بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۰)

(مرسلہ: احسان احمد۔مربی سلسلہ دفتر پی ایس، اسلام آباد)

٭… اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یاجوج ماجوج کا ذکر ان قوتوں کے طور پر کیا ہے جو زمین میں فساد پھیلائیں گی۔ ذوالقرنین ایک ہدایت یافتہ مصلح تھے، جنہوں نے ان فسادات کے خلاف روحانی دیوار تعمیر کی۔ حالیہ عالمی سیاسی حالات میں گرین لینڈ کے بارے میں ڈنمارک اور امریکہ کی حکمت عملی کے تناظر میں احمدیوں کو ان قرآنی پیشگوئیوں کو حضرت مسیح موعو علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں کس طرح سمجھنا چاہیے؟

٭… ناروے سے ایک خاتون نے دجال، یاجوج ماجوج اور عیسیٰ بن مریمؑ کے بارے میں صحیح مسلم کی ایک حدیث کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس میں ایک ترتیب بیان ہوئی ہے۔ پہلے دجال کا ذکر ہے، پھرعیسیٰ بن مریمؑ کے ہاتھوں اس کا قتل اور اس کے بعد یاجوج ماجوج کا ظہور۔ ساتھ ہی دجال اور یاجوج ماجوج کی علامات الگ الگ انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دجال کی علامات آج بھی دنیا میں موجود ہیں تو کیا اس کا مطلب ہے کہ یاجوج ماجوج ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے؟احمدی عقیدے کے مطابق دجال اور یاجوج ماجوج ایک ہی فتنہ کے دو پہلو ہیں۔ اس پر غیر احمدی اعتراض کرتے ہیں کہ اگر امام مہدی اور مسیح موعودؑ آ چکے اور وفات بھی پا چکے ہیں، جبکہ دجال تو ابھی بھی موجود ہے اور یاجوج ماجوج کا ظہور ابھی تک نہیں ہوا، کیونکہ حدیث میں ایک ترتیب بیان ہوئی ہے ۔ اسی وجہ سے مجھے اس بارے میں کنفیوژن ہے۔ اس کا کیا جواب ہے؟

٭…کیا یہ بات درست ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو دلوں کا حال جاننے یا روحانی طور پر دوسروں پر اثر ڈالنے کی صلاحیت حاصل تھی؟ نیز جادو یا نظر بد واقعی وجود رکھتے ہیں اور کیا یہ انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں؟

سوال: سویڈن سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھاکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یاجوج ماجوج کا ذکر ان قوتوں کے طور پر کیا ہے جو زمین میں فساد پھیلائیں گی۔ ذوالقرنین ایک ہدایت یافتہ مصلح تھے، جنہوں نے ان فسادات کے خلاف روحانی دیوار تعمیر کی۔ حالیہ عالمی سیاسی حالات میں گرین لینڈ کے بارے میں ڈنمارک اور امریکہ کی حکمت عملی کے تناظر میں احمدیوں کو ان قرآنی پیشگوئیوں کو حضرت مسیح موعو علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں کس طرح سمجھنا چاہیے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۵ مارچ ۲۰۲۶ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب: اس بارے میں یاد رکھیں کہ دجّال اور یاجوج ماجوج ایک ہی فتنہ کے مختلف مظاہر ہیں۔ دجّال اس فتنہ کے مذہبی پہلو کا نام ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ گروہ آخری زمانے میں لوگوں کے مذہبی عقائد اور مذہبی خیالات میں فساد پیدا کرے گا۔ اوراس زمانے میں جو گروہ دنیا کا امن اور خاص طور پر مسلمان دنیا کا امن و امان تباہ و برباد کرے گااس کو یاجوج ماجوج کانام دیا گیا ہے۔اور ہر دوگروہوں سے مراد مغربی عیسائی اقوام کی دنیوی طاقت اور ان کا مذہبی پہلو ہے۔ پس یہاں گرین لینڈ یا ڈنمارک یا امریکہ کے معاملات کا سوال نہیں، یہ تمام قومیں تو اپنے طور پر بھی اسلام سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتیں بلکہ اس کے خلاف ہیں۔ اور دنیا کے بگاڑ اور فتنہ و فساد میں ان کا ہاتھ ہے۔ اس لیے ان لڑائیوں کا ان آیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تو ان قوموں کی آپس کی لڑائیاں ہیں۔

