سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

’’اگر مَیں نے براہین احمدیہ کی قیمت کا روپیہ تم سے وصول کیا ہے تو تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم ہے جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے کہ براہین احمدیہ کے وہ چاروں حصے میرے حوالے کرو اور اپنا روپیہ لے لو۔ دیکھو میں کھول کر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ اب اس کے بعد اگر تم براہین احمدیہ کی قیمت کا مطالبہ کرو اور چاروں حصے بطور ویلیو پے ایبل میرے کسی دوست کو دکھا کر میری طرف بھیج دو اور میں ان کی قیمت بعد لینے ان ہر چہار حصوں کے ادا نہ کروں تو میرے پر خدا کی لعنت ہو۔ اور اگر تم اعتراض سے باز نہ آؤ اور نہ کتاب کو واپس کر کے اپنی قیمت لو تو پھر تم پر خدا کی لعنت ہو‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

براہین کے خریدارجنہیں کتاب نہیں ملی!اورفسخ بیع

اب اس تفصیل سے یہ بخوبی عیاں ہوجاتاہے کہ براہین احمدیہ کتاب کی اشاعت سے کس قدرآمدہوئی ہوگی اورکتنے خریداربنے ہوں گے۔ اس تفصیل کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ جو خریدار تھے بھی اوران کوکتاب نہیں ملی جبکہ پیشگی قیمت بھی لے لی گئی تھی، یہ کیاماجراہے۔ سوایک تو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ براہین احمدیہ میں ہی حضرت اقدسؑ نے تمام خریداروں پر واضح کرتے ہوئے اعلان فرمادیا تھا کہ براہین احمدیہ حصہ سوم کے ساتھ ہی ان تمام خریداروں کا ’’استحقاق‘‘ ختم کیاجاتاہے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں : ’’…لیکن خریداروں کو یہ استحقاق نہیں ہوگا کہ جو بطور حق واجب کے اس قدر اجزا کا مطالبہ کریں بلکہ جو اجزا زائد ازحق واجب ان کو پہنچیں گی وہ محض للہ فی اللہ ہوں گی اور ان کا ثواب ان لوگوں کو پہنچے گا کہ جو خالصاً للہ اس کام کے انجام کے لئے مدد کریں گے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۳۵)

ہرچندکہ تین حصو ں کے بعد جب چوتھا حصہ شائع ہواتو وہ بھی حضرت اقدسؑ نے تمام خریداروں کو ارسال فرمایا لیکن وہ ’’محض للہ فی اللہ‘‘ تھا۔اب جب یہ اعلان ہوچکا ہوتو اس کے بعد یہ کہنا کہ ’’پہلے چار حصے چھپنے کے بعد پانچواں حصہ ۲۵سال کی تاخیرسے شائع ہواجب کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد جنہوں نے کتاب کی قیمت حضورؑ کی تحریک پر پیشگی اداکردی تھی، فوت ہوچکی تھی۔‘‘ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ عالم دین کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا (الفاطر:۲۹)کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی سب سے زیادہ خشیت رکھتے ہیں۔ خدائے رحیم وغفور کی تو ان سے یہ توقع ہوتی ہے اورعالم دین ہوکے حق وانصاف سے اتنی بعید بات زیب نہیں دیتی۔ حضرت اقدسؑ کے اتنے واضح اعلان کے باوجود، جو براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں شائع ہوا اورایک اعلان جو براہین احمدیہ کے چوتھے حصہ میں شائع ہوا، پھر یہ کہنا کہ جنہوں نے قیمت پیشگی اداکردی تھی ان میں سے بڑی تعداد فوت ہوچکی تھی۔ وہ توفوت ہونی ہی تھی، فوت توایسے ظالم علماء کو ہوناچاہیے تھا جوعوام الناس کوگمراہ کرنے کے لیے ہرراستے پر اپنے سواراورپیادے لے کربیٹھے ہوتے ہیں۔ بھئی !فوت ہوگئی توکیاہوا۔وہ اب ’’خریدار‘‘ تو نہیں رہے تھےاورنہ ہی ان کا کوئی ایسا استحقاق بنتاتھا۔لیکن اعتراض کرنے والی طبیعتیں شاید ابھی مطمئن نہیں ہوں گی۔ اورمصرّ ہوں گی کہ نہیں وہ تو خریدار تھے۔انہوں نے پیشگی قیمت دی ہوئی تھی…

