ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۳)(قسط ۱۴۸)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
جلسیمیم
Gelsemium
(زرد چنبیلی)
جلسییم زرد چنبیلی سے بنائی جاتی ہے۔ ہومیو پیتھی میں اس کا استعمال بہت کثرت سے ہوا ہے۔ یہ کسی حد تک ایکونائٹ اور بیلاڈونا سے مشابہ ہے لیکن ان کی نسبت اس میں بیماری بڑھنے کی رفتار قدرے کم ہوتی ہے۔سر کی طرف دوران خون اور درد، منہ کا خشک ہو جانا ایسی علامتیں ہیں جو ایکونائٹ، بیلاڈونا اور جلسیمیم میں مشترک ہیں لیکن ایکونائٹ میں تپش اور تمتماہت پائی جاتی ہے جبکہ جلسیمیم میں تپش نہیں ہوتی۔ یہ مزاج کے لحاظ سے ٹھنڈی دوا ہے۔ اس میں منہ کی خشکی کے باوجود پیاس نہیں ہوتی۔سردی لگتے ہی فوراً بیماری کے اثرات ظاہر نہیں ہوتےبلکہ دوتین دن کے بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں۔اگر بچے کو سردی لگنے سے کچھ رصہ بعد بخار ہوتو جلسیمیم دینی چاہئےلیکن اگر سردی لگتے ہی برا حال ہوجائے تو ایکونائٹ اور بیلا ڈونا ملا کر دینے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔(صفحہ۳۹۵)
ڈاکٹر کینٹ کے مطابق اس کے مریض کو سردی لگ جانے کے کئی دن بعد نزلہ ہو تا ہے۔ چونکہ جلسیمیم ٹھنڈے مزاج کی دوا ہے اس لئے یہ خیال آتا ہے کہ سردیوں کے موسم میں اس کا اثر نمایاں ہو گا۔ اسی طرح ایکونائٹ میں چونکہ جوش اور گرمی پائی جاتی ہے اس لئے اس کو گرمیوں میں کام آنا چاہئے لیکن حقیقت اس سے بالکل بر عکس ہے۔ ایکونائٹ سردی کے موسم کی دوا ہے اور جلسیمیم اکثر گرمیوں میں کام آتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں سردی لگ جائے تو اس میں جلسیمیم زیادہ مفید ہے لہٰذا یہ گرم اور خشک موسم کی دوا ہے۔ لیکن گرمیوں کے خشک موسم میں خونی پیچش ہو جائے تو ایکو ٹائٹ چوٹی کی دوا ہے جو خشک گرمی اور خشک سردی دونوں میں کام کرتی ہے۔(صفحہ۳۹۵۔۳۹۶)
جلسیمیم میں بیماری کا اثر آہستہ ہونے کے باوجود اسے مزمن بیماریوں میں شاذ کے طور پر ہی استعمال کیا جا تا ہے۔ نسبتاً درمیانی عرصہ پر محدود بیماریوں میں استعمال ہوتی ہے۔ جلسیمیم میں چہرے اور سر کی طرف خون کا دباؤ ہو تا ہے۔ چہرہ گرم اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں یہ علامت آرنیکا میں بھی پائی جاتی ہے۔ بعض دفعہ پنڈلیاں بھی ٹھنڈی اور یخ بستہ ہو جاتی ہیں۔ یہ علامتیں گلونائن سے بھی ملتی ہیں مگر جلسیمیم اور گلو نائن میں فرق یہ ہے کہ جلسیمیم میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں لیکن پسینہ بالکل نہیں آتا جبکہ گلونائن میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں اور پسینہ بھی آتا ہے۔ کمر کے عضلات میں کھچاؤ اور تناؤ کی وجہ سے کمر درد کندھوں تک پھیل جاتا ہے اور سر کے پیچھے تک بھی محسوس ہو تا ہے۔ گردن اکڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے گردن موڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سر درد عموماً ایک طرف نمایاں ہو تا ہے۔ سوتے ہوئے گردن میں بل پڑ جائے تو جلسیمیم کے ساتھ بیلا ڈونا ملا کر دینے سے فائدہ ہوتا ہے۔ اگر کمر کی تکلیف کے ساتھ گردن بھی متاثر ہو اور گردن توڑ بخار کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو اس صورت میں کمر ٹھنڈی نہیں ہوتی، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں، تشنج اور اکڑاؤ ہو تا ہے جس میں نیلاہٹ نہیں ہوتی۔ ان علامات میں جلسیمیم کو نہیں بھولنا چاہئے۔ (صفحہ۳۹۶)
جلسیمیم کی تکلیفیں شام کے وقت بڑھتی ہیں اور آرسینک کی تکلیفیں دن اور رات بارہ بجے کے بعد نمایاں طور پر بڑھتی ہیں۔تین بجے کے قریب کالی کارب کی تکلیفوں کا وقت شروع ہوتا ہے۔چار پانچ بجے سے چھ سات بجے تک جلسیمیم کی تکلیفوں میں شدت پیدا ہوتی ہے۔(صفحہ۳۹۷)
بعض دفعہ معدے کی خرابی کی وجہ سے مرگی کی طرح کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ معدے سے ایک شعلہ سا نکلتا ہے جو سر یا دل کی طرف جاتا ہوا محسوس ہو تا ہے۔ سر پر دباؤ کی وجہ سے مریض بعض دفعہ بے ہوش ہو جاتا ہے یا اسے چکر آتے ہیں اور جسم کا توازن برقرار نہیں رہتا۔ یہ علامت، جلسیمیم میں پائی جاتی ہے۔ یہ علامتیں معدے کی تیزابیت سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر کسی کھلاڑی کے معدے میں تیزابیت ہو تو اس میں ایسی علامتیں پیدا ہونا زیادہ قرین قیاس ہے، ایسی صورت میں جلسیمیم سے فائدہ ہو تا ہے۔ لیکن بیماری مرگی نہیں ہوتی۔(صفحہ۳۹۹۔۴۰۰)
جلسیمیم میں مرطوب موسم اور جذباتی ہیجان سے بیماریاں بڑھ جاتی ہیں۔کھل کر پیشاب آنے سے اور کھلی ہوا میں متواتر ہلکی حرکت سے آرام آتا ہے۔(صفحہ۴۰۰ )
گلونائن
Glonoine
(Nitro Glycerine)
جلسیمیم کی بھی کچھ علامات گلو نائن میں بھی پائی جاتی ہیں۔ جلسیمیم میں مریض سونے سے قبل ایک مبہم سی تکلیف محسوس کرتا ہے جس کا مرکز سر میں ہو تا ہے حالانکہ ابھی درد واضح نہیں ہوا ہوتا۔ سونے کے بعد درو نمایاں طور پر ابھر آتا ہے جو صبح تک بہت شدت اختیار کر جاتا ہے۔ گلوٹائن کی بھی یہی علامت ہے لیکن فرق یہ ہے کہ جلسیمیم کا درو محض سر تک محدود نہیں رہتا بلکہ کندھے کے پٹھوں اور نیچے کمر تک اتر جاتا ہے۔ عموماً بائیں طرف درد ہو تا ہے جبکہ گلوٹائن میں پورا سر متاثر ہو تا ہے اور یہ درد صرف سر اور آنکھوں تک ہی محدود رہتا ہے۔ اس درد کا دیگر اعصاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
گلونائن میں دھڑکن بہت نمایاں ہوتی ہے۔سارا جسم دھڑکنے لگتا ہے۔انگلیوں کے پوروں سے لے کر پاؤں کے پنچوں تک یہ دھڑکن محسوس ہوتی ہے۔جو سخت بے چین کرتی ہے۔ تکیہ پرسر رکھتے ہی دھڑکن محسوس ہوتی ہےجس کی وجہ سے نیند نہیں آتی اور یہ دھڑکن سارے جسم میں پھیل جاتی ہے۔گلونائن کی ایک ہی خوراک اس تکلیف کو ختم کرسکتی ہےاور مریض پرسکون نیند سو جاتا ہے۔(صفحہ۴۰۲ )
