جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے
قمر احمد کا تعلق اس نسل کے صحافیوں سے تھا جنہوں نے کھیلوں کی صحافت کو محض نتائج اور تبصروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے مشاہدے، تحقیق اور یادداشت کے ایک باقاعدہ فن میں ڈھالا
گذشتہ دنوں معروف سپورٹس جرنلسٹ قمر احمدصاحب کی وفات کی خبر نے کئی پرانی یادوں کے دریچے وا کردیے۔ یاد آیا کہ ۲۰۱۱ء میں جب دسویں کرکٹ ورلڈ کپ کی آمد آمد تھی تو ہم اس وقت جامعہ احمدیہ کے طالب علم تھے۔ صبح سے دوپہر تک تو کلاسز اور تدریس کا ایک طویل سلسلہ جاری رہتاتھا۔ ظہر کی نماز اور کھانے کے بعد جب بعض طلبہ چند لمحوں کے آرام کے لیے اپنے کمروں کا رخ کرتےتو طلبہ کی ایک بڑی تعداد کا معمول، اخبار پڑھنا ہوتا تھا۔
ان دنوں اخبار پڑھنا آج کی طرح موبائل سکرین پر چند لمحوں کی مصروفیت نہیں تھا بلکہ یہ کام ایک باقاعدہ علمی اور ذہنی سرگرمی شمار ہوتا تھا، جس کا اپنا ایک ذوق اور لطف تھا بلکہ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اخبار بینی ہماری ہاسٹل کی اجتماعی زندگی کا ایک لازمی حصہ تھا۔
ورلڈ کپ کی آمد کے موقع پر انگریزی اخبار’ڈان‘ نے اس پورے ماحول کو ایک طرح کے جشن میں بدل دیا تھا۔ رنگین صفحات، بڑی بڑی تصاویر، خوب صورت لے آؤٹ اور کرکٹ کے ماہرین، سابق کھلاڑیوں اور معروف صحافیوں کے مضامین نے ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے ہی ایک خاص کیفیت پیدا کر دی تھی۔ابھی ورلڈ کپ شروع نہیں ہوا تھا مگر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی بہت بڑا تہوار آہستہ آہستہ ہمارےقریب آ رہا ہو۔ گذشتہ ورلڈ کپس کی یادیں، کرکٹ کی تاریخ کےاہم واقعات، عظیم کھلاڑیوں کے تذکرے اور آنے والے مقابلوں کے متعلق ماہرین کے تبصرے اور تجزیے، ان صفحات کو ایک دلچسپ اور یادگار دستاویز بنا دیتے تھے۔
انہی صفحات میں قمر احمد صاحب کا کالم بھی باقاعدگی سے شائع ہوتاتھا۔ ان کی تحریر میں ایک ایسا تجربہ بولتا تھا جو صرف ایک صحافی کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں تک کرکٹ کو قریب سے دیکھنے والے ایک ایسے شخص کا حاصلِ زندگی تھا جس نے کھیل کو صرف رپورٹ نہیں کیا بلکہ اسے جیا تھا۔
ہمارے ایک ساتھی خالد احمد، جو آج کل مغربی افریقہ کے ملک مالی میں بطور مبلغ خدمت کی توفیق پا رہے ہیں، ہاسٹل کے نوٹس بورڈ کے لیے دلچسپ تحریریں، معلوماتی مواد اور کہانیاں جمع کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔ انہیں خود بھی کرکٹ کو فالو کرنے کا بہت شوق تھا لہٰذا ان کی کوشش ہواکرتی تھی کہ کرکٹ سے متعلق کوئی مفید اور دلچسپ چیز سامنے آئے تو اسے زیادہ سے زیادہ ساتھیوں تک پہنچایا جائے۔
۲۰۱۱ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کے دنوں میں جب اخبار ’ڈان‘ نے کرکٹ کے حوالے سے خوبصورت رنگین صفحات، بڑی بڑی تصاویر اور خصوصی مضامین شائع کرنا شروع کیے تو ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ ان صفحات کو مرتب کر کے ہاسٹل کے نوٹس بورڈ کے لیے ایک چھوٹی سی نمائش ترتیب دی جائے۔
