سنتےکہ اگر کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس مسئلے کے بارے میں دوبارہ ذکر ہوتا تو آپ اس کے تمام پہلوؤں کو بیان کر دیتے اور اس سے زیادہ اچھی طرح بیان کرتے کہ جس کا وہ اپنا مسئلہ ہوتا۔
آپ ایک نہایت سادہ طبیعت، محنتی، وقت کی قدر کرنے والے، اور صاف دل شخصیت تھے۔ اپنے بچوں کی تربیت دوستی کے رنگ میں کرتے اور اپنے عزیز و اقارب سے نہایت انکسار سے ملتے۔یہ پیاری شخصیت ایک مختصر علالت کے بعد دسمبر ۱۹۸۹ء میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ آپ سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور آپ کے درجات بلند کرتا چلاجائے۔ آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: محترمہ طاہرہ رشیدالدین صاحبہ کی یاد میں




