جھنگ میں احمدیت ۔ تبصرہ
پنجاب کا شہر جھنگ پسماندہ رہ جانے کے باوجود کئی حوالوں سے اپنی مخصوص پہچان رکھتا ہے۔ جب ربوہ دارالہجرت کی بنیاد رکھی گئی تو اس نئے آباد ہونے والے شہر میں ڈاک کی ترسیل کے لیے شہر کے نام کے ساتھ ضلع جھنگ لکھنا ضروری ٹھہرا۔ یوں جھنگ نام کو عالمی شہرت نصیب ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو جب نوبیل انعام ملا تو جھنگ عالمی تصویری خبر نامہ کا بھی حصہ بنا اور علم کی دنیا میں بھی اس شہر کی قدر ہونے لگی۔ ادب اور شاعری کے اعتبار سے شیر افضل جعفری نے بھی جھنگ کو ایک پہچان دی۔ اردو نثر اور تحقیقی مضامین میں جناب عاصم جمالی کی عرق ریزی نے اردو ادب کے دلدادہ طالب علموں کو جھنگ کے اس چھپے ادیب سے متعارف کروایا۔ حال ہی میں یورپ سے محمد عبدالمالک عاصم جمالی صاحب کی آن لائن شائع ہونے والی کتاب ’’جھنگ میں احمدیت‘‘ نو سو صفحات پر مشتمل ہے اور ۱۸۸۹ء سے ۲۰۱۸ء تک کے حالات و واقعات اور بہت سارے اُن خدا ترس عبادت گزار وجودوں کی آپ بیتی پر مشتمل ہے جو اس سے قبل قرطاس ابیض پر نہیں آئے۔

اس سے قبل عاصم جمالی کی تین تالیفات نظر سے گزر چکی ہیں۔ شرکاء جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء احوال و آثار۔ تین سو تیرہ اصحاب صدق و صفا (شریک مؤلف)۔ اور ایک اہم تحقیقی کتاب براہین احمدیہ اور مولوی عبدالحق کا مقدمہ اعظم الکلام۔ یہ کتاب ہر واقف زندگی کو ضرور پڑھنی چاہیے۔ براہین احمدیہ کی اشاعت کے لیے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی چراغ علی معتمد مدارالمہام دولت آسفیہ حیدرآباد دکن کو بھی مالی اعانت کے لیے لکھا تھا۔ جنہوں نے مالی اعانت کی بھی۔ بعد میں یہ الزام لگایا گیا کہ حضوؑر نے مولوی چراغ علی سے علمی مدد بھی لی تھی۔ اس اعتراض کا ذکر مولوی عبدالحق بابائے اردو نے مولوی چراغ علی کی کتاب کے اردو ترجمہ کے مقدمہ میں کیا ہے۔ جس کا تسلی بخش جواب عاصم جمالی صاحب نے اپنی اس تحقیقی کتاب میں دیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب ہر احمدی لائبریری میں موجود ہونی چاہیے۔
عاصم جمالی کی زیرِنظر تصنیف ’’جھنگ میں احمدیت‘‘مختلف ابواب پر مشتمل ہے۔ ابتدائی باب میں ۱۲۲ صفحات پر جھنگ سے تعلق رکھنے والے اُن صحابہؓ کے حالات زندگی ہیں جن کو حضور علیہ السلام کی زندگی میں بیعت کی سعادت حاصل ہوئی۔ دوسرا باب خلافت اولیٰ اور خلافت ثانیہ میں جماعت میں شامل ہونے والوں کے حالات پر مشتمل ہے۔ اسی طرح خلافت ثالثہ، رابعہ اور خامسہ کے ادوار میں پیش آنے والے واقعات کی تفصیل موجود ہے۔ امراء صاحبان، مربیان سلسلہ جن کو جھنگ میں خدمت کی توفیق ملی ان سے متعلق واقعات کو بھی ایک باب میں بیان کیا گیا ہے۔ مختلف تحریکوں کے دوران احباب و خواتین نے جس طور لبیک کہا ان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ذیلی تنظیموں کی کارکردگی، شہدائے احمدیت جن کا تعلق جھنگ سے تھا۔ جھنگ جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اسیران راہِ مولیٰ، جھنگ کے گردونواح میں قائم ہونے والی جماعتوں کی تفصیل۔ غرض ہر پہلو سے اس تاریخی کتاب میں مواد کو محفوظ کر دیا گیا ہے۔ جھنگ کی نادر ہستیوں کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ بزرگان سلسلہ اور اہل قلم حضرات کی آراء بھی کتاب میں شامل کر دی گئی ہیں۔ اس تاریخی دستاویز کو یورپ سے آن لائن جاری کر کے جھنگ کے ابتدائی صحابہؓ کی سیرت کو عوام الناس تک پہچانے کے لیے بے حد محنت کی گئی ہے ۔
کتاب میں جن تین سو سے زائد خاندانوں کا ذکر ہے ان خاندانوں کے بہت سارے افراد آزاد دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں ان کو اپنے بزرگوں کی اجتماعی تاریخ کو شائع کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ ایک گروپ مل کر اگر اس کتاب کو شائع کردے تو یہ اپنے بزرگوں کی طرف سے صدقہ جاریہ ہو گا اور تاریخ بھی محفوظ ہو جائے گی۔ میں نے اس کتاب کا اول تا آخر مطالعہ کیا ہے اور اس کو نہایت دلچسپ پایا۔ ضلع جھنگ میں آنکھ کھولنے اور پروان چڑھنے کے باوجود میں بہت ساری ایسی باتوں سے ناواقف تھا جن تک اس کتاب کی بدولت رسائی حاصل ہوئی۔
مزید پڑھیں: آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس دہلی ۱۹۳۱ء میں خطبہ صدارت(قسط ۷۹)