اس زمانے میں رنگین تصاویر آج کی طرح عام نہیں تھیں کہ موبائل کی سکرین پر چند لمحوں میں دنیا بھر کی تصویریں سامنے آجائیں۔ ایک اچھی چھپی ہوئی تصویر اپنے اندر ایک خاص کشش اور قدر رکھتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ۱۹۸۳ء کے ورلڈکپ میں شریک ٹیموں کے مکمل سکواڈز کی ایک یادگار تصویر، لارڈز کے تاریخی میدان کے مناظر اور کرکٹ کے پرانے ادوار کی جھلکیاں ہمارے لیے خاص دلچسپی کا باعث تھیں۔
ہم چاہتے تھے کہ یہ سب چیزیں صرف چند افراد تک محدود نہ رہیں بلکہ ہاسٹل کے دوسرے طلبہ بھی اس ذوق میں شریک ہوں۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر یہ نمائش تو نہ ہو سکی، لیکن اس کوشش کا ایک خوبصورت نتیجہ ضرور نکلا اور وہ یہ کہ ہم نے کرکٹ ورلڈ کپ سے متعلق’ڈان‘ کے وہ تمام خصوصی شمارے محفوظ کر لیے۔
نہ جانے کس طرح وہ صفحات میرے پاس رہ گئے۔ وقت گزرتا گیا، جامعہ احمدیہ میں تحصیلِ علم کا وہ سنہری دَور گزر گیا، مَیں زندگی کے سفر میں مختلف مقامات پر منتقل ہوتا رہا، مگر ’ڈان‘ اخبار کے وہ صفحات میرے پاس کہیں نہ کہیں محفوظ رہے۔
قمر احمد صاحب کے انتقال کی خبر نے جب ان یادوں کو تازہ کیا تو مَیں ایک رات دیر تک ان صفحات کو دیکھتا رہا، قمر احمد صاحب کے مضامین دوبارہ پڑھتا رہا ۔ اُس وقت یوں محسوس ہوا جیسے وقت کا پہیہ گھوم کر مجھے پھر ۲۰۱۱ء کی انہی دوپہروں میں لے گیا ہو۔ گویا
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں
قمر احمد صرف کھیلوں کے رپورٹر نہیں تھے بلکہ ان صحافیوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے کرکٹ کی کئی دہائیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، میدانوں سے رپورٹ کیا اور اپنے منفرد اندازِ تحریر میں محفوظ کیا۔
قمر احمد ۲۳؍اکتوبر ۱۹۳۷ء کو برطانوی ہندوستان کے علاقے مغل سرائے (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں وہ فرسٹ کلاس کرکٹر بھی رہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے ممتاز سپورٹس جرنلسٹ، مبصر اور کمنٹیٹر کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی صحافتی زندگی سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط رہی، جس دوران انہوں نے سینکڑوں ٹیسٹ میچوں اور عالمی کرکٹ مقابلوں کی کوریج کی۔
کرکٹ کے بڑے عالمی مقابلوں، عظیم کھلاڑیوں اور کھیل کے بدلتے ہوئے ادوار کے وہ ایسے راوی تھے جن کی تحریروں میں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ واقعات کی دھڑکن سنائی دیتی تھی۔ ان کا انداز یہ تھا کہ وہ کسی واقعے کو صرف خبر کے طور پر نہیں لکھتے تھے بلکہ قاری کو اس لمحے کا شریک بنا دیتے تھے۔
ان کی خودنوشت’Far More Than A Game‘ ان کے اسی بھرپور صحافتی اور کرکٹ کے سفر کی خوبصورت یادداشت ہے۔
