عقل مندی و حاضر دماغی
(م۔ الف۔ شہزاد)
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی بیان فرمودہ حکایات
دُنیا میں عقلمند سے عقلمند انسان دوسرے سے سبق حاصل کر سکتا ہے اور کسی کی بات ردّ کرنے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اُس کی بے وقوفی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ بسا اوقات ایسا شخص ۹۹ دفعہ اچھی بات سوچ لیتا ہے لیکن سَو ویں دفعہ اُسے دوسرے سے سبق مل جاتا ہے(حضرت مصلح موعودؓ)
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنی تحریرات وفرمودات میں متنوّع موضوعات پر نصیحت آموز دلچسپ ومفید واقعات وحکایا ت بیان فرمائی ہیں۔ قارئین الفضل کے لیے ’’ عقل مندی و حاضر دماغی ‘‘ کے موضوع پر حضرت سلطان البیانؓ کےرشحات پیش خدمت ہیں۔
عقل خدا کی دین ہے
دُنیا میں عقلمند سے عقلمند انسان دوسرے سے سبق حاصل کر سکتا ہے اور کسی کی بات ردّ کرنے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اُس کی بے وقوفی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ بسا اوقات ایسا شخص ۹۹ دفعہ اچھی بات سوچ لیتا ہے لیکن سَو ویں دفعہ اُسے دوسرے سے سبق مل جاتا ہے۔(خطابات شوریٰ جلد ۱ صفحہ۵۷۶)
امام ابو حنیفہؒ نے کیا ہی عمدہ بات فرمائی ہے۔ کسی نے اُن سے کہا کیا کسی نے آپ کو بھی کبھی ایسی نصیحت کی جس کا آپ کے دِل پر گہرا نقش ہوا؟ اُنہوں نے کہا کبھی کسی بڑی عمر کے انسان نے کوئی بات ایسی مجھے نہیں بتائی جو غیر معمولی طور پر یاد رکھنے کے قابل ہو، ہاں ایک بچہ نے مجھے ایسی بات کہی تھی۔ اُس نے پوچھا وہ کیا؟ فرمایا وہ یہ ہے کہ ایک دفعہ بارش ہو رہی تھی، چھوٹی عمر کا ایک بچہ تھا جو اِدھر اُدھر دَوڑ رہا تھا مَیں نے خیال کیا کیچڑ میں وہ گر پڑے گا اِس وجہ سے میں نے اُسے کہا میاں بچے! سنبھل کر چلو ایسا نہ ہو کہ پاؤں پھسل جائے اور گر پڑو۔ یہ سُن کر اُس نے میری طرف مُڑ کر دیکھا اور کہا امام صاحب! آپ اپنی فکر کریں۔ مَیں پِھسلا تو میری اپنی ہی ہڈی پسلی ٹوٹے گی لیکن اگر آپ پھسلے تو اور بھی بہت سے لوگ تباہ ہو جائیں گے۔(خطابات شوریٰ جلد ۱ صفحہ۴۸۰)
امام ابو حنیفہؒ کہتے ہیں کہ یہ ایسا قیمتی سبق تھا کہ اِس پایہ کا اور کوئی سبق مجھے نہیں ملا۔ اصل بات یہ ہے کہ عقل خداتعالیٰ کی دین ہے۔ اُس نے عقل تقسیم کرتے وقت ساری کی ساری کسی ایک کو نہیں دے دی بلکہ سب میں بانٹ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدصُورت سے بد صُورت چیز کے بھی بعض حصے خوبصورت ہوں گے۔ اسی طرح بےوقوف سے بیوقوف کی بات کا بھی کوئی نہ کوئی حصہ اچھا ہو گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا ایک خادم پیرا نام تھا۔ وہ اتنا کم فہم تھا کہ حضرت خلیفہ اوّل ؓفرماتے تھے کہ ہفتوں بڑی کوشش سے اُسے کلمہ یاد کرایا۔ ایک دفعہ اُس سے کسی نے پوچھا تمہارا مذہب کیا ہے؟ کہنے لگا ہمارے گاؤں کے پنچ کو معلوم ہے اُس سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ مگر باوجود ایسی عقل و سمجھ رکھنے کے وہ بھی بعض اوقات عقل کی بات کر جاتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے تار دینے کے لئے اُسے بٹالہ بھیجا۔ وہاں سے آکر اُس نے بتایا کہ مجھے مولوی محمد حسین بٹالوی ملا تھا۔ کہنے لگا وہاں کیوں رہتے ہو؟ وہاں سے چلے جاؤاور بھی بہت باتیں کرتا رہا۔ میں نے اُسے کہا میں کچھ پڑھا لکھا تو ہوں نہیں مگر اتنا جانتا ہوں کہ مرزا صاحب وہاں اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اور لوگ دُور دُور سے ان کے پاس آتے ہیں۔ تم لوگوں کو ان کے پاس جانے سے روکتے رہتے ہو مگر کوئی تمہاری بات نہیں سنتا اور تم اِدھر اُدھر مارے مارے پھرتے ہو۔ یہ اُس کے منہ سے بھی ایسی بات نکل گئی جو بالکل سچی اور پکی تھی اور جس کا مولوی محمد حسین صاحب جیسے عالم کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔پس اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ اس کے سِوا کوئی اور عقل کی بات نہیں کر سکتا تو یہ غلط خیال ہے اور اِس وجہ سے اپنی بات کی پچ اور ضِدّ پیدا ہو جاتی ہے۔(خطابات شوریٰ جلد ۱ صفحہ۵۷۶۔۵۷۷)
موقع شناس
ملکہ سبا جو ایک عورت تھی، میں اُس کی عقل کو جب دیکھتا ہوں اور اُس کے مقابلہ میں آپ لوگوں میں سے بعض کی عقل کو دیکھتا ہوں تو حیرت آجاتی ہے کہ کیونکر اس عورت کی عقل وہاں تک پہنچ گئی تھی جہاں آپ لوگوں میں سے بعض کی عقل ابھی تک نہیں پہنچی۔ جب حضرت سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کا خط اُسے ملا تو اُس نے اپنی سلطنت کے اکابر سے مشورہ لیا۔ اُن سب نے کہا کہ ہم ملک کی خدمت کے لئے تیار اور لڑنے مرنے پر آمادہ ہیں، آپ جو حکم دینا چاہتی ہیں دیں۔ تو اُس نے جواب دیا کہ ہماری موت سے ملک کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ دیکھنا صرف یہ نہیں کہ لوگ جنگ کے لئے آمادہ ہیں یا نہیں، بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ ہماری موت ہمیں کوئی نفع پہنچائے گی یا نہیں؟ اگر ہم زندہ رہیں اور سلیمان کی بادشاہت قبول کرلیں تو یہ زیادہ مفید ہو گا یا یہ زیادہ مفید ہو گا کہ ہم لڑیں اور مر جائیں اور سلیمان ہمارے ملک پر قابض ہو جائے؟ غرض حکومت کا کُلّی تغیّرہم پر زیادہ اثر اندازہو سکتا ہے یا اُس کا جُزوی تغیّر؟ ایک تغیّر تو یہ ہے کہ سلیمان کو اس ملک کی عظمت اور بڑائی حاصل ہوجائے، بادشاہت ہمارے پاس ہی رہے ہم صرف اس کے باجگذار ہو جائیں اور ایک تغیر یہ ہے کہ ہم مارے جائیں اور ملک بھی سلیمان کے قبضہ میں چلا جائے۔ اِن تمام امور پر غور کرکے وہ جو کچھ کہتی ہے وہ یہ ہے کہ اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً کہ جب کسی ملک میں کوئی نئی بادشاہت آیا کرتی ہے تو جَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً وہ اس ملک کے معززین کو ذلیل کر دیا کرتی ہے۔ (خطابات شوریٰ جلد ۲ صفحہ۱۳۲۔۱۳۳)
ایک لاکھ نہیں دو لاکھ روپیہ لیا ہے