جہاں تک یاجوج ماجوج اور دجّالی فتنہ کا تعلق ہے تو واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کے ذریعہ ہمیں یہ خبر دی کہ جب دجّال اور یاجوج ماجوج کے فتنے برپا ہوں گے اور اسلام کمزور ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اسلام کی حفاظت کے لیے مسیح موعود کو مبعوث فرمائے گا۔ اس وقت مسلمانوں کے پاس مادی طاقت نہ ہو گی لیکن مسیح موعود کی جماعت دعاؤں اور دلائل و براہین کے ساتھ تبلیغ کا کام کرتی چلی جائے گی۔یہ بھی ان دعاؤں کا ہی اثر ہو سکتا ہے کہ دجّالی قومیں آپس میں لڑ رہی ہیں۔ لیکن چونکہ اسلام کے خلاف یہ سب ایک ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان فتنوں کو خود ہلاک کرے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: اِس جگہ اس سوال کا حل کرنا بھی ضروری ہے کہ مسیح کس عمدہ اور اہم کام کے لیے آنے والا ہے۔ اگر یہ خیال کیا جائے کہ دجّال کے قتل کرنے کے لیے آئے گا تو یہ خیال نہایت ضعیف اور بودا ہےکیونکہ صرف ایک کافر کا قتل کرنا کوئی ایسا بڑا کام نہیں جس کے لیے ایک نبی کی ضرورت ہو خاص کر اس صورت میں کہ کہا گیا ہے کہ اگر مسیح قتل بھی نہ کرتا تب بھی دجّال خود بخود پگھل کر نابود ہو جاتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ مسیح کا آنا اس لیے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے کہ تا تمام قوموں پر دین اسلام کی سچائی کی حجت پوری کرے تا دنیاکی ساری قوموں پر خدائے تعالیٰ کا الزام وارد ہو جائے۔اِسی کی طرف اشار ہ ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ مسیح کے دم سے کافر مریں گے یعنی دلائل بیّنہ اور براہین قاطعہ کی رُو سے وہ ہلاک ہو جائیں گے۔(ازالۂ اوہام حصہ اوّل، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۳۲،۱۳۱)

مزید فرمایا: ازانجملہ ایک یہ ہے کہ مسیح کی علامت یہ لکھی ہے کہ اس کے دم سے کافر مرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخالف اور منکر کسی بات میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے کیونکہ اس کے دلائل کاملہ کے سامنے مرجائیں گے۔ سو عنقریب لوگ دیکھیں گے کہ حقیقت میں مخالف حجت اور دلیل بینہ کی رو سے مر گئے۔ (ازالۂ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۴۷۷)

پھر آپؑ نےفرمایا: مسیح موعود کے متعلق کہیں یہ نہیں لکھا کہ وہ تلوار پکڑے گا اور نہ یہ لکھا ہے کہ وہ جنگ کرے گا بلکہ یہی لکھا ہے کہ مسیح کے دم سے کا فرمریں گے یعنی وہ اپنی دعا کے ذریعہ سے تمام کام کرے گا۔…دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں ۔خدا نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا ہی کے ذریعہ سے ہوگا۔ ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس کے سوائے اور کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔ (ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۲۶۷۔ مطبوعہ یوکے ۲۰۲۲ء)

لہٰذا احمدیوں کو ان حالات میں دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور دلائل اور براہین، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے کلام میں کھول کھول کر بیان فرمائے ہیں، ان کی مدد سے ساری دنیا کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کی سعی کرنی چاہیے، یہی ہمارے ہتھیار ہیں اور یہی ہمارا جہاد ہے۔

پس آجکل کے دنیا کے معاملات میں بھی احمدیوں نے اگر کوئی کردار ادا کرنا ہے تو اپنی روحانی حالت کو بہتر کر کے، دعاؤں کی طرف بھرپور توجہ دے کر اور اللہ تعالیٰ کا صحیح عابد بن کر یہ کردار ادا کریں۔ تاکہ ہم اسلام کی شان و شوکت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم ہوتا دیکھیں، آنحضرت ﷺ کا جھنڈا دنیا میں لہراتا دیکھیں اور یاجوج ماجوج اور دجّالی طاقتوں کو تباہ و برباد ہوتا دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔

سوال: ناروے سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں دجّال، یاجوج ماجوج اور عیسیٰ بن مریمؑ کے بارے میں صحیح مسلم کی ایک حدیث کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس میں ایک ترتیب بیان ہوئی ہے۔ پہلے دجّال کا ذکر ہے، پھرعیسیٰ بن مریمؑ کے ہاتھوں اس کا قتل اور اس کے بعد یاجوج ماجوج کا ظہور۔ ساتھ ہی دجّال اور یاجوج ماجوج کی علامات الگ الگ انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دجّال کی علامات آج بھی دنیا میں موجود ہیں تو کیا اس کا مطلب ہے کہ یاجوج ماجوج ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے؟احمدی عقیدے کے مطابق دجّال اور یاجوج ماجوج ایک ہی فتنہ کے دو پہلو ہیں۔ اس پر غیر احمدی اعتراض کرتے ہیں کہ اگر امام مہدی اور مسیح موعودؑ آ چکے اور وفات بھی پا چکے ہیں، جبکہ دجّال تو ابھی بھی موجود ہے اور یاجوج ماجوج کا ظہور ابھی تک نہیں ہوا، کیونکہ حدیث میں ایک ترتیب بیان ہوئی ہے ۔ اسی وجہ سے مجھے اس بارے میں کنفیوژن ہے۔ اس کا کیا جواب ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۵؍اپریل ۲۰۲۶ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب:آپ کے سوالوں کے جواب میں سب سے پہلی بات تو آپ کویہ مد نظر رکھنی چاہیے کہ دجّال کا ذکر قرآن کریم میں کہیں بیان نہیں ہوا، بلکہ اس کا ذکر صرف احادیث میں بیان ہوا ہے۔ اس کے مقابلہ پر یاجوج ماجوج کا ذکر قرآن کریم اور احادیث دونوں میں موجود ہے۔ اگر دجّال اور یاجوج ماجوج دو الگ الگ وجود ہیں تو پھر قرآن کریم نے دجّال کے ذکر کو کلیۃً نظر انداز کیوں کر دیا، جبکہ آنحضور ﷺنے اسے سب سے بڑا فتنہ قرار دیا اور فرمایا ہے کہ ہر نبی نے اپنے متبعین کو اس سے ڈرایا ہے اور میں بھی تمہیں ڈراتا ہوں۔(صحیح بخاری کتاب الجہاد و السیربَاب كَيْفَ يُعْرَضُ الْإِسْلَامُ عَلَى الصَّبِيِّ ) نیز فرمایا کہ جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی اور آخری دس آیات حفظ کیں اور ان کی تلاوت کی وہ دجّال کے فتنہ سے محفوظ ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد کتاب الملاحم بَاب خُرُوجِ الدَّجَّالِ)

چنانچہ جب ہم سورۃ الکہف کی پہلی اور آخر آیات پر غور کرتے ہیں تو ان میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا مضمون بیان ہوا ہے۔ ان لوگوں کو ڈرانے کا حکم ہے جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے، نیز اصحاب الکہف والرقیم کا ذکر کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے کبھی نہ ختم ہونے والے لا محدود کلمات کا ذکر ہے اور اس بات کہ نصیحت کی گئی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔ یہ سب علامتیں اور نشانیاں مسیحیوں کی ہی ہیں، اصحاب الکہف و الرقیم عیسائیوں کا ہی ایک گروہ تھا اور عیسائیوں نے ہی خدا تعالیٰ کے ساتھ بیٹے کے عقیدے کو گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے برعکس تثلیث کے عقیدے کو پیش کر کے دنیا کو گمراہ کیا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ان علامات میں دجّال اور یاجوج اور ماجوج کے نکلنے کا ذکر ہے او رغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت یہ دونوں فتنے آپس میں ملتے جلتے ہیں اور ایک ہی فتنہ کی مختلف شاخیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں یاجوج و ماجوج کا تو ذکر آتا ہے لیکن دجّال کا ذکرنہیں آتا۔حالانکہ رسول کریم ﷺنے اس کی اہمیت زیادہ بیان فرمائی ہے۔چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ذَکَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ اِنِّیْ لَاُنْذِرُکُمُوْہُ وَمَامِنْ نَّبِیٍّ اِلَّا اَنْذَرَقَوْمَہٗ لَقَدْ اَنْذَرَ نُوْحٌ قَوْمَہٗ۔(کنزالعمال جلد ۷ صفحہ ۱۹۵ بحوالہ ابو داؤد و ترمذی ) یعنی دجّال کا ذکر کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی امت کو دجّال سے ہوشیار نہ کیا ہو۔نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ہوشیار کیا اور میں بھی اس کی خبر دیتا ہوں اور قوم کو ہوشیار رہنے کی تلقین کرتاہوں۔