قمر احمد کا تعلق اس نسل کے صحافیوں سے تھا جنہوں نے کھیلوں کی صحافت کو محض نتائج اور تبصروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے مشاہدے، تحقیق اور یادداشت کے ایک باقاعدہ فن میں ڈھالا۔ کرکٹ سے ان کی وابستگی محض پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں تھی بلکہ ایک دیرینہ شوق اور گہری دلچسپی کا تسلسل تھی۔ اپنی طویل صحافتی زندگی میں انہوں نے دنیا کے بڑے کرکٹ میدانوں کو دیکھا، عظیم کھلاڑیوں کے کھیل کا مشاہدہ کیا اور کرکٹ کی تاریخ کے متعدد اہم لمحات کو اپنی تحریروں میں محفوظ کیا۔ ان کے انداز کی نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ بڑے واقعات کے ساتھ ساتھ ان چھوٹے مگر معنی خیز مناظر کو بھی نظرانداز نہیں کرتے تھے جو وقت کے ساتھ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
مَیں قمر احمد صاحب کے ان مذکورہ کالمز سے بعض چیدہ چیدہ باتیں قارئین کی نذر کرتا ہوں۔ یہ صرف کرکٹ کے اہم ترین مواقع کے ایک عینی شاہد کی یادیں نہیں بلکہ ان میں اُس عہد کی چند اہم ترین عالمی سیاسی شخصیات، تاریخی لمحات اور کھیل سے جڑی یادگار جھلکیاں بھی موجود ہیں۔ امید ہے قارئین کے لیے یہ چند اقتباسات دلچسپی کا باعث ہوں گے۔
قمر احمد ان کالمز میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ۱۹۶۶ء میں مجھے پہلا ورلڈ کپ دیکھنے کا موقع ملا، اگرچہ وہ کرکٹ کا نہیں بلکہ فٹ بال ورلڈ کپ تھا۔ انگلینڈ اور مغربی جرمنی کے درمیان کھیلے گئے فائنل کی یادیں آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں۔ جیف ہرسٹ کی ہیٹ ٹرک کے ذریعے انگلینڈ کی فتح ایک ایسا منظر تھا جو کبھی فراموش نہیں ہو سکتا۔
چھ سال بعد مجھے ایک اَور بڑے عالمی مقابلے کو دیکھنے کا موقع ملا، اور وہ ۱۹۷۲ء کے میونخ اولمپکس تھے۔ مَیں چند دوستوں کے ساتھ لندن سے جرمنی کے شہر میونخ گیا۔ یہ سفر اس وقت ہوا جب اولمپک ویلج میں اسرائیل کےسکواڈ کے ارکان پر حملے کا افسوسناک واقعہ پیش آ چکا تھا۔
ان اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کا ہاکی کے فائنل میں جرمنی کے ہاتھوں شکست کھا جانا میرے لیے اس دَور کا سب سے بڑا دلخراش واقعہ تھا ۔ صلاح الدین اور شہناز شیخ نے میدان میں شاندار کھیل پیش کیا، مگر ارجنٹائن کے ریفری کے چند متنازع فیصلوں نے پاکستان کو گولڈ میڈل سے محروم کر دیا۔
اسی طرح ون ڈے کرکٹ کے ابتدائی نقوش کو یاد کرتے ہوئے قمر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ مَیں اپنے آپ کو اس لحاظ سے خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مَیں نے محدود اووَرز کی کرکٹ کو اس کے ابتدائی دَور ہی سے دیکھا ہے، جب ۱۹۶۳ء میں جلیٹ کپ (Gillette Cup) کے آغاز کے ساتھ اس نئی طرز کے کھیل کی بنیاد پڑی اور پھر رفتہ رفتہ یہ ایک مستقل اور مقبول فارمیٹ کی صورت اختیار کرنے لگا۔