جناب ! ایسی طبیعت والوں کی اتمامِ حجت کے لیے ابھی ایک اَورعلاج بھی ہے۔ جو حضرت اقدسؑ نے ان لوگوں کے لیے بہت پہلے ہی کردیاتھا۔ اور وہ یہ کہ حضرتؑ نے ایسے شتابکار وں کو فسخ بیع کی عام اجازت دیتے ہوئے ایک اشتہار شائع فرمایااورکوئی بہت بعد میں نہیں کہ بقول علمائے دین کہ انتظارکرتے کرتے بڑی تعداد فوت ہوچکی تھی۔ نہیں! ایسی بات نہیں تھی۔ ۱۸۸۴ء میں چوتھا حصہ شائع ہوتاہے اور ۱۸۸۶ء میں حضرت اقدسؑ کی طرف سے ایک اشتہار شائع ہوتاہے۔ آپؑ اس میں فرماتے ہیں : ’’…باایں ہمہ اگر بعض صاحب اس توقف سے ناراض ہوں تو ہم ان کو فسخِ بیع کی اجازت دیتے ہیں وہ ہم کو اپنی خاص تحریر سے اطلاع دیں توہم بدیں شرط کہ جس وقت ہم کو ان کی قیمت مرسلہ میسر آوے اس وقت باخذ کتاب واپس کردیں گے بلکہ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ایسے صاحبوں کی ایک فہرست طیار کی جائے اورایک ہی دفعہ سب کا فیصلہ کیاجائے اوریہ بھی ہم اپنے گزشتہ اشتہار میں لکھ چکے ہیں اوراب بھی ظاہرکرتے ہیں کہ اب یہ سلسلہ تالیف کتاب بوجہ الہاماتِ الٰہیہ دوسرارنگ پکڑگیاہے اوراب ہماری طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں کہ کتاب تین سو جزتک ضرور پہنچے‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ۱۴۹۔۱۵۰)

یہ اشتہار سرمہ چشم آریہ کے اندرونی ٹائٹل پیج پر ’’اشتہار واجب الاظہار‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوا۔

اور پھر یہ نہیں کہ ایک یا دو مرتبہ اعلان یا اشتہار دے دیا بلکہ وقتاً فوقتاً حضرت اقدسؑ کی طرف سے اعلان ہوتارہا کہ جو بھی چاہے کتاب واپس کردے اورپیشگی دی ہوئی قیمت واپس لے لے۔

چنانچہ ایک اَورکتاب ’’ایام الصلح‘‘ کا ایک اقتباس پیش کیا جاتاہے جودراصل اسی اعتراض کا جواب ہے اوراس میں اصولی طورپر اس سارے اعتراض کا جواب آجاتاہے۔آپؑ فرماتے ہیں : ’’قولہ: براہین احمدیہ کا بقیہ نہیں چھاپتے۔