پس اتنے بڑے فتنے کا ذکر قرآن کریم میں نہ آنا اور یاجوج ماجوج کا ذکر آنا بتاتا ہے کہ درحقیقت یاجوج و ماجوج اور دجّال کا فتنہ ایک ہی چیز کے دونام ہیں یاایک ہی فتنہ کی دوشاخیں ہیں۔اس کی مزید تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ دجّال اور یاجوج وماجوج کا ایک ہی زمانہ ہے۔اور پھر یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ دونوں ساری دنیا پر غالب آجائیں گے یہ باتیں بتاتی ہیں کہ یہ دجّال اور یاجوج و ماجوج کے فتنے کوئی الگ قسم کے فتنے یا الگ زمانوں کے فتنے نہیں ہیں۔بلکہ ایک ہی فتنہ کے مختلف مظاہر ہیں۔ درحقیقت دجّال مذہبی پہلو سے اس فتنہ کا نام رکھا گیا ہے۔دجّال کے معنے ہوتے ہیں ملمّع ساز، فریب کرنے والا۔پس آخری زمانے کا فتنہ جس سے کہ بنواسرائیل کے انبیاء بھی ڈراتے رہے ہیں اس کے دو حصے ہونے تھے۔ایک حصہ تو مذہبی عقائد اور مذہبی خیالات میں فساد پیدا کرنے کے متعلق تھااور ایک حصہ سیاسی حالات اور سیاسی امن کو برباد کرنے کے متعلق تھا۔جو مذہبی عقائد سے متعلق فتنہ تھا اس کے بھڑکانے والی روح کو دجّال کہا گیا ہے یعنی فریب اور دھوکا دینے والی ہستی۔اور جو فتنہ کے سیاسی پہلوؤں کے ساتھ تعلق رکھنے والا تھا اس کے بھڑکانے والی ہستیوں کو یاجوج اور ماجوج کہا گیا ہے۔یاجوج ماجوج کے الفاظ اجیج سے نکلے ہیں اور اَجَّتِ النَّارُ اَجِیْجًا کے معنے ہیں تَلَھَّبَتْ۔آگ بھڑک اٹھی اور جب اَجَّـجْتَ النَّارَ کہیں تو معنے ہوں گے اَلْھَبَتْـھَا فَالْتَـھَبَتْ کہ آگ کو بھڑکا! تو وہ بھڑک اٹھی۔ (اقرب) پس لفظ اَجَّ کے معنے آگ بھڑکانے کے ہیں اور یاجوج و ماجوج کے الفاظ ایسی ہستیوں پر دلالت کرتے ہیں جو ایسی طاقت رکھیں گے کہ آتشین اسلحہ کے استعمال سے دنیا پر غلبہ پالیں گے۔ (تفسیر کبیر جلد ۱۵ صفحہ ۳۵۷، ۳۵۸۔ مطبوعہ یوکے۲۰۲۳ء)