جلسیمیم سے گلو نائن کی ایک اور مشابہت یہ ہے کہ دونوں میں مریض کے ہاتھ پاؤں سخت ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ جلسیمیم میں بالکل پسینہ نہیں آتا جبکہ گلو نائن میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے کے باوجود پسینہ آتا ہے۔ گلوٹائن کے مریض کی زبان سرخی مائل ہوتی ہے اور منہ خشک لیکن پیاس زیادہ نہیں ہوتی۔ تیز بخار کے باوجود پیاس غائب ہو جاتی ہے۔ گرم موسم، دھوپ اور آگ کے سامنے تکلیفوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور دھوپ اور گرمی کا احساس صرف سر تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ سارا جسم متاثر ہوتا ہے۔ (صفحہ۴۰۳)
بسا اوقات راستہ چلتے ہوئے دوران خون سر کی طرف ہوجاتا ہے۔چہرہ تمتمانے لگتا ہے۔گلا گھٹنے کا احساس ہوتا ہےجیسے سارا خون منہ اور سر میں جمع ہوگیا ہو۔شدید کمزوری کے احساس کے ساتھ جسم ٹھنڈا اور پسینہ سے تربتر ہوجاتا ہےاور غشی طاری ہوجاتی ہےجسے انگریزی طبی اصطلاح میں Apoplexyکہا جاتا ہے۔اس قسم کی غشی کے دورے دماغ میں خون کا لوتھڑا جمنے کی وجہ سے بھی ہوسکتے ہیں لیکن گلونائن کے مریضوں میں تشنج کے نتیجہ میں بھی یہ علامات عارضی طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔اگر ایسے مریضوں کا گلونائن سے بروقت علاج نہ کیا جائے اور بار بار دورے پڑنے لگیں تو بسا اوقات مستقل نقصان پہنچنےکا احتمال ہوتا ہے۔(صفحہ۴۰۴)
صبح چھ بجے سے بارہ بجے تک تکلیفیں بڑھتی ہیں۔گرمیوں کے موسم میں سردرد سورج کے ساتھ ساتھ بڑھتا گھٹتا ہے۔ہلکے سے جھٹکے سے بھی درد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔(صفحہ۴۰۵)
گریفائٹس
Graphites (Black Lead)
گریفائٹس کے مریض میں اخراجات عموما ً چپکنے والے ہوتے ہیں۔اس کا ایگزیما بھی اسی علامت سے پہچانا جاتا ہے۔یہ ایگزیما عموماً کانوں کے پیچھے، سرکے بعض حصوں میں، کہنیوں اور ہاتھوں کے جوڑوں پر ظاہر ہوتا ہے اور اس سے چپکنے والا مادہ ضرور نکلتا ہےاور پھر سخت سا کھرنڈ بن جاتا ہے۔(صفحہ۴۰۷)
گریفائٹس کا مریض کھلی ہوا کو پسند نہیں کرتالیکن کھڑکیاں کھلی رکھنا چاہتا ہے۔جسم ٹھنڈاہونے کے باوجود چہرے پر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے برے محسوس نہیں ہوتےجبکہ اکثر بیماروں کے لئے ہوا کا جھونکا ناقابل برداشت ہوتا ہے۔گریفائٹس کا مریض ٹھنڈک کو پسند نہیں کرتا۔ اسے گرمی فائدہ پہنچاتی ہےلیکن جسم کی اندورنی گرمی جو ورزش کرنے یا دوڑنے اور چلنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہےاس کی تکلیف کو بڑھا دیتی ہے۔(صفحہ۴۱۱)