مَیں ۱۹۶۴ء میں انگلینڈ پہنچا، یعنی اس وقت جب محدود اوورز کرکٹ اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ مَیں نے جو پہلا میچ دیکھا وہ ۱۹۶۴ء کے جلیٹ کپ کا فائنل تھا، جس میں سسیکس نے واروکشائر کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی۔اس موقعے پر لارڈز کا بھرا ہوا اسٹیڈیم اس بات کا ثبوت تھا کہ محدود اووَرز کرکٹ کا مستقبل تابناک ہے۔
آنے والے برسوں میں یہ نئی طرز کی کرکٹ تیزی سے مقبول ہوئی اور اس نے کھیل کے انداز کویکسر بدل دیا۔ ۱۹۷۱ء میں ایم۔ سی۔ جی میں کھیلے جانے والے ایشیز ٹیسٹ کے ابتدائی تین دن بارش کی نذر ہو گئے تو اسے ۴۰ اوورز کے ایک محدود میچ میں تبدیل کر دیا گیا، جس میں آسٹریلیا نے ۴۶ ہزار تماشائیوں کی موجودگی میں پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ یہ میچ دراصل ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کے ابتدائی عملی تجربات میں سے ایک تھا۔
اس وقت مَیں باقاعدہ فل ٹائم کرکٹ رائٹر نہیں تھا، لیکن یہ محدود اوورز کے میچ اور میرا ذاتی مشاہدہ بعد میں آنے والے ایک نئے کرکٹ دَور کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
مَیں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے ۱۹۷۵ء سے ۲۰۰۳ء تک کے پہلے آٹھ ورلڈ کپ کور کیے۔ اس طویل عرصے میں بطور رپورٹر اور کمنٹیٹر مجھے دنیا کے عظیم کھلاڑیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، جو میرے لیے ایک ناقابلِ فراموش اور بھرپور تجربہ تھا۔
مَیں آج بھی پہلے ورلڈ کپ فائنل میں کلائیو لائیڈ کی شاندار سنچری، ویون رچرڈز کی غیر معمولی فیلڈنگ اور آسٹریلوی کھلاڑیوں کے خلاف ان کے برق رفتار رن آؤٹس کو یاد کرتا ہوں۔ اسی طرح ڈینس للی اور جیف تھامسن کی تیز رفتار بولنگ، ۱۹۷۵ء اور ۱۹۹۹ء میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی، اور ۱۹۹۲ء کی تاریخی فتح میرے ذہن میں آج بھی تازہ ہیں۔ خاص طور پر ۱۹۹۲ء کے ورلڈ کپ فائنل میں وسیم اکرم کا انگلینڈ کے خلاف تباہ کن سپیل ان یادوں میں شامل ہے جو کبھی فراموش نہیں ہو سکتیں۔
پھر کرکٹ میں ہیلمٹ کے استعمال کے ابتدائی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے قمر احمدنےایک تاریخی موقع کا ذکر کیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہےکہ اُس میچ میں قمر احمد خود بطور کھلاڑی شرکت کر رہے تھے۔
وہ لکھتے ہیں کہ مجھے پہلی مرتبہ انگلینڈ میں کسی کھلاڑی کو ہیلمٹ پہن کر بیٹنگ کرتے دیکھنے کا موقع ۱۹۷۸ء میں ملا، جب میں کرکٹ رائٹرز کلب کی طرف سے ایک میچ کھیل رہا تھا۔اس میچ میں انگلینڈ کے سابق کپتان برائن کلوز، جم پارکس، آرتھر ملٹن، جان جیمسن اور جارج ہیڈلی کے بیٹے رون ہیڈلی جیسے معروف کھلاڑی بھی شریک تھے۔
۲۶۰ سے زائد رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے مدّمقابل ٹیم کی پہلی وکٹ گرنے پر ایک نوجوان آسٹریلوی بلےباز میدان میں آیا۔ ہمارے لیے حیرت کی بات تھی کہ وہ ہیلمٹ پہن کر کھیل رہا تھا۔ اس سے پہلے وہ ہماری اننگز کے دوران بائیں ہاتھ سے اسپن بولنگ بھی کر چکا تھا۔ اس نے تیزی سے ۶۰ رنز بنائے اور آؤٹ ہو گیا۔ اس وقت ہمیں اس کے بارے میں بس اتنا ہی معلوم تھا۔
