پیورے : چلّی کا ’’بدصورت مگر کھانے کے قابل سمندری جاندار‘‘
قارئین الفضل کو معلومات عامہ کے اس حصہ میں اس سے قبل دو پھلوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی تھیں جنہیں بظاہر بُرے نام سے پکار اجاتا ہے۔ ایک The Ugli Fruit(الفضل انٹرنیشنل ۲؍جنوری ۲۰۲۵ء)اور دوسرا ’’ڈورین (Durian): پھلوں کا غیرجمہوری بادشاہ‘‘(الفضل انٹرنیشنل ۹؍جنوری ۲۰۲۵ء)

آج کے اس مضمون میں ایک اَور ایسی چیز کے بارے میں بتائیں گے جس کے بارے میں پڑھ کر آپ کو تعجب ضرور ہوگا۔
چلّی کا ’’بدصورت مگر کھانے کے قابل سمندری جاندار‘‘ دراصل ایک خاص قسم کا سی اسکوئرٹ(sea-squirt) ہے جسے سائنسی طور پر Pyura chilensis کہا جاتا ہے۔ مقامی طور پر اسے ’’پیورے‘‘ (Piure) کہا جاتا ہے، اور یہ چلّی کے ساحلی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ پہلی نظر میں یہ جاندار ایک سخت، کھردرے اور پتھریلے ڈھیر کی طرح دکھائی دیتا ہے، اسی لیے اسے اکثر “بدصورت” کہا جاتا ہے، لیکن اس کے اندر ایک نرم، سرخ رنگ کا حصہ ہوتا ہے جو کھانے کے قابل ہوتا ہے۔
یہ جاندار دراصل ایک سمندری مخلوق ہے جو چٹانوں کے ساتھ چمٹ کر رہتی ہے۔ یہ پانی کو اپنے جسم کے اندر کھینچ کر اس میں موجود غذائی ذرات کو فلٹر کرتا ہے، اسی لیے اسے فلٹر فیڈر بھی کہا جاتا ہے۔ Sea squirt کی اس قسم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بظاہر سادہ نظر آتی ہے لیکن اس کا حیاتیاتی نظام کافی دلچسپ ہوتا ہے۔
چلّی میں Pyura chilensis کو ایک روایتی خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر کچا، ہلکا سا پکا کر یا سلاد میں شامل کر کے کھایا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ کافی منفرد ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اسے نمکین، دھاتی اور سمندر جیسا ذائقہ قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ہر کسی کو پسند نہیں آتا، لیکن مقامی لوگوں کے لیے یہ ایک خاص لذت رکھتا ہے۔
اس جاندار کی ایک اور دلچسپ بات اس کا رنگ ہے۔ باہر سے یہ بھورا یا سیاہی مائل ہوتا ہے، لیکن جب اسے کاٹا جاتا ہے تو اندر سے گہرا سرخ یا نارنجی رنگ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ رنگ اس میں موجود خاص کیمیائی مرکبات کی وجہ سے ہوتا ہے، جن میں وینیڈیم (Vanadium) نامی دھات بھی شامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اس کے ذائقے کو تھوڑا ’’لوہے‘‘ یا ’’خون‘‘ جیسا بھی محسوس کرتے ہیں۔
Pyura chilensis نہ صرف خوراک کے طور پر اہم ہے بلکہ ماحولیاتی نظام میں بھی اس کا کردار ہے۔ یہ پانی کو صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ یہ مسلسل پانی کو فلٹر کرتا رہتا ہے۔ اس طرح یہ سمندری ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
چلّی کے ساحلی علاقوں، خاص طور پر Pacific Ocean کے کناروں پر، یہ جاندار بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ مقامی ماہی گیر اسے چٹانوں سے نکال کر بازاروں میں فروخت کرتے ہیں۔ اس طرح یہ ایک اہم معاشی ذریعہ بھی بن جاتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں سمندری خوراک کا کاروبار عام ہے۔
اس کے باوجود، اس جاندار کے بارے میں کچھ خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ فلٹر فیڈر ہے، اس لیے اگر پانی آلودہ ہو تو یہ نقصان دہ مادے بھی اپنے اندر جمع کر سکتا ہے۔ اسی لیے اسے کھانے سے پہلے اس کے محفوظ ہونے کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ جدید دور میں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے سمندری جانداروں کو صاف اور محفوظ ماحول سے حاصل کیا جائے۔
ثقافتی لحاظ سے، Pyura chilensis چلّی کی خوراکی روایت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ نہ صرف ایک خوراک ہے بلکہ ایک علامت بھی ہے کہ کس طرح مختلف معاشرے اپنے ماحول سے جڑی چیزوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کرتے ہیں۔ جہاں کچھ لوگ اسے دیکھ کر حیران یا ناگواری محسوس کرتے ہیں، وہیں چلّی کے لوگ اسے فخر کے ساتھ اپنی پلیٹ میں شامل کرتے ہیں۔
اگرچہ Pyura chilensis کو ’’بدصورت‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خوبصورتی اور قدر کا انحصار صرف ظاہری شکل پر نہیں ہوتا۔ قدرت میں بہت سی ایسی چیزیں موجود ہیں جو بظاہر عجیب یا غیر دلکش لگتی ہیں، مگر ان کے اندر غذائیت، ثقافت اور سائنسی اہمیت چھپی ہوتی ہے۔ یوں، چلّی کا یہ منفرد سمندری جاندار نہ صرف ایک دلچسپ خوراک ہے بلکہ ایک مثال بھی ہے کہ انسان اور قدرت کے درمیان تعلق کس قدر گہرا اور متنوع ہو سکتا ہے۔ (ابو الفارس محمود)
مزید پڑھیں: تنزانیہ کے تین دلچسپ واقعات