حضرت عمرؓ کے زمانہ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ حضرت مغیرہ یمن کے گورنر مقرر ہوئے۔ اُس علاقہ کے لوگوں نے کہا کہ یہ شخص چونکہ ٹیکس سختی سے وصول کرتا ہے اِس لئے کوشش کرو کہ یہاں آئے ہی نہیں۔ ان میں سے ایک شخص بہت ہوشیار تھا۔ اُس نے کہا کہ مجھے ایک لاکھ درہم جمع کر دو تو میں جا کر شکایت کرتا ہوں کہ یہ روپیہ مغیرہ نے رشوت لی ہے۔ وہ شخص حدیثُ العہد تھا اور جھوٹ کی قباحت کو پوری طرح نہیں سمجھا تھا۔ چنانچہ اس نے وہ روپیہ حضرت عمرؓ کو پیش کیاکہ یہ مغیرہ نے رشوت لی ہے۔ حضرت مغیرہؓ نہایت سمجھدار اور عقلمند تھے اور صحابہ میں بہت نیک سمجھے جاتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اُن کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تم نے یہ روپیہ رشوت لیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں لیا ہے مگر ایک لاکھ نہیں دو لاکھ اور وہ میں نے اِسی کے پاس جمع کردیا تھا۔ اِس پر وہ شخص گھبرا گیا اور کہا کہ یہ بات بالکل غلط ہے اور اُنہوں نے کوئی رقم دراصل وصول کی ہی نہیں۔ یہ محض ان کی سختی کی وجہ سے ہم نے سازش کی تھی تا آپ ان کی جگہ دوسرے والی کو بھجوا دیں۔(خطابات شوریٰ جلد ۲ صفحہ۲۸۱)
ذہین مہاراجہ
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کے دربار میں دہلی کا ایک طبیب آیا اور ان کے وزیر فقیر عزیزالدین سے مل کر اصرار کیا کہ مجھے مہاراجہ کے پیش کردیا جائے۔ وہ شریف آدمی تھے اِس لئے انکار بھی نہ کرسکتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کی وزارت طب ہی کی وجہ سے ہے۔ اُنہوں نے اسے مہاراجہ کے پیش تو کر دیا مگر ساتھ کہا کہ مہاراج! یہ دہلی سے آئے ہیں، طب خوب پڑھ چکے ہیں اور حضور کے طفیل اب اِن کو تجربہ بھی ہو جائے گا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ تھے تو اَن پڑھ مگر ذہین بہت تھے فوراً سمجھ گئے اور کہا کہ تجربہ کے لئے غریب رنجیت سنگھ کی جان ہی نظر آتی ہے؟ اسے کچھ انعام دیا اور رخصت کردیا۔(خطابات شوریٰ جلد ۲ صفحہ ۴۴۱)
مومن کی عقل و فہم کا امتحان
اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کسی امر کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کے معنی بھی یہ ہوتے ہیں کہ انسان اپنے حالات کے لحاظ سے یہ دیکھ لے کہ ایسا کرنا اس کے لئے مفید ہے یامضراور کس وقت اللہ تعالیٰ کا منشاءاس طرح پورا ہوتا ہے کہ اس اجازت سے فائدہ اٹھایا جائے اور کس وقت اس طرح کہ نہ اُٹھایا جائے، ہر حالت میں یہ دیکھنا چاہئے کہ دین کا فائدہ کس میں ہے۔ پس اجازت کے معنی ضروری طور پر یہ نہیں ہوتے کہ ان پر کسی قسم کی پابندی عائد کرنا جائز ہی نہیں۔ ہمارے اپنے خاندان میں میری بیویوں کے غیر احمدی رشتہ دار ہیں اور ان سے ظاہری تعلقات بڑے اچھے ہیں اور میں سمجھتا تھا کہ اگر ہم اُن کی لڑکیاں لے آئیں توبہت مفید ہوگا مگر جماعت میں جب میں نے اِس طرف میلان دیکھا کہ احمدی اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کی لڑکیاں لانے کی طرف مائل تھے تو میں نے یہ خیال ترک کر دیا کیونکہ میں نے سمجھا کہ اِس مثال کو سامنے رکھ کر لوگ عام طور پر ایسا کرنے لگیں گے اور ایک خاندان کے لحاظ سے تو گو یہ فعل احمدیت کے نقطۂ نگاہ سے مفید ثابت ہو مگر ہزار خاندانوں کو نقصان پہنچ جائے گا۔ پس مومن کو ہروقت یہ دیکھنا چاہئے کہ کس وقت خداتعالیٰ کا منشاءکیا ہے۔ ایسی اجازت دراصل مومن کی عقل و فہم کا امتحان ہوتی ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ نماز پڑھو تو یہ اخلاص کا امتحان ہوتا ہے کیونکہ نماز ہر حال میں فرض ہے لیکن جہاں اجازت ہو کہ آدمی چاہے تو کرے اور چاہے تو نہ کرے وہاں اُس کی عقل اور فہم کا امتحان ہوتا ہے۔ دینی امور میں تفقّہ بھی ضروری ہے۔ رسول کریمﷺایک مرتبہ کہیں باہر تشریف لے گئے نماز کا وقت ہوا تو حضرت عباس نے لوٹا لاکر آپ کو وضو کرایا۔ آپ نے دعا فرمائی کہ اَللّٰھُمَّ فَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ یعنی اے اللہ اس نے عقل سے کام لیا ہے اس کی عقل کو دینی امور میں تیز کر دے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کئی بار صرف یہ بتانے کے لئے کہ مومن ہونا ہی کافی نہیں بلکہ عقل بھی تیز ہونی چاہئے ایک مثال دیا کرتے تھے۔ فرماتے کسی انسان کا دوست ایک ریچھ تھا۔ اس شخص کی ماں بیمار تھی اور وہ اس کے پاس بیٹھا مکھیاں اُڑا رہا تھا کہ اسے تکلیف نہ ہو۔ کسی نے اسے باہر بلایا تو وہ اپنے جگہ پر مکھیاں اُڑانے کے لئے ریچھ کو بٹھا گیا۔ ریچھ نے مکھیاں اُڑانی شروع کیں تو ایک مکھی بار بار آکر وہیں بیٹھے وہ اسے اُڑائے مگر وہ پھر آکر بیٹھ جائے۔ اب اگر آدمی ہوتا تو سمجھتا کہ مکھی کا کام بیٹھنا ہے اور میراکام اسے ہٹانا مگر ریچھ میں عقل تو تھی نہیں اس نے سوچا کہ اسے ایسا ہٹانا چاہئے کہ پھر نہ آکر بیٹھ سکے۔ پس اس نے ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور جب مکھی آکر بیٹھی تو زور سے پتھر اس پر دے مارا۔ مکھی نے تو کیا مرنا تھا اس سے اس کے دوست کی ماں کی جان نکل گئی۔ تو خالی اخلاص ہر موقع پر کام نہیں آتا بلکہ عقل بھی ضروری ہے۔ پس جہاں تو خداتعالیٰ نے کسی کام کا حکم دیا ہے وہاں تو صرف اخلاص کا امتحان ہے۔ مگر جہاں اجازت دی ہے چاہو کرو چاہو نہ کرو وہاں عقل کا امتحان لیا ہے۔ وہاں یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا انسان اس اجازت سے موقع و محل کے لحاظ سے فائدہ اٹھاتا ہے یا بے موقع۔ آیا اندھا دھند فیصلہ کرتا ہے یا موازنہ کرکے دیکھتا ہے کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہ کرنا چاہئے۔ (خطابات شوریٰ جلد ۲ صفحہ۵۳۶۔۵۳۸)
منشاء رسالت پناہی ہے پر منشاء الٰہی نہیں
حضرت خلیفۃ المسیح فرمایا کرتے تھے کہ ایک شیعہ ہمارے استاد صاحب کے پاس آیا اور ایک حدیث کی کتاب کھول کر ان کے سامنے رکھ دی۔ آپ نے پڑھ کر پوچھا کیا ہے؟ شیعہ نے کہا کہ منشاء رسالت پناہی حضرت علیؓ کی خلافت کے متعلق معلوم ہوتا ہے۔ فرماتے تھے میرے اُستاد صاحب نے نہایت متانت سے جواب دیا ہاں منشاءرسالت پناہی تو تھا مگر منشاء الٰہی اس کے خلاف تھا اس لئے وہ منشاء پورا نہ ہوسکا۔ (انوارالعلوم جلد۲صفحہ۵۵)