چار ماہ بعد کرکٹ کے معروف مورخ ڈیوڈ فرِتھ، جو اس میچ میں شریک تھے، میرے پاس آئے اور بتایا کہ وہ نوجوان جسے ہم نے ہیلمٹ پہن کر کھیلتے دیکھا تھا، آسٹریلیا کی طرف سے ۱۹۷۸-۷۹ء کی ایشیز سیریز میں اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کر چکا ہے، اور اس کا نام ایلن بارڈر ہے۔
کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والا کون شخص ہے جو ایلن بارڈر کے نام سے متعارف نہ ہو۔ قمر احمد صاحب کی تحریرکی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ ان کی یادداشت میں ایسے واقعات محفوظ رہتے تھے جو ابتداءً بظاہر معمولی دکھائی دیتےہوں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ان کی تحریروں میں کئی ایسے عظیم کھلاڑیوں کا ذکر ملتا ہے جنہیں قمر احمد نے اُن کے ابتدائی دنوں میں دیکھا۔
اسی سلسلے میں وہ کپل دیو کا ذکر کرتے ہیں کہ انہیں کپل دیو کوفیصل آبادمیں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلتے دیکھنے کا موقع ملااور پھر چندہی برس بعد ان ہی کپل دیو کو ۱۹۸۳ء کے ورلڈ کپ میں فاتح بھارتی ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے نہ صرف دیکھنے بلکہ ورلڈ کپ فائنل سے قبل کپل دیو کا انٹرویو کرنے کا موقع بھی ملا۔
ون ڈے کرکٹ کے پہلے عالمی کپ کو یاد کرتے ہوئے وہ ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۷۵ء میں پہلا کرکٹ ورلڈ کپ ہوا، جس میں ویسٹ انڈیز نے کامیابی حاصل کی۔ اس فتح کے بعد ہونے والا جشن دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔وہ لکھتے ہیں کہ ڈیوک آف ایڈنبرا نے جب ورلڈ کپ ٹرافی پیش کی تو وہ بھی اس جشن میں شریک ہو گئے۔ اس موقع پر ڈیوک آف ایڈنبرا کا تعارف لٹل ماسٹر حنیف محمد سے کروایا جانا تھا، قمر احمد، حنیف محمد کے ساتھ کھڑے تھے اور اِن کے ہاتھ میں ایک کرکٹ بیٹ تھا جس پر کئی نامور کھلاڑیوں کے آٹو گراف موجود تھے۔ دراصل یہ بیٹ بی بی سی ریڈیو کے کسی سامع کو بطور انعام دیا جانا تھا۔جب ڈیوک آف ایڈنبرا کی نظر اس بیٹ پر پڑی تو وہ بطور خاص اس بیٹ کی طرف متوجہ ہوئے، اس موقعے پر قمر احمد نے ڈیوک آف ایڈنبرا سے درخواست کی کہ اگر وہ بھی اس بیٹ پر اپنے دستخط کر دیں تو یہ ایک یادگار اضافہ ہوگا۔ مگر ڈیوک نے مسکرا کر جواب دیا کہ انہیں آٹوگراف دینے کی اجازت نہیں ہے۔
قمر احمد صاحب کی تحریروں میں بعض اوقات تاریخ کے بڑے واقعات بھی شامل ہو جاتے تھے۔ وہ ایسے صحافی تھے جنہیں کھیل کے ساتھ ساتھ اس کے وسیع تر پس منظر کو دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ جنوبی افریقہ کی عالمی کرکٹ میں واپسی اسی نوعیت کا ایک تاریخی مرحلہ تھا۔
وہ لکھتے ہیں کہ ۱۹۹۱ء میں نیلسن منڈیلا کی رہائی، نسل پرستی کے نظام’اپارتھائیڈ‘کے خاتمے کے بعد جنوبی افریقہ دوبارہ عالمی کرکٹ میں شامل ہوا۔ اس موقع پر ملک میں موجود مختلف کرکٹ بورڈز کو یکجا کر کےایک متحدہ بورڈ قائم کیا گیا۔
اس موقع پر ایک تقریب میں سر گیری سوبرز، سنیل گواسکر، رچی بینو اور معروف مصنف ای۔ ڈبلیو۔ سوانٹن جیسی شخصیات کو مدعو کیا گیا، قمر احمدکہتے ہیں کہ مَیں بھی مدعو مہمانوں میں شامل تھا۔
اس دورے کے دوران انہیں نیلسن منڈیلاسےملاقات کا موقع بھی ملا۔ قمر احمد لکھتے ہیں کہ نیلسن منڈیلا کے گھر پرہونے والی اس ملاقات میں منڈیلا نے سنیل گواسکر کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور کہا کہ ’’آپ ایک عظیم انسان ہیں، مجھے خود آپ سے ملنے حاضر ہونا چاہیے تھا۔‘‘
اس پر سنیل گواسکر نے انکسار سے جواب دیا کہ وہ تو محض کرکٹ کے ایک کھلاڑی ہیں۔ مگر نیلسن منڈیلا نے کہا کہ نہیں! مَیں جانتا ہوں کہ آپ ایک عظیم انسان ہیں۔
اس موقع پر قمر احمد نے نیلسن منڈیلا سے پوچھا کہ کیا انہوں نے بھی کبھی ٹیسٹ کرکٹ دیکھی ہے اور کیا انہیں اس کھیل میں دلچسپی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’’ہاں! بالکل۔ ڈربن میں آسٹریلیا کے خلاف ایک میچ میں ہم مہمان ٹیم کی حمایت کر رہے تھے۔ ہم سیاہ فام لوگوں کو تماشائیوں کے لیے بنے اسٹینڈز میں بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ ہمیں تاروں کے ایک حصار کے اندر کھڑا کر کے میچ دیکھنے پر مجبور کیا گیاتھا۔
نیلسن منڈیلا نے کہا کہ ہم افسردہ تھے کہ جنوبی افریقہ جیت رہاتھا،اور ہم دعا کر رہے تھے کہ وہ ہار جائے۔ ہماری دعا قبول ہوئی اور نیل ہاروی نے سنچری بنا کر آسٹریلیا کو کامیابی دلا دی۔ ہم اس خوشی میں ناچتے ہوئےگھروں کو واپس گئے۔‘‘
آخر میں ۱۹۹۲ء ورلڈ کپ کے متعلق قمر احمد صاحب کی یادوں سے کچھ باتیں پیش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس موقع پر مَیں ٹی وی نیوزی لینڈ کی کمنٹری ٹیم کا حصہ تھا، جہاں میرے ساتھ سنیل گواسکر، جیف بائیکاٹ اور گلین ٹرنر جیسے بڑے نام موجود تھے۔ پاکستان کی کامیابی اپنی جگہ، لیکن مجھے یہ منظر بھی یاد ہے کہ نیوزی لینڈ کے سابق کپتان والٹر ہیڈلی، جو رچرڈ ہیڈلی کے والد تھے، ٹی وی نیوزی لینڈ کے کمنٹری باکس کے سامنے آ کر بیٹھ گئے۔ جب مائیکروفون پر میرا بیس منٹ کمنٹری کا دورانیہ مکمل ہوا تو مَیں نے سوچا کہ ان سے ملاقات کرلوں۔ انہوں نے بہت خوش دلی سے میرا استقبال کیا اور بیٹھنے سے پہلے میرے ساتھ موجود شخص کا تعارف نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کے طور پر کروایا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ بغیر کسی سیکیورٹی یا محافظ کے وہاں موجود تھے۔
سیمی فائنل اور فائنل کو یاد کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ آکلینڈ کا سیمی فائنل بھی ایک یادگار لمحہ تھا۔ نیوزی لینڈ نے مارٹن کرو کی شاندار ۹۱ رنز کی اننگز اور کین ردرفورڈ کی نصف سنچری کی بدولت ۲۶۲ رنز بنائے۔ عمران خان اور جاوید میانداد کی عمدہ بیٹنگ نے پاکستان کے لیے بنیاد فراہم کی، جبکہ پوری طرح فٹ نہ ہونے کے باوجود نوجوان انضمام الحق میدان میں آئے اور ۳۷ گیندوں پر ۶۰ رنز بنا کر پاکستان کے لیے جیت کی راہ ہموار کی ۔ جبکہ آخر میں معین خان نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے چھکا لگا کر پاکستان کی فتح کو یقینی بنا دیا۔