گریفائٹس چونکہ خالص کاربن ہے اس لئے کاربوویج سے بھی اس کی مماثلت ہے۔ہرکاربن میں تشنج کی علامت پائی جاتی ہے۔کاروبوویج پنڈلی کے نہایت تکلیف دہ تشنج کے لئے بہترین دوا ہے۔اگر یہ تشنج بڑھ کر مرگی کے دوروں میں تبدیل ہوجائیں تو گریفائٹس کام کرتی ہےلیکن اس کی دیگر مزاجی علامات کی موجودگی ضروری ہےکیونکہ مرگی میں دوا اس وقت کام کرتی ہےجب مریض کے مزاج سے مشابہ ہو۔ گریفائٹس میں یہ خوبی ہےکہ اگر یہ کام کرے تو بہت گہرے نتائج پیدا کرتی ہے۔عین ممکن ہے کہ بیماری جڑ سے اکھڑ جائے یا اتنی معمولی باقی رہ جائے تو شاذ کے طور پر ہی کبھی دورہ پڑے۔(صفحہ۴۱۱)
گریفائٹس کی تکلیفیں گرمی میں،رات کے وقت اور حیض کے دوران اور اس کے بعد بڑھ جاتی ہیں۔اندھیرے میں اور کپڑا لپیٹنے سے تکالیف میں کمی کا احساس ہوتا ہے۔(صفحہ۴۱۲)
گریشولا
Gratiola
اس میں اعصابی، ذہنی اور جسمانی کمزوری بہت نمایاں ہوتی ہے۔ اگر اعصاب میں نقاہت محسوس ہو اور مریض ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا ہوا ہو تو وہ یہی کہے گا کہ بہت کمزوری ہے۔ اگر گریشولا کا ان دوسری بیماریوں سے بھی تعلق ہو جو اس کی خاص کمزوری کے ساتھ مریض کو لاحق ہوں تو یہ تمام تکالیف کو فی الفور دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔(صفحہ۴۱۳)
گریشولا کا مزاج گرمی اور سردی کے لحاظ سے پلسٹیلا سے ملتا ہے۔نیز یہ بائیں طرف کی بیماریوں کی دوا ہے۔اس لحاظ سے یہ لیکیسس سے مشابہ ہے۔اس میں جنسی اعضا کا ہیجان اگرچہ ٹرینٹولا سے ملتا جلتا ہےمگر ٹرینٹولا کی تکلیفیں دائیں طرف زوردکھاتی ہیں اور گریشولا کی بائیں طرف۔ یہ تکلیفیں جامد ہوتی ہیں،لیکسیس کی طرح بائیں سے دائیں طرف حرکت نہیں کرتیں۔(صفحہ۴۱۴ )
گر یشولا میں جلن کا احساس ہر جگہ محسوس ہوتا ہے۔ بعض دفعہ اندرونی جلن اور سوزش ایسی خواہشات کو ابھار دیتی ہیں جو غیر طبعی ہوتی ہیں۔ مریض خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کا علاج گریشولا سے ممکن ہے۔(صفحہ۴۱۵)
گائیکم
Guaiacum
گائیکم کی تکلیفیں گرمی سے بڑھتی ہیں اور ٹھنڈ سے آرام آتا ہے۔اس لحاظ سے یہ لیڈم، پلسٹیلا، لیک کینائینم اور آیوڈم سے مشابہ ہے لیکن ان سب میں باہم فرق کرنے والی علامتیں ہیں جن کی شناخت ہو جائے تو آسانی سے اصل دوا ذہن میں آجائے گی۔(صفحہ۴۱۷ )
گائیکم کے درد وقت کے بہت پابند ہیں۔ہڈیوں کے درد خصوصاً دانتوں کے نیچے ہڈی میں درد اکثر رات کو بڑھتا ہے۔اگر ۶ بجے شام کو درد ہو اور صبح ۴ بجے تک جاری رہے تو گائیکم کو نہ بھولیں۔ دیگر علامتیں بھی مل جائیں تو یہ بہت زود اثر دوا ہے۔(صفحہ۴۱۹ )
گائیکم کی تکلیفیں حرکت سے، گرمی سے،دباؤ اور چھونے سے بڑھ جاتی ہیں۔بیرونی دباؤ سے ان میں کمی ہوتی ہے۔(صفحہ۴۲۱)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۲)(قسط ۱۴۷)