عقل مندی اور ذہانت
یاد رکھنا چاہئے کہ نقل کرنا بھی خاص شان اور درجہ رکھتا ہے۔ ایک قصہ مشہور ہے کہ چین کے مصوّر مانی اور بہزاد کے لئے کسی نے انعام مقرر کیا تھا کہ جو تم میں سے اعلیٰ تصویر بنائے گا اسے دیا جائے گا۔اس کے لئے ایک دیوار بنا کر ایک طرف ایک کو اور دوسری طرف دوسرے کو بٹھا دیا گیا۔ ایک تو تصویر بنانے میں مشغول ہو گیا اور دوسرا یو نہی بیٹھا رہا۔ انعام مقرر کرنے والا شخص روز آکر دیکھتا اور اسے کہتا تم کب بناؤ گے دوسرا تو بنا رہا ہے۔ وہ کہہ دیتا کہ آپ وقت مقررہ پر تصویر دیکھ لینا، میں جب چاہوں گا بنا لوں گا۔وقت مقررہ پر جب دیکھا گیا تو جس طرح کی تصو یر ایک نے بنائی تھی ہو بہو اسی طرح کی دوسرے نے بھی بنا لی۔اور انعام دینے وا لے کے لئے مشکل پڑ گئی کہ کس کو انعام دے کیونکہ دونوں تصویریں ایک ہی طرح کی تھیں۔ اس کام نہ کرنے والے نے کس طرح ہوبہو اسی طرح کی تصویر بنالی۔ اس کے متعلق کہا جاتاہے کہ اس نے چھیلتے چھیلتے دیوار کو اس قدر پتلاکر لیا تھا کہ دوسرے کی تصویر کا عکس اس پر پڑنے لگا اور اس سے اس نے تصویر بنالی۔یہ ایک مثال ہے لیکن کیا اس سے عکس کو دیکھ کر تصویر بنانے والے کی قابلیت کا پتہ نہیں لگتا۔ (انوارالعلوم جلد ۳ صفحہ۴۱۷)
اَن پڑھ زمیندار کی دانائی
میں نے دیکھا ہے کہ بعض اَن پڑھ احمدی دین سے ایسی واقفیت پیدا کر لیتے ہیں کہ غیر احمدی پڑھے ہوئے ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ایک احمدی زمیندار جو بالکل اَن پڑھ ہے اور یوں بھی سیدھا سادہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے سنایا کہ میرے رشتہ دار مجھے ایک شیعہ مولوی کے پاس لے گئے کہ وہ مجھے سمجھائے۔اس نے مجھ سے پوچھا بتاؤ آنحضرتﷺ مسلمانوں کے کیا لگتے ہیں؟ مَیں نے کہا باپ۔پھر اس نے پوچھا آنحضرت ﷺ کی بیٹی مسلمانوں کی کیا لگتی ہے؟میں نے کہا بہن۔وہ کہنے گا اچھا مرزا صاحب نے جو سیدانی سے نکاح کیا ہے وہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا حضرت علیؓ نے تو رسول کریم ﷺ کی خاص بیٹی سے نکاح کیا تھا۔اسے آپ کیا سمجھتے ہیں؟حضرت مرزا صاحب نے تو نہ معلوم کتنی پشتوں کے بعد جا کر نکاح کیاہے۔مولوی نے کہا حضرت علیؓ تو ایک بزرگ انسان اور خدا کے پیارے تھے۔میں نے کہا حضرت مرزا صاحب کو ہم ان سے بھی بڑھ کر مانتے ہیں۔اس پر وہ لاجواب ہو گیا اور کہنے لگا جا تیری عقل ماری گئی ہے۔اسی قسم کی اَور کئی ایک مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان سچائی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑلے تو پھر کوئی اس کامقابلہ نہیں کر سکتا۔ سچائی ایک تلوار ہے جس کے ہاتھ میں ہوگی وہ د شمن کا سراڑا دے گا۔اور اگر بچہ بھی مارے گا تو زخمی ضرور کر دے گا۔ اسی طرح گو پڑھا ہؤا انسان دشمن کے مقابلہ میں بڑا کام کرسکتا ہے۔مگر اَن پڑھ بھی اگر دین سے واقفیت حاصل کرلے تو غالب ہی رہے گا۔ (انوارالعلوم جلد۴صفحہ۴۶۔۴۷)
دانا بادشاہ
کے نیوٹ ایک انگریز بادشاہ تھا۔اس کو خدا تعالیٰ نے بہت اقبال دیا تھا۔ ایک دن سمندر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اس کے درباریوں نے خوشامد کے طور پر کہنا شروع کیا کہ تمہاری حکومت تو زمین اور سمندر بھی مانتے ہیں۔وہ دانا بادشاہ تھا اس نے اپنی کُرسی سمندر کے کنارے پر بچھائی اور وہاں بیٹھ گیا۔وہ وقت مَد کا تھا جس وقت سمندر جوش میں آتا ہے اور وہ میل میل خشکی پر چڑھ جاتا ہے۔لہریں اٹھنے لگیں اور پانی کُرسی کے گرد اونچا ہونے لگا۔کے نیوٹ ظاہر میں غصہ کی شکل بنا کر لہروں کو حکم دیتا کہ پیچھے ہٹ جاؤ مگر پانی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ بادشاہ کے ساتھیوں کو جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس وقت بادشاہ اٹھ کر خشکی کی طرف آیا اور درباریوں سے کہا کہ دیکھا تم کس قدر جھوٹ کہتے تھے۔( انوارالعلوم جلد ۸صفحہ ۴۲۹۔۴۳۰)
احمدیوں کو خدا تعالیٰ ہر قسم کے اعتراضات کے جواب آپ سمجھا دیتا ہے
انبیاء پر ایمان لانے والے خواہ مروّجہ علوم سے ناواقف ہوں دین کی باتیں بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں آسمانی علوم ملا کرتے ہی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میں اسلام کے تازہ معجزات لایا ہوں اور اپنا مشاہدہ پیش کرتا ہوں مگر دوسرے لوگ قصے کہانیاں پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ کی جماعت کو روحانی علوم کے متعلق مشاہدہ حاصل ہے اور آپ پر ایمان لانے کے دن ہی ہراحمدی کو نیا علم حاصل ہو جاتا ہے اور احمدیوں کو خدا تعالیٰ ہر قسم کے اعتراضات کے جواب آپ سمجھا دیتا ہے۔ اگر کوئی تمسخر کرتا ہے تو اسے بھی جواب مل جاتا ہے۔ مولوی غلام رسول صاحب راجیکی نے سنایا کہ وہ ایک جگہ مباحثہ کے لئے گئے۔ مباحثہ کے متعلق مخالف مولوی سے گفتگو ہو رہی تھی کہ ایک احمدی کو رقعہ دے کر ان مولوی صاحب کے پاس بھیجا گیا۔ مولوی صاحب نے انہیں بے علم سمجھ کر چاہا کہ اسے قابو میں لے آئیں۔ اس خیال سے اس احمدی کو کہا۔ دیکھو قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق رَافِعُکَ اِلَیَّ لکھا ہے یعنی اوپر اٹھانا۔ اس لئے وہ فوت ہو ہی نہیں سکتے۔ اس احمدی نے کہا۔ رَافِعُکَ کی ف کے نیچے کیا ہے۔ مولوی صاحب نے کہا: زیر۔ احمدی نے کہا رَافِعُکَ اوپر تو لے جاتا ہے مگر یہ زیر اوپر نہیں جانے دیتی۔ اس پر مولوی صاحب بالکل خاموش ہوگئے۔ غرض جس رنگ میں دشمن چلتا ہے۔ اسی رنگ میں ناکام کرنے کیلئے خدا تعالیٰ احمدیوں کو سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ ظاہری علوم سے بالکل ناواقف احمدی ایسے ایسے لطیف جواب دیتے ہیں کہ مخالف کے لئے خاموش ہوئے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ (انوارالعلوم جلد ۱۳صفحہ۷)
نور الٰہی عطا ہونے پر عقل تیز ہو جاتی ہے
