حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

جلسہ سالانہ کے حوالے سے چند اہم نصائح

(انتخاب از خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۳۰؍جولائی۲۰۰۴ء)

اب بعض متفرق باتیں جو جلسہ کے تعلق میں ہیں میں کہنا چاہتا ہوں جو مہمانوں، میزبانوں، ڈیوٹی والوں ہر ایک کے لئے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مسجد میں اور مسجد کے ماحول میں اس کے آداب اور تقدس کا خیال رکھیں۔ مسجد فضل میں جب یہاں سے جائیں گے وہاں بھی کافی رش ہوتا ہے۔

جلسہ کے دنوں میں یہ مارکی بھی مسجد کا ہی متبادل ہے بلکہ یہ پورا علاقہ یعنی جلسہ گاہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق وہی نظارے نظر آنے چاہئیں جو ایک ایسے پاکیزہ مقدس ماحول میں ہونے چاہئیں۔ جہاں صرف اللہ اور اس کے رسول کی باتیں ہو رہی ہوں، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی باتیں ہو رہی ہوں۔

جلسہ کے ایام ذکر الٰہی اور درود شریف پڑھتے ہوئے گزاریں اور التزام کے ساتھ بڑی باقاعدگی کے ساتھ توجہ کے ساتھ نماز باجماعت کی پابندی کریں۔

نمازوں اور جلسے کی کارروائی کے دوران بچوں کی خاموشی کا بھی انتظام ہونا چاہئے۔ ڈیوٹی والے بھی اس چیز کا خاص خیال رکھیں اور مائیں اور باپ بھی اس کا بہت خاص خیال رکھیں اور ڈیوٹی والوں سے اس سلسلے میں تعاون کریں۔ جو جگہیں بچوں کے لئے بنائی گئی ہیں وہاں جا کے چھوٹے بچوں کو بٹھائیں تاکہ باقی جلسہ سننے والے ڈسٹرب نہ ہوں۔

جلسہ کے دوران اگر کسی غیر از جماعت مہمان کی تقریر آپ سنیں، اس میں سے آپ کو کوئی بات پسند آئے اور اس کو خراج تحسین دینا چاہتے ہوں تو اس کے لئے تالیاں بجانے کی بجائے جو ہماری روایات ہیں اللہ اکبر کا نعرہ لگانا۔ ماشاء اللہ وغیرہ کہنا ایسے کلمات ہی کہنے چاہئیں کیونکہ تالیاں بجانا ہمارا شعار نہیں ہے۔ ہماری اپنی بھی کچھ روایات ہیں اور ان کا خیال رکھنا چاہئے۔ یہاں پر بھی اور دنیا میں جہاں جہاں جلسے ہوتے ہیں انہیں روایات کا خیال رکھنا چاہئے۔

نعروں کے ضمن میں یاد رکھیں کہ ہر کوئی اپنی مرضی سے نعرے نہ لگائے بلکہ انتظامیہ نے اس کے لئے پروگرام بنایا ہوا ہے، نعرے لگانا کچھ لوگوں کے سپرد کیا ہوا ہے۔ وہی جب نعرے لگانے کی ضرورت محسوس کریں گے تو نعرے لگا دیں گے۔ لیکن بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو اگر نعرے نہ لگ رہے ہوں تو تقریر کے دوران نیند آ جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے پھر نعروں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بے وجہ نعرے لگاتے جائیں تو نظم یا تقریر جو ہو رہی ہوتی ہے بعض دفعہ اس کا مزا نہیں رہتا۔ ایسے لوگ جن کو نیند آ رہی ہو خاموشی سے ساتھ والا ان کو ٹھوکا مار کر جگا دیا کرے۔

