جماعت احمدیہ كینیا كی چھیالیسویں مجلس شوریٰ كا بابركت انعقاد
اللہ تعالیٰ كے فضل و كرم سے جماعت احمدیہ كینیا كو مورخہ ۹و۱۰؍مئی ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ و اتوار اپنی چھیالیسویں مجلس شوریٰ نیروبی ہیڈ کوارٹرز میں منعقد کرنے کی توفیق ملی جس میں ملک بھر کی جماعتوں سے منتخب نمائندگان، سنٹرل مشنریز اور ذیلی تنظیموں کے نمائندگان شامل ہوئے۔ الحمدللہ علیٰ ذالک
مجلس شوریٰ کا افتتاحی اجلاس ۹؍مئی بروز ہفتہ تین بجے سہ پہر مکرم ناصر محمود طاہر صاحب امیر و مبلغ انچارج کینیا کی زیر صدارت مشن ہاؤس کے ناصر ہال میں منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم و ترجمہ کے بعد مکرم امیر صاحب نے نمائندگان شوریٰ کو خوش آمدید کہا نیز شوریٰ اور اس کی اہمیت و آداب سے متعلق مختصر تقریر کے بعد دعا کروائی۔ بعدازاں سیکرٹر ی شوریٰ مکرم سید نعیم احمد شاہ صاحب نے ایجنڈا میں شامل تجاویز پڑھ کر سنائیں جن کی منظوری از راہ شفقت حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عطا فرمائی تھی۔ امسال تربیت، تبلیغ اور مال سے متعلق کل تین تجاویز ایجنڈا میں شامل تھیں۔ ایجنڈا میں شامل تجاویز پر غور کے لیے سب کمیٹیاں تشکیل دینے کے بعد افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا جس کے بعد ان سب کمیٹیوں کے اجلاسات منعقد ہو ئے۔ نماز مغرب و عشاء کے بعد ممبران شوریٰ کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔
۱۰؍مئی بروز اتوار صبح نو بجے شوریٰ کا دوسرا اجلاس مکرم امیر صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی اور مکرم سیکرٹری شوریٰ صاحب نے جماعتوں کی طرف سے موصول ہونے والی وہ تجاویز پڑھ کر سنائیں جو بوجوہ ایجنڈا میں شامل نہ کی جاسکیں۔ اس کے بعد گذشتہ سال شوریٰ میں پاس ہونے والی تجاویز پر عمل درآمد کی تفصیلی رپورٹس متعلقہ سیکرٹریان نے پیش کیں۔
ایک مختصر وقفہ کے بعد دوبارہ کارروائی کا آغاز ہوا اور امسال ایجنڈا میں شامل تجاویز سے متعلق سب کمیٹیوں کی سفارشات پر مبنی رپورٹس پیش کی گئیں۔ ہر سب کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اراکین شوریٰ کو ان پر بحث کرنے اور ان سے متعلق اپنی آراء پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس طرح باری باری تینوں تجاویز پر بحث کے بعد انہیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں برائے منظوری پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ پھر نئے مالی سال ۲۰۲۶ء- ۲۰۲۷ء کا آمد و خرچ کا بجٹ بھی پیش کیا گیا۔ آخر میں مکرم امیر صاحب نے تمام اراکین شوریٰ کو یہ یاد دہانی کروائی کہ وہ اپنی جماعت کی طرف سے بطور ممبر مجلس شوریٰ صرف اس اجلاس کے لیے ہی منتخب نہیں کیے گئے بلکہ وہ اگلی شوریٰ تک اپنی اپنی جماعت کی طرف سے شوریٰ کے نمائندہ ہیں اور شوریٰ میں پاس کی جانے والی تمام تجاویز پر عمل درآمد کے سلسلہ میں اپنی ہر ممکن جدوجہد جاری رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے بعد آپ نے گذشتہ جولائی سے لے کر امسال ماہ اپریل تک سابقہ شوریٰ کی تجاویز پر ملک بھر میں گذشتہ شوریٰ کی تجاویز پر عمل درآمد اور دیگر متفرق جماعتی امور و ترقیات کا تحدیث نعمت کے طور پر ذکر کیا اور احباب جماعت کو دعاؤں اور کوشش کے ساتھ امسال شوریٰ میں پاس کی جانے والی تجاویز پر عمل درآمد کرنے اور جماعتی ترقی و استحکام میں بھر پور حصہ لینے کی تلقین کی اور دعا کروائی جس کے ساتھ یہ اجلاس مختتم ہوا۔امسال مجلس شوریٰ کی حاضری ۱۴۱؍تھی۔
اللہ تعالیٰ اس شوریٰ کی کارروائی میں غیر معمولی برکت عطا فرمائے اور خلا فت احمدیہ کے سایہ عاطفت میں جماعت احمدیہ کینیا کو عظیم الشان ترقیات عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
(رپورٹ:محمد افضل ظفر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مجلس انصار اللہ ددگو، برکینافاسو کا ریجنل اجتماع ۲۰۲۶ء