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی ہمیشہ بٹالہ کے ریلوے سٹیشن پر آ کر لوگوں کو ورغلاتے رہتے تھے کہ قادیان نہ جاؤ۔ اُس زمانہ میں پیراں دتّا نامی ایک پہاڑی آدمی یہاں رہتا تھا۔ جس کے دماغ میں اختلال تھا۔ اسے پہلے گینٹھیا کی بیماری تھی۔ کسی نے اسے خبر دی کہ قادیان میں مرزا صاحب بہت محبت سے علاج کرتے ہیں اور سب خرچ بھی خود اُٹھاتے ہیں اس پروہ یہاں آیا اور اچھا ہو گیا۔ بعد میں اس کے رشتہ دار وغیرہ اُسے لینے آئے تو اس نے جواب دیا کہ میں تو اب انہی کے دروازے پر رہوں گا۔ وہ اس قدر سادہ طبع تھا کہ حضرت خلیفہ اوّل نے اسے کہا۔ پیراں دتّے! اگر تم پانچوں نمازیں پڑھو تو دو روپے ملیں گے۔ پہلی نماز اس نے عشاء کی پڑھی، اس لئے آخری نماز مغرب کی تھی۔ جب وہ مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا تو اندر سے کسی خادمہ نے آواز دی پیریا! کھانا لے جا۔ اُن دنوں مہمان تھوڑے ہوتے تھے اور سب کے لئے کھانا گھر میں ہی پکا کرتا تھا۔ پیرے نے کوئی جواب نہ دیا۔ عورت جاہل تھی اور جیسا کہ عورتوں کی عادت ہوتی ہے اُسے سخت سُست کہنے لگی۔ اس پر پیرے نے چِلّا کر کہا ٹھہر جا دو رکعت رہتی ہیں، ابھی پڑھ کر آتا ہوں۔ وہ ایسا آدمی تھا کہ کہا کرتا تھا لوگ مٹی کا تیل کیوں نہیں پی سکتے اور خود اگر کوئی اُسے آٹھ آنے دے دے تو دال کے پیالہ میں آدھی بوتل تیل ڈال کر کھا جاتا تھا۔ غرضیکہ وہ بالکل موٹی سمجھ کا آدمی تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی تار وغیرہ دینے کے لئے یا کوئی بِلٹی ریلوے سٹیشن سے لینے کے لئے کبھی اسے بٹالہ بھی بھیج دیتے تھے۔ ایک دفعہ مولوی محمدحسین صاحب اسے ملے اور کہا پیرے تو کیوں قادیان میں پڑا ہوا ہے؟ مگر اس عقل کے آدمی نے انہیں کہا: مولوی صاحب! میں پڑھا ہوا تو ہوں نہیں کہ کوئی اَور جواب آپ کو دے سکوں۔ مگر یہ ضرور ہے کہ آپ کی جوتی بھی گھس گئی ہے لوگوں کے پیچھے پھرتے پھرتے، مگر پھر بھی لوگ قادیان چلے ہی جاتے ہیں اور مرزاصاحب اپنے گھر میں بیٹھے ہیں لوگ خود بخود ان کے پاس پہنچتے ہیں۔ مولوی صاحب یہ جواب سن کر کِھسیانے ہو کر بُرا بھلا کہتے ہوئے چلے گئے۔ اسی طرح ہمارے ایک رشتہ دار تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چِڑانے کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو چوہڑوں کا پیر بنا لیا۔ اُس زمانہ میں کچھ چوہڑے بھی احمدی ہوئے جو یہاں آئے۔ ان کو جب معلوم ہوا تو ان سے کہا کہ تمہارا پِیر تو میں ہوں مرزا صاحب نہیں ان میں تم نے کیا خوبی دیکھی ہے کہ ان کے پَیرو ہو گئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم چوہڑے تھے۔ مرزا صاحب کی پیروی سے لوگ اب ہمیں بھی مرزائی کہنے لگ گئے ہیں اور آپ مرزا تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ ماننے کی وجہ سے چوہڑے بن گئے ہیں۔ بس آپ میں اور مرزا صاحب میں فرق اتنا ہی ہے۔ (انوارالعلوم جلد ۱۴صفحہ ۱۱تا۱۳)
عقل مند بیوی
کہتے ہیں کہ کوئی بوڑھا شخص تھا جس کی یہ عادت تھی کہ وہ شادیاں کرتا اور پھر معمولی سی بات پر عورت کو طلاق دے کر الگ کر دیتا اور اس کا جو کچھ مال ہوتا وہ اپنے قبضہ میں کرلیتا۔ وہ پہلے ہی مالدار تھا مگر اس طریق سے اس کے پاس اَور بھی زیادہ مال جمع ہو گیااور لوگ بھی اس لالچ میں کہ اگر کَل یہ بُڈھا مر گیا تو مال ہمیں مل جائے گا اس سے اپنی لڑکیاں بیاہ دیتے مگر وہ تھوڑے ہی دنوں میں طلاق دے دیتا۔ آخر ایک عورت نے جو بڑی چالاک تھی اس سے شادی کی چند دن تو گزرے مگر آخر اس نے چاہا کہ اسے بھی طلاق دے دے لیکن اسے کوئی نقص معلوم نہ ہؤا اور عورت نے ایسی عمدگی سے گھر کا کام چلایا کہ وہ کوئی نقص معلوم نہ کر سکا۔ ایک دن وہ سخت تنگ آگیا اور کہنے لگا یہ مرتی بھی نہیں اور اس کے کام میں کوئی نقص بھی نہیں ہوتا کہ اسے طلاق دوں، کیا کروں۔ مگر پھر تھوڑی دیر کچھ سوچ کر باورچی خانہ میں چلا گیا اور اپنی عورت سے کہنے لگا آج میں یہیں کھانا کھاؤں گا۔ اس نے کہا شوق سے بیٹھئے اور کھانا کھائیے۔ وہ وہیں بیٹھ گیا اور عورت نے پُھلکے پکانے شروع کر دیئے۔ یہ دیکھ کر وہ بُڈھا کھڑا ہو گیا اور اس نے جوتا ہاتھ میں لے کر اس کے سَر پر مارنا شروع کر دیا اور کہا یہ خباثت، روٹیاں تو تُو ہاتھ سے پکاتی ہے کُہنیاں کیوں ہلتی ہیں؟ وہ عورت تھی بڑی ہوشیارکہنے لگی صاحب! آپ خاوند اور مَیں بیوی۔ جوتی جس وقت چاہیں مار لیں مگر دیکھیں غصہ سے معدہ خراب ہوتا ہے اور آپ کی عمر ایسی نہیں کہ معدہ کی کوئی تکلیف آپ برداشت کر سکیں۔ آپ کھانا کھا لیجئے۔ کھانا کھانے کے بعد جتنا چاہیں مجھے مار لیں۔ خیر یہ بات اُس کی سمجھ میں بھی آ گئی اور اس نے دل میں یہ خیال کر لیا کہ چلو ایک حق تو قائم ہو ہی گیا ہے بعد میں اسے مار لیں گے۔چنانچہ اُس نے روٹی کھانا شروع کر دی مگر ابھی اُس نے چند لُقمے ہی کھائے تھے کہ عورت نے اُچک کر جوتا اُٹھایا اور تڑاق سے اس کے سر پر مارنا شروع کردیا اور کہا کمبخت! روٹی تو تُو منہ سے کھاتا ہے تیری داڑھی کیوں ہلتی ہے؟ (انوارالعلوم جلد ۱۴ صفحہ ۵۲۔۵۳)
ایک ڈاکٹر اور اناڑی طبیب
کہتے ہیں کسی مجلس میں ایک ڈاکٹر اور ایک اناڑی طبیب دونوں بیٹھے تھے کہ طب کا ذکر شروع ہو گیا۔ اناڑی طبیب کے متعلق ڈاکٹر نے کہا کہ اِسے طب نہیں آتی یونہی اِس نے علاج کرنا شروع کیا ہوا ہے۔ اِس پر اناڑی طبیب نے کہا جناب! یہ باتیں تو ہوتی رہتی ہیں آپ کا علم بھی ہم نے دیکھ لیا کہ وہ کتنا وسیع ہے۔ میرے بھی کئی مریض بچتے ہیں آپ کے بھی کئی مریض بچتے ہیں۔ میرے بھی کئی مریض مرتے ہیں اور آپ کے بھی کئی مریض مرتے ہیں یا تو کہیں کہ آپ کا مریض مرتا ہی نہیں۔ ڈاکٹر ہوشیار آدمی تھا اُس نے کہا میرے مریض بچتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں لیکن تمہارے مریض بچتے ہیں تو وہ اتفاقی طورپر بچ جاتے ہیں اور میرے مریض بچتے ہیں تو وہ میرے علم کے ماتحت بچتے ہیں۔ اور پھر میرے مریض مرتے ہیں تو قانونِ قدرت کے ماتحت مرتے ہیں لیکن تمہارے مریض جہالت کی وجہ سے مرتے ہیں ورنہ موت تو بدل نہیں سکتی۔ غرض مرنے کا بھی ایک فن ہوتا ہے اور مارنے کا بھی ایک فن ہوتا ہے۔ (انوارالعلوم جلد ۲۱صفحہ۱۸۳۔۱۸۴)