مَیں نے اس سے پہلے کبھی پوری ٹیم کو اس طرح روتے نہیں دیکھا تھا جس طرح نیوزی لینڈ کی ٹیم اس غیر متوقع شکست کے بعد افسردہ تھی۔
فائنل کی کہانی تاریخ کا حصہ ہے۔ جب پاکستان کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوا۔ پاکستان نے ابتدا میں مشکلات کا سامنا کیا اور صرف ۲۴ رنز پر اپنے دونوں اوپنرز کھو دیے، لیکن عمران خان اور جاوید میانداد نے ۱۳۹ رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالادیا۔ آخری پانچ اوورز میں انضمام الحق اور وسیم اکرم نے ۵۱ رنز کا اضافہ کیا اور پاکستان کا سکور ۲۴۹ رنز تک پہنچا۔
دوسری اننگز کی خاص بات وسیم اکرم کی شاندار باؤلنگ تھی۔ انہوں نے ایان بوتھم کو آؤٹ کیا، پھر ایلک اسٹیورٹ کے بعد ایلن لیمب اور کرس لیوس کو دو مسلسل گیندوں پر بولڈ کرکے میچ کا رخ بدل دیا۔ انگلینڈکی پوری ٹیم ۲۲۷ رنز پر آؤٹ ہوگئی اور پاکستان ۲۲ رنز سے ورلڈ کپ جیت گیا۔
جب ایم سی جی میں جشن منایا جا رہا تھا، آتش بازی ہو رہی تھی اور تماشائی کھڑے ہو کر پاکستان کی کامیابی کو سراہ رہے تھے، تو یہ ایسا لمحہ تھا جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
قارئین! پندرہ برس بعد جب یہ اخبارات اچانک دوبارہ میرے سامنے آئے تو یہ محض چند پرانے صفحات کی بازیافت نہیں تھی بلکہ یادوں کے ایک پورے عہد کا دوبارہ سامنے آ جانا تھا۔ بظاہر پندرہ سال کوئی ایسا طویل عرصہ نہیں کہ جسے انسانی زندگی میں بہت دُور کا فاصلہ کہا جاسکے، لیکن اس عرصے میں دنیا جس رفتار سے بدلی ہے، اس نے ان دنوں کی بہت سی سرگرمیوں کو ایک گزرے ہوئے زمانے کی علامت بنا دیا ہے۔
۲۰۱۱ء میں ہاسٹل کی زندگی میں اخبار کے رنگین صفحات کا انتظار، انہیں سنبھال کر رکھنا، تصویروں اور تحریروں سے لطف اندوز ہونا اور دوستوں کے ساتھ ان پر گفتگو کرنا ایک معمول کی بات تھی۔ آج جب معلومات اور تصاویر لمحوں میں سکرین پر منتقل ہوجاتی ہیں تو وہ پرانی عادتیں ایک الگ دَور کی یاد محسوس ہوتی ہیں۔
میرے لیے ان اخباری صفحات کا دوبارہ مل جانا اس لیے بھی ایک خوش گوار حیرت کا باعث تھا کہ ان پندرہ برسوں میں زندگی کے سفر نے کئی منزلیں بدلیں۔ مَیں تین مختلف شہروں میں سات مختلف مقامات پر منتقل ہوا، مگر نہ جانے کیسے یہ صفحات وقت کی گردش میں محفوظ رہے۔اب جب یہ صفحات دوبارہ میرے سامنے آئے تو یوں محسوس ہوا جیسے کاغذ کے یہ چندا وراق اپنے اندر صرف خبریں نہیں بلکہ ایک زمانے کی خوشبو، چند دوپہروں کی یادیں اور کچھ بھولی بسری آوازیں بھی سنبھالے ہوئے تھے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: یہود کو دوبارہ فلسطین میں آباد کرنے کا نظریہ پہلے کس نے پیش کیا تھا؟