باقی جہاں تک مسیح موعود کی بعثت اور آپ کے ہاتھوں دجّال اور یاجوج ماجوج کے ہلاک ہونے کا تعلق ہے تو یہ بات بھی درست ہے۔ کیونکہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود و مہدی معہود کے طور پر آنحضرتﷺکے دین کی تجدید کے لیے مبعوث فرمایا تو اسلام کی حالت نہایت ناگفتہ بہ تھی، بڑے بڑے علماء اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت قبول کر رہے تھے، ہر طرف سے اسلام پر حملوں کی بوچھاڑ تھی اور آنحضورﷺکی ذات اطہر پر طرح طرح کے بیہودہ اور دل خراش الزام لگائے جا رہے تھے۔ ایسے وقت میں آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے اسلام کے دفاع کا بیڑا اٹھایا اور چوطرفی قلمی جہاد کر کے دشمن اسلام جن میں عیسائی پادری اور آریہ سماج کے لوگ پیش پیش تھے، کو دندان شکن جواب دیا۔ اس قلمی جہاد کا سلسلہ آپؑ کی زندگی کے آخری سانسوں تک جاری رہا۔ آپؑ کے وصال کے بعد جیسا کہ سنت انبیاء ہے، اللہ تعالیٰ نے قدرت ثانیہ کے طور پر آپؑ کی خلافت کے سلسلہ کو جاری فرمایا، جس کی برکت سے آپؑ کا مشن آج بھی جاری ہے اوردنیا کے کونے کونے میں اسلام کے دفاع کی خدمت سرا نجام دے رہا ہے۔ کیونکہ نبی کے بعدجو خلافت کا سلسلہ جاری ہوتا ہے، وہ بھی دراصل نبی ہی کا زمانہ ہوتا ہے۔ چنانچہ غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھودتے وقت قیصرو کسریٰ اور یمن کے سرخ و سفید محلات کی چابیاں حضورﷺکو ملنے اور ان علاقوں کے حضورﷺکے لیے دروازے کھولے جانے کا جو کشفی نظارہ حضورﷺنے دیکھا تھا۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند الکوفیین، حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ۔جزء۳۸ صفحہ ۱۳۳ حدیث نمبر۱۷۹۴۶) وہ تمام پیشگوئیاں آپؐ کے وصال کے بعد آپؐ کے نقش پا پر جاری ہونے والی خلافت راشدہ کے عہد مبارک میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں پوری ہوئیں۔

پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اور آنحضورﷺ کے ذریعہ آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے زمانے کے بارے میں اسلام کی شوکت کے قائم ہونے، اللہ تعالیٰ کی توحید ساری دنیا میں پھیلنے اور آنحضورﷺکے جھنڈے کے ساری دنیا میں لہرانے کے بارے میں جو وعدہ فرمائے ہیں، وہ وعدے اور بشارتیں اللہ تعالیٰ اپنے وقت پر انشاء اللہ ضرور پوری فرمائے گا۔

لیکن یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی بشارتوں کو پورا ہوتے دیکھنے کے لیے موعودہ قوم جس سے ان بشارتوں کے وعدے ہوتے ہیں، کی بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے احکامات پر چلتے ہوئےاسی کے آگے جھکنے اور اس سے مدد مانگنے والی ہو، کیونکہ الٰہی تعلیمات کی نافرمانی اور خدا تعالیٰ کی حکم عدولی ان بشارتوں کو مؤخر کردیا کرتی ہےجیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا جب انہوں نے وقت کے نبی کی باتوں کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے چالیس سال تک اس قوم کو ان انعامات سے محروم کردیا، جو ان کے لیے مقدر ہو چکے تھے۔ (المائدہ:۲۱ تا۲۷) اس لیے جماعت احمدیہ کے ہر فرد کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی روحانی حالت کو بہتر کرے، دعاؤں کی طرف بھرپور توجہ دے اور اللہ تعالیٰ کا صحیح عابد بن کر ایک حقیقی احمدی کا کردار ادا کرے۔ تاکہ ہم اسلام کی شان و شوکت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم ہوتا دیکھیں، آنحضرت ﷺ کا جھنڈا دنیا میں لہراتا دیکھیں اور یاجوج ماجوج اور دجّالی طاقتوں کو تباہ و برباد ہوتا دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔

باقی جہاں تک حدیث میں بیان ان امور کی ترتیب کا معاملہ ہے تو اس بارے میں پہلی بات تو یہ قابل غور ہے کہ اس ترتیب کے بارے میں کہیں یہ ثابت نہیں کہ جو ترتیب حدیث میں بیان ہوئی ہے، ان امور کا ظہور اسی ترتیب سے ہونا لازمی ہے۔ دوسری بات یہ کہ پیشگوئیوں کے معاملات اپنے اندر ایک پہلو اخفاء کا ضرور رکھتے ہیں جن کی حقیقت ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر ہی کھلتی ہے، اس لیےحدیث میں بیان دجّال، یاجوج ماجوج اور مسیح موعود کی بعثت سے متعلق امور کو صرف ظاہر پر محمول کرنا درست نہیں،جبکہ خود احادیث میں دجّال کے بارے میں متضاد باتیں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: دجّال کے متعلق احادیث میں خطرناک مشکلات تھے اور آج تک ان مشکلات کو کوئی حل نہیں کر سکتا۔اوّ ل تو اس لیے کہ محدثین اور فقہا نے احادیث متعلقہ اعمال پر بہت توجہ مبذول فرمائی۔آمین بالجہر اور رفع یدین وغیرہ احادیث کی تحقیق کے لیے دیکھ لو کس قدر رسالے اور کتابیں موجود۔مگر پیش گوئیوں کی احادیث کی تحقیق ایسی نہیں کی گئی ان دجّال کے متعلق احادیث پر غور کرو اور صرف مشکوٰۃ کو دیکھو کیسا مشکل امر ان احادیث کا ہے۔میں بطور نمونہ عرض کرتا ہوں ذرا آپ سوچو بلا تاویل صرف ظاہر اور صاف لفظوں میں کیا تطبیق ہو سکتی ہے۔(اس کے بعد حضورؓ نے مشکوٰۃ کی مختلف احادیث کو درج فرمایا ہے، جن میں باہم تضاد پایا جاتا ہے) (اخبار بدر نمبر ۲۹ جلد۶، مورخہ ۱۸ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۹، ۱۰)

پس جہاں ضرورت ہو گی ان امور کی تاویل کی جائے گی جو قرآن کریم، آنحضورﷺکی سنت اور مستند احادیث کے مطابق ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کا اسی بات پر تعامل ہے۔

سوال: انڈیا سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو دلوں کا حال جاننے یا روحانی طور پر دوسروں پر اثر ڈالنے کی صلاحیت حاصل تھی؟ نیز جادو یا نظر بد واقعی وجود رکھتے ہیں اور کیا یہ انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۱؍اگست ۲۰۲۵ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب:عالم الغیب تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور وہی دلوں کا حال بھی جانتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ غائب اور حاضر کو جانتا ہے۔ (الحشر:۲۳) نیز فرمایا کہ اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام:۶۰) لیکن کوئی انسان عالم الغیب ہر گز نہیں ہو سکتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضور ﷺ کے ذریعہ قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر یہ اعلان کروایا کہ تو انہیں کہہ دے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں۔ (الانعام:۵۱۔ ھود:۳۲)البتہ اس کے ساتھ یہ امر بھی برحق ہے کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ انسان اس حد تک غیب کی باتوں کو جان لیتے ہیں، جس حدتک اللہ تعالیٰ کی ذات انہیں غیب سے مطلع فرمائے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات غیب کو جاننے والی ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو غلبہ عطا نہیں فرماتابجز اپنے ایسے رسول کے جس کو وہ اس کام کے لیے پسند کر لیتا ہے۔ (الجن:۲۸،۲۷)

پس حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بھی ایک انسان تھے، اس لیے ایک انسان ہونے کے ناطے تو آپؓ دلوں کا حال ہرگز نہیں جانتے تھے، البتہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو جس قدر چاہے غیب کی باتوں کا علم دے دیتا ہے،اس لحاظ سے اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی کے بارے میں کوئی علم دیا ہو اور آپؓ نے اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے علم کے مطابق اسے بیان کیا ہو تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔

علاوہ ازیں آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی فراست (دور اندیشی) سے بچو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔(سنن ترمذی کتاب تفسیر القرآن بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْحِجْرِ)اس اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو غیر معمولی فراست سے نوازا تھا اور آپ اللہ تعالیٰ کی اس عطا کی بدولت غیر معمولی طور پر لوگوں کے چہروں سے ان کے دلوں کی کیفیت کا اندازہ لگا لیا کرتے تھے۔ اس حدیث نبوی کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: متکلّم کے قدر کے موافق اس کے کلام میں ایک عظمت اور ہیبت ہوتی ہے۔ دیکھو! دنیاوی حکام کے سامنے جاتے وقت بھی ایک تکلیف اور رعب ہوتا ہے اور خیال ہوتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں قلم ہے۔ اسی طرح پر جولوگ یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ مومن کے ساتھ خدا ہے وہ اس کی مخالفت چھوڑ دیتے ہیں اور اگر سمجھ میں نہ آئے تو تنہا بیٹھ کر اس پر غور کرتے ہیں اور مقابلہ کرکے سوچتے ہیں۔ یہ نہایت ضروری ہوتا ہے کہ واقف راہ اور روشنی والے کے دوسرے تابع ہو جاویں اور یہی اس حدیث اِتَّقُوْا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ کا منشا اور مفہوم ہے ۔ یعنی جب مومن کچھ بیان کرے تو خدائے تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ وہ جو کچھ بولتا ہے وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے بولتا ہے ۔ مدعا یہ ہے کہ مومن جب خدا سے محبت کرتا ہے تو الٰہی نور کا اس پر احاطہ ہو جا تا ہے اگر چہ وہ نوراس کو اپنے اندر چھپالیتا ہے اور اس کی بشریت کو ایک حد تک بھسم کر جا تا ہے جیسے آگ میں پڑا ہوا لوہا ہو جا تا ہے لیکن پھر بھی وہ عبودیت اور بشریت معدوم نہیں ہو جاتی ۔ یہی وہ راز ہے جو قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ (الکھف:۱۱۱) کی تہ میں مرکوز ہے ۔ بشریت تو ہوتی ہے مگر وہ الوہیت کے رنگ کے نیچے متواری ہو جاتی ہے اور اس کے تمام قویٰ اور اعضاء للّٰہی راہوں میں خدا تعالیٰ کے ارادوں سے پُر ہو کر اس کی خواہشوں کی تصویر ہو جاتے ہیں ۔ اور یہی وہ امتیاز ہے جو اس کو کروڑ ہا مخلوق کی روحانی تربیت کا کفیل بنادیتا ہے اور ربوبیت تامہ کا ایک مظہر قرار دیتا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتو کبھی بھی ایک نبی اس قدر مخلوقات کے لیے ہادی اور رہبر نہ ہوسکے۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۰۴۔ مطبوعہ یوکے ۲۰۲۲ء)

جادو کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ جادو دراصل دھوکہ اور فریب کا دوسرا نام ہے اور اس کا تصور قدیم زمانے سے دنیا میں چلا آ رہا ہے۔قرآن کریم نے بھی اس کا ذکر فرمایا ہے لیکن اسے اچھے رنگ میں ہر گز بیان نہیں فرمایا بلکہ ہماری راہنمائی کے لیے ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ جادو گر جس جہت سے بھی آئے (خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں) کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ (طٰہٰ:۷۰)

باقی نظر لگنے کے بارے میں تحریر ہے کہ نظر لگنا تو بہرحال حقیقت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ نظر ڈالنے والے کی طرف سے ایک ارادی یا غیر ارادی خواہش کا اظہار ہوتا ہے جس کا نتیجہ خداتعالیٰ مترتب فرما دیتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ نظر کا لگ جانا برحق ہے۔(صحیح بخاری کتاب الطب باب العین حق)اور اس میں اپنے اور غیر کی یا اچھی یا بُری نیت کی بات نہیں بلکہ بعض اوقات اپنی بھی نظر لگ جاتی ہے، بچہ کو ماں کی نظر بھی لگ جاتی ہے، خصوصاً جب ماں یہ خیال کرے کہ میں نے اس بچہ کو دودھ پلایا ہے، یا میں نے اسے پالا ہے اور خدا تعالیٰ کے خانہ کو درمیان سے نظر انداز کر دے تو اس قسم کے خیالات کا بُرا اثر بچہ پر ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہر کام کا انحصار خدا تعالیٰ ہی کی ذات پر رکھنا چاہیے، ہر کام دعا کے ساتھ شروع کرنا چاہیے، مستقبل میں کی جانے والی ہر بات پر انشاء اللہ کہنا چاہیے، کسی کی اچھی چیز دیکھ کر ماشاءاللہ کہنا چاہیے اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ کی مسنون دعا کرنی چاہیے۔ اور نظر لگنے کی صورت میں سورۃ فاتحہ،سورۃ الفلق اور سورۃ الناس وغیرہ پڑھ کر دعا کی جانی چاہیے۔