انگلستان کے احمدیوں کو، بہت سارے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں شامل ہو چکے ہیں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی خواہش تو تھی کہ ہر کوئی شامل ہو، تو خاص طور پر ذوق شوق سے جلسے میں شامل ہونا چاہئے۔ جو ابھی تک نہیں آئے وہ بھی کوشش کریں کہ کم از کم کل صبح جلسے کا سیشن شروع ہونے سے پہلے پہلے آ جائیں کیونکہ بغیر کسی جائز عذر کے جلسے سے غیر حاضر نہیں رہنا چاہئے۔ بعض دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ صرف دو دن یا آخری دن ہی آ جاتے ہیں۔ ان کو کوئی مجبوری نہیں ہوتی کیونکہ ہفتہ اتوار تقریباً ہر ایک کافارغ ہوتا ہے۔ اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ جائیں گے آخری دن کچھ ملاقاتیں ہو جائیں گی کچھ لوگوں سے مل لیں گے۔ ٹھیک ہے آپ نے ایک مقصد تو پورا کر لیا لیکن صرف یہی مقصد ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی محبت پیدا کرنا سب سے بڑا مقصد ہے۔

یہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ تقاریر کو باقاعدہ سنا کریں جس حد تک ممکن ہو سننا چاہئے اور اس میں ڈیوٹی والے کارکنان بھی، اگر ان کی اس وقت ڈیوٹی نہیں ہے ان کو تقاریر سننے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔

ان ایام میں پورے التزام سے نمازوں کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دیں۔ لنگر خانے یا جہاں جہاں بھی ڈیوٹیاں ہیں وہاں بھی کارکنان کی باقاعدہ نمازوں کی ادائیگی کا انتظام ہونا چاہئے۔ اور ان کے افسران کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کا خیال رکھیں۔ نمازوں کے دوران جو آپ مارکی کے اندر نمازیں پڑھنے کے لئے آتے ہیں تو نماز شروع ہونے سے پہلے ہی آ کے بیٹھ جایا کریں۔ کیونکہ یہاں لکڑی کے فرش ہیں گو اس کے اوپر پتلا سا قالین تو بچھا ہواہے لیکن چلنے سے اس قدر آواز اور شور آتا ہے کہ جب نماز شروع ہو جائے تو پھر نماز خراب ہو رہی ہوتی ہے۔ دوسروں تک جو نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں آواز ہی نہیں پہنچتی۔ کل بھی مغرب کی نماز کے وقت شور کا تسلسل تھا جو دوسری رکعت تک رہا۔ اس لئے نماز میں پہلے آ کر بیٹھا کریں۔

بعض لوگوں کو موبائل فون بڑے اہم ہوتے ہیں (اس وقت بھی شاید کسی کا فون بج رہا ہے) اگر اتنے اہم فون آنے کا خیال ہو تو پھر وہ فون رکھیں جو اچھی قسم ہیں جن کی آواز کم کی جاسکتی ہے۔ جیب میں رکھیں اس کی وائبریشن(Vibration)سے آپ کو احساس ہو جائے کہ فون آیا ہے اور باہر جا کر سن لیں۔ کم از کم لوگوں کو نمازوں کے دوران جلسوں کے دوران اور تقریروں کے دوران ڈسٹرب نہ کیا کریں۔

جلسے کے دوران بازار بند رہنے چاہئیں اور آنے والے مہمان بھی سن لیں اور یہاں رہنے والے بھی سن لیں، ڈیوٹیاں دینے والے بھی سن لیں۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ اگر مجبوری ہو تو چند ضرورت کی چیزیں مہیا ہو سکتی ہیں وہ دکانیں کھلی رہیں گی اور انتظامیہ جائزہ لیتی تھی کہ کون کون سی دکانیں کھلی رہیں یا نہ کھلی رہیں۔ لیکن کل بازار کا خود میں نے جو جائزہ لیا ہے اس کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کوئی دکان کھولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جلسے کے دوران تمام دکانیں بند رہیں گی اور دکاندار جنہوں نے سٹال لگائے ہوئے ہیں وہ سب جلسہ کی کارروائی سنیں اور کوئی گاہک بھی ادھر نہیں جائے گا کسی قسم کی خرید و فروخت نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ اگر ایمرجینسی میں کسی چیز کی ضرورت ہو توجو نظام ہے جلسہ سالانہ کا اس کے تحت وہ چیزیں مہیا ہو جاتی ہیں۔ اس لئے کسی قسم کی دکانیں کھولنے کی ضرورت نہیں۔

مزید پڑھیں: جلسہ سالانہ کی اہمیت اور اس میں شمولیت کی برکات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button