اقول: اِس توقف کو بطور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن شریف بھی باوجود کلام الٰہی ہونے کے تیئس۲۳ برس میں نازل ہوا۔ پھر اگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس میں کونسا حرج ہوا۔ اور اگر یہ خیال ہے کہ بطورِ پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا گیا تھا تو ایسا خیال کرنا بھی حمق اور ناواقفی کے باعث ہو گا کیونکہ اکثر براہین احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم کیا گیا ہے اور بعض سے پانچ ۵ روپیہ اور بعض سے آٹھ ۸ آنہ تک قیمت لی گئی ہے۔اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس ۱۰روپے لئے گئے ہوں۔ اور جن سے پچیس روپے لئے گئے وہ صرف چند آدمی ہیں۔ پھر باوجود اس قیمت کے جو اِن حصص براہین احمدیہ کے مقابل پر جو منطبع ہو کر خریداروں کو دیئے گئے ہیں کچھ بہت نہیں ہے بلکہ عین موزوں ہے اعتراض کرنا سراسر کمینگی اور سفاہت ہے لیکن پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق کے شور و غوغا کا خیال کر کے دو مرتبہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتابیں ہمارے حوالے کرے اور اپنی قیمت لے لے۔ چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت واپس لے لی اور بعض نے کتابوں کو بہت خراب کرکے بھیجا مگر پھر بھی ہم نے قیمت دے دی۔ اور کئی دفعہ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم ایسے کمینہ طبعوں کی نازبرداری کرنا نہیں چاہتے اور ہر ایک وقت قیمت واپس دینے پر طیّار ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے دنیّ الطبع لوگوں سے خدا تعالیٰ نے ہم کو فراغت بخشی۔ مگر پھر بھی اب مجدّدًا ہم یہ چند سطور بطور اشتہار لکھتے ہیں کہ اگر اب بھی کوئی ایسا خریدار چھپا ہوا موجود ہے کہ جو غائبانہ براہین کی توقف کی شکایت رکھتا ہے تو وہ فی الفور ہماری کتابیں بھیج دے اور ہم اس کی قیمت جو کچھ اس کی تحریر سے ثابت ہو گی اس کی طرف روانہ کر دیں گے۔ اور اگر کوئی باوجود ہمارے اِن اشتہارات کے اب بھی اعتراض کرنے سے باز نہ آوے تو اُس کا حساب خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔ ‘‘(ایام الصلح صفحہ ۱۷۳،۱۷۴، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۴۲۱ ،۴۲۲)

آپؑ نے ایک اَوراشتہار میں جو کہ اربعین میں ہے فرمایا: ’’اگر مَیں نے براہین احمدیہ کی قیمت کا روپیہ تم سے وصول کیا ہے تو تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم ہے جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے کہ براہین احمدیہ کے وہ چاروں حصے میرے حوالے کرو اور اپنا روپیہ لے لو۔ دیکھو میں کھول کر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ اب اس کے بعد اگر تم براہین احمدیہ کی قیمت کا مطالبہ کرو اور چاروں حصے بطور ویلیو پے ایبل میرے کسی دوست کو دکھا کر میری طرف بھیج دو اور میں ان کی قیمت بعد لینے ان ہر چہار حصوں کے ادا نہ کروں تو میرے پر خدا کی لعنت ہو۔ اور اگر تم اعتراض سے باز نہ آؤ اور نہ کتاب کو واپس کر کے اپنی قیمت لو تو پھر تم پر خدا کی لعنت ہو۔ اسی طرح ہر ایک حق جو میرے پر ہو ثبوت دینے کے بعد مجھ سے لے لو۔ اب بتلاؤ اس سے زیادہ میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ اگر کوئی حق کا مطالبہ کرنے والا یوں نہیں اٹھتا تو میں لعنت کے ساتھ اس کو اٹھاتا ہوں اور میں پہلے اس سے براہین کی قیمت کے بارے میں تین اشتہار شائع کر چکا ہوں جن کا یہی مضمون تھا کہ میں قیمت واپس دینے کو طیار ہوں۔ چاہیے کہ میری کتاب کے چاروں حصے واپس دیں اور جن دراہم معدودہ کے لئے مر رہے ہیں وہ مجھ سے وصول کریں۔‘‘ (اربعین نمبر۴ صفحہ ۲۲،روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۵۷، ۴۵۸)

اب اتنے واضح اورکھلے کُھلے اعلانات اورپیشکش کے باوجود سوسال بعد اعتراضات کرتے چلے جانا کہاں کا انصاف ٹھہرا۔

(جاری ہے)

مزید پڑھیں: جھنگ میں احمدیت ۔ تبصرہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button