دراصل انسانی اعضاء میں اللہ تعالیٰ نے مختلف قوتیں رکھی ہیں۔اور یہ قوتیں کسی میں کم اور کسی میں زیادہ ہیں۔ ان قوتوں میں سے ایک آنکھ اور نظر کی قوت بھی ہے۔ جب انسان کسی چیز کو دیکھتا ہے اوروہ اسے اچھی لگتی ہے تو بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جن کے دل میں حسد پیدا ہوتا ہے۔ اورجن کی آنکھوں میں وہ قوت زیادہ ہوتی ہے وہ جب اپنے حسد کے بھرے ہوئے خیالات کے ساتھ اس چیز پر نظر ڈالتے ہیں تو اس چیز پر بھی اثر ہوتا ہے جسے عرف عام میں نظر لگنا کہا جاتا ہے۔ جسے ہپنا ٹزم اورمسمریزم کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ اور یہ پیراسائیکالوجی کی ایک قسم ہے۔

اسی لیے حدیث میں اس کا یہ علاج بتایا گیا ہے کہ اگر کسی کو نظر لگ جائے تو اسے نہا لینا چاہیے۔ (صحیح مسلم کتاب السلام بَاب الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى) نہانے سے جب اس کے بدن پر پانی پڑے گا اور اس کی اعصابی قوت بیدار ہو گی تو جو کسی کی نظر کا اثر اس پر ہوا ہو گا وہ زائل ہو جائے گا۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے ایک صاحب نے پوچھا کہ عام خیال ہے کہ بچوں کو نظر لگ جاتی ہے۔ کیا یہ درست ہے۔ اگر درست ہے تو اس کا علاج کیا ہے ؟ حضورؓ نے جواب میں لکھوایا: ہاں لگ جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایسی طاقت رکھی ہے کہ ایک کے خیالات کا اثر دوسرے کے اوپر جاکر پڑتا ہے۔ جب انسان ہر چیز کو نہایت ہی محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اس وقت اس کے دل میں اگر محبت کے خیالات پیدا ہوتے ہیں تو ساتھ ہی مخفی طور پر ایک خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اور ایسے ہی دوسرے شخص میں، بچہ ہو خواہ جوان منتقل ہو کر ایک قسم کا احساس کمزوری یا مایوسی کا کر دیتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ایک طبعی بات ہے۔ رسول کریم ؐکے بعض اقوال سے بھی مستنبط ہوتا ہے۔ شریعت نے اس کو غیر معقول نہیں قرار دیا۔ ایسے لوگ جن کے دل زیادہ برداشت نہیں کر سکتے، تھوڑی تھوڑی باتوں پر ان کی توجہ بہت ہی گہری ہو جاتی ہے۔ ان لوگوں کے ایسے خیالات جو ہیں، وہ دوسرے کے دل پر اثر کر جاتے ہیں۔ اور اسی کا نام نظر ہوتا ہے۔ پس اگر ایسی حالت میں کوئی بیمار ہو جائے تو اس صورت میں سورۃ فاتحہ یا قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور بِرَبِّ النَّاس پڑھ کے بچے پر دم کیا جاوے یا اگر بچہ نہیں جانور وغیرہ ہے تو اس پر ہاتھ پھیر دیا جاوے ۔تو یہ دعا کی دعا بھی ہوتی ہے اور توبہ کی تو بہ بھی۔ (الفضل قادیان دارالامان نمبر۶۹، جلد۱۱، مورخہ ۴مارچ ۱۹۲۴ء صفحہ ۵)

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۹)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button