بچہ حقیقی ماں کو مل گیا
حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دفعہ دو عورتوں میں جھگڑا ہو گیا۔ اُن کا خاوند کہیں باہر گیا ہوا تھا کہ اس کے جانے کے تھوڑے دنوں کے بعد ہی دونوں کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا۔ اس نے دو سال کے بعد واپس آنا تھا یہ واضح بات ہے کہ واپسی پر وہ پہچان نہیں سکتا تھا کہ اِس کا بچہ کونسا ہے اور اُس کا بچہ کونسا ہے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ابھی وہ گھر پر نہیں پہنچا تھا کہ اِن دونوں عورتوں کو ایک شادی میں شریک ہونے کے لئے کہیں باہر جانا پڑا۔ راستہ میں جنگل آتا تھا وہ جا رہی تھیں کہ بھیڑیا آیا اور اُن میں سے ایک کا بچہ اُٹھا کر لے گیا۔ جس عورت کا بچہ بھیڑیا اُٹھا کر لے گیا اُس نے سمجھا کہ جب میرا خاوند گھر میں آیا اور اس نے دیکھا کہ دوسری عورت کا تو بچہ ہے اور میرا کوئی بچہ نہیں تو اُس کی محبت مجھ سے کم ہوجائے گی اور دوسری عورت سے زیادہ محبت کرنے لگ جائے گا۔ وہ چالاک عورت اِس خیال کے آتے ہی اس نے دوسری عورت کا بچہ اُٹھا لیا اور کہنے لگی یہ میرا بچہ ہے۔ بھیڑیا تیرا بچہ اُٹھا کر لے گیا ہے۔ اس پر ان دونوں کی آپس میں خوب لڑائی ہوئی۔ ایک کہتی کہ یہ میرا بچہ ہے اور دوسری کہتی کہ یہ میرا بچہ ہے۔ وہ اس جھگڑے کو کئی قاضیوں کے پاس لے کر گئیں مگر کوئی شخص یہ فیصلہ نہ کر سکا کہ بچے کی اصلی ماں کونسی ہے۔ آخر چلتے چلتے یہ مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی پتہ لگ گیا کہ اس اس طرح کا ایک مقدمہ عدالتوں میں چل رہا ہے مگر ابھی تک اس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ وہ نوجوان تھے اور نوجوانی میں جوش زیادہ ہوتا ہے۔ اُنہوں نے اپنے والد کو کہلا بھیجا کہ یہ مقدمہ میری عدالت میں بھجوا دیا جائے میں اس کا فیصلہ کر دوں گا۔ اُنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ان دونوں عورتوں کو بھجوا دیا۔ جب یہ ان کے پاس گئیں اور اپنے جھگڑے کی تفصیل بیان کی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:نہیں معلوم وہ کیسے قاضی تھے جن کے پاس یہ مقدمہ جاتا رہا اور وہ اِس کا فیصلہ نہیں کرسکے۔ یہ ایک سیدھی سادی بات ہے۔ جب ہمیں اِس بات کا پتہ نہیں لگ سکتا کہ یہ بچہ کس عورت کا ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اِس بچے کو دونوں میں آدھا آدھا بانٹ دیا جائے۔ چنانچہ اُنہوں نے حکم دیا کہ چھری لاؤ میں ابھی اِس بچہ کو کاٹ کر اِن میں آدھا آدھا تقسیم کر دیتا ہوں۔ جب اُنہوں نے کہا چھری لاؤ میں اس بچہ کو کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دوں تو جس کا بچہ بھیڑیا اُٹھا کر لے گیا تھا وہ کہنے لگی: خدا آپ کا بھلا کرے کیسے انصاف کی بات ہے جو آپ نے کہی۔ مگر جس کا بچہ تھا وہ کہنے لگی: حضور! میں نے جھوٹ بولا ہے۔ یہ بچہ میرا نہیں اسی کا ہے بے شک اِسی کو دے دیاجائے۔ آخر اُس کی مامتا تھی وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی تدبیر کو تو نہ سمجھی اُس نے خیال کیا کہ یہ سچ مچ اِس کے دو ٹکڑے کرنے والے ہیں اِس پر اُسے خیال آیا کہ بچہ خواہ مجھے نہ ملے یہ کم از کم جیتا تو رہے۔ چنانچہ اُس نے بڑی لجاجت سے کہا کہ حضور! بچہ اسے ہی دے دیں میں نے جھوٹ بولا تھا کہ یہ میرا بچہ ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام سمجھ گئے اور اُنہوں نے وہ بچہ اس کے سپرد کر دیا جو حقیقی ماں تھی اور دوسری عورت کو سزا دی۔ تو مائیں بعض دفعہ اپنا حق بھی قربان کر دیتی ہیں مگر یہ نہیں چاہتیں کہ ان کا بچہ ہلاک ہو۔ (انوارالعلوم جلد ۲۱صفحہ۲۸۴۔۲۸۵)
ہوشیار لونڈی
پُرانے زمانہ میں بھی جب ڈاکو حملہ کرنے والے ہوتے تھے تو جس مکان پر اُنہوں نے حملہ کرنا ہوتا تھا اُس پر پہلے نشان لگا دیتے تھے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ ایک گھر پر حملہ کرنے کے لئے دو ڈاکوؤں نے نشان لگایا۔ اُس گھر میں ایک ہوشیار لَونڈی تھی وہ باہر آئی اتفاقاً اُس کی نظر اُس نشان پر پڑ گئی۔ وہ گھبرا گئی لیکن کچھ دیر سوچنے کے بعد اُس نے اپنے مکان کے اِرد گرد کچھ اَور مکانوں پر بھی وہی نشان لگا دیا۔ ڈاکو آئے تواُنہیں اس مکان کا پتہ نہ لگ سکا۔ (انوارالعلوم جلد۲۲ صفحہ۱۶۵)
بادشاہ نے خود ایران کی زمین سپرد کر دی
حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسلامی لشکر ایران کے ساتھ ٹکر لے رہا تھا کہ بادشاہ کو خیال آیا کہ یہ عرب ایک غریب مُلک کے رہنے والے بھوکے ننگے لوگ ہیں اگر ان کو انعام کے طور پر کچھ روپیہ دے دیا جائے تو ممکن ہے کہ یہ لوگ واپس چلے جائیں اور لڑائی کا خیال ترک کر دیں چنانچہ اُس نے مسلمانوں کے کمانڈر انچیف کو کہلا بھیجا کہ اپنے چند آدمی میرے پاس بھجوا دیئے جائیں مَیں اُن سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ جب وہ ملنے کے لئے آئے تو اُس وقت بادشاہ بھی اپنے دار الخلافہ سے نکل کر کچھ دُور آگے آیا ہؤا تھا اور عیش اور تنعّم کا ہر قسم کا سامان اس کے ساتھ تھا، نہایت قیمتی قالین بچھے ہوئے تھے، نہایت اعلیٰ درجے کے کاؤچ اور کُرسیاں بچھی ہوئی تھیں اور بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا کہ مسلمان سپاہی آ پہنچے۔ سپاہیوں کے پاؤں میں آدھے چھلے ہوئے چمڑے کی جوتیاں تھیں جو مٹی سے اَٹی ہوئی تھیں اور ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے۔ جس وقت وہ دروازے پر پہنچے چوبدار نے آواز دی کہ بادشاہ سلامت کی حضوری میں تم حاضر ہوتے ہو اپنے آپ کو ٹھیک کرو۔ پھر اس نے مسلمان افسر سے کہا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس قسم کے قیمتی قالین بچھے ہوئے ہیں تم نے اپنے ہاتھوں میں نیزے اُٹھائے ہوئے ہیں اِن نیزوں سمیت قالینوں پر سے گزرو گے تو ان کو نقصان پہنچے گا۔ اُس مسلمان افسر نے کہا تمہارے بادشاہ نے ہم کو بُلایا ہے ہم اپنی مرضی سے اس سے ملنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ اگر ملنے کی احتیاج ہے تو اُس کو ہے ہمیں نہیں۔ اسے اگر اپنے قالینوں کا خیال ہے تو اسے کہہ دو کہ وہ اپنے قالین اُٹھا لے۔ ہم جُوتیاں اُتارنے یا نیزے اپنے ہاتھ سے رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اس نے بہتیرا پروٹسٹ کیا اور کہا کہ اندر نہایت قیمتی فرش ہے جُوتیاں اُتار دو اور نیزے رکھ دو مگر انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔ اس نے ہمیں بُلایا ہے ہم اپنی مرضی سے اس سے ملنے نہیں آئے۔ غرض اِسی حالت میں وہ اندر پہنچے۔ وہاں تو بڑے سے بڑا جرنیل اور وزیر بھی زمین بوس ہوتا اور بادشاہ کے سامنے سجدہ کرتا تھا مگر یہ تنی ہوئی چھاتیوں اور اُٹھی ہوئی گردنوں کے ساتھ وہاں پہنچے۔ بادشاہ کو سلام کیا اور پھر اُس سے پوچھا کہ بادشاہ تم نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟ بادشاہ نے کہا کہ تمہارا مُلک نہایت جاہل پَست، درماندہ اور مالی تنگی کا شکار ہے اور پھر عرب وہ قوم ہے کہ جو گوہ تک (ایک ادنیٰ جانور ہے) کھاتی ہے وہ عمدہ کھانوں سے نا آشنا ہے، عمدہ لباس سے ناآشنا ہے اور بھُوک اور افلاس نے اسے پریشان کر رکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے اس تنگی اور قحط کی وجہ سے تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہؤا ہے کہ ہم دوسرے مُلکوں میں جائیں اور ان کو لَوٹیں۔ مَیں تمہارے سامنے تمہاری اس تکلیف کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ تمہارا جتنا لشکر ہے اِس میں سے ہر سپاہی کو میں ایک ایک اشرفی اور ہر افسر کو دو دو اشرفیاں دے دوں گا۔ تم یہ روپیہ لو اور اپنے مُلک میں واپس چلے جاؤ۔ مسلمان کمانڈر نے کہا اے بادشاہ! یہ جو تم کہتے ہو کہ ہماری قوم گوہ تک کھانے والی تھی اور ہم غربت اور ناداری میں اپنے ایام بسر کر رہے تھے یہ بالکل درست ہے۔ ایسا ہی تھا مگر اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ خداتعالیٰ نے ہم میں اپنا ایک رسول بھیجا اور اُس نے ہم کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور ہم نے اُسے قبول کرلیا۔ تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم روپوؤں کے لئے نکلے ہیں؟ مگر ہم روپوؤں کے لئے نہیں نکلے تمہاری قوم نے ہم سے جنگ شروع کی ہے اور اب ہماری تلواریں تبھی نیام میں جائیں گی جب یا تو کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوجاؤ گے اوریا پھر مسلمانوں کے باجگزار ہو جاؤگے اور ہمیں جزیہ ادا کروگے۔ ایران کا بادشاہ جو اپنے آپ کو نصف دُنیا کا بادشاہ سمجھتا تھا وہ اس جواب کو برداشت نہ کر سکا اُسے غصہ آیا اُس نے چوبدار سے کہا جاؤ اور ایک بورے میں مٹی ڈال کر لے آؤ۔ وہ بوری میں مٹی ڈال کر لے آیا تواس نے کہا کہ یہ بوری اِس مسلمان سردار کے سر پر رکھ دو اور اسے کہہ دو کہ مَیں تمہارے سروں پر خاک ڈالتا ہوں اور سوائے اِس مٹی کے تمہیں کچھ اَور دینے کے لئے تیار نہیں۔ وہ مسلمان افسر جس کی گردن ایران کے بادشاہ کے سامنے نہیں جھکی تھی اِس موقع پر اُس نے فوراً اپنی گردن جُھکا دی، پیٹھ پر بوری رکھی اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آجاؤ۔ بادشاہ نے خود ایران کی زمین ہمارے سپرد کر دی ہے۔ مشرک تو وہمی ہوتا ہے بادشاہ نے یہ سُنا تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور اُس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان لوگوں کو جلدی پکڑو مگر وہ اُس وقت تک دُور نکل چکے تھے۔ اُنہوں نے کہا اب یہ پکڑی جانے والی مخلوق نہیں ہے۔ پھر وہی بادشاہ جس نے یہ کہا تھا کہ مَیں تمہارے سروں پر خاک ڈالتا ہوں وہ میدان چھوڑ کر بھاگا، پھر مُلک چھوڑ کر بھاگا اور شمالی پہاڑوں میں جا کر پناہ گزین ہو گیا اور اس کے قلعے اور محلات اور خزانے سارے کے سارے مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ (انوارالعلوم جلد ۲۲صفحہ۳۳۳تا۳۳۶)
ہوشیار پنجابی شاعر
کہتے ہیں کہ پنجابی شاعر پر کسی شخص نے جس کا نام محمد تھا،سخت ظلم کئے۔ وہ کہنے لگا بہت اچھا تم ظلم کر لو میں بھی شعر کہہ کر تمہاری خوب خبر لوں گا۔ اُس نے کہا تم نے شعر کہے تو میں تم پر کفر کا فتویٰ لگوادوں گاکیونکہ میرانام محمدہے۔ مگر وہ بھی ہوشیار تھااُس نے نظم کہی اور اس کی خوب خبر لی مگر دو چار شعروں کے بعد وہ یہ شعر ضرور لکھ دیتا ہے کہ جس دا اسیں کلمہ پڑھ دے اوہ محمد ہور ہے ایہہ محمد چور ہے۔( انوارالعلوم جلد۲۲ صفحہ۴۶۳)
وزیر کی ذہانت
ایک سپاہی آنکھ سے دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ یہ فاصلہ ایک فٹ کا ہے یا دو فٹ کا۔ پیمانے تو اب نکلے ہیں۔ پہلے افسروں کو فاصلہ جانچنے کی مشق کرائی جاتی تھی اور صرف آنکھ کے اندازے سے فوج کام کرتی تھی۔ افسر آنکھ سے اندازہ لگا کر بتا تا تھا کہ اب کتنے فاصلے پر گولہ پھینکنے کی ضرورت ہے اور توپیں کتنے فاصلے سے گولہ پھینکتی تھیں۔ پہلے زمانہ میں بڑی بڑی جنگیں محض آنکھ کے ذریعہ فاصلہ کا اندازہ لگا لینے کے تجربہ سے فتح ہوئی ہیں لیکن بعض لوگوں کو اس کا کچھ پتہ بھی نہیں ہوتا کہ آنکھ کے ذریعہ کس طرح اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یونہی اُوٹ پٹانگ بتا دیتے ہیں۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک راجہ سے کوئی گناہ ہو گیا۔ پنڈتوں نے کہا کہ یہ گناہ مٹ نہیں سکتا۔ ہاں فلاں قسم کے برہمن کو اتنا دان دیں تو اس کا اثر دور ہو سکتا ہے۔ راجہ بڑا پریشان تھا لیکن جس قسم کے برہمن کی تلاش تھی اس قسم کا برہمن اس علاقہ میں نہیں تھا۔ بادشاہ نے وزیروں کو حُکم دیا کہ وہ اس قسم کے برہمن کو تلاش کریں چنانچہ ایک وزیر نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں اس قسم کے برہمن کی تلاش کروں۔ بادشاہ نے اسے اجازت دے دی چنانچہ وہ سڑک پر کھڑا ہو گیا، تا آنے جانے والوں کو جانچ کر پتہ لگا سکے کہ ان میں سے کون برہمن ہے۔ جب رعایا کو پتہ لگا کہ راجہ کو ایک برہمن کی تلاش ہے لیکن وہ مل نہیں رہا تو اُنہوں نے جھوٹ بولنا شروع کر دیا اور اپنے آپ کو برہمن ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ کوئی شودر ہوتا لیکن وہ اپنے آپ کو برہمن ظاہر کرتا۔ کوئی کھتری ہوتا، ویش ہوتا یا کسی اور گوت کا ہوتا تو وہ بھی اپنے آپ کو برہمن ظاہر کرتا تاکہ کسی طرح اس کو دان مل سکے۔ وہ وزیر سڑک پر کھڑے ہو کر آنے جانے والوں کی جانچ کر رہا تھا کہ دو آدمی گزرے۔ اس نے خیال کیا کہ شاید ان میں سے ایک برہمن ہو۔ چنانچہ اس نے انہیں بُلا کر دریافت کیا کہ آیا ان میں سے کوئی برہمن ہے؟ ان میں سے ایک شخص جو بنیا تھا کہنے لگا کہ مَیں برہمن ہوں اور دوسرے شخص نے بھی جو درحقیقت برہمن تھا کہا مَیں برہمن ہوں۔ وزیر نے حُکم دیا کہ ان دونوں کو میرے پاس لایا جائے اور ان سے بیان لئے جائیں۔ اس نے بنیئے سے دریافت کیا کہ درخت کتنا اُونچا ہوتا ہے۔ اس نے کہا درخت۴۵،۴۴؍ فٹ اُونچا ہوتا ہے۔ پھر اس نے برہمن سے مخاطب ہو کر کہا تم بتاؤ درخت کتنا اُونچا ہوتا ہے۔ اس نے کہا درخت چار پانچ فٹ اُونچا ہوتا ہے۔ اس پر وزیر نے کہا یہی برہمن ہے۔ چونکہ یہ لوگ مفت خور ہوتے ہیں اور بے کار رہتے ہیں اس لئے یہ لوگ خود غور کرتے نہیں محض سُنی سُنائی بات پر یقین کر لیتے ہیں۔ بہرحال وزیر نے اس شخص کی بیوقوفی سے اسے پہچان لیا اور کہا یہی شخص برہمن ہے اسے دان دے دو۔(انوارالعلوم جلد ۲۲ صفحہ۶۳۶۔۶۳۷)
بڈھے احمدی کی عقل مندی
گوجرانوالہ میں تو ایک لطیفہ ہو گیا۔ ایک احمدی جو کمزور دل تھااُس پر مخالفین نے دباؤ ڈالا تو اُس نے کہہ دیا کہ میں مرزائیت سےتوبہ کرتا ہوں۔ وہ بڈھا آدمی تھا اُس نے سمجھا کہ دل میں تو مانتا ہی ہوں اگرمنہ سے میں نے کچھ کہہ دیا تو کیا ہؤا؟ بہرحال لوگ اس خوشی میں لَوٹ گئے اور انہوں نے نعرے مارنا شروع کر دیئےہم نے فلاں مرزائی سے توبہ کروا لی ہے۔ مسجد کے امام کو بھی اس کی خبر ہوئی وہ ہوشیار آدمی تھا اُس نے پوچھا تمہیں کس طرح پتہ لگا ہےکہ اُس نے مرزائیت سے توبہ کر لی ہے؟انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے اُس نے کہا ہے کہ میں مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں۔ وہ کہنے لگا اُس نے تمہیں دھوکا دیا ہے اب وہ گھر میں بیٹھا استغفار کر رہا ہو گا۔ تم پھر اُس کے پاس جاؤ اور اُس سے کہو ہم تمہاری توبہ ماننے کے لئے تیار نہیں جب تک تم یہاں آکر ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ چنانچہ پھر ہجوم اُس کے گھر پہنچا اور کہا ہم اس طرح تمہاری توبہ نہیں مانتے۔ تم چلو اور مسجد میں ہمارے ساتھ نماز پڑھو۔ وہ چونکہ دل میں ایمان رکھتا تھا اور صرف کمزوری کی وجہ سے اُس نے منہ سے توبہ کی تھی اس لئے جب دوبارہ ہجوم اُس کے پاس پہنچا تو خدا نے اُسے عقل دے دی اور وہ کہنے لگا دیکھو بھئی! جب میں مرزائی تھا تو نمازیں پڑھا کرتا تھا، شراب سے بچتا تھا، کنچنیوں کے ناچ گانے میں نہیں جایا کرتا تھا جب تم آئے اور تم نے کہا توبہ کرو تو میں بڑا خوش ہؤا کہ چلو اچھا ہؤا مجھے ان مصیبتوں سے نجات ملی۔ پس میں نے تو اس خیا ل سے توبہ کی تھی کہ مجھے اب نمازیں نہیں پڑھنی پڑیں گی، شراب پیئوں گا اور کنچنیوں کے ناچ گانے میں شامل ہؤا کروں گا کیونکہ یہ پابندیاں مجھ پر مرزائی ہونے کی حالت میں تھیں۔ مرزائیت سے توبہ کر کےیہ سب مصیبتیں جاتی رہیں مگر تم اِدھر مجھ سے توبہ کرواتے ہو اور اُدھر وہی کام کرواتے ہو جو مرزائی کیا کرتے ہیں پھر یہ توبہ کیسی ہوئی؟ اس پر وہ شرمندہ ہو کر چلے گئے اور اُنہوں نے سمجھ لیاکہ مولوی کی بات ٹھیک ہے اس نے دل سے توبہ نہیں کی۔(انوار العلوم جلد ۲۴ صفحہ ۴۵۴۔۴۵۵)
میرے مقابلہ میں کوئی شخص مونچھیں نہیں رکھ سکتا
کہتے ہیں کہ کوئی مغرور شخص تھا۔ اس کو یہ خیال ہو گیا کہ میں بڑا بہادر ہوں اور بہادری کی علامت اس نے یہ مقرر کی ہوئی تھی کہ وہ خوب چربی لگا لگا کے اپنی مونچھیں موٹی کرتا رہتا تھا چنانچہ اس نے خوب مونچھیں پال لیں۔ کوئی انچ بھر وہ موٹی ہوگئیں اور پھر اس نے ان کو مروڑ مروڑ کر آنکھوں تک پہنچا دیا۔ اور پھر اس نے یہ اصرار کرنا شروع کیا کہ چونکہ مونچھیں بہادری کی علامت ہیں اس لئے خبردار اِس علاقہ میں میرے سوا کوئی مونچھ نہ رکھے۔ لوگوں میں مونچھیں رکھنے کا عام رواج تھا کیونکہ اُس زمانہ میں جنگی کیریکٹر یہ سمجھا جاتا تھا کہ مونچھیں چڑھائی ہوئی ہوں مگر اُس نے جس کی مونچھ دیکھنی پکڑ لینی اور قینچی سے کاٹ ڈالنی اور کہنا خبردار آئندہ جو یہ حرکت کی۔ میرے مقابلہ میں کوئی شخص مونچھیں نہیں رکھ سکتا۔ سارے علاقہ میں شور پڑ گیا آخر لوگوں نے کہا ذلیل کیوں ہونا ہے مونچھیں کٹواڈالو ورنہ اس نے تو زبردستی کاٹ ڈالنی ہیں۔ کئی بیچاروں نے گاؤں چھوڑ کر بھاگ جانا اور کسی نے چپ کر کے نائی سے کٹوا دینی۔ نہیں کٹوانی تو اس نے جاتے ہی بازار میں مونچھ پکڑ لینی اور قینچی مارنی اور کاٹ ڈالنی۔ اِس سے لوگوں کی بڑی ذلتیں ہوئیں۔ آخر ایک شخص کوئی عقلمند تھا یوں تھا غریب سا اس نے جو دیکھا کہ روز روز یہ مذاق ہو رہا ہے اور اس طرح لوگوں کی ذلت ہوتی ہے تو اس نے کیا کیا کہ وہ بھی گھر میں بیٹھ گیا اور اس نے مونچھیں بڑھانی شروع کردیں۔ یہاں تک کہ اس نے اُس سے بھی زیادہ بڑی مونچھیں بنا لیں۔ جب مونچھیں خوب ہوگئیں تو آکر بازار میں ٹہلنے لگ گیا اور ایک تلوار لٹکا لی حالانکہ تلوار چلانی بیچارے کو آتی ہی نہیں تھی۔ اب اس پٹھان کو لوگوں نے اطلاع دی کہ خان صاحب! چلئے کوئی مونچھوں والا شخص آگیا ہے۔ کہنے لگا کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا فلاں بازار میں ہے۔ خیر دوڑے دوڑے وہاں آئے دیکھا تو بڑے جوش سے کہا تم کو پتہ نہیں مونچھیں رکھنا صرف بہادر کا کام ہے اور میرے مقابل میں کوئی مونچھیں نہیں رکھ سکتا۔ وہ کہنے لگا جاؤ جاؤ بہادر بنے پھرتے ہو تم سمجھتے ہو تم ہی بڑے بہادر ہو مَیں تم سے بھی زیادہ بہادر ہوں۔ اس نے کہا پھر یہ تو تلوار کے ساتھ فیصلہ ہوگا۔ وہ کہنے لگا اور کس کے ساتھ ہوگا بہادروں کا فیصلہ ہوتا ہی تلوار کے ساتھ ہے۔ اس نے کہاپھر نکالوتلوار۔ چنانچہ اس نے بھی تلوار نکال لی اور اس نے بھی تلوار نکال لی حالانکہ اس بے چارے کو تلوار چلانی ہی نہیں آتی تھی۔ جب وہ تلوار نکال کر کھڑا ہوگیا تو یہ کہنے لگا دیکھو بھئی خان صاحب! ایک بات ہے اور وہ یہ کہ میرا اور آپ کا فیصلہ ہونا ہے کہ ہم میں سے کون بہادر ہے لیکن ہمارے بیوی بچوں کا تو کوئی قصور نہیں۔ فرض کرو میں مارا جاؤں تو میری بیوی کا کیا قصور ہے کہ بیچاری بیوہ بنے اور میرے بچے یتیم بنیں اور تم مارے جاؤ تو تمہاری بیوی اور بچوں کا کیا قصور ہے خواہ مخواہ ظلم بن جاتا ہے۔ اس نے کہا پھر کیا علاج ہے؟ کہنے لگا علاج یہی ہے کہ میں جا کے اپنے بیوی بچوں کو مارآتا ہوں اور تم جا کے اپنے بیوی بچوں کو مار آؤ۔ پھر ہم آپس میں آکر لڑیں گے پھر تو ٹھیک ہوئی بات۔ اب خواہ مخواہ اپنی اس لڑائی کے ساتھ دوسروں کو کیوں تکلیف دینی ہے۔ یہ بات بیچارے خان صاحب کی سمجھ میں آگئی انہوں نے کہا ٹھیک ہے چنانچہ وہ گئے اور اپنے بیوی بچوں کو مار کر آگئے۔ اور یہ وہیں بیٹھا رہا جس وقت وہ واپس پہنچا کہنے لگا نکالو تلوار۔ اس نے کہا نہیں میری رائے بدل گئی ہے اور یہ کہہ کر اُس نے اپنی مونچھیں نیچی کر لیں۔ (انوار العلوم جلد ۲۴ صفحہ ۵۵۶۔۵۵۷)
کافر ہ کے منہ سے مومنانہ باتیں
رسول کریم ﷺ نے فرمایا کَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ ضَآلَّۃُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَھَا حَیْثُ وَجَدَھَا۔ بعض دفعہ غیر مومن کی زبان سے بھی حکمت کی بات نکل جاتی ہے لیکن مومن کو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ یہ حکمت کی بات مومن نے کہی ہےیا کافر نے اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر اچھی بات اس کی ملکیت ہے اور جب ہر اچھی بات اس کی ملکیت ہے تو وہ جہاں کہیں بھی اسے پائے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے۔یہ کہاں کی عقل ہے کہ حکمت کی بات الف نے کی لیکن ب کہتا ہے کہ میں یہ حکمت کی بات نہیں لیتا۔تمہاری بکری کوئی دوسرا چھین لیتا ہے تو وہ تم واپس لے لیتے ہو لیکن حکمت کا کلمہ جو اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے وہ نہیں لیتے۔ کَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ ضَآلَّۃُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَھَا حَیْثُ وَجَدَھَا فرمایا حکمت کی جو بات ہوتی ہے وہ مومن کی ملکیت ہے حکمت کی بات اگر اسے کسی کافر کے پاس سے بھی مل جائے تو وہ اسے چھوڑا نہیں کرتا گویا جہاں بھی اسے کوئی کلمہ حکمت ملتا ہے وہ لے لیتا ہے۔میں جب انگلینڈ گیا تو کسی انگریز نے مجھے ایک کتاب بطور تحفہ دی وہ کتاب کسی امریکن شاعرہ کی تھی ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ میری ایک بیوی بھی میرے پاس تھیں۔مجھے خیال آیا کہ کسی نے یہ کتاب مجھے بطور تحفہ دی ہے میں اسے پڑھ ہی لوں۔ چنانچہ میں نے وہ کتاب پڑھی۔اس کافر ہ کے منہ سے مومنانہ باتیں نکلی ہوئی تھیں۔ وہ شاعرہ نظم میں اگلے جہان کا نقشہ اس طرح پیش کرتی ہے کہ گویا قیامت کا دن آگیا ہے اور خدا تعالیٰ کے سامنے سوال وجواب ہو رہا ہے۔ کچھ لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے آئے اور انہوں نے موتیوں اور ہیروں اور اشرفیوں کے ڈھیراس کے قدموں میں ڈال دیئے۔اسی طرح وہ اور بھی کچھ مادی چیزیں بیان کرتی ہے اور کہتی ہے میں ایک گوشہ میں کھڑی حیران تھی کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں میری باری آئے گی تو میں خدا تعالیٰ کو کیا تحفہ دوں گی۔آخر یہ سارے کے سارے لوگ جب چلے گئے تو مجھے آواز آئی کہ آگے آؤ۔میں خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہوئی اور اس کے قدموں میں روتی ہوئی گر گئی۔ میں نے کہا اے اللہ ! میرے پاس سوائے ان چند آنسوؤں کے اور کچھ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اوپر اٹھا لیا اور کہا میرا سب سے قیمتی تحفہ آج کے یہ آنسو ہیں۔ یہ کلمہ حکمت تھا جو ایک عیسائی عورت کے منہ سے نکلا۔ ایک عیسائی کی فطرت بھی خدا تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہے اور کبھی کبھی وہ اپنے احساسات اور جذبات سے آزاد ہو کر فطرت کی طرف لوٹتا ہے اور جب وہ فطرت کی طرف جاتا ہے تو وہ ویسا ہی ہمارے قریب ہوتا ہے جیسے ایک مومن۔ اور فطرت کے نوروں کو پڑھتا ہے اور ان نوروں کو سامنے لا کر رکھ دیتا ہے۔ مجھے یہ واقعہ پڑھے ۲۶ سال کے قریب گزر گئے ہیں۔ مگر اب بھی اس بات کا مجھ پر گہرا اثر ہے کہ اس عورت نے کیسی لطیف بات کہی ہے۔ ( خطبات محمود جلد۱ صفحہ۴۴۳۔۴۴۴)
حضور گھوڑے کو اب بالکل آرام ہے
مشہور ہے کہ قیصر جرمنی کا ایک گھوڑا تھا جو اسے بہت پیارا تھا۔ ایک دن گھوڑا بیمار ہو گیا ڈاکٹر اس کا علاج کرتے رہے لیکن آرام نہ آیا۔ ایک عرصہ کے بعد قیصر نے ڈاکٹروں کے چہروں سے معلوم کیا کہ وہ گھوڑے کی صحت سے مایوس ہیں اس نے اپنے مصاحبوں سے کہا تم جتنا خرچ ہو سکتا ہے کرو لیکن گھوڑ ا اچھا ہو جائے اگر میرا گھوڑا مر گیا تو مجھے سب سے پہلے جو خبر دے گا میں اسے پھانسی دے دوں گا اور اگر کسی نے خبر نہ دی تو سب کو پھانسی دے دوں گا۔ ڈاکٹروں نے بہتیرا زور لگایا لیکن گھوڑا مر گیا۔ بادشاہ کا ایک چہیتا نوکر تھا مصاحبوں نے اس سے کہا کہ تم بادشاہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اس کا گھوڑا مر گیا ہے۔ اس نے کہا کیا میں نے مرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم میں سے کسی نے بادشاہ کو خبر نہ دی تو وہ سب کو پھانسی دے دے گا لیکن تم اس کے چہیتے نوکر ہو اگر تم جاؤ تو شاید اسے تم پر رحم آ جائے اور وہ یہ سزا معاف کر دے۔اس نے کہا اچھا میں جاتا ہوں۔چنانچہ وہ بادشاہ کے پاس گیا بادشاہ نے اس سے دریافت کیا کہ گھوڑے کا کیاحال ہے؟اس نے کہا حضور گھوڑے کو اب بالکل آرام ہے، وہ بالکل خاموش پڑا ہے، وہ اب کوئی حرکت نہیں کرتا،نہ کان ہلاتا ہے نہ دم ہلاتا ہے، نہ چیخیں مارتا ہے، نہ سانس لیتا ہے۔بادشاہ نے کہا اس کا تو یہ مطلب ہے کہ گھوڑا مر گیا ہے۔ اس نے کہا حضور میں نے نہیں کہا کہ گھوڑا مر گیا ہے آپ نے خود فرمایا ہے کہ گھوڑا مر گیا ہے۔ ( خطبات محمود جلد ۱ صفحہ۴۶۳۔۴۶۴)